اشرف خلیل : سپاہی سے سلطان تک
اسپیشل فیچر
مملوک سپاہی سے سلطان بنے۔ وہ قرون وسطیٰ میں ایوبی سلاطین اور دیگر مسلم فرمانرواؤں کے لیے خدمات انجام دیتے تھے لیکن پھر اتنے طاقت ور ہوئے کہ مملوک سلطنت کی بنیاد رکھ دی۔ آٹھویں مملوک سلطان اشرف خلیل بن قلاوون کی وجۂ شہرت آخری صلیبی قوت کا خاتمہ اور فلسطین میں عکّا پر قبضہ ہے۔ اشرف خلیل کی تاریخ پیدائش کے بارے میں حتماًکچھ کہا نہیں جا سکتا لیکن انتقال جواں عمری میں ہوا۔ وہ 1279ء سے 1290ء تک مصر پر حکمرانی کرنے والے سلطان قلاوون الصالحی کا بیٹا تھا۔ اس کے تین بھائی صالح علی، ناصر محمد اور احمد تھے۔ بہنوں کی تعداد دو تھی۔ 1284ء میں اشرف خلیل نے ایک امیر کی بیٹی سے شادی کی اور اسی کی دوسری بیٹی کی شادی صالح علی سے ہوئی۔ دونوں منگول النسل تھیں۔سلطنتوں میں جانشینی کا معاملہ خاصا نازک ہوتا ہے اور باہمی اختلافات، یہاں تک کہ خانہ جنگیوں کا سبب بنتا ہے۔ اشرف خلیل کے معاملے میں حالات و واقعات نے کچھ ساتھ دیا اور والد کے انتقال کے بعد اس نے اقتدار سنبھال لیا۔ دراصل والد ایک اور بیٹے کو اقتدار حوالے کرنا چاہتا تھا۔ 1280ء میں قلاوون نے صالح علی کو اپنا جانشین مقرر کیا۔ اس کے بعد کیے جانے والے معاہدوں میں قلاوون کے نام کے بعد صالح علی کا نام لکھا جانے لگا۔ 1285ء کے بعد اشرف کا نام بھی معاہدوں میں درج ہونے لگا، مثلاً یہ نام قلاوون اور آرمینا کوچک کے بادشاہ کے درمیان معاہدے میں درج ہوا۔ 1288ء میں صالح علی کی وفات کے بعد اشرف خلیل کا نام قلاوون کے ساتھ بطور شریک سلطان درج ہونے لگا۔ اگرچہ اشرف خلیل کا نام جمعہ کے خطبے میں قلاوون کے ساتھ لیا جانے لگا تھا لیکن قلاوون نے بطور جانشین اس کے نام کی توثیق نہیں کی تھی۔ اس ہچکچاہٹ کا کوئی سبب تو ہوگا، ممکن ہے اسے اشرف خلیل کی صلاحیتوں پر اعتماد نہ ہو یا وہ مصر کے نائب سلطان امیر حسام الدین طرنطائی کی مخالفت سے تشویش زدہ ہو۔ 9 نومبر 1290ء کو اپنے والد کی وفات پر اشرف خلیل حکمران بن گیا۔ کسی گڑبڑ سے بچنے یا مقبرے کی تعمیر مکمل کرنے کے لیے اس نے کچھ عرصہ والد کی تدفین کو مؤخر کیے رکھا۔ سلطان بننے کے بعد اس نے افواج کی طاقت بڑھانے پر توجہ دی اور اپنے والد کی 6 ہزار منصوریہ مملوک سپاہ کو اپنی 12 سو اشرفیہ مملوک سپاہ میں ضم کر دیا۔ اشرف کی سپاہ میں بیشتر شمالی کاکیشیائی تھے۔ اشرف خلیل پر پہلا وار اس کے دربار میں ہوا۔ ایک شاہی تقریب میں نائب سلطان نے اس کو قتل کرانے کی ناکام کوشش کی، وہ قاہرہ کے قلعہ صلاح الدین ایوبی میں قید ہوا اور چند روزہ اذیت سہنے کے بعد ابدی نیند سو گیا۔ اشرف خلیل کے مختصر اقتدار میں چیدہ چیدہ منصوری امیروں کو عہدے دینے کے بعد قید کرنا عام رہا تاہم اس نے منصوری مملوکوں کو بحیثیت گروہ نشانہ نہیں بنایا اور نہ ان کی جگہ اشرفی مملوکوں کو تعینات کیا۔ قلاوون 1289ء میں طرابلس کے انتظامی علاقے کو فتح کر چکا تھا۔ اس کی بنیاد صلیبی قوتوں نے رکھی تھی۔ قلاوون کا مصمم ارادہ تھا کہ شامی علاقوں میں صلیبیوں کی موجودگی ختم کرے۔ نومبر 1290ء میں اس نے سلطنت یروشلم کے دارالحکومت عکّا کی جانب بڑھنا شروع کیا لیکن قاہرہ سے نکلا ہی تھا کہ موت نے آ لیا۔ قلاوون اور اس کے معاونین محاصرے کا منصوبہ پہلے ہی بنا چکے تھے، اشرف خلیل نے بس اس پر عمل کرنا تھا۔ مارچ 1291ء میں اشرف خلیل نے ایسا ہی کیا۔ وہ مصر کی مملوک فوج کی قیادت میں روانہ ہوا تو ساتھ ہی شام کے مملوک امیروں کو عکّا کی جانب بڑھنے کا کہا۔ ان سپاہ میں حماہ کا ایوبی امیر مظفر محمود دوم بھی شامل تھا جس کے ہمراہ منجنیقیں تھیں۔ دیگر میں حسام الدین لاجین کی سربراہی میں دمشق سے، سیف الدین بلبان کی سربراہی میں طرابلس سے اور بیبرس کی قیادت میں کرک سے سپاہ شامل تھیں۔ اگرچہ ان فوجوں کی مجموعی تعداد کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن غالب امکان یہی ہے کہ ان کی تعداد عکّا کا دفاع کرنے والی صلیبی افواج سے زیادہ ہو گی۔ مئی 1291ء میں اشرف خلیل کی افواج عکّا پر حملہ آور ہوئیں اور ’’نائٹ ٹیملر‘‘ دستوں سے ان کا سخت مقابلہ ہوا۔ مذہبی بنیاد پر ان خصوصی دستوں کا قیام 1119ء میں عمل میں آیا تھا۔ عکّا کے قلعے کا دفاع ان کے ذمے تھا، وہ وار نہ سہہ پائے اور 17جون تک مملوک افواج نے عکّا پر قبضہ کر لیا۔ بہت سے رہائشی بذریعہ سمندرفرار ہو گئے اور جو رہ گئے وہ مارے گئے یا قید ہوئے۔ فتح کی خبر دمشق اور قاہرہ پہنچی تو وہاں خوشی کے اظہار کے طور پر شہروں کو خوب سجایا گیا۔ اشرف خلیل زنجیروں میں جکڑے قیدیوں کے ساتھ فاتحانہ انداز میں دمشق میں داخل ہوا۔ یہاں سے وہ قاہرہ پہنچا جہاں پھر شہر میں جشن کا سماں تھا۔ عکّا پر قبضہ بہت اہمیت کا حامل تھا، اس کے بعد مملوک جرنیلوں نے شامی ساحلوں پر صلیبی قوت کے زیرانتظام اہم مقامات کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ چند ہی ہفتوں میں وہ صور، صیدا، بیروت، حیفا اور طرطوس کو فتح کر چکے تھے۔ سات اگست کو صلیبی قوتوں کے آخری مقام عتلیت پر بھی قبضہ کر لیا گیا۔ 1292ء میں اشرف خلیل اپنے وزیر ابن سلعوس کے ساتھ دمشق سے ہوتے ہوئے حلب کی جانب سفر کیا اور قلعہ روم کا محاصرہ کر لیا، یہ ’’پیٹریارک آف آرمینیا‘‘ کا صدر مقام تھا۔ ایک ماہ کا وقت صرف ہوا اور یہ زیر ہو گیا۔ قلعہ ایک امیر کے حوالے کرنے کے بعد وہ قیدیوں کے ساتھ دمشق پہنچا۔ اس موقع پر اہل دمشق نے رات کے وقت ہزاروں شمعیں روشن کر کے سلطان کا استقبال کیا۔ بعدازاں وہ باب النصر سے گزر کر قاہرہ میں داخل ہوا اور یہاں بھی ہزاروں شمعیں روشن کی گئیں۔ اشرف خلیل نے اپنی مہمات جاری رکھیں اور سلطنت آرمینیا کے دارالحکومت سیس (جو اب ترکی کا شہر کوزان ہے) پر حملہ آور ہونے کے لیے افواج کو جمع کیا۔ لیکن سلطنت نے بعض علاقے سلطان کے حوالے کر کے امن کی راہ لی۔ اس کے بعد سلطنت آرمینیا انحطاط پذیر ہونا شروع ہو گئی۔ سلطنت یروشلم کو صلاح الدین، بیبرس اور قلاوون پہلے ہی تباہ کر چکے تھے لیکن ساتویں صلیبی جنگوں کے قائد لوئس نہم کی شام کے خلاف ناکام مہمات کے بعد صلیبی قوتوں نے شام کے ساحلی علاقوں میں اپنی قوت کو قائم رکھا ہوا تھا اور انہیں امید تھی کہ ایک دن وہ دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے علاقے حاصل کر لیں گی۔ پوپ نکولس چہارم نے ایسا کرنے کی کوشش کی لیکن 1292ء میں اس کا انتقال ہو گیا اورباہمی چپقلش کے شکار یورپی بادشاہ نئی صلیبی جنگ کرنے کے اہل نہ رہے۔ باہمی چپقلشیں اور سازشیں صرف مغربی سلطنتوں میں ہی عام نہ تھیں۔ بہت سے امیر اشرف خلیل کو ناپسند کرتے تھے کیونکہ اس نے بعض امیروں کے خلاف سخت اقدامات کیے تھے۔ مثلاً اس نے حسام الدین لاجین کو گرفتار کیا۔ فتوحات کے بعد بعض دیگر امیروں کے خلاف کارروائی کی۔ اشرف خلیل نے اپنے والد کی ایک پالیسی کو جاری رکھا…ترک مملوکوں کی جگہ کاکیشیائی مملوکوں کو بااختیار بنانا۔ اس سے مملوکوں کے درمیان اختلافات تیز ہو گئے۔ صلیبی جنگوں میں فتح کے بعد اس نے بعض امیروں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کرنا شروع کر دیا۔ اس دوران سلعوس سے اس کا سلوک بہت اچھا رہا، جو دراصل مملوک نہیں تھا، بلکہ دمشق کا ایک تاجر تھا۔ وہ ترقی کرتے قاہرہ کے محتسب کے عہدے پر پہنچا، وزیر بنا اور پھر اس کا اثر سلطان کے دربار میں بہت بڑھ گیا۔ بعض لوگوں کو اس سے شکایت اور بعض کو حسد تھا۔ 1293ء کے آخری ماہ سلطان شمالی مصر میں پرندوں کے شکار پر گیا ہوا تھا۔ اس نے سلعوس کو مالیہ اکٹھا کرنے کے لیے سکندریہ بھیجا جہاں اسے معلوم ہوا کہ ایک اور امیر تو پہلے ہی سب کچھ لے جا چکا ہے، اس پر سلطان نے سخت ردعمل ظاہر کیا جس پر بعض امرا نے مل کر سلطان کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا اور پھر اسی برس14 دسمبر کو اسے قتل کر دیا گیا۔