کورونا وائرس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

کورونا وائرس کی تشخیص کیسے ہوتی ہے؟

اسپیشل فیچر

تحریر : رضوان عطا


چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والی کورونا وائرس کی وبا پھیلتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اس نے سماجی اور معاشی نظام کو تہ و بالا اور نظام زندگی معطل کر دیا ہے۔اس کے خاتمے یا کم از کم اس کی رفتار کم کرنے کے لیے دنیا بھر میں غیرمعمولی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان میں اجتماع اور نقل و حرکت پر پابندی، احتیاطی تدابیر سے آگہی اور ''لاک ڈاؤن‘‘ شامل ہیں۔ یہ تمام اقدامات بے سود ثابت ہو سکتے ہیں اگر کووڈ19- کی بروقت اور مناسب پیمانے پر تشخیص نہ کی جائے۔ 
کسی ملک میں وائرس کا پھیلاؤ ابتدائی مراحل میں ہو یا بہت زیادہ ہو چکا ہو، دونوں صورتوں میں ٹیسٹ کے ذریعے تشخیص کی اہمیت مسلمہ ہے۔ مختلف ممالک میں اس مرض کے ٹیسٹوں کی شرح مختلف ہے۔ اس کا انحصار جہاں مریضوں کی تعداد پر ہے وہیں حکومتی ترجیحات اور سہولیات کی دستیابی پر بھی ہے۔ بعض ممالک نے ٹیسٹنگ ترجیحی بنیادوں پر کی۔ ان میں چین اور جنوبی کوریا کے نام شامل ہیں۔ ان ممالک نے ٹیسٹنگ کے لیے ضروری سامان کی پیداوار کو جلد ممکن بنایا۔ زیادہ مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کرنے سے انہیں وبا کی روک تھام میں مدد ملی۔ 
کس کا ٹیسٹ کرنا ہے اور کس کا نہیں، اس کا ایک عمومی پیمانہ ہے البتہ بعض ممالک میں تھوڑے سے شبے پر ٹیسٹ کر لیے جاتے ہیں اور بعض میں واضح علامات آنے پر ہوتے ہیں۔ ٹیسٹ کے بغیر یہ ممکن نہیں کہ کسی فرد میں اس وائرس کی موجودگی کا حتمی فیصلہ کر لیا جائے۔ 
کسی کا ٹیسٹ کرنے کی دو بڑی وجوہات ہوتی ہیں۔ فرد میں کورونا وائرس کی علامات ظاہر ہو جائیں یا اس کے مریض سے اس کا رابطہ ہوا ہو۔ 
کووڈ19- کی اہم علامات بخار، خشک کھانسی اور سانسوں میں تیزی ہیں۔ یہ نزلہ یا عام زکام جیسی ہوتی ہیں اس لیے صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کا ٹیسٹ کیا جاتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگوں کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جو کہتے ہیں کہ ان کا کسی ایسے مریض سے واسطہ نہیں پڑا۔ اسی سے پتا چلتا کہ یہ کتنا بڑا چیلنج ہے۔
ٹیسٹوں کی سہولت کم ہونے کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑ سکتا ہے کہ کس کا ٹیسٹ کیا جائے اور کس کا نہیں۔ ٹیسٹوں میں معمراور پہلے سے بیمار افراد کو ترجیح دی جاتی ہے کیونکہ ذیابیطس، بلند فشارِخون، امراض قلب اور سرطان میں مبتلا افراد میں کورونا وائرس سے پیچیدگیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ 
کووڈ19- کی علامات انفیکشن کے فوری بعد ظاہر نہیں ہوتیں، ان میں وقت لگتا ہے جو دو ہفتے تک ہو سکتا ہے۔ اس دوران وائرس کا شکار فرد دوسروں میں وائرس منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی چھینک یا کھانسی انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اگر وہ قریب بیٹھے زیادہ لوگوں میں کھانسے یا چھینکے گا تو ان سب میں وائرس کی منتقلی کا خدشہ ہو گا۔ ناک اور منہ سے نکلنے والے چھینٹوں یا قطروں سے یہ وائرس دوسروں میں براہِ راست داخل ہو سکتا ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وائرس والے چھینٹے کسی جگہ مثلاً میز یا کاغذ پر گریں اور وہاں کسی کا ہاتھ لگے اور وہ ہاتھ پھر ناک یا منہ پر لگ جائے۔ یوں بھی وائرس کسی کے جسم میں داخلے کا راستہ بنا سکتا ہے۔ دنیا بھر میں نئے کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کو دیکھ کر بآسانی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بہت جلد پھیلتا ہے اور بہت متعدی ہے۔ علامات کے نمودار ہونے میں تاخیر اور بعض افراد میں علامات کا ظاہر نہ ہونا اسے مزید خطرناک اور پریشان کن بنا دیتا ہے۔ اگر کسی میں علامات ظاہر نہ ہوں اور اسے شبہ ہو کہ وہ اس وائرس کا شکار ہو چکا ہے تو حقیقت جاننے کے لیے ٹیسٹ ہی کا سہارا لیا جا سکتا ہے۔ 
