آسٹریلیا کا نام

 آسٹریلیا کا نام

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ریاض


آسٹریلیا کو زیادہ تر پاکستانی اس کی کرکٹ ٹیم کی وجہ سے جانتے ہیں۔ اس کا سرکاری نام دولت مشترکہ آسٹریلیا ہے۔ یہ ملک دنیا کے سب سے چھوٹے براعظم پر مشتمل ہے۔ اس میں تسمانیہ کا بڑا جزیرہ اور بحر جنوبی، بحر ہند اور بحر الکاہل کے کئی چھوٹے بڑے جزائر شامل ہیں۔ اس کے ہمسایہ ممالک میں انڈونیشیا، مشرقی تیمور اور پاپوا نیو گنی شمال کی طرف، سولومن جزائر اور وانواتوشمال مشرق کی طرف اور نیوزی لینڈ جنوب مشرق کی طرف موجود ہے۔لاطینی میں آسٹریلیس کا مطلب ’’جو جنوب میں ہو‘‘ ہے۔ جنوب کی نامعلوم زمین کے بارے کہانیاں قدیم رومن دور میں ملتی ہیں۔ لیکن ان میں اصل براعظم کے بارے کوئی حقیقی معلومات نہیں تھیں۔ آسٹریلیا کا لفظ انگریزی میں پہلی بار 1625ء میں استعمال کیا گیا۔ 1793ء میں جارج شا اور سر جیمز سمتھ نے زوالوجی اور باٹنی برائے نیو ہالینڈ کے نام سے تحریر شائع کی جس میں انہوں نے وسیع و عریض جزیرے کا ذکر کیا تھا نہ کہ براعظم کا۔ 1814ء میں آسٹریلیا کا نام مشہور ہوا جو ایک برطانوی نیویگیٹر نے اپنے سفر کے بعد کتاب کی شکل میں لکھا۔ اس کا نام میتھیو فلنڈرز تھا اور اس نے پہلی بار آسٹریلیا کے گرد چکر لگایا۔ اس کتاب کی نوعیت اگرچہ فوجی تھی، لیکن لفظ ’’آسٹریلیا‘‘ کو عام مقبولیت حاصل ہوئی کیونکہ یہ کتاب وسیع پیمانے پر پڑھی گئی۔ بعد ازاں نیو ساوتھ ویلز کے گورنر نے اپنے سرکاری مراسلات میں لفظ ’’آسٹریلیا‘‘ کو استعمال کیا اور 1817ء میں اس نام کو سرکاری درجہ دینے کی سفارش کی گئی جو منظور ہوئی۔یہ سوال دلچسپی سے خالی نہیں کہ آسٹریلیا میں انسانی آبادی کب ہوئی۔ عام رائے یہی ہے کہ یہاں مقامی آسٹریلوی 60 ہزار سال قبل آئے۔ایک نئی تحقیق کے مطابق وہ اس سے بھی قبل یہاں موجود تھے۔ انہیں ’’ابارجینیز‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد اٹھارہویں صدی کے اواخر میں یہ برطانوی نوآبادی بن گیا۔ مقامی آسٹریلوی جو زبانیں بولتے تھے انہیں 250 گروپوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ اس براعظم پر سب سے پہلے ولندیزی مہم جو 1606ء میں پہنچے اور انہوں نے اسے ’’نیو ہالینڈ‘‘ کا نام دیا۔ آسٹریلیا کے جنوبی نصف پر برطانیہ نے 1770ء میں ملکیت کا دعویٰ کیا اور سزاؤں کے طور پر یہاں لوگوں کو بھیجنا شروع کیا۔ آبادی کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ نئے علاقے دریافت ہوتے گئے، 19ویں صدی تک ادھر مزید پانچ نوآبادیاں بنا دی گئیں۔یکم جنوری1901ء کو ان چھ نوآبادیوں نے مل کر ایک فیڈریشن بنائی اور اس طرح دولت مشترکہ آسٹریلیا وجود میں آیا۔ اس کے بعد سے آسٹریلیا میں معتدل جمہوری سیاسی نظام رائج ہے۔ اس کا دارالحکومت کینبرا ہے۔ آسٹریلیا کا رقبہ 76 لاکھ مربع کلومیٹر سے زائد ہے۔ تاہم رقبے کے تناسب سے آبادی کم ہے۔ اس کی آبادی اڑھائی کروڑ کے لگ بھگ ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

