مینا کماری کی شاعری ماہ جبیں ناز نے اداکاری کی طرح شاعری میں بھی نام کمایا

مینا کماری کی شاعری  ماہ جبیں ناز نے اداکاری کی طرح شاعری میں بھی نام کمایا

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالحفیظ ظفر


بھارتی فلموں کی تاریخ میں جہاں کئی ایسے اداکاروں کا ذکر ملتا ہے جنہوں نے اپنی زبردست اداکاری سے اپنا نام کا سکہ جمایا اور آج بھی اُن کا نام زندہ ہے۔ ان کے مداحین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ اداکاری کے شہنشاہ دلیپ کمار کو ٹریجیڈی کنگ (Tragedy King) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک اداکارہ ایسی بھی تھیں جنہیں ٹریجیڈی کوئین (Tragedy Queen) کا خطاب دیا گیا۔ یہ اداکارہ تھیں مینا کماری۔مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا۔ انہوں نے چھ سال کی عمر سے ہی اداکاری شروع کر دی۔ قدرت نے انہیں بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ ان کی آواز بھی غضب کی تھی۔ وہ المیہ اداکاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتی تھیں۔ لیکن اداکارہ کے ساتھ ساتھ وہ گلوکارہ اور ایک عمدہ شاعرہ بھی تھیں۔ انہوں نے ماہ جبیں ناز کے نام سے شاعری کی۔ ناز اُن کا تخلص تھا۔ انہوں نے غزلیں بھی لکھیں اور بڑی متاثر کن نظمیں بھی تخلیق کیں۔مینا کماری کی ذاتی زندگی بھی کسی داستانِ الم سے کم نہ تھی۔ انہوں نے نامور شاعر اور ہدایت کار کمال امروہوی سے شادی کی لیکن یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی۔ کئی لوگ ا لزام عائد کرتے ہیں کہ مینا کماری نے کئی مسائل خود پیدا کئے اور زندگی میں جن مصائب اور دکھوں کا انہیں سامنا کرنا پڑا کافی حد تک ان کی ذمہ دار وہ خود بھی تھیں۔ بہرحال اُن کی شاعری میں وہ سوز ملتا ہے، عمر بھر وہ جس کی آگ میں جلتی رہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ مینا کماری جب تک زندہ رہیں زندگی کے معنی تلاش کرتی رہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ عمر بھر محبت کی متلاشی رہیں۔ ان کی محرومیوں نے اُن کی نفسیات پر گہرا اثر چھوڑا اور ان کی شاعری میں اس کا بھرپور عکس ملتا ہے۔مینا کماری کی شاعری درد اور یاسیت کی چادر میں لپٹی ہوئی ہے۔ ان کے اشعار سے اُداسیوں کی مہک آتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض تجربات کو بڑے لطیف پیرائے میں بیان کیا گیا ہے۔ کہیں کہیں نکتہ آفرینی بھی ملتی ہے۔ تراکیب کا استعمال بھی بڑی خوبصورتی سے کیا گیا ہے۔ ان کے شعری مجموعے ’’تنہا چاند‘‘ کے عنوان سے ہی یہ پیغام مل جاتا ہے کہ وہ تنہائیوں کے دشت میں رہ کر انجمن کا مفہوم سمجھنے کی سعی کر رہی ہیں۔ لیکن شاید وہ اِس حقیقت سے بھی آشنا ہیں کہ اگر تنہائی کا اپنا ایک دکھ ہے تو اس کا اپنا حُسن بھی ہے۔مینا کماری کے ہاں ندرتِ خیال بھی بڑے خوشگوار انداز میں ملتا ہے۔ ’’دُکھ کی گھٹا‘‘، ’’درد کے سائے‘‘ ’’اُداسی کا دھواں‘‘ اور ایسی ہی کئی اور تراکیب ہیں جن سے اس نظریئے کو تقویت ملتی ہے کہ یاسیت کا اندھیرا جب بہت زیادہ بڑھ جائے تو پھر رجائیت کی روشنی بھی ختم ہوتی جاتی ہے۔ اور اگر کسی وجہ سے اپنے آپ کو دلاسا اور حوصلہ دیا جائے تو ایک موہوم سی رجائیت کا جنم ہوتا ہے لیکن ہمیں ایسی رجائیت درکار نہیں۔ رجائیت وہ جو حیات افروز ہو اور جو ہر سمت زندگی اور روشنی کے امکانات پیدا کرے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مینا کماری عمر بھر سچی محبت تلاش کرتی رہیں تو یہ اپنی جگہ ایک المیہ ہے۔ اس بات میں کسی حد تک صداقت بھی ہے کیونکہ اس کا اظہار اُن کی فلم ’’صاحب بی بی اور غلام‘‘ میں بھی بڑے بھرپور طریقے سے ملتا ہے۔یہ بھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ شاعری میں مینا کماری کے اُستاد گلزار ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ بات درست ہو۔ مینا کماری کی چھوٹی بحر کی غزلوں سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ اُن کے تحت الشعور میں گلزار کا شعری آہنگ رچا بسا ہے۔ اور پھر اُن کے کئی اشعار سہلِ ممتنع کے زمرے میں آتے ہیں۔ گلزار کے ہاں بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے۔ویسے تو مینا کماری کی غزلیات پر ہی بات کی جاتی ہے لیکن ان کی نظمیں بھی فکری توانائی سے معمور ہیں۔ ذیل میں اپنے قارئین کی خدمت میں مینا کماری کی غزلوں کے چند اشعار پیشِ خدمت ہیں۔آبلا پا کوئی اِس دشت میں آیا ہو گاورنہ آندھی میں دیا کس نے جلایا ہو گابہتی ہوئی یہ ندیا، گھلتے ہوئے کنارےکوئی تو پار اترے، کوئی تو پار گزرےکہیں کہیں کوئی تارا، کہیںکہیں جگنوجو مری رات تھی وہ آپ کا سویرا ہےعیادت کو آئے شفا ہو گئیمرح روح تن سے جدا ہو گئیچاند تنہا ہے آسماں تنہادِل ملا ہے کہاں کہاں تنہازندگی کیا اِسی کو کہتے ہیںجسم تنہا ہے اور جاں تنہایہ نہ سوچو کل کیا ہوکون کہے اِس پل کیا ہومینا کماری کی بے مثال اداکاری کی طرح اُن کی شاعری بھی اثر آفریں ہے۔ وہ واقعی ایک نادرِ روزگار خاتون تھیں۔٭…٭…٭