جتنی جلدی کوروناوائرس کے شکار فرد کی بیماری کا پتا چلے گا اتنا ہی بہتر ہے۔ ٹیسٹ مثبت آئے گا تو مریض کو الگ کر دیا جائے گا، اس کا خیال رکھا جائے گا تاکہ وہ صحت یاب ہو جائے اور وہ دوسروں میں مرض پھیلانے کے قابل بھی نہیں رہے گا۔ 
کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ کا ایک اور فائدہ حکمت عملی اور پالیسی میں ہوتا ہے۔ اگر متعلقہ اداروں کو معلوم ہو جائے کہ فلاں علاقے میں کووڈ19- کے مریض زیادہ ہیں تو وہ اس پر توجہ مرکوز کریں گے اور یہ کوشش ہو گی کہ وائرس وہاں سے دوسرے علاقوں میں نہ پھیلے۔ علاقائی اور ملکی دونوں سطحوں پر ٹیسٹ کے ذریعے مریضوں کی تشخیص حالات کی درست تصویر کشی اور اس کے مطابق ردعمل میں معاون ہوتی ہے۔ 
یہ وائرس جسے سارس- کوو2- کانام دیا گیا ہے، نیا ہے اور اس کے بارے میں تحقیق پورے زور و شور سے جاری ہے جو وقت کی ضرورت بھی ہے۔ اس کی تشخیص کے ٹیسٹوں کو بہتر اور کم وقت میں نتائج حاصل کرنے کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ 
جب کسی کا ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کر لیا جائے تو پھر نمونہ لیا جاتا ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق فیصلے کے بعد نمونہ لینے اور ٹیسٹ کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔ ادارہ نمونہ درست طور پر لینے کی بھی تاکید کرتا ہے۔ 
ٹیسٹ کا نمونہ ناک کے اندرونی حصے سے لیا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے گلے سے بھی لیا جا سکتا ہے۔ کووڈ19- وائرس پاخانے میں پایا گیا ہے، تاہم پاخانے اور پیشاب میں اس کی موجودگی حتمی طور پر طے نہیں۔ خون کے نمونے سے بھی اس وائرس کی موجودگی ثابت کی جا سکتی ہے۔ 
نمونے کو جلد از جلد لیبارٹری یا ٹیسٹنگ کے آلے تک پہنچنا چاہیے۔ اگر نمونے نے سفر طے کرنے کے بعد پہنچنا ہے تو اسے تجویز کردہ درجہ حرارت میں رکھا جانا چاہیے۔ علاوہ ازیں لیبارٹری میں حفظان صحت یا بائیو سیفٹی کے تمام معیارات کو اپنانا بھی انتہائی اہم ہے۔ 
ناک اور گلے کے اندر سے نمونہ لینا آسان ہے لیکن اس میں وائرس کی موجودگی ثابت کرنا مشکل ہے ۔نمونے میں وائرس کے جینیاتی مواد یعنی آر این اے اور اس کی ترتیب کو تلاش کیا جاتا ہے، وہ مل جائے تو ٹیسٹ مثبت ہوتا ہے۔ نظام تنفس سے لیے گئے نمونوں میں یہ تلاش ''پولیمریز چین ری ایکشن‘‘ (PCR) کے طریقے سے ممکن ہے۔ بعض ابتدائی پی آر سی ٹیسٹ جنوری 2020ء میں جرمنی میں تیار ہوئے اور انہیں کی بنیاد پر عالمی ادارۂ صحت نے کٹس تیار کیں۔ 
دنیا کے مختلف ممالک میں کورونا وائرس کی تشخیص کے ٹیسٹ تیار کیے جا چکے ہیں۔ ان میں چین، جنوبی کوریا، جرمنی، برطانیہ، امریکا اور دیگر شامل ہیں۔ جو ممالک بروقت ٹیسٹ کی سہولیات میسر کرنے میں کامیاب ہوئے وہ وبا کا مقابلہ بہتر انداز میں کرنے کے بھی قابل ہوئے۔ 
کورونا وائرس کا ٹیسٹ ایک پیچیدہ ٹیسٹ ہے اس لیے اس میں غلطی کا احتمال رہتا ہے۔ مثال کے طور پر چین میں کیے گئے ٹیسٹوں میں تین فیصد کے نتائج منفی آئے جبکہ دراصل وہ مثبت تھے۔ دوسرے الفاظ میں پہلے ٹیسٹ سے ان کی تشخیص نہ ہو سکی۔بہرحال عموماً یہ ٹیسٹ ٹھیک نتائج دیتے ہیں اور ان پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔ تھوڑے سے غلط نتائج کا یہ مطلب نہیں کہ ٹیسٹ ہی نہ کرائے جائے، یقینا ٹیسٹ کرانا بہت مفید رہتا ہے۔ 