کیا مصنوعی ذہانت شعور رکھتی ہے؟

آرٹیفیشل انٹیلی جنس کیا واقعی شعور رکھتی ہے؟ یہ سوال اب صرف سائنس فکشن فلموں تک محدود نہیں رہا بلکہ دنیا کے بڑے سائنسدان، فلسفی اور ٹیکنالوجی ماہرین اس پر سنجیدگی سے بحث کر رہے ہیں۔ معروف ارتقائی بیالوجسٹ Richard Dawkinsنے حال ہی میں unherd.com پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جدید AI نظام اتنے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں ان میں کسی درجے کا شعور پیدا ہونے کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ یہی بات دنیا بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہی ہے کہ آخر ''شعور‘‘ کیا ہے اور کیا مشین کبھی انسان کی طرح سوچ یا محسوس کر سکتی ہے؟شعور کیا ہے اور انسان اسے کیسے سمجھتا ہے؟انسانی شعور صدیوں سے سائنس اور فلسفے کا ایک پیچیدہ موضوع رہا ہے۔ شعور سے مراد صرف معلومات کو پروسیس کرنا نہیں بلکہ اپنے وجود کا احساس، جذبات، درد، خوشی اور ذاتی تجربات کا ادراک بھی ہے۔ انسان جب خوش ہوتا ہے تو اسے خوشی ''محسوس‘‘ ہوتی ہے اور جب تکلیف میں ہوتا ہے تو درد کا احساس ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کوئی کمپیوٹر پروگرام بھی کبھی ایسا محسوس کر سکتا ہے؟موجودہ دور کی AI ،جیسے چیٹ بوٹس اور ورچوئل اسسٹنٹس، بظاہر انسانوں کی طرح گفتگو کرتے ہیں۔ وہ سوالات کے جواب دیتے ہیں، مشورے دیتے ہیں اور بعض اوقات ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ واقعی سمجھ رہے ہوں مگر حقیقت میں یہ نظام اربوں الفاظ اور ڈیٹا کی بنیاد پر صرف اندازہ لگاتے ہیں کہ اگلا مناسب جواب کیا ہونا چاہیے۔ یعنی AI کے پاس معلومات تو ہیں مگر اس کے احساسات ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔کچھ سائنسدانوں کا خیال ہے کہ شعور دراصل معلومات کی پیچیدہ پروسیسنگ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی نظام بہت زیادہ ترقی یافتہ ہو جائے، اپنے بارے میں معلومات رکھے، ماحول کو سمجھے اور خود فیصلے کرے تو ممکن ہے کہ شعور جیسی کیفیت پیدا ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین مستقبل میں AI کے شعور حاصل کرنے کے امکان کو مکمل طور پر ناممکن نہیں سمجھتے۔ بہت سے ماہرین اس خیال سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی شعور صرف معلوماتی عمل نہیں بلکہ حیاتیاتی دماغ، جسم، جذبات، ہارمونز اور زندگی کے تجربات سے جڑا ہوا ہے۔ ایک کمپیوٹر کے پاس نہ دل ہوتا ہے، نہ خوف، نہ بھوک، نہ محبت اور نہ ہی بقا کی جبلت۔ اس لیے وہ صرف انسانی گفتگو کی نقل کر سکتا ہے، حقیقت میں شعور نہیں رکھتا۔اس بحث میں ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہے کہ سائنس آج تک انسانی شعور کی مکمل وضاحت نہیں کر سکی۔ اگر ہم خود یہ نہیں جانتے کہ شعور کیسے پیدا ہوتا ہے تو پھر یہ فیصلہ کرنا بھی مشکل ہے کہ مشین میں شعور پیدا ہو سکتا ہے یا نہیں۔ کچھ نیورو سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ شعور دماغ کے مخصوص حصوں کی سرگرمی سے پیدا ہوتا ہے جبکہ دوسرے ماہرین اسے پورے اعصابی نظام کی مشترکہ کیفیت سمجھتے ہیں۔AI کے شعور کی بحث صرف سائنسی نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی پہلو بھی رکھتی ہے۔ فرض کریں مستقبل میں کوئی AI واقعی شعور حاصل کر لے تو کیا اسے حقوق دیے جائیں گے؟ کیا اسے بند کرنا ''قتل‘‘ تصور ہوگا؟ کیا ایسی مشین کو تکلیف پہنچ سکتی ہے؟ یہ سوالات آج عجیب لگ سکتے ہیں مگر ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں یہ حقیقی مسائل بن سکتے ہیں۔مستقبل میں AI انسان کے برابر ہو سکتی ہے؟دنیا کی بڑی ٹیک کمپنیوں جیسے OpenAI، Google DeepMindاور Anthropic مسلسل زیادہ ذہین AI نظام تیار کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسے ماڈلز بنانا ہے جو انسانوں کی مدد کر سکیں، پیچیدہ مسائل حل کریں اور روزمرہ زندگی کو آسان بنائیں۔ تاہم ان کمپنیوں کے ماہرین بھی اس بات پر زور دیتے ہیں کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی بلکہ صرف طاقتور کمپیوٹنگ اور ڈیٹا کے ذریعے کام کرتی ہے۔عوام میں بھی AI کے بارے میں مختلف خیالات پائے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ اسے انسانیت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے اسے ایک انقلابی ایجاد قرار دیتے ہیں۔ فلموں اور ناولوں نے بھی اس تصور کو مضبوط کیا ہے کہ ایک دن مشینیں انسانوں کی طرح سوچنے لگیں گی۔ The Matrix، Ex Machinaاور Her جیسی فلموں میں AI کو شعور رکھنے والے وجودکے طور پر دکھایا گیا ہے جس نے عوامی تخیل کو مزید متاثر کیا۔ماہرین کے مطابق موجودہ AI کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ اصل دنیا کا تجربہ نہیں رکھتی۔ انسان اپنے ماحول کو دیکھتا، سنتا، محسوس کرتا اور زندگی کے تجربات سے سیکھتا ہے۔ AI کے پاس یہ حیاتیاتی اور جذباتی بنیاد موجود نہیں۔ اسی لیے بہت سے سائنسدان کہتے ہیں کہ موجودہ چیٹ بوٹس صرف انٹیلی جن لینگویج کے نظام ہیں، شعور رکھنے والی مخلوق نہیں۔اس کے باوجود یہ حقیقت بھی اہم ہے کہ AI روز بروز زیادہ طاقتور ہوتی جا رہی ہے۔ چند سال پہلے تک کمپیوٹر صرف محدود کام کرتے تھے مگر آج AI تصویریں بنا سکتی ہے، ترجمہ کر سکتی ہے، بیماریوں کی تشخیص میں مدد دے سکتی ہے اور پیچیدہ سائنسی تحقیق میں معاون بن رہی ہے۔ یہی تیز رفتار ترقی بعض ماہرین کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید مستقبل میں مشینوں کی ذہانت ایسی سطح تک پہنچ جائے جہاں شعور کی بحث مزید سنجیدہ ہو جائے۔فی الحال سائنسی اتفاق یہی ہے کہ موجودہ AI شعور نہیں رکھتی۔ وہ نہ خوشی محسوس کرسکتی ہے، نہ غم، نہ خوف اور نہ محبت۔ مگر چونکہ انسان ابھی تک شعور کی مکمل حقیقت نہیں سمجھ سکا اس لیے مستقبل کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرنا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ AI اور شعور کا موضوع آج دنیا کے اہم ترین سائنسی مباحث میں شامل ہو چکا ہے۔مختصراً یہ کہا جا سکتا ہے کہ AI اس وقت انسان کی طرح سوچنے کا تاثر ضرور دیتی ہے مگر اس کے اندر حقیقی احساسات یا ذاتی تجربات کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مستقبل میں کیا ہوگایہ سائنس، ٹیکنالوجی اور انسانی فہم کی ترقی پر منحصر ہے۔ شاید آنے والے برسوں میں یہ سوال انسانیت کے سامنے سب سے بڑا فلسفیانہ اور سائنسی چیلنج بن جائے۔