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے

مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے

حقیقت اور فریب کے درمیان باریک لکیرمصنوعی ذہانت کی ترقی نے جہاں زندگی کے بے شمار شعبوں میں سہولتیں پیدا کی ہیں وہیں اس نے نئے اور پیچیدہ چیلنجز کو بھی جنم دیا ہے۔ خاص طور پر اے آئی کے ذریعے تیار کردہ انسانی چہرے اب اس قدر حقیقت سے قریب ہو چکے ہیں کہ عام آدمی کے لیے اصلی اور نقلی میں فرق کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔برطانوی ماہرین کی ایک ٹیم کی حالیہ سائنسی تحقیق کے مطابق یہ مصنوعی چہرے نہ صرف عام افراد کو دھوکہ دے رہے ہیں بلکہ چہرے پہچاننے کے ماہرین بھی اکثر انہیں اصلی سمجھ بیٹھتے ہیں۔یہ تحقیق جس پر ScienceAlert نے تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جدید اے آئی ماڈلز، بالخصوصStyleGAN جیسے سسٹمزانسانی چہروں کی ایسی تصاویر تیار کر رہے ہیں جو دیکھنے میں بالکل حقیقی محسوس ہوتی ہیں۔ جلد کی بناوٹ، آنکھوں کی چمک، بالوں کی ترتیب اور چہرے کے تاثرات اس قدر قدرتی ہوتے ہیں کہ انسانی دماغ انہیں بلا تامل اصل تسلیم کر لیتا ہے۔تحقیق میں شامل نتائج چونکا دینے والے ہیں۔ عام افراد، جنہیں چہرے پہچاننے کی معمول کی صلاحیت حاصل ہوتی ہے، اے آئی سے بنائے گئے چہروں کو صرف 31 فیصد مواقع پر ہی درست طور پر شناخت کر سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ شرح محض اندازے سے بھی کم ہے کیونکہ اگر کوئی شخص محض قیاس آرائی کرے تو اس کے درست ہونے کے امکانات 50 فیصد ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اے آئی کے بنائے گئے چہرے انسانی ذہن کو اس حد تک قائل کر لیتے ہیں کہ وہ حقیقت کے برعکس فیصلہ کر بیٹھتا ہے۔مزید حیران کن پہلو یہ ہے کہ وہ افراد جو ''سپر ریکگنائزرز‘‘ کہلاتے ہیں یعنی جو چہروں کو پہچاننے میں غیر معمولی مہارت رکھتے ہیں وہ بھی اس فریب سے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہے۔ تحقیق کے مطابق یہ ماہرین بھی بغیر کسی تربیت کے صرف 41 فیصد مواقع پر ہی جعلی چہروں کو پہچان سکے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسئلہ محض عام آگاہی یا ذہانت کا نہیں بلکہ خود ٹیکنالوجی کی غیر معمولی حقیقت پسندی کا ہے۔تاہم اس تحقیق کا سب سے اہم اور امید افزا پہلو یہ ہے کہ صرف پانچ منٹ کی مختصر تربیت افراد کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے۔ محققین نے شرکاکو اے آئی تصاویر میں پائی جانے والی عام خامیوں اور نشانیوں سے آگاہ کیا جیسے غیر فطری بالوں کی لکیر، دانتوں کی غیر متوازن ساخت، کانوں کے زیورات کا غیر منطقی ہونا، یا جلد کی عجیب سی ہمواری۔ اس مختصر تربیت کے بعد عام افراد کی درست شناخت کی شرح 51 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ سپر ریکگنائزرز کی کارکردگی نمایاں طور پر بہتر ہو کر 64 فیصد تک جا پہنچی۔اگرچہ 51 فیصد کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر یہ اس بات کا ثبوت ضرور ہے کہ انسانی آنکھ اور دماغ کو مناسب رہنمائی کی جائے تو وہ مصنوعی ذہانے کے فریب کو کسی حد تک پہچاننے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ یہ نتائج اس خیال کو تقویت دیتے ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں محض ٹیکنالوجی پر انحصار کافی نہیں بلکہ انسانی تربیت اور آگاہی بھی ناگزیر ہے۔اس مسئلے کی سنگینی اس وقت اور بڑھ جاتی ہے جب ہم اس کے عملی اثرات پر نظر ڈالتے ہیں۔ اے آئی سے بنائے گئے چہرے آج کل جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس، آن لائن فراڈ، ڈیپ فیک سکینڈلز اور شناختی جرائم میں عام استعمال ہو رہے ہیں۔ ایک ایسا چہرہ جو حقیقت میں کسی انسان کا وجود ہی نہیں رکھتا، اعتماد حاصل کر کے لوگوں کو مالی، سماجی اور نفسیاتی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ صحافت، سیاست اور قومی سلامتی جیسے حساس شعبے بھی اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ماہرین کے مطابق مستقبل میں اے آئی سے بنائی گئی تصاویر اور ویڈیوز مزید حقیقت پسندانہ ہوتی جائیں گی جس کے باعث محض انسانی مشاہدہ کافی نہیں رہے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسانی تربیت کو خود اے آئی پر مبنی ڈیٹیکشن ٹولز کے ساتھ جوڑا جائے۔ یعنی اے آئی کو ہی اے آئی کے فریب کو بے نقاب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے، جبکہ انسان کو بنیادی نشانیوں اور تنقیدی سوچ سے لیس کیا جائے۔تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ تربیت کے فوری اثرات تو مثبت ہیں مگر یہ واضح نہیں کہ یہ بہتری طویل مدت تک برقرار رہتی ہے یا نہیں۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا مستقل آگاہی پروگرامز، تعلیمی نصاب اور پیشہ ورانہ تربیت اس خلا کو پُر کر سکتی ہے؟ خاص طور پر صحافیوں، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے وابستہ افراد کے لیے یہ مہارت ناگزیر بنتی جا رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت کے بنائے گئے چہرے ہماری آنکھوں اور دماغ کے لیے ایک نیا امتحان ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی نہ مکمل طور پر خیر ہے اور نہ ہی مکمل طور پر شر، بلکہ اس کا دارومدار اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس طرح سمجھتے اور استعمال کرتے ہیں۔ پانچ منٹ کی تربیت اگر ہماری آنکھیں کچھ حد تک کھول سکتی ہے، تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ علم، آگاہی اور تنقیدی سوچ ہی اس ڈیجیٹل فریب کے مقابلے میں ہماری اصل طاقت ہیں۔