ٹیسٹ کرنے کے لیے صرف نمونے کافی نہیں ہوتے، اس کے لیے ٹیسٹ کرنے کے آلات اور تربیت یافتہ عملے کی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹیسٹوں کی تعداد بڑھانے کے لیے ان تمام میں اضافہ ضروری ہے۔ 
چین نے اینٹی باڈی ٹیسٹ بھی بنائے ہیں جن میں ناک یا گلے سے نمونے لینے کے بجائے خون کے نمونے لیے جاتے ہیں اور انہیں سے وائرس کی تشخیص کی جاتی ہے۔ خون سے ہونے والے ٹیسٹ میں ان اینٹی باڈیز کو دیکھا جاتا ہے جو اس وائرس سے لڑنے کے جسم میں باعث پیدا ہوتی ہیں۔ اگر یہ موجود ہوں تو ٹیسٹ مثبت ہو گا۔ خون کا ٹیسٹ ایک لحاظ سے زیادہ مفید ہے کیونکہ اس سے اس مریض کا بھی پتا چل جاتا ہے جو کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد ٹھیک ہو چکا ہو۔ بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ مریض کی طبیعت ناساز نہیں ہوتی، معمولی علامات کو وہ نظر انداز کر دیتا ہے اور کچھ عرصے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے مگر اس دوران وہ بعض علاقوں میں مرض پھیلا چکا ہوتا ہے۔ دوسری طرف پی سی آر ٹیسٹ میں صرف بیمار فرد کی کھوج لگائی جا سکتی ہے۔ 
دونوں ٹیسٹوں میں نمونہ لینے میں اگر زیادہ جلدی کی جائے تو ان سے بیماری کے پتا چلنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ تھوڑے عرصے میں وائرس جسم میں کم ہوتا ہے، یوں وہ نظام تنفس کے مادے میں بھی کم ہوتا ہے۔ اگر اس مادے کے نمونے کا ٹیسٹ انفیکشن کے فوراً بعد لے لیا جائے تو غلط طور پر اس کے منفی آنے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ خون میں اینٹی باڈیز بھی فوری پیدا نہیں ہوتیں۔ اینٹی باڈیز کے بننے میں ایک ہفتے تک کا وقت لگ سکتا ہے۔ 
ٹیسٹ کی سہولیات کم ہونے کے باوجود بھی حالات کا نقشہ بنایا جا سکتا ہے اگرچہ یہ مبہم اور غیر واضح ہوتا ہے۔ اگر کہیں تھوڑے ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں اور بیشتر مثبت آ رہے ہیں تو خیال کیا جاتا ہے کہ وہاں مریضوں کی تعداد دراصل زیادہ ہے۔ اسی کے مطابق حکومت کو پالیسی بنانی چاہیے۔جیسا کہ چین میں اس وائرس کے شروعاتی شہر ووہان کو کچھ عرصے کے لیے سیل کر دیا گیا تھا تاکہ وہ سے لوگ باہر نہ جائیں اور باہر مرض کے پھیلاؤ کا ذریعہ نہ بنیں، اس سے چین کے اندر وبا کنٹرول کرنے میں خاصی مدد ملی۔ 
حالات کے پیش نظر اب یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ ایسے ٹیسٹ ہوں جن کے نتائج فوری میسر ہوں۔ اس سلسلے میں امریکا کی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے ایک ٹیسٹ کی منظوری دی ہے جس میں نتیجہ پانچ منٹ میں آ جاتا ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی مشین کے ذریعے کیا جائے گیا جسے ایک سے دوسری مقام پر لے جانا آسان ہو گا۔ منٹوں میں نتائج حاصل کرنے والے آلے بنانے کے بہت دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ انہیں رائج کرنے سے پہلے ٹیسٹ کی درستی یا ایکوریسی کی تصدیق کرنا انتہائی ضروری ہے۔ 
پاکستان میں مقامی طور پر ٹیسٹ کی سہولت بھی تیارکی گئی ہے۔ یہ حوصلہ افزا امر ہے کیونکہ یہ سہولت سستی بھی ہو گی اور اگر تھوڑا جتن کر لیا جائے تو اس کی فراوانی بھی ممکن ہو گی۔ پاکستان کے تحقیقاتی اداروں اور یونیورسٹیوں کو آگے آنا چاہیے اور ثابت کرنا چاہیے کہ وہ دورِجدید کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں اور ہنگامی حالات میں کارآمد۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
تاریخ میں پہلی بار خلائی سٹیشن سے خلا بازوں کاطبی انخلا