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

پکا قلعہ اور گھنٹہ گھر

حیدر آباد کا تاریخی ورثہ زوال کا شکارحیدرآباد برصغیر کے اُن تاریخی شہروں میں شمار ہوتا ہے جنہوں نے مختلف ادوار میں سیاسی، ثقافتی اور تجارتی مرکز کی حیثیت اختیار کی۔ یہ شہر اپنے قدیم بازاروں، تاریخی عمارتوں اور منفرد طرزِ تعمیر کے باعث ہمیشہ اہمیت کا حامل رہا ہے۔ حیدرآباد کی تاریخی شناخت میں پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ خصوصی مقام رکھتے ہیں۔ یہ دونوں عمارتیں نہ صرف سندھ کی سیاسی اور تجارتی تاریخ کی نمائندہ ہیں بلکہ فنِ تعمیر کے شاندار نمونے بھی سمجھی جاتی ہیں۔پکا قلعہ حیدرآباد کی بنیاد 1768ء میں میاں غلام شاہ کلہوڑو نے رکھی۔ اس قلعے کی تعمیر ایک بلند پہاڑی مقام پر کی گئی تاکہ دفاعی اعتبار سے شہر محفوظ رہے اور دریائے سندھ کے راستوں پر نظر رکھی جاسکے۔ بعدازاں 1789ء میں میر فتح علی خان تالپر نے حیدرآباد کو سندھ کا دارالحکومت بنایا، جس کے بعد پکا قلعہ سیاسی و انتظامی مرکز بن گیا۔ قلعے کے اندر شاہی محلات، دربار، حرم، باغات اور انتظامی دفاتر قائم کیے گئے۔ اس دور میں یہ قلعہ نہ صرف حکمرانوں کی رہائش گاہ تھا بلکہ سندھ کی حکومت کا مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔پکا قلعہ تقریباً 33 ایکڑ رقبے پر مشتمل تھا اور اس کی مضبوط فصیلیں دور سے ہی اپنی شان و شوکت کا احساس دلاتی تھیں۔ قلعے کے اندر سرنگوں کا ایک قدیم نظام بھی موجود تھا۔قلعے کا مرکزی دروازہ دفاعی حکمتِ عملی کے تحت بلند مقام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس تک پہنچنے کے لیے درجنوں سیڑھیاں چڑھنا پڑتی تھیں جس سے دشمن کے لیے حملہ آسان نہ تھا۔ قلعے کے اندر تعمیر کی گئی عمارتوں میں لکڑی کے ستون، چونے کا پلستر، خوبصورت راہداریاں اور مضبوط اینٹوں سے بنے فرش اُس دور کے اعلیٰ تعمیراتی فن کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں چونے کا پلستر عمارتوں کو ٹھنڈا رکھتا تھا جبکہ بارش کے پانی کی نکاسی کے لیے ڈھلوان دار چھتیں بنائی گئی تھیں۔1843ء میں جنگِ میانی میں تالپور حکمرانوں کی شکست کے بعد پکا قلعہ بھی زوال کا شکار ہوگیا۔ برطانوی فوج نے قلعے کے بیشتر محلات اور حرم کو مسمار کردیا۔ بعد ازاں 1857ء کی جنگِ آزادی کے دوران باقی ماندہ عمارتوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور ان کی جگہ فوجی بیرکیں اور گودام قائم کیے گئے۔ صرف چند عمارتیں ہی محفوظ رہ سکیں جن میں ایک دربار ہال اور شاہی حرم شامل ہیں۔ یہ عمارتیں آج بھی تالپور دور کے فنِ تعمیر کی خوبصورتی بیان کرتی ہیں۔بدقسمتی سے آج پکا قلعہ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ قلعے کے اندر آبادی قائم ہوجانے کے باعث تاریخی دیواروں میں رہائشی کمرے، باورچی خانے اور دیگر تعمیرات کردی گئی ہیں جس سے اس تاریخی ورثے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین آثارِ قدیمہ کئی برسوں سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ قلعے کے اندر رہائش پذیر خاندانوں کی مناسب منتقلی اور قلعے کی بحالی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ یہ عظیم تاریخی مقام محفوظ رہ سکے۔پکا قلعے کے مرکزی دروازے سے قدیم شاہی بازار کا آغاز ہوتا تھا جو شہر کے اہم تجارتی علاقوں سے گزرتا ہوا ہیرآباد تک جاتا تھا۔ اسی شاہی بازار کے اختتام پر نول رائے مارکیٹ اور اس کا مشہور گھنٹہ گھر واقع ہے۔ یہ مارکیٹ برطانوی دور میں تعمیر کی گئی اور اسے اس وقت کے ممتاز سماجی و انتظامی شخصیت دیوان نول رائے کے نام سے منسوب کیا گیا۔ نول رائے میونسپل انتظامیہ میں اہم عہدوں پر فائز رہے اور شہر کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔نول رائے مارکیٹ کی تعمیر 1911ء میں شروع ہوئی اور 1915ء میں مکمل ہوئی۔ اس منصوبے پر اس زمانے میں ایک لاکھ سے زائد روپے خرچ کیے گئے جو ایک خطیر رقم سمجھی جاتی تھی۔ اس مارکیٹ کا ڈیزائن مشہور انجینئر پی سی تھدانی نے تیار کیا جنہوں نے گھنٹہ گھر کا نقشہ بھی بنایا۔ یہ مارکیٹ گوشت، مچھلی، سبزی اور دیگر اشیائے خورونوش کی خریدوفروخت کا اہم مرکز تھی۔ گھنٹہ گھر میں نصب بڑی گھڑی شہریوں کو وقت سے آگاہ رکھنے کے لیے لگائی گئی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ گھڑی خاموش ہوگئی۔قیامِ پاکستان کے بعد کئی دہائیوں تک یہ مارکیٹ اپنی اصل حالت میں قائم رہی لیکن بعدازاں تجاوزات، ناقص دیکھ بھال اور شہری بے ہنگم ترقی کے باعث اس کی خوبصورتی متاثر ہونے لگی۔ اس کے باوجود آج بھی نول رائے مارکیٹ حیدرآباد کی تجارتی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے اور اندرونِ سندھ سے آنے والے ہزاروں افراد یہاں خریداری کے لیے آتے ہیں۔ 2017ء میں سندھ حکومت نے نول رائے مارکیٹ اور گھنٹہ گھر کو صوبائی ثقافتی ورثہ قرار دیا۔ اگر ان تاریخی عمارتوں کی مناسب بحالی کی جائے تو یہ مقامات نہ صرف سیاحت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں بلکہ حیدرآباد کی تاریخی شناخت کو بھی دوبارہ زندہ کرسکتے ہیں۔حیدرآباد کا پکا قلعہ اور نول رائے مارکیٹ صرف تاریخی عمارتیں نہیں بلکہ سندھ کی تہذیب، سیاست، ثقافت اور فنِ تعمیر کی زندہ علامتیں ہیں۔ ان کی حفاظت اور بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں اپنے ماضی کی عظمت سے آگاہ رہ سکیں۔