خواتین،لڑکیاں اور سائنس

خواتین،لڑکیاں اور سائنس

عالمی دن کا مقصد اور اہمیت؟ہر سال 11 فروری کو دنیا بھر میں سائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن منایا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی جانب سے متعین اس دن کا مقصد سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی(STEM ) کے شعبوں میں خواتین اور لڑکیوں کی شمولیت کا فروغ اور انہیں مساوی مواقع فراہم کرنا ہے ۔یہ دن اس بات پر زور دیتا ہے کہ خواتین نہ صرف سائنس کی ترقی میں حصہ لے سکتی ہیں بلکہ اختراعات اور نئی سوچ کے ذریعے معاشرتی اور قومی ترقی میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی نے دنیا کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ طب کے شعبے میں نئی ادویات ہوں، کمپیوٹر سائنس، ماحولیاتی تحقیق یا مصنوعی ذہانت، ہر شعبے میں خواتین کی شمولیت سے نئی اختراعات اور تخلیقی حل سامنے آتے ہیں۔تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ جب کسی ٹیم میں صنفی تنوع ہوتا ہے تو مسائل کے حل میں نئے زاویے اور خیالات آتے ہیں۔ لیکن دنیا کے کئی حصوں میں خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں، خواتین اور لڑکیوں کو اب بھی STEM کے شعبوں میں محدود مواقع ملتے ہیں جس کی وجہ معاشرتی روایات، تعلیم میں عدم مساوات اور پیشہ ورانہ رکاوٹیں ہیں۔ خواتین سائنسدان، چیلنجز اور کامیابیاںپاکستان میں خواتین کی تعلیم اور سائنس میں شمولیت میں نمایاں بہتری آئی ہے لیکن اب بھی کئی رکاوٹیں موجود ہیں۔ شہروں میں یونیورسٹیز میں لڑکیوں کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور وہ فزکس، کیمسٹری، بائیالوجی، کمپیوٹر سائنس اور انجینئرنگ میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان کی خواتین سائنسدانوں نے نہ صرف ملکی بلکہ بین الاقوامی سطح پر تحقیق اور اختراعات میں اہم کردار ادا کیا ہے۔پاکستان میں خواتین سائنسدانوں کے لیے کئی اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ خواتین کے لیے خصوصی تعلیمی وظائف،نجی یونیورسٹیز کے پروگرامز، STEM میں تربیت اور تحقیق کے مواقع،غیر سرکاری تنظیموں کی ورکشاپس، لڑکیوں میں سائنس میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے کیمپس اور سیمینارز۔ ان اقدامات کا مقصد لڑکیوں اور خواتین کو نہ صرف تعلیم کے مواقع فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں اپنے کیریئر میں آگے بڑھنے کی ترغیب دینا بھی ہے۔موجودہ چیلنجزپاکستان میں اب بھی کئی مسائل خواتین کی سائنس میں شمولیت میں رکاوٹ ہیں۔ مثال کے طور پردیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم محدود ہے، معاشرتی قدریں اور روایات خواتین کے پیشہ ورانہ کردار کو محدود کرتی ہیںSTEM شعبوں میں لڑکیوں کی نمائندگی ابھی بھی کم ہے ۔ان چیلنجز کا حل والدین اور معاشرے کی آگاہی، تعلیمی اصلاحات اور لڑکیوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ہے۔عالمی دن کا پیغام اور اثرسائنس میں خواتین اور لڑکیوں کا بین الاقوامی دن کا مقصد نوجوان لڑکیوں میں اعتماد پیدا کرنا اور انہیں یہ باور کرانا ہے کہ وہ سائنس میں کامیاب ہو سکتی ہیں۔دنیا بھر میں ہر سال سیمینارز، ورکشاپس، نمائشیں اور پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ لڑکیاں کامیاب خواتین سائنسدانوں سے سیکھ سکیں۔ پاکستان میں بھی کئی یونیورسٹیز اور تعلیمی ادارے اس دن کو مناتے ہیں اور طالبات کی کامیابیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔پاکستان میں مستقبل کے مواقعپاکستان میں لڑکیوں کی تعلیم، تحقیقی مواقع اور STEM میں کیریئر بنانے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔اس مقصد کے لیے سکولوں اور کالجز میں خصوصی پروگرامز،سائنس میلے اور نمائشیں،نوجوان سائنسدانوں کے لیے انعامات اور سپورٹ سے سائنس میں نئے آئیڈیاز کی حوصلہ افزائی ہو گی اور مضبوط، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کرنے میں مدد ملے گی۔ خواتین اور لڑکیاں سائنس میں نہ صرف حصہ دار ہیں بلکہ مستقبل کی تخلیق میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ پاکستان میں نوجوان لڑکیوں کو سپورٹ اور تربیت دے کر ہم ایک روشن، ترقی یافتہ اور مساوی معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔11 فروری ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ خواتین سائنسدانوں کی محنت اور کامیابیوں کو تسلیم کرنا اور آئندہ نسلوں کے لیے مواقع پیدا کرنا ضروری ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نیلسن منڈیلا کی رہائی11 فروری 1990ء کو نیلسن منڈیلا 27 سال قید کے بعد رہا ہوئے۔ نیلسن منڈیلا جنوبی افریقہ میں نسل پرستانہ نظام کے خلاف جدوجہد کی علامت تھے۔ انہیں 1962ء میں گرفتار کیا گیا اور 1964ء میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ اس دوران وہ روبن آئی لینڈ سمیت مختلف جیلوں میں قید رہے۔منڈیلا کی قید کا مقصد اپارتھائیڈ مخالف تحریک کو دبانا تھا مگر وہ عالمی سطح پر مزاحمت، آزادی اور انسانی حقوق کی علامت بن گئے۔ دنیا بھر میں ان کی رہائی کے لیے مظاہرے ہوتے رہے اور اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے جنوبی افریقہ پر دباؤ ڈالا۔نیلسن منڈیلاکی رہائی نے جنوبی افریقہ میں سیاسی مذاکرات کی راہ ہموار کی جس کے نتیجے میں اپارتھائیڈ کا خاتمہ ہوا۔ پوپ بینیڈکٹ شانزدہم کا استعفیٰ 11 فروری 2013 ء کوپوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ وہ تقریباً 600 سال بعد استعفیٰ دینے والے پہلے پوپ تھے۔ ان سے قبل 1415 ء میں پوپ گریگوری دوازدہم نے یہ قدم اٹھایا تھا۔پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے استعفیٰ کی وجہ اپنی بڑھتی عمر اور جسمانی کمزوری کو قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دنیا میں چرچ کی قیادت کے لیے جسمانی اور ذہنی طاقت درکار ہے جو اب ان میں باقی نہیں رہی۔یہ اعلان ویٹیکن میں ایک رسمی تقریب کے دوران لاطینی زبان میں کیا گیا۔ ویٹیکن سٹی کا قیام 11 فروری 1929ء کو لیٹرن معاہدہ پر دستخط ہوئے جس کے نتیجے میں ویٹیکن سٹی ایک آزاد خود مختار ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ یہ معاہدہ اٹلی کے آمر بینیٹو مسولینی اور کیتھولک چرچ کی نمائندگی کرنے والے پوپ پائیس کے درمیان طے پایا۔ اس معاہدے سے قبل ویٹیکن اور اطالوی حکومت کے درمیان شدید تنازع موجود تھا جو 1870ء میں اٹلی کے اتحاد کے بعد شروع ہوا۔ پوپ خود کو ''ویٹیکن کا قیدی‘‘ کہتے تھے اور اطالوی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ لیٹرن معاہدے نے اس تنازع کا خاتمہ کر دیا۔اس معاہدے کے تحت ویٹیکن کو ایک آزاد ریاست تسلیم کیا گیا اور پوپ کو مکمل خود مختاری دی گئی ۔ تھامس ایڈیسن کی پیدائش11 فروری 1847ء کو امریکہ کے عظیم موجد تھامس ایڈیسن پیدا ہوئے۔ وہ تاریخ کے سب سے زیادہ اثر انگیز سائنسدانوں اور موجدوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایڈیسن نے اپنی زندگی میں ایک ہزار سے زائد ایجادات پر پیٹنٹ حاصل کیے۔ ان کی ایجادات نے انسانی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔ بجلی کے بلب نے رات کو دن میں بدل دیا اور صنعتی ترقی کو نئی رفتار دی۔ایڈیسن کو رسمی تعلیم بہت کم ملی مگر ان کی ماں نے گھر پر تعلیم دی اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔ وہ ناکامی کو سیکھنے کا ذریعہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ میں ناکام نہیں ہوا، میں نے صرف دس ہزار ایسے طریقے دریافت کیے جو کام نہیں کرتے۔ جاپان کا قومی یومِ تاسیس 11 فروری کو جاپان میں قومی یومِ تاسیس منایا جاتا ہے۔ جاپانی روایت کے مطابق اسی دن 660 قبل مسیح میں شہنشاہ جِمّو نے جاپان کی بنیاد رکھی۔ اگرچہ یہ واقعہ تاریخی کے بجائے اساطیری حیثیت رکھتا ہے مگر جاپانی قوم کیلئے اس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے۔یہ دن جاپانی شناخت، اتحاد اور ریاستی تسلسل کی علامت ہے۔ اس موقع پر سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم لہرایا جاتا ہے، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور جاپانی تاریخ پر مباحث کیے جاتے ہیں۔ شہنشاہی نظام کو جاپان کی تاریخ میں مرکزی حیثیت حاصل ہے، اور شہنشاہ جمو کو پہلا شہنشاہ مانا جاتا ہے۔