تاریخ میں پہلی بار خلائی سٹیشن سے خلا بازوں کاطبی انخلا

ناسا کی ہنگامی کاروائی،کریو11 کی مقروہ وقت سے پلے واپسیخلائی تحقیق کی تاریخ میں گزشتہ ہفتے ایک غیر معمولی واقعہ اس وقت پیش آیا جب ناسا نے پہلی مرتبہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود خلا بازوں کیلئے طبی انخلا کی کارروائی شروع کی۔ یہ واقعہ نہ صرف سائنسی دنیا بلکہ عالمی ذرائع ابلاغ کی بھی توجہ کا مرکز بن گیا۔ خلا جیسے انتہائی پیچیدہ اور خطرناک ماحول میں انسانی صحت کا تحفظ ہمیشہ ایک بڑا چیلنج رہا ہے اور اس ہنگامی اقدام نے اس حقیقت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ جدید خلائی طب، حفاظتی منصوبہ بندی اور انسانی جان کی اہمیت کو اوّلین ترجیح دینے کی واضح مثال ہے، جو مستقبل کی خلائی مہمات پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ناسا نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کو تاریخ میں پہلی بار اس وقت انخلا کی تیاری کرنا پڑی جب ایک خلا باز کو طبی ایمرجنسی کا سامنا کرنا پڑا۔ ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین (Jared Isaacman) نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ ''کریو11‘‘ اپنی طے شدہ واپسی کی تاریخ (فروری) تک مشن جاری نہیں رکھے گا اور ان کی محفوظ واپسی کا طریقہ کار جلد طے کیا جائے گا۔ آئزک مین نے کہا کہ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے خلا بازوں کے بہترین مفاد میں یہی ہے کہ کریو11 کو مقررہ وقت سے پہلے واپس بلایا جائے۔ یہ اعلان اس پیش رفت کے ایک دن سے بھی کم وقت میں سامنے آیا جب ناسا نے طبی مسئلے کے باعث جمعرات کو ہونے والی اسپیس واک منسوخ کر دی تھی۔''کریو11‘‘ میں چار خلا باز ناسا کی زینا کارڈمین (Zena Cardman ) اور مائیک فنکے(Mike Fincke)، جاپانی خلا باز کیمیا یوئی (Kimiya Yui)اور روسی خلا نورد اولیگ پلاٹونوف (Oleg Platonov) شامل ہیں۔ حال ہی میں اس گروپ کے ساتھ جاپانی خلا باز کوئیچی واکاتا (Koichi Wakata)اور ناسا کے خلا باز کرس ولیمز ( Chris Williams) بھی شامل ہوئے تھے، جو نومبر 2025ء میں ایک روسی سوئیوز خلائی جہاز کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچے تھے۔ آئزک مین کے مطابق ولیمز امریکی موجودگی برقرار رکھنے کیلئے سوئیوز عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن پر ہی قیام کریں گے۔اگرچہ جس خلا باز کو طبی مسئلہ پیش آیا اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، تاہم ناسا کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر جیمز پولک نے بتایا کہ خلا باز کو فوری طور پر کوئی خطرہ لاحق نہیں اور واپسی تک ساتھی عملے کی جانب سے ان کی دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ڈاکٹر پولک نے مزید کہا کہ خلا باز کو پیش آنے والا طبی مسئلہ آئندہ ہونے والی اسپیس واک یا خلائی اسٹیشن پر جاری کسی اور سرگرمی سے متعلق نہیں تھا۔انہوں نے مخصوص طبی تفصیلات بتائے بغیر وضاحت کی کہ یہ زیادہ تر مائیکرو گریویٹی جیسے مشکل ماحول میں پیدا ہونے والا ایک طبی مسئلہ ہے۔ناسا کے مطابق خلا باز کی محفوظ حالت برقرار رکھنے کیلئے واپسی تک کسی خصوصی احتیاطی تدابیر کی ضرورت نہیں ہوگی اور ان کی حالت کو انخلا کے منصوبے کی تکمیل تک تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ناسا کو اس سے قبل کبھی طبی وجوہات کی بنیاد پر کسی خلا باز کو واپس نہیں لانا پڑا، تاہم ہر آئی ایس ایس مشن میں ہنگامی انخلا کا منصوبہ شامل ہوتا ہے اور عملے کی واپسی کیلئے خلائی گاڑیاں ہمہ وقت تیار رکھی جاتی ہیں۔ناسا کے سربراہ نے مزید کہاکہ اب تک خلا بازوں کی حفاظت یقینی بنانے کیلئے ادارے کی تیز رفتار کوششوں پر مجھے فخر ہے۔البتہ ناسا کے منتظم نے یہ بھی واضح کیا کہ خلائی ادارہ اس معاملے کو ایک سنگین طبی حالت سمجھتا ہے، جس کے باعث حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ تاریخ میں پہلی بار طبی انخلا ضروری ہو گیا ہے۔تاہم ڈاکٹر پولک نے اس بات پر زور دیا کہ خلا باز کو فوری خطرہ لاحق نہیں، جس کی وجہ سے ناسا کو کسی غیر محفوظ پرواز کے وقت میں جلد بازی سے انخلا کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ڈاکٹر پولک نے کہا کہ عملے کا رکن مکمل طور پر مستحکم ہے، اس لیے میں مشن کے شیڈول یا ان کی سرگرمیوں میں کسی بڑی تبدیلی کی توقع نہیں کرتا۔ ''کریو11‘‘ یکم اگست 2025ء کو بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچا تھا، جس کے باعث ان کی واپسی کی تاریخ فروری کے اواخر میں طے کی گئی تھی۔ چاروں خلا بازوں کو اس وقت واپسی کرنا تھی جب ''کریو12‘‘ پندرہ فروری سے قبل ایک اسپیس ایکس ڈریگن کیپسول کے ذریعے اسٹیشن پر پہنچتا۔ جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ اگر کریو12 کی لانچ تاریخ آگے لانے پر غور بھی کیا گیا تو اس سے فروری 2026ء میں طے شدہ ''آرٹیمس ٹو ‘‘ مشن متاثر نہیں ہوگا۔انہوں نے دونوں لانچز کوبالکل الگ مہمات قرار دیاہے، جس کا مطلب ہے کہ آرٹیمس مشن وقت پر لانچ ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔ آرٹیمس ٹو 1972ء کے بعد چاند کے گرد گردش کرنے والی پہلی انسانی خلائی پرواز ہوگی۔دوسری جانب، آئی ایس ایس پر ہر وقت خلا بازوں کی موجودگی لازمی ہوتی ہے، کیونکہ وہ دیکھ بھال، مرمت، پیچیدہ تجربات کے انعقاد، لائف سپورٹ نظام کے انتظام اور اسپیس واکس جیسے اہم فرائض انجام دیتے ہیں۔ایسے کام جنہیں خودکار نظام مکمل طور پر سنبھال نہیں سکتے۔ اس طرح حفاظت اور سائنسی پیداوار کیلئے انسانی نگرانی برقرار رہتی ہے۔اب تک آئی ایس ایس سے کسی بھی عملے کو مقررہ وقت سے پہلے واپس نہیں بلایا گیا تھا، تاہم حالیہ برسوں میں خلا بازوں کو درپیش مختلف صحت کے مسائل کے باعث دو اسپیس واکس منسوخ کی جا چکی ہیں۔2021ء میں ایک مشن اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب خلا باز مارک وانڈے ہائی کو اعصابی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اسٹیشن سے باہر جانے کے قابل نہ رہے۔اسی طرح 2024ء میں ایک اسپیس واک آخری لمحے پر اس وقت منسوخ کر دی گئی جب ایک خلا باز کو ''اسپیس سوٹ میں تکلیف‘‘ محسوس ہوئی۔