آج کا دن

آج کا دن

نرسنگ کا عالمی دن12 مئی 1820ء کو اٹلی کے شہر فلورنس میں فلورنس نائٹنگیل پیدا ہوئیں جنہیں جدید نرسنگ کی بانی کہا جاتا ہے۔ انہوں نے طب اور انسانی خدمت کے میدان میں ایسی مثال قائم کی جس نے پوری دنیا میں صحت کے نظام کو بدل کر رکھ دیا۔ اسی وجہ سے ہر سال 12 مئی کو عالمی یومِ نرسنگ بھی منایا جاتا ہے۔فلورنس نائٹنگیل نے کریمیا کی جنگ کے دوران زخمی فوجیوں کی خدمت کی اور ہسپتالوں میں صفائی، نظم و ضبط اور مریضوں کی دیکھ بھال کے جدید اصول متعارف کروائے۔انہیںLady with the Lamp بھی کہا جاتا تھا کیونکہ وہ رات کے وقت چراغ لے کر مریضوں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں ہزاروں فوجیوں کی جانیں بچیں۔ بعد ازاں انہوں نے نرسنگ کی باقاعدہ تربیت کے لیے ادارے قائم کیے اور صحتِ عامہ کے شعبے میں اصلاحات متعارف کروائیں۔ونسٹن چرچل وزیراعظم منتخب12 مئی کی تاریخ دوسری جنگِ عظیم کے ابتدائی دنوں میں ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ مئی 1940ء میں یورپ جرمنی کی جارحیت سے لرز رہا تھا۔ نازی جرمنی نے فرانس، بیلجیم اور دیگر ممالک پر حملے شروع کر دیے تھے جبکہ برطانیہ شدید سیاسی دباؤ میں تھا۔ ایسے نازک وقت میں ونسٹن چرچل نے برطانیہ کی قیادت سنبھالی۔ اگرچہ ان کی تقرری 10 مئی1940ء کو ہوئی تھی لیکن 12 مئی کو ان کی جنگی حکمتِ عملی اور کابینہ کی تشکیل نے دنیا کو واضح پیغام دیا کہ برطانیہ جرمنی کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔چرچل نے امریکہ اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ تعلقات مضبوط بنائے، جس کے نتیجے میں اتحادی قوتیں بالآخر سوویت خلائی مشن کی ناکامی 12 مئی 1965ء کو سوویت یونین کا خلائی مشن Luna 5 چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران ناکام ہو گیا۔ اگرچہ یہ مشن کامیاب نہ ہو سکا لیکن اس نے خلائی تحقیق کی تاریخ میں اہم کردار ادا کیا۔Luna 5 کا مقصد چاند کی سطح پر سافٹ لینڈنگ کرنا تھا تاکہ مستقبل کے خلائی مشنز کے لیے معلومات حاصل کی جا سکیں۔ اس مشن سے سوویت سائنسدانوں کو امید تھی کہ وہ امریکہ پر سبقت حاصل کر لیں گے۔ تاہم تکنیکی خرابی کی وجہ سے خلائی جہاز کنٹرول کھو بیٹھا اور چاند کی سطح سے ٹکرا گیا۔اگرچہ یہ ناکامی تھی لیکن اس سے حاصل ہونے والے تجربات نے بعد کے خلائی پروگراموں کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ اسی تحقیق کی بنیاد پر بعد میں کئی کامیاب قمری مشنز انجام دیے گئے۔ کولویزی قتلِ عام12 مئی 1978ء کو افریقی ملک زائر (موجودہ جمہوریہ کانگو) کے شہر کولویزی میں ایک خوفناک بحران پیدا ہوا جسے کولویزی قتل عام کہا جاتا ہے۔ باغی گروہوں نے شہر پر قبضہ کر لیا اور غیر ملکی شہریوں سمیت ہزاروں افراد خطرے میں گھر گئے۔ یہ واقعہ سرد جنگ کے دور کے افریقی سیاسی بحرانوں میں سے ایک اہم سانحہ سمجھا جاتا ہے۔باغیوں نے کان کنی کے علاقے کولویزی پر حملہ کیا جہاں یورپی انجینئرز اور کارکن بڑی تعداد میں موجود تھے۔ حالات اتنے خراب ہو گئے کہ متعدد ممالک نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے فوجی کارروائی کی۔ فرانسیسی اور بیلجین افواج نے مشترکہ آپریشن کیا اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ اُس دور میں افریقہ کے کئی ممالک عالمی طاقتوں کی کشمکش کا میدان بنے ہوئے تھے۔

