بربر اورالجزائر
اسپیشل فیچر
بربر شمالی افریقہ کے مقامی باشندے ہیں۔ یہ زیادہ تر الجزائر، شمالی مالی، مراکش، شمالی نائیجر، تیونس، لیبیا اور مغربی مصر میں آباد ہیں۔مراکش کے بعد بربروں کی سب سے بڑی تعداد الجزائر میں رہتی ہے۔ یہ لوگ تاریخی طور پر بربری زبانیں بولتے تھے لیکن ساتویں صدی میں مسلمانوں کی فتوحات کے بعد عربی رابطے کی زبان بن گئی اور بربروں کی بڑی تعداد نے بھی اسے اختیار کر لیا۔ شمالی افریقہ میں جانور پالنے اور کاشت کاری کرنے کا آغاز 11 ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ ہوا۔ وقت کے ساتھ وہاں رہنے والی مختلف آبادیوں نے بربر قوم کی شکل اختیار کر لی۔ایک ہزار قبل مسیح میں قرطاجنہ قبائل نے بحیرۂ روم کے ساحل کے ساتھ ساتھ آبادیاں بسانا شروع کر دیں اور پھر ایک سلطنت کی بنیاد رکھی۔ بربر قبائل نے موقع پا کر قرطاجنوں سے آزادی پا لی اور بربر ریاست کا قیام عمل میں آیا۔200 قبل مسیح میں اس علاقے پر رومن سلطنت نے قبضہ کر لیا۔ تاہم جب مغربی رومن ریاست کا زوال ہوا تو بربر پھر سے آزاد ہو گئے۔ بعد میں یہاں وندال قبائل نے قبضہ کر لیا جو بازنطینیوں کی آمد تک قائم رہا۔ بازنطینی یہاں آٹھویں ویں صدی عیسوی تک موجود رہے۔ بربر قبائل بذاتِ خود کئی قبائل پر مشتمل ہیں۔ ابنِ خلدون نے ان قبائل کی کل تعداد 12 بیان کی ہے۔جب عرب مسلمان شمالی افریقہ پہنچے تو مقامی افراد کی بڑی تعداد نے اسلام قبول کر لیا۔مسلم سلطنت کے زوال کے بعد متعدد بربر سلطنتیں قائم ہوئیں۔آٹھویں صدی میں ہسپانیہ کو فتح کرنے والے مسلمانوں میں اکثریت بربروں کی تھی۔ اس فوج کے سربراہ طارق بن زیاد بربر تھے۔ سولہویں صدی کے اوائل میں الجزائر کے بادشاہ کو زبردستی ہسپانوی بادشاہ کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا گیا۔چند برس بعد ترک سپاہیوں نے بحری جہازوں کی مدد سے یہاں قبضہ کر کے الجزائر کو سلطنت عثمانیہ سے ملا دیا گیا۔اسی صدی میں مقدس رومن سلطنت کے بادشاہ چارلس پنجم نے الجزائر پر 65 بحری جنگی جہازوں اور کثیر فوج کی مدد سے حملہ کر دیا۔ تاہم انہیں بدترین شکست ہوئی اور الجزائر کے رہنما حسن آغا کو قومی رہنما مان لیا گیا۔ الجزائر بہت بڑی فوجی قوت بن کر ابھرا۔ 17ویں صدی میں امریکی بحری جہازوں پر حملوں کی وجہ سے پہلی اور دوسری بربر جنگیں ہوئیں۔ دونوں اطراف کی فوجیں گرفتاری کے بعد غلام بنا دیتی تھیں۔ان لوگوں کے گہرے اثر و رسوخ کی بنا پر اس علاقے کو بربری ساحل کہا جاتا تھا۔ یہ لوگ اکثر یورپی ساحلوں پر حملہ کر کے لوگوں کو غلام بنا کر ترکی، مصر، ایران، الجزائر اور مراکش کے بازاروں میں بیچ دیتے تھے۔ ان حملوں کا اثر تباہ کن تھا۔ ٭…٭…٭