 قِصے جُڑواں الفاظ کے

قِصے جُڑواں الفاظ کے

انگریزی کی طرح اردو میں بھی جڑواں الفاظ ہوتے ہیں جن کی بدلتی اَ شکال قاری کیلئے ''اِشکال‘‘ کا موجب ہیں۔ اِشباح (اِعراب) کی خفیف سی تبدیلی خاصے '' اَشباہ‘‘ پیدا کر دیتی ہے۔ لہٰذا سمجھ سمجھ کر سمجھ کو سمجھنا ہی اصل سمجھ ہے۔ کرکِٹ کوہی لیجیے،کَرکَٹ ہوا تو ''گِرگَٹ‘‘کی طرح رنگ بدل کر کُوڑے کا معنی دینے لگا۔ اِدھر ''عَجَب‘‘ عَالَم ہے کہ عُجب کے باعث ہر ''نَفس‘‘ ہمہ جہت ''عَالِم‘‘ بنے پھرتا ہے اور خود کو فاضل جان کر اپنے ہر ''ہم نَفَس‘‘ کو ''فاضِل‘‘ (بیکار) سمجھتا ہے۔ '' سَو ‘‘بار سنا ہے کہ دنیا میں ہر '' سُو ‘‘ عُلمائے سُو موجود ہوتے ہیں ۔ ہم نے تو '' پَل‘‘ بھر میں خون سفید ہوتے یوں دیکھے کہ نہر کی '' پُل ‘‘ پر نشے کی '' دَھت ‘‘ میں ''دُھت ‘‘ یار لوگ اپنوں پر ہی '' پِل ‘‘ پڑے۔ یک طَرفہ فیصلے بھی '' طُرفہ تماشے‘‘ ہیں ۔زمانے کی '' رِ یت ‘‘ ہے کہ رشتے ناتے ''ریت کے گھروندے ہی تو ہیں ۔جب ''سَر‘‘ میں بھیجا اور روح میں '' سُر‘‘ نہ رہے تو پھر '' سِرِّدلبراں ‘‘ چہ معنی دارد؟۔دوسروں کی ''سُدھار‘‘میں لگے بہت سے بھلے مانَس حسرتیں لیے مُلکِ عدم '' سِدھار‘‘ جاتے ہیں۔ کم نگاہ لوگوں کو جتنی بھی '' پُر شکوہ ‘‘ ضیافت دو،ان کا '' شکوہ ‘‘ جاتا نہیں ۔یہ بات '' مُسَّلَم ‘‘ ہے کہ '' مُسلِم ‘‘باقی دنیا سے پیچھے ہیں اور کسی ''حقیقتِ مُنتظَر‘‘ کے مُنتظِر ہرگز نہیں۔ایسے ''گُل ‘‘ کھِلاتے ہیں کہ امیدوں کے چراغ ''گُل ِ‘‘ ہوکر '' گِل ‘‘ میں مل جاتے ہیں۔ مَلِکہ نورجہاں امورِ سلطنت کا خاص '' مَلکہ ‘‘ رکھتی تھیں مگر جہانگیر کی عُسرت میں عِشرت کے موجب بامراد نہ ہوئیں۔ سچ ہے کہ بڑے سے بڑا ''مَلِک ‘‘ بھی '' مَلَک الموت ‘‘ سے بچ نہیں پاتا چاہے اس کی '' مِلک‘‘ میں سارا'' مُلک ‘‘ ہی کیوں نہ ہو ۔نیلے ''امبر‘‘ تلے قدرت کی ''عنبر‘‘ اور '' عُود ‘‘ کی خوشبوئیں بکھرتی ہیں تو سہانے ماضی کی یادیں '' عَود ‘‘ کر آجاتی ہیں ۔ سَن نوے میں جب '' سِنِ بلوغت ‘‘ کو پہنچے تو جانا کہ '' سئور‘‘ سے ملتے جلتے لفظ '' سور‘‘کے سنسکرت میں معنی ہیرو کے ہیں ،اور سورما کی اصطلاح بھی اسی سور سے مُشتَق ہے۔ کل ایک''حاجی‘‘ صاحب نے بتایا کہ ہَجو لکھنے اور کرنے والے کو بھی '' ہاجی ‘‘ کہتے ہیں۔ حاجی صاحب اب بطور '' خَیَّام‘‘ '' مِصر ‘‘ جا کر ''خِیام ‘‘سازی کے کاروبار کرنے پر ''مُصِر‘‘ ہیں ۔کیونکہ یہاں ان کی زمینیں '' سیم ‘‘ اور تھور کی وجہ سے ''سِیم و زَر‘‘ اُگلنے سے قاصر ہیں ۔ البتہ ان کے بھائی کے ہاں محکمہ ''ریل‘‘ میں ہونے کے باعث دولت کی '' ریل پیل ‘‘ ہے۔اگر اس نُکتے کو نُقطہ نہ سمجھیں تو واضح ہے ہم عجمیوں کو ہی تلفظ کیلئے ''اِعراب‘‘ کی ضرورت ہے جبکہ '' اَعراب‘‘(اہل عرب ) کو ایسی کوئی حاجت نہیں۔ مثلاً عربی میں بیضا کا مطلب سفید اور روشن ہے جبکہ انڈے کو وہ ''بیضہ‘‘ کہتے ہیں ۔ اسی لیے ہم اصطلاحات کی درگت بقول شاعر کچھ ایسے بنا بیٹھتے ہیں ـ۔ عدن کو پڑھتے عَدَن ہیں، رُوم کو کہتے ہیں روم مِلَتِ بیضا کا مطلب لکھ دیا انڈے کی قوم