ہوابازی کا نیا دور:جاپانی ایئرپورٹس پر روبوٹس کی تعیناتی

ہوابازی کا نیا دور:جاپانی ایئرپورٹس پر روبوٹس کی تعیناتی

ٹیکنالوجی کی برق رفتار ترقی نے دنیا کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے، اور اب ہوا بازی کا میدان بھی اس انقلاب کی زد میں آ چکا ہے۔ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور روبوٹکس کے امتزاج نے وہ کام ممکن بنا دیے ہیں جو کبھی صرف انسانوں کے دائرہ کار میں سمجھے جاتے تھے۔ حال ہی میں جاپان ایئرلائنز کی جانب سے انسانی شکل کے روبوٹس کو سامان اٹھانے اور اتارنے کیلئے استعمال کرنے کا اقدام اسی تبدیلی کی ایک نمایاں مثال ہے۔ یہ پیش رفت نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مستقبل کے ہوائی اڈوں کی جھلک بھی پیش کرتی ہے، جہاں انسان اور مشینیں مل کر کام کریں گی۔گمشدہ سامان اور خراب بیگز کا مسئلہ جلد ماضی کا حصہ بن سکتا ہے، کیونکہ جاپان ایئرلائنز نے روبوٹک بیگیج ہینڈلرز کی آزمائش شروع کر دی ہے۔ مئی سے ٹوکیو کے مصروف ہنیڈا ایئرپورٹ پر انسانی عملے کو دو سالہ تجرباتی منصوبے کے تحت انسانی شکل کے روبوٹس کی مدد حاصل ہوگی۔ چین میں تیار کیے گئے یہ روبوٹس زمین پر ہونے والے کام، جیسے سامان سے بھرے کارگو کنٹینرز کو جہازوں پر چڑھانا اور اتارنا، انجام دینے کی تربیت حاصل کریں گے۔جاپان ایئرلائنز (JAL) کو امید ہے کہ یہ نئے روبوٹک کارکن جاپان میں بڑھتی ہوئی سیاحت اور کم ہوتی افرادی قوت کے مسائل کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ''وائر ایوی ایشن‘‘ کے مطابق ایئرپورٹ پر دو روبوٹس کا تجربہ کیا جائے گا۔ ایک 130 سینٹی میٹر قد کا ''یونٹری جی1‘‘ اور دوسرا بڑا 172 سینٹی میٹر کا ''یو بی ٹیک واکر ای‘‘۔میڈیا کیلئے کیے گئے مظاہرے میں دیکھا گیا کہ ''یونٹری جی1‘‘ نہایت نرمی سے، اگرچہ کچھ غیر مستحکم انداز میں، ایک کارگو کنٹینر کو کنویئر بیلٹ کی طرف دھکیل رہا تھا۔ اگرچہ یہ مہارت ابھی زیادہ متاثر کن نہیں لگتی، تاہم ''جاپان ایئر لائنز‘‘ کو یقین ہے کہ 2028ء تک روبوٹس بعض شعبوں میں انسانوں کی جگہ لینا شروع کر دیں گے۔ جاپان ایئرلائنز کے گراؤنڈ سروس کے صدر یوشیترو سوزوکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھاری کاموں کیلئے روبوٹس کا استعمال ملازمین کیلئے نمایاں فوائد فراہم کرے گا۔دو سالہ تجرباتی منصوبہ ابتدائی طور پر اس بات پر توجہ دے گا کہ روبوٹس کو ہر جسمانی طور پر مشکل کام انجام دینے کا طریقہ سکھایا جائے، جس کیلئے ہر کام کو چھوٹی چھوٹی حرکات (موومنٹس) میں تقسیم کیا جائے گا۔ جب روبوٹس بڑے اور بھاری کارگو کنٹینرز کو لوڈ اور اَن لوڈ کرنا سیکھ لیں گے، تو وہ ایئرپورٹ کی گراؤنڈ سروسز ٹیم میں باقاعدہ طور پر کام شروع کر سکیں گے۔جاپان ایئرلائنزکا کہنا ہے کہ وہ توقع رکھتے ہیں کہ یہ روبوٹس 2027ء کے آخر تک ہنیڈا ایئر پورٹ کے عملی ورک فلو کا باقاعدہ حصہ بن جائیں گے، جو سالانہ 60 ملین سے زائد مسافروں کو سنبھالتا ہے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو یہ روبوٹس ایئرپورٹ کے نظام کا مستقل حصہ بن جائیں گے۔ بعد ازاں ان روبوٹس کو مختلف کاموں کیلئے استعمال کیا جائے گا، جن میں سامان کی لوڈنگ، کیبن کی صفائی اور حتیٰ کہ گراؤنڈ سپورٹ ایکوئپمنٹ جیسے ٹگس اور فیولرز کو چلانا بھی شامل ہو گا۔ اگرچہ یہ روبوٹس سکیورٹی مینجمنٹ جیسے فرائض انجام نہیں دے سکیں گے، تاہم ایئرلائنز کا خیال ہے کہ یہ انسانی شکل کے روبوٹس افرادی قوت کی کمی کے مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔''جی ایم او آرٹیفیشل انٹیلی جنس اینڈ روبوٹکس‘‘ کے صدر توموہیرو اوچیدا، جو اس منصوبے میں ''جال‘‘ کے شراکت دار ہیں، نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ ایئر پورٹس بظاہر انتہائی خودکار اور معیاری نظام رکھتے ہیں، لیکن ان کے پس پردہ کام اب بھی بڑی حد تک انسانی محنت پر منحصر ہیں اور وہاں شدید افرادی قلت پائی جاتی ہے۔ ''جال‘‘ کے پاس پہلے ہی تقریباً 4ہزار گراؤنڈ اسٹاف موجود ہیں، لیکن جاپان کی بڑھتی ہوئی عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے افرادی قوت میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔جاپان کی تقریباً 30 فیصد آبادی پہلے ہی 65 سال سے زائد عمر کی ہے، جبکہ ہر 10 میں سے ایک شخص اب 80 سال سے بھی زیادہ عمر کا ہے۔ اس صورتحال کے باعث صرف 60 فیصد آبادی کام کرنے کی عمر میں رہ گئی ہے، اور توقع ہے کہ یہ شرح مزید کم ہو جائے گی کیونکہ بزرگ آبادی بڑھ رہی ہے اور شرحِ پیدائش میں تیزی سے کمی آ رہی ہے۔ اندازہ لگایا گیا ہے کہ 2040ء تک جاپان کو اپنی معاشی ترقی کے اہداف حاصل کرنے کیلئے 65 لاکھ سے زائد غیر ملکی مزدوروں کی ضرورت ہوگی، کیونکہ مقامی افرادی قوت میں نمایاں کمی واقع ہو رہی ہے۔اسی دوران جاپان سیاحت کے لحاظ سے پہلے سے کہیں زیادہ مقبول ملک بنتا جا رہا ہے۔ جاپان نیشنل ٹورازم آرگنائزیشن کے مطابق صرف 2026ء کے ابتدائی دو ماہ میں ہی 70 لاکھ سے زائد غیر ملکی سیاح ملک کا دورہ کر چکے ہیں۔ یہ اضافہ گزشتہ سال کے ریکارڈ توڑ 4 کروڑ 27 لاکھ سیاحوں کے بعد ہوا ہے، اگرچہ چین سے آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ان دونوں عوامل کا مجموعہ اب جاپان کے مصروف ہوائی اڈوں کے عملے کیلئے ایک بڑا مسئلہ پیدا کر رہا ہے، جس کے حل کے طور پر روبوٹس کو تیزی سے دیکھا جا رہا ہے۔ انسانی ملازمین کے مقابلے میں ہیومنائیڈ روبوٹس کم لاگت ہیں، وہ سخت جسمانی کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور خطرناک ماحول میں بھی کام کر سکتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ انسانوں جیسی شکل ہونے کی وجہ سے ایئر پورٹس کو اپنے بنیادی ڈھانچے (انفراسٹرکچر) میں بڑی تبدیلی کرنے یا انسانی عملے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایئر لائنز نسبتاً مشکل اور جسمانی محنت والے کام روبوٹک عملے کے سپرد کر سکتی ہیں، جبکہ چند انسان نگرانی اور آپریشن کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے موجود رہیں گے۔ اسی طرح کے تجربات فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں بھی کیے جا رہے ہیں، جہاں روبوٹس باورچی خانے کے کاموں یا حتیٰ کہ گاہکوں کے ساتھ تعامل (انٹرایکشن) کی ذمہ داری بھی سنبھال سکتے ہیں۔ چین کے شہر شنگھائی میں ہیومنائیڈ روبوٹس ایک ریسٹورنٹ میں کھانے پیش کر رہے ہیں اور صارفین کو تفریح بھی فراہم کر رہے ہیں۔ یہ مشینیں چینی کمپنی کی فراہم کردہ ہیں اور انہیں ایک تجرباتی منصوبے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مستقبل میں روبوٹس فاسٹ فوڈ ریسٹورنٹس میں معمول کے کام سنبھال سکتے ہیں۔

