برصغیر کا اسلامی پس ِ منظر
اسپیشل فیچر
مشرق وسطیٰ کے ساتھ برصغیر کے ڈانڈے زمانہ ماقبل از تاریخ سے ملتے ہیں۔ اس قسم کی شہادت ملتی ہے کہ جنوبی میسوپٹیمیا، ایران اور سندھ کی تہذیب موہنجوداڑو اور ہڑپہ سے ملتی جلتی ہے اور اس تہذیب کی بہت سی باتوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔ اس سے یہ مستحکم اشارے ملتے ہیں کہ قدیم زمانے میں وادیٔ سندھ اور اس کے مغربی ہمسایوں کے درمیان تجارت ہوتی تھی۔ یہ رابطہ بعد کے ادوار میں بھی قائم رہا اور اسلام کی آمد کے ساتھ ساتھ عربوں اور اسلامی خلیجی ملکوں کے ساتھ تجارت فروغ پاتی رہی۔ اسلام کی آمد سے قبل جنوبی ہند کے ساحل کے جو عرب علاقے تھے ان کے ذریعہ جنوب مشرقی ایشیا اور ہندوستان اور عرب بندرگاہوں کے درمیان رابطہ قائم ہوتا تھا۔ اسلام کی آمد اور خلافتِ اسلامیہ کے قیام کے بعد یہ کاروباری سرگرمیاں مزید وسعت اختیار کر گئیں جس سے اسلام تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعہ برصغیر تک پہنچ گیا۔ کرمان اور مکران کے صوبوں سمیت فارس کی فتح سے عرب سندھ کے حکمرانوں کے آمنے سامنے آ گئے۔ لیکن یہ اس وقت تک نہ ہوا جب تک ہندوستانی سمندروں میں عربوں کی تجارت کو خطرات لاحق نہ ہوئے۔ یہ خطرات بحری قزاقوں کی وجہ سے تھے جو سندھ سے اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ عربوں کی طرف سے سندھ کو زیر کرنے کی کوششیں ساتویں صدی سے شروع ہوئیں۔ اس کے بعد آٹھویں صدی کے اوائل میں مکران کے راستے محمد بن قاسم دیبل کے دروازے پر نمودار ہوا اور اس نے سندھ سے ملتان تک اسلامی مملکت قائم کر لی۔ محمد بن قاسم نے ساری رعایا کو مذہبی آزادی کی ضمانت دے دی جس کا سندھ کے پسماندہ بودھوں نے زبردست خیر مقدم کیا۔ محمد بن قاسم نے بودھوں اور برہمنوں کو اپنی انتظامیہ میں اہم ذمہ دارانہ عہدوں سے نوازا۔ محمد بن قاسم کے انصاف اور اس کے عرب حکام کی پاکیزہ سیرت سے سندھ کے باشندے اس قدر متاثر ہوئے کہ انہوں نے جوق در جوق اسلام کو بطور مذہب قبول کرنا شروع کر دیا۔ عربوں کی تجارتی اور تبلیغی سرگرمیاں پنجاب، بلوچستان اور شمال مغربی قبائل تک پھیل گئیں۔ آٹھویں اور نویں صدی میں عربوں کے بحری راستے بنگال کے ساحل تک پھیل گئے۔ عرب تاجر سمندری بندرگاہ، سنڈویپ اور رہومی تک جا پہنچے جو آسام اور سمندر کے درمیان واقع ہیں۔ دسویں صدی کی ایک اور روایت کے مطابق عرب تاجروں نے چٹاگانگ میں اپنی بستی قائم کرلی۔ تاہم یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب برصغیر میں اسلام کے فروغ کے نتیجے میں اثر و نفوذ یک طرفہ نہیں تھا۔ عرب اعشاری نظام کے ماہر تھے اور جب ان کے ذریعے یہ نظام یورپ کو منتقل ہوا تو وہاں اسے عربی شماریات کہا جانے لگا۔ انہوں نے شطرنج ہندوؤں سے سیکھی۔ سندھی موسیقی نے عربی موسیقی کو متاثر کیا۔ بغداد میں عباسی خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں ہندوستانی آیورو ویدک ادویات اور علم الافلاک کی کتابوں کے ترجمے عربی زبان میں ہوئے۔ عربوں کی تین صدیوں کی حکمرانی کے بعد غزنوی بادشاہ برصغیر میں وارد ہوئے۔ پشاور کے خطے، پنجاب اور ملتان پر ان کی حکمرانی تھی۔ ان کی حکمرانی ان خطوں پر بارہویں صدی کے وسط (دو سو سال) تک برقرار رہی۔ غزنویوں نے فروغ تعلیم کی سرپرستی کی اور لاہور کو ثقافتی مرکز بنا دیا۔ غزنویوں کے دور کے لاہور میں شاعر مسعود سعد سلمان نے عربی، فارسی اور مقامی زبانوں میں کتابیں لکھیں اور حضرت علی ہجویریؒ کی مشہور کتاب کشف المحجوب بھی اسی دور میں لکھی گئی۔ بارہویں صدی کے اواخر میں شہاب الدین غوری کے ہاتھوں دہلی اور اجمیر کی فتح کے بعد شمالی برصغیر پر مسلمانوں کا اقتدار قائم ہو گیا جبکہ سلطان غوری کے غلام قطب الدین ایبک نے شمال مغربی علاقوں کو مربوط اور تیرہویں صدی کے آغاز میں ایک خلجی مہم جُو اختیار الدین محمد بن بختیار نے شاہی مدد کے بغیر بہار اور بنگال کو فتح کر کے مسلمانوں کے اقتدار کو مشرقی ہندوستان تک پھیلا دیا۔ ایبک ہی کی حکومت میں دہلی پہلی مرتبہ دارالحکومت قرار پایا۔ ایبک کے بعد جب التمش بادشاہ بنا تو اس نے اقتدار سلطانی کو بنگال تک بڑھا دیا۔ شمالی برصغیر میں مسلمانوں کے دور کو بالعموم سلطانی دور کہا جاتا ہے۔ تین سو سال کے اس عرصہ میں یہاں پانچ خاندانوں کی حکومتیں رہیں۔ ان میں خاندان غلاماں، خلجی، تغلق، خاندان سیداں اور لودھی شامل ہیں۔ اس کے بعد ظہیر الدین بابر نے دہلی کی فتح سے آگرہ میں سلطنتِ مغلیہ کی بنیاد رکھی۔ شاہ جہاں اور اورنگ زیب کے ادوار میں ان کا اقتدار جنوبی برصغیر تک پھیل گیا۔ اس پورے عرصے میں 16 سال کا استثنیٰ رہا، جس میں فارس کے سُوری خاندان نے حکومت کی۔ مغلیہ سلطنت نے اسے برداشت کیا اور اورنگ زیب کی وفات تک اسے زوال نہ آیا، جس کی مسلسل جدوجہد سے مغل سلطنت میں برابر اضافہ ہوتا رہا۔ اس کی وفات کے پچاس سال بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے بنگال کے مغل وائسرائے کو شکست دے دی جو مملکت کا نہایت متمول صوبہ تھا۔ نتیجتاً مسلم اقتدار کے دوسرے مراکز بھی یکے بعد دیگرے زوال پذیر ہوتے رہے۔ 1799ء میں سرنگا پٹم کی جنگ میں ٹیپو سلطان کی شکست سے جس میں وہ شہید ہو گیا، جنوبی ہند میں مسلم اقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔ حیدر آباد محکوم بن گیا۔ اودھ، جسے بعد میں صوبجات متحدہ کے نام سے پکارا گیا، اس کا الحاق 1856ء میں ہوا اور 1857ء کی فیصلہ کن شکست نے مغلیہ سلطنت پر آخری ضرب لگائی۔