آج تم یاد بے حساب آئے!نذر الاسلام:مایہ ناز ہدایتکار (1939-1994ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!نذر الاسلام:مایہ ناز ہدایتکار (1939-1994ء)

٭...پاکستان کے مایہ ناز فلمساز و ہدایتکار 19اگست 1939ء کو ڈھاکہ میں پیدا ہوئے۔٭... وہ بنگلا دیش کے قیام کے بعد پاکستان ہی میں مقیم رہے۔٭... انہیں1971ء میں بننے والی فلم ''پیاسا‘‘ سے شہرت ملی۔٭... ان کی فلموں کی خاصیت یہ تھی کہ ان کی ٹیم بنگالی فنکاروں پر مشتمل ہوتی ۔٭...فلمی صنعت میں انہیں ''دادا‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا تھا۔٭...اپنے کریئر میں انہوں نے 30فلمیں بنائیں ، جن میں 20اردو فلمیں تھیں۔وہ اپنی فلموں کی سینما ٹو گرافی اور موسیقی پر خاص توجہ دیتے تھے۔٭...انہوں نے ''آئینہ‘‘ جیسی معرکہ آراء فلم کی ہدایات دیں، یہ فلم کراچی میں 5سال نمائش پذیر رہی۔اس فلم کے تمام نغمات ہٹ ہوئے اور آج بھی ان کی مقبولیت برقرار ہے۔ ٭...ان کی فلموں''بندش‘‘ اور ''نہیں ابھی نہیں‘‘ بھی زبردست کامیابی سے ہمکنار ہوئیں۔ '' نہیں ابھی نہیں‘‘ 1980ء میں ریلیز ہوئی جس سے فیصل اور ایاز کو متعارف کرایاگیا۔ فلم کے گیت سرور بارہ بنکوی نے تحریر کئے اور سنگیت روبن گھوش کا تھا۔ ٭...ان کی ایک اور شاندار فلم ''لوسٹوری‘‘ تھی جو 1982ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔اس میں فیصل کے علاوہ لیلیٰ اور آغا طالش نے بھی اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ اس کے نغمات بہت ہٹ ہوئے۔٭... انہوں نے ایک پنجابی فلم ''کالے چور‘‘ بھی بنائی جو سپرہٹ ثابت ہوئی۔ اس کے مرکزی کردار سلطان راہی، ہمایوں قریشی اور نیلی نے نبھائے۔٭... ندیم، بابرا شریف، ننھا اور مصطفی قریشی جیسے ستاروں سے سجی ان کی فلم ''زندگی‘‘ نے بھی بڑی کامیابی حاصل کی۔1978ء میں سینما گھروں کی زینت بننے والی اس فلم نے گلوکار اے نیئر کو بھی بہت شہرت بخشی۔ ان کا گیت ''سالگرہ کا دن آیا ہے‘‘ بہت پسند کیا گیا ۔٭...رومانوی اور سوشل فلم ''امبر‘‘ بھی سپرہٹ ثابت ہوئی، اس کے گیت بہت مقبول ہوئے، خاص طور پر مہدی حسن کا گایا ہوا یہ گیت ''ٹھہرا ہے سماں‘‘ اور اے نیئر اور ناہید اختر کا یہ دو گانا ''ملے دو ساتھی‘‘ بہت مقبول ہوئے۔٭...11جنوری 1994ء میں یہ بے مثال ہدایتکار اس جہان فانی سے رخصت ہو گیا۔نذرالاسلام کی شاہکار فلمیںآئینہ (1977) امبر (1978)زندگی (1978) بندش (1980)لو سٹوری (1983)آنگن (1982)دیوانے دو(1985)زمین آسمان(1985)پلکوں کی چھائوں(1985)بارود کی چھائوں(1989)کالے چور (1991)نہیں ابھی نہیں (1980) خواہش میڈیم باوری نرگس