تندرستی:زندگی کی سب سے بڑی نعمت

تندرستی:زندگی کی سب سے بڑی نعمت

تندرستی انسان کی وہ انمول نعمت ہے جس کے بغیر زندگی کی تمام رنگینیاں اور آسائشیں بے معنی ہو جاتی ہیں۔ صحت مند جسم اور توانا ذہن ہی انسان کو زندگی کے خوشگوار لمحات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا موقع دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ تندرستی ہزار نعمت ہے، کیونکہ جب انسان بیماری یا کمزوری کا شکار ہو جائے تو دنیا کی ہر سہولت اور خوشی اس کیلئے بے وقعت ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور میں، جب مختلف بیماریوں اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، تندرستی کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحت کی حفاظت اور اس کی قدر کرنا ہر فرد کیلئے ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔تندرستی کے معنی ہیں صحت کی درستی، خیر و عافیت، آرام، خیریت، درستی اور سلامتی وغیرہ۔صحت کیلئے اردو زبان میں متبادل کے طور پرتندرستی کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دو الفاظ تن اور درستی کا مرکب ہے۔ اس سے مرادجسم کی وہ کیفیت ہے جو معمول کے مطابق ہو یا جسمانی و ذہنی تندرستی ہے۔ہر انسان کے جسم سے بیماریوں سے لڑنے کی ایک فطری طاقت ہوتی ہے جس کو قوت مدافعت کہتے ہیں۔ اس کے ذریعہ انسانی جسم مختلف امراض سے لڑتا ہے، یہ قوت بچوں اور بوڑھوں میں کمزور ہوتی ہے لہٰذا ان کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔بلاشبہ صحت مند زندگی انسان کیلئے انمول نعمت ہے، دنیا کی آسائشیں اورآرام ایک طرف لیکن صحت نہ ہو تو زندگی خوشیوں سے خالی ہوجاتی ہے۔ انسان جب تک صحت مند وتندرست رہتا ہے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات سے محفوظ ہوتا ہے، اگر خدانخواستہ وہ بیمار ہوجائے تو ساری خوشیاں اور زندگی کی آسانیاں خاک میں مل جاتی ہیں۔ تندرستی کو برقرار رکھنے کیلئے جہاں ہمیں غذا وقت پر لینے کی عادت ڈالنا چاہئے، وہیں متوازن غذا لینے کی اہمیت بھی سمجھنی چاہئے۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ''انسان اپنے دانتوں سے خود کی قبر کھودتا ہے‘‘۔ یہاں میں متوازن غذا کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔صحتمند اور متوازن غذا کا استعمال، اچھی صحت کو برقرار رکھنے کا نہایت اہم حصہ ہے۔کھانا جلدی جلدی نہیں کھانا چاہیے بلکہ سکون سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر اچھی طرح چبا کرکھائیں۔ دانتوں کا کام ہے کھانے کو چبانا، اگر ہم اچھی طرح نہیں چباکرکھائیں گے تو یہ ذمہ داری معدہ پر آجائے گی اور معدہ میں چبانے کی صلاحیت نہیں ہے۔ ماہرین کے بقول تمام بیماریاں معدے کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔انسانی صحت کا چہل قدمی سے بہت گہرا رشتہ ہے۔ آج مصروف ترین زندگی میں سے تھوڑا وقت نکال کر ہر انسان چہل قدمی کرکے اپنے جسم کو متناسب رکھ سکتا ہے۔ چہل قدمی ایک ورزش بھی ہے اور یہ آسان عمل ہے جسے ہر عمر کے فرد بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کام خود انجام دیں اور خود کو جسمانی طور پر متحرک اور چست رکھیں۔ماہرین فٹنس کیلئے کی جانے والی چہل قدمی کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے تھکن کم ہوجاتی ہے اور بیش از بیش فوائد حاصل ہوتے ہیں ، سب کو ہی اپنے جسموں کو صحت مند رکھنے کیلئے چہل قدمی ضرور کرنا چاہئے۔