اینٹی میٹر:کائنات کا سب سے مہنگا اور پر اسرار مادہ

اینٹی میٹر:کائنات کا سب سے مہنگا اور پر اسرار مادہ

کائنات میں موجود ہر شے مادے (Matter) سے بنی ہے مگر اسی کائنات میں ایک ایسا مادہ بھی موجود ہے جو ہماری عام فہم دنیا کے بالکل برعکس ہے۔ اسے'' اینٹی میٹر‘‘ کہا جاتا ہے۔ اینٹی میٹر کو آج تک انسان کا تخلیق کردہ سب سے مہنگا مادہ تصور کیا جاتا ہے تاہم اس کی قیمت دولت یا منڈی سے نہیں بلکہ اس کی تیاری، کنٹرول اور تحقیق کی غیر معمولی مشکل سے جڑی ہوئی ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اینٹی میٹر فطرت میں آزاد حالت میں تقریباً نایاب ہے۔ اسے نہ کانوں سے نکالا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی قدرتی ذخیرے سے حاصل کیا جا سکتا ہے بلکہ یہ صرف جدید ترین پارٹیکل ایکسیلیریٹرز میں انتہائی کنٹرول شدہ حالات کے تحت ذرہ بہ ذرہ تیار کیا جاتا ہے۔اینٹی میٹر کیا ہے؟سادہ الفاظ میں اینٹی میٹر عام مادے کا الٹ ہے۔ مثال کے طور پر اگر مادے میں الیکٹران منفی چارج رکھتا ہے تو اینٹی میٹر میں اس کا متبادل پوزیٹرون مثبت چارج رکھتا ہے۔ اسی طرح پروٹان کا اینٹی ذرہ اینٹی پروٹان کہلاتا ہے۔یہ تصور پہلی بار بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آیا تھاجب برطانوی سائنسدان پال ڈراک نے 1928ء میں مساواتوں کے ذریعے پیش گوئی کی کہ مادے کے ہر ذرے کا ایک مخالف ذرہ بھی ہونا چاہیے۔ بعد ازاں 1932ء میں پوزیٹرون کی دریافت نے اس نظریے کو حقیقت میں بدل دیا۔اینٹی میٹر اور توانائی کا تعلقاینٹی میٹر کو غیر معمولی بنانے والی سب سے بڑی وجہ اس کی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب اینٹی میٹر کسی عام مادے سے ٹکراتا ہے تو دونوں مکمل طور پر فنا ہو جاتے ہیں اور ان کا تقریباً سو فیصد mass توانائی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ عمل آئن سٹائن کے مشہور فارمولےE = mc2 کی عملی مثال ہے۔یہی وجہ ہے کہ نظریاتی طور پر اینٹی میٹر کو توانائی کا سب سے طاقتور ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایک گرام اینٹی میٹر اگر مکمل طور پر مادے کے ساتھ فنا ہو جائے تو وہ اتنی توانائی پیدا کر سکتا ہے جو ایک بڑے ایٹمی دھماکے کے برابر ہو۔ تاہم یہ تصور ابھی عملی دنیا سے بہت دور ہے۔اینٹی میٹر کیوں اتنی مہنگا ہے؟اینٹی میٹر کی قیمت کا اندازہ لگانا خود ایک مشکل کام ہے مگر سائنسی اندازوں کے مطابق اس کے ایک گرام کی قیمت کھربوں ڈالر تک جا سکتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے، جیسے یورپی تنظیم برائے جوہری تحقیق (CERN) کئی سالوں کی محنت کے بعد بھی صرف نینوگرام (گرام کا اربواں حصہ) مقدار ہی تیار کر پاتے ہیں۔اینٹی میٹر کی تیاری میں بے پناہ توانائی، جدید مشینری اور انتہائی مہنگا انفراسٹرکچر درکار ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو ذخیرہ کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اینٹی میٹر کسی بھی عام مادے سے چھوتے ہی فنا ہو جاتا ہے۔اینٹی میٹر کو کیسے محفوظ کیا جاتا ہے؟اینٹی میٹر کو محفوظ رکھنے کے لیے سائنسدان مقناطیسی جال (Magnetic Traps) استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ اینٹی میٹر برقی چارج رکھتا ہے، اس لیے مضبوط مقناطیسی میدان کے ذریعے اسے خلا میں معلق رکھا جاتا ہے تاکہ وہ کسی بھی مادی سطح سے ٹکرانے سے محفوظ رہے۔یہ نظام نہایت نازک اور مہنگا ہوتا ہے اور ذرا سی خرابی اینٹی میٹر کو فوراً ختم کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اینٹی میٹر کا ذخیرہ فی الحال ممکن نہیں۔عملی استعمال؟اگرچہ اینٹی میٹر کو توانائی کے منبع کے طور پر استعمال کرنا فی الحال ناممکن ہے تاہم اس کے کچھ حقیقی اور قابلِ عمل استعمال پہلے ہی موجود ہیں۔طبی شعبے میں اینٹی میٹر کا استعمالPET Scan(Positron Emission Tomography) میں کیا جا رہا ہے جو کینسر اور دیگر پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سائنسدان مستقبل میں اینٹی میٹر کو کینسر کے علاج میں انتہائی درست اور محدود نقصان کے ساتھ استعمال کرنے پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ PETسکین اور اینٹی میٹر PET سکین میں اینٹی میٹر کو باہر سے لانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اسے خود پیدا کیا جاتا ہے اور فوراً استعمال کر لیا جاتا ہے۔PET سکین میں پازیٹرون استعمال کیا جاتا ہے جو الیکٹران کی اینٹی میٹر شکل ہے۔ پازیٹرون قدرتی طور پر نہیں ملتے بلکہRadioactive Decay کے دوران پیدا ہوتے ہیں۔ PETسکین میں استعمال ہونے والے کیمیکل (جیسے فلورین18) ایک خاص مشین سائیکلوٹرون (Cyclotron) میں تیار کیے جاتے ہیں۔یہ تابکار مادے خود بخود ٹوٹتے ہیں اور اس عمل میں پازیٹرون خارج کرتے ہیں۔ یوں اینٹی میٹر اسی لمحے پیدا ہوتا ہے جب اس کی ضرورت ہوتی ہے۔پازیٹرون انسانی جسم میں صرف ایک سے دو ملی میٹر تک سفر کرتا ہے۔ پھر وہ ایک الیکٹران سے ٹکرا کر دونوں ختم ہو جاتے ہیں۔ اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو گاما شعاعیں نکلتی ہیں جو ایک دوسرے کی مخالف سمت میں جاتی ہیں۔ PET سکینر ان شعاعوں سے یہ تعین کرتا ہے کہ ٹکراؤ کہاں ہوا۔ اسی بنیاد پر کینسر، دماغی سرگرمی اور میٹابولزم کا نقشہ بنایا جاتا ہے۔

مراقبہ اور دماغی صحت

مراقبہ اور دماغی صحت

خاموشی اور توجہ کے ذہنی اثراتاکیسویں صدی میں جہاں انسانی دماغ مسلسل معلومات، سکرینوں اور دباؤ کی زد میں ہے وہیں ارتکاز توجہ کا ایک قدیم عمل جدید سائنس کی توجہ کا مرکز بنتا جا رہا ہے۔ حالیہ سائنسی تحقیق سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ مراقبہ صرف ذہنی سکون ہی نہیں دیتا بلکہ یہ دماغی سرگرمی اور نیورل نیٹ ورک کی ساخت کو بھی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق گہرے مراقبے کے دوران دماغ ایک ایسی حالت میں داخل ہو سکتا ہے جسے ماہرینِ اعصاب ''برین کریٹیکلیٹی‘‘ (Brain Criticality) کہتے ہیں۔ یہ وہ نازک توازن ہے جہاں دماغ نہ مکمل انتشار کا شکار ہوتا ہے اور نہ ہی حد سے زیادہ جامد بلکہ ایک ایسی درمیانی کیفیت میں ہوتا ہے جو سیکھنے، توجہ، یادداشت اور لچکدار سوچ کے لیے مثالی سمجھی جاتی ہے۔اس تحقیق میں انتہائی تجربہ کار بدھ راہبوں کو چنا گیا جنہوں نے اوسطاً 15 ہزار گھنٹے سے زائد مراقبہ کیا ہوا تھا۔ سائنسدانوں نے دماغی سرگرمی ناپنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی میگنیٹو اینسیفلوگرافی (MEG) استعمال کی جو دماغ میں پیدا ہونے والے برقی مقناطیسی سگنلز کو نہایت باریکی سے ریکارڈ کرتی ہے۔تحقیق کے دوران دو مختلف مراقبہ تکنیکوں کا مطالعہ کیا گیا۔نتائج سے معلوم ہوا کہ مراقبہ دماغ کو زیادہ مستحکم اور مرتکز حالت میں لے جاتا ہے جو یکسوئی اور مسلسل توجہ کے لیے مفید ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مراقبے کے دوران دماغ میں پائی جانے والی گاما لہروں (Gamma Waves) میں کمی دیکھی گئی۔ عام طور پر یہ لہریں بیرونی محرکات اور تیز ذہنی سرگرمی سے جڑی ہوتی ہیں۔ ان میں کمی کا مطلب یہ لیا گیا کہ دماغ بیرونی دنیا سے ہٹ کر اندرونی شعور کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔تحقیق کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ جو راہب زیادہ تجربہ کار تھے ان کے دماغ میں مراقبے اور عام حالت کے درمیان فرق نسبتاً کم تھا۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ طویل عرصے تک مراقبہ کرنے سے دماغ کی بنیادی حالت زیادہ پرسکون اور متوازن ہو جاتی ہے۔ یعنی مراقبہ صرف وقتی عمل نہیں رہتا بلکہ ذہن کی مستقل کیفیت میں ڈھل جاتا ہے۔کیا مراقبہ سب کے لیے مفید ہے؟اگرچہ یہ نتائج نہایت حوصلہ افزا ہیں مگر محققین خبردار کرتے ہیں کہ مراقبہ کوئی جادوئی حل نہیں۔ کچھ افراد میں، خاص طور پر شدید یا بغیر رہنمائی کے مراقبہ کرنے پر اضطراب، الجھن یا جذباتی بے چینی جیسے اثرات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ اسی لیے ماہرین کا کہنا ہے کہ مراقبہ کو اعتدال، آگاہی اور درست رہنمائی کے ساتھ اپنانا چاہیے۔جدید سائنس اور قدیم حکمتیہ تحقیق اس بات کی ایک اور کڑی ہے کہ جدید نیورو سائنس آہستہ آہستہ ان اصولوں کی تصدیق کر رہی ہے جنہیں مشرقی فلسفہ صدیوں سے بیان کرتا آیا ہے۔ ماضی میں مراقبہ کو محض روحانی یا مذہبی عمل سمجھا جاتا تھا مگر آج یہ ذہنی صحت، تعلیم، تھراپی اور حتیٰ کہ کارپوریٹ دنیا میں بھی جگہ بنا رہا ہے۔مراقبہ محض آنکھیں بند کر کے بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو دماغ کی فعالیت، ساخت اور توازن کو نئی شکل دے سکتا ہے۔ تاہم یہ سفر صبر، تسلسل اور سمجھ بوجھ کا متقاضی ہے۔ خاموشی میں بیٹھ کر ذہن کو سننا شاید آج کے شور یدہ دور میں سب سے بڑی سائنسی اور انسانی ضرورت بنتا جا رہا ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!فاطمہ ثریا بجیا ڈرامے کی آبرو (2016-1930ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!فاطمہ ثریا بجیا ڈرامے کی آبرو (2016-1930ء)

٭... یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں آنکھ کھولی۔٭...بجیا کا تعلق ہندوستان کے ایک علمی و ادبی گھرانے سے تھا۔ ٭... 1948ء میں ان کا خاندان ہجرت کرکے کراچی آگیا۔٭... بجیا اور ان کے بہن بھائی( انور مقصود، زہرہ نگاہ، سارہ نقوی اور زبیدہ طارق)پاکستان میں علم و ادب اور فنونِ لطیفہ کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہوئے اور نام و مقام بنایا۔٭...بجیا نے قلم اور ڈرامائی تشکیل کی بدولت خوب نام پایا اور اپنی فکر اور نئی نسل کی تربیت کیلئے اپنے مشفقانہ اور پیار بھرے انداز کیلئے مشہور ہوئیں۔٭... بجیا کے ناولوں کی تعداد آٹھ بتائی جاتی ہے اور ایک ہی ناول کی اشاعت ممکن ہوسکی۔ ٭... مقبول ڈراموں میں '' شمع،افشاں،عروسہ ،زینت، اساوری،گھر ایک نگر،آگہی،انا،کرنیں،بابر،تصویرِ کائنات،سسّی پنوں‘انار کلی شامل ہیں٭...ان کی سوانحِ عمری ''برصغیر کی عظیم ڈرامہ نویس فاطمہ ثریا بجیا کی کہانی‘‘ کے عنوان سے 2012ء میں شائع ہوئی۔٭...1997ء میں حکومت پاکستان نے ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ''تمغہ حسن کارکردگی‘‘ اور 2012ء میں ''ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا۔٭... قومی اور بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کیے جن میں جاپان کا شاہی ایوارڈ بھی شامل ہے۔٭...صوبائی حکومت سندھ میں مشیر برائے تعلیم کی حیثیت سے خدمات بھی انجام دیں۔٭... 22 مئی 2012 ء کو ان کی سوانح حیات ''آپ کی بجیا‘‘ شائع ہوئی، جسے سیدہ عفت حسن رضوی نے چھ سال کی تحقیق کے بعد شائع کیا۔٭... یکم ستمبر 2018ء گوگل نے ان کی 88ویں سالگرہ کے دن گوگل ڈوڈل ریلیز کیا۔٭... کینسر کے باعث 86 سال کی عمر میں 10 فروری 2016ء کو وفات پائی۔