آج کا دن

آج کا دن

انسولین کا استعمال11جنوری1922ء کو دنیا کے پہلے انسان کو انسولین لگائی گئی۔ اس شخص کا نام لیونارڈ تھامسن تھا جو ٹائپ1ذیابیطس کے مرض میں مبتلا تھا۔ اس کے علاج اور تحقیقی غرض سے اسے انسولین لگائی گئی۔انسولین کے مثبت اور حیران کن نتائج نے اس وقت کے ماہرین کو حیران کر دیا۔ اس سے قبل انسولین کو مختلف تجرباتی مراحل سے گزارا گیا تھا لیکن انسانوں پر کیا جانے والا یہ پہلا تجربہ تھا۔انسانوں پر کامیاب تجربے کے بعد انسولین کو ذیابیطس کیلئے بطور علاج استعمال کیا جانے لگا۔تھروگز نک برج کا افتتاح1961ء میں آج کے روز نیویارک میں ''تھروگز نک برج‘‘ کو ٹریفک کی آمدورفت کیلئے کھولا گیا۔ یہ پل ایسٹ ریور پر تعمیر کیا گیا اور شہری آمدورفت کو بہتر بنانے میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔ اس پل کی بدولت نہ صرف سفر کے اوقات میں نمایاں کمی آئی بلکہ شہر کے مختلف حصوں کے درمیان تجارتی اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملا۔ یہ پل جدید انجینئرنگ کا عمدہ نمونہ ہے، جس نے نیویارک کے ٹرانسپورٹ نظام کو مزید مؤثر بنایا اور شہری ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔ اینڈیوور مشن''ایس ٹی ایس72‘‘ امریکی خلائی شٹل اینڈیوور کا ایک اہم مشن تھا، جس کا بنیادی مقصد جاپان کے مائیکرو گریویٹی اسپیس فلائٹ یونٹ کو خلا سے تحویل میں لے کر محفوظ طریقے سے زمین پر واپس لانا تھا۔ یہ تاریخی مشن 11 جنوری 1996ء کو کینیڈی اسپیس سینٹر، فلوریڈا سے روانہ ہوا۔جاپانی اسپیس فلائٹ یونٹ کا وزن تقریباً 3,577 کلوگرام تھا۔ اس یونٹ کو جاپان کی سپیس ایجنسی نے 18 مارچ 1995ء کوخلا میں بھیجا تھا، جہاں اس نے مائیکرو گریویٹی ماحول میں سائنسی تجربات انجام دیے۔ قصبہ حماد کا قتل عام سیدی حماد کا قتل عام11 جنوری 1998ء کی شب الجزئر سے 30کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے سیدی حماد میں پیش آیا۔ ایک اندازے کے مطابق پچاس بندوق برداروں نے قصبے پر حملہ کیا۔حملہ آوروں نے ایک کیفے اور ایک مسجد پر بمباری کی۔حملہ کے بعد وہاں موجود لوگوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو حملہ آوروں نے بھاگنے والوں پر بھی فائرنگ شروع کر دی اور سب کو ہلاک کر دیا۔ اس کے بعد حملہ آور گھروں کے اندر گھس کر لوگوں کو قتل کرنے لگے۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق اس قتل عام میں 103افراد ہلاک اور 70کے قریب زخمی ہوئے۔تاہم غیر سرکاری ذرائع 120ہلاکتوں کا دعویٰ کرتے ہیں جبکہ الجزائر کے کچھ اخبارات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد تقریباً400تھی۔ سسلی کا زلزلہ 11جنوری1693ء کو سسلی، کلابریا اور مالٹا کے قریب جنوبی اٹلی کے کچھ حصوں کو ایک خوفناک زلزلے کا سامنا کرنا پرا۔ اس سے قبل9جنوری کو بھی ایک زور دار جھٹکا محسوس کیا گیا تھا۔ زلزلے کی شدت 7.4ریکارڈ کی گئی جو اطالوی تاریخ میں سب سے زیادہ طاقتور زلزلہ تھا۔اس شدید زلزلے سے کم از کم70قصبے تباہ ہوئے اور5ہزار600مربع کلومیٹر کے رقبے کو شدید نقصان پہنچا۔اس زلزلے میں تقریباً60ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔زلزلے کے نتیجے میں سونامی بھی آیا جس نے بحیرہ Ionianاور آبنائے میسینا کے ساحلی دیہاتوں کو تباہ کر دیا۔

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر!