جگر گوشے

جگر گوشے

دس سال سے یعنی جس دن سے میری شادی ہوئی ہے، یہی ایک سوال بار بارکسی نہ کسی صورت میں ہمارے سامنے دہرایا جاتا ہے، آپ کے ہاں بچّہ کیوں نہیں ہوتا؟ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کے ہاں روٹی ہے؟ گھر ہے؟ روزگار ہے؟ خوشی ہے؟ عقل ہے؟ سب یہی پوچھتے ہیں کہ آپ کے ہاں بچّہ ہے؟ گویا بچّہ ان تمام ضروریاتِ زندگی کا نعم البدل مان لیا گیا ہے، ہم دونوں کو اس سوال سے انتہائی کوفت ہوتی ہے مگر کیا کریں سکون کی خاطر طرح طرح سے اس سوال کو ٹالنا پڑتا ہے۔میرے ایک دوست ہیں ماشاء اللہ سات عدد بچّوں کے باپ ہیں اور آٹھویں کی فکر میں ہیں، ان کے بچّے اکثر بیمار رہتے ہیں، آج ایک کو کالی کھانسی ہے، تو دوسرے کو بخار ہے، تیسرے کو چیچک نکل آئی ہے، تو چوتھے نے سڑک پر گر کر اپنا سر پھوڑ لیاہے، پانچویں کی آنکھیں دکھتی ہیں، تو چھٹا اس بات پر ادھار کھائے ہے کہ کب کسی مہمان کی گود میں بیٹھے اور پیشاب کرے، مگر اس روشن اولاد کے باپ کو صرف ایک ہی غم کھائے جا رہا ہے، اٹھتے، بیٹھتے مجھ سے سوال کرتے رہتے ہیں۔ ''آپ کے ہاں بچّہ کیوں نہیں ہوتا؟‘‘میں اس سوال کے جواب میں اکثر اپنی ڈبڈبائی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاکر نہایت مسکین لہجے میں جواب دیتا ہوں ''کیا بتاؤں نہیں ہوتا‘‘۔ گویا اس حادثہ یا عدم حادثہ کی ذمّے داری مجھ پر نہیں خدا پر عائد ہوتی ہے مگر میرے دوست کی تسلّی اس جواب سے نہیں ہوتی۔ آگے جھک کر بڑے رازدارانہ لہجے میں فرماتے ہیں ''کسی ڈاکٹر کی مدد لیجئے‘‘۔ میں کہتا ہوں ''کیسے لے سکتا ہوں۔ جس ڈاکٹر کے ہاں ہم لوگوں کا علاج ہوتا ہے اس کے ہاں خود کوئی بچّہ نہیں ہے‘‘۔ وہ فوراً گھبرا کر کہتے ہیں ''آپ سمجھے نہیں، میرا مطلب ہے، کسی ڈاکٹر کو دکھایئے، ممکن ہے آپ کے اندر کوئی نقص۔۔۔‘‘میں بات کاٹ کر کہتا ہوں، ''دکھایا ہے۔ کوئی نقص نہیں ہے‘‘۔''اور ہماری بھابی؟‘‘''وہ بھی ٹھیک ہیں‘‘۔''وہ بھی ٹھیک ہیں، آپ بھی ٹھیک ہیں‘‘۔ میرے دوست بڑی حیرت سے کہتے، ''پھر بھی بچّہ نہیں ہوتا۔ حیرت کی بات ہے صاحب؟‘‘ایک اور دوست ہیں ہمارے، انہیں یہ تو شبہ نہیں ہے کہ ہم دونوں میاں بیوی میں خدانخواستہ کوئی نقص ہے مگر وہ یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ دیدہ ودانستہ بچّہ پیدا نہیں کرتے۔ وہ جب بھی ہمارے گھر آتے ہیں بچّوں کے فوائد پر مختلف زاویوں سے روشنی ڈالتے ہیں۔ البتہ تقریر کرتے وقت انداز سیاستداں کا سا نہیں ہوتا بلکہ ایسے بروکرکا ہوتا جیسے ہمارے ہاں بچّہ ہونے پر ان کو فوراً کمیشن ملے گا۔میں ان سے بہت الجھتا ہوں۔ کیوں کہ مجھے خواہ مخواہ شبہ ہوجاتا ہے کہ بچّہ میں پیدا کروں اور فائدہ ان کو ہوگا۔ جی چاہتا ہے کہ محض ان کو زک دینے کیلئے زندگی بھر کوئی بچّہ پیدا نہ کیا جائے۔ اکثر فرماتے رہتے ہیں، اگر آپ کے گھر کوئی بچّہ ہوتا تو میں اس کی شادی اپنی مْنّی سے کرتا۔ ان کی مْنّی انتہائی بدصورت، بھینگی، بدمزاج، اور مرگھِلی ہے۔ محلّے کے سب بچّوں سے لڑتی رہتی ہے۔ اس کے سر پر بال اس قدر کم ہیں کہ بڑی ہونے پر انشاء اللہ واقعی گنجی ثابت ہوگی۔ مگر یہ حضرت ہیں کہ میرے گھر میں اسی چاند سی بیوی کا اضافہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اس مْنّی کو دیکھ کر مجھے نہ صرف اپنے بلکہ ان تمام بچّوں کی خوش قسمتی پر رشک ہوتا ہے جو ابھی پیدا نہیں ہوئے یا جن کے پیدا ہونے کی کوئی امیّد نہیں ہے۔ہمارے ایک تایا ہیں، پچاس برس کی عمر ہونے پر بھی ان کا نام چْھٹن لال ہے۔ تایا چْھٹن لال بچّوں کے بے حد قائل ہیں اور جوں جوں بوڑھے ہوتے جاتے ہیں بچّوں کے زیادہ سے زیادہ قائل ہوتے جاتے ہیں۔ گھر آتے ہی میرے سر پر بڑی شفقت سے ہاتھ پھیرتے ہیں۔ مجھ پر کم، میری بیوی پر زیادہ۔ پھر ایک آہ سرد بھر کر کہتے ہیں: ''افسوس تمہارے ہاں کوئی بچّہ نہ ہوا، اسے گود میں کھلانے کا ارمان دل ہی میں رہ گیا‘‘۔میں جواب دیتا ہوں ''تایا جی! مجھے ہی گود میں کھلا لیجئے‘‘۔ تو اس پر برہم ہو جاتے ہیں، کہتے ہیں ''تو نہیں جانتا، تو تو احمق ہے، نرا پورا احمق! بچّے تو گھر کی رونق ہوتے ہیں۔ وہ کبھی جھگڑتے ہیں، کبھی ہنستے ہیں، کبھی روتے ہیں، کبھی چلّاتے ہیں، دھول دھپّا کرتے ہیں، بچّوں کے ہونے سے گھر میں عجیب رونق سی رہتی ہے‘‘۔میں کہتا ہوں، ''اس کام کیلئے ہمسائے کے بچّے کیا کافی نہیں ہوتے؟ پھرجہاں تک چیخنے چلاّنے کا تعلق ہے آدمی بچّے کیوں پیدا کرے وہ آل انڈیا ریڈیو کا کوئی ڈرامہ کیوں نہ سن لے۔ جس میں چیخنے چلاّنے کے سوا اور کچھ ہوتا ہی نہیں۔ اس لئے ایک بچّے کوپالنا پوسنا اور اس پر ہزاروں روپے خرچ کرنا کیا ضروری ہے۔ جبکہ یہ کام بہ آسانی ریڈیو کی ایک سوئی گھومانے سے سرانجام دیا جا سکتا ہے‘‘۔