2026ء سمندری حیات کیلئے خطرناک قرار دنیا بھر کے سمندروں میں پھیلی مرجانی چٹانیں، جو سمندری حیات کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں آج تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہیں۔ ماہرین ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ 2026ء وہ سال ثابت ہو سکتا ہے جب عالمی سطح پر سمندری چٹانوں کا نظام تیزی سے بکھرنے لگے گا۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سمندری پانی کی تیزابیت اور موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات نے ان نازک ماحولیاتی نظاموں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان نہ صرف سمندری حیات بلکہ کروڑوں انسانوں کی خوراک، روزگار اور ساحلی تحفظ کیلئے بھی تباہ کن نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔انسانی سرگرمیوں کے باعث پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سمندروں کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا بھر میں موجود سمندری چٹانیں تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں کے دوران دنیا کی اندازاً 30 سے 50 فیصد سمندری چٹانیں پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔ اب ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ دنیا سمندری حیات کیلئے ایک ایسے ناقابل واپسی موڑ کے قریب پہنچ چکی ہے۔سمندری ماحولیاتی نظام کی ماہر ڈاکٹر سمانتھا گیرارڈ (Dr Samantha Garrard)کا کہنا ہے کہ آئندہ بارہ ماہ کے دوران ہونے والا نقصان تباہ کن ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کا مستقبل بحرالکاہل میں گرم اور ٹھنڈے پانی کے ایک قدرتی چکر پر منحصر ہے، جسے ''ایل نینو سدرن اوسلیشن‘‘ ( El Niño-Southern Oscillation) کہا جاتا ہے۔ ہم حال ہی میں ایک انتہائی تباہ کن ایل نینو مرحلے سے گزر چکے ہیں، جس کے دوران گرم پانی نے دنیا کی 84 فیصد سمندری چٹانوں کو ایسی حد تک حرارت کے اثر میں مبتلا کر دیا جو کورل بلیچنگ کا باعث بنتی ہے۔ چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو مرحلے کی توقع کی جا رہی ہے، اس لیے ماہرین موسمیات کو خدشہ ہے کہ سمندری چٹانیں اگلے شدید اثر سے شاید دوبارہ سنبھل نہ سکیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کے مطابق یہ وہ سال ہو گا جب گرم پانی میں پائی جانے والی چٹانیں ایک ایسے موڑ پر پہنچ جائیں گی جس کے بعد ان کا مقدر طے ہو جائے گا، حتیٰ کہ سب سے زیادہ مضبوط اقسام بھی بحالی کے قابل نہیں رہیں گی۔سمندری چٹانیں سمندر کی سطح کے صرف ایک فیصد حصے پر پھیلی ہوئی ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ سمندری حیات کی تقریباً ایک چوتھائی اقسام کو سہارا دیتی ہیں۔ تاہم یہ حیرت انگیز قدرتی مساکن انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کیلئے غیرمعمولی طور پر حساس بھی ہیں۔ جب مرجانی چٹانوں کا درجہ حرارت حد سے زیادہ بڑھ جاتا ہے تو ان میں بلیچنگ (Bleaching) کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ زیادہ حرارت کے دباؤ کے باعث یہ اپنے اندر موجود رنگین الجی کو خارج کر دیتی ہیں، جس سے اس کا رنگ سفید ہو جاتا ہے۔ اگر بلند درجہ حرارت طویل عرصے تک برقرار رہے تو بڑے پیمانے پر اجتماعی بلیچنگ کے واقعات پیش آ سکتے ہیں، جن کے بعد یہ چٹانیں اکثر دوبارہ بحال نہیں ہو پاتیں۔گرین ہاؤس گیسوں کے انسانی اخراج نے عالمی سطح پر سمندری درجہ حرارت کو ریکارڈ حد تک بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں شدید سمندری گرمی کی لہریں کہیں زیادہ شدید اور بار بار آنے لگی ہیں۔زیادہ اوسط درجہ حرارت ان چٹانوں کو ایل نینو سدرن اوسلیشن کے اثرات کیلئے بھی زیادہ حساس بنا دیتا ہے۔ ایل نینو کے دوران بحرالکاہل میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے کم از کم 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ ہو جاتا ہے اور یہ کیفیت کئی مہینوں تک برقرار رہتی ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں موسم غیرمعمولی طور پر گرم ہو جاتا ہے۔ماضی میں گرم ایل نینو سالوں کے بعد بحرالکاہل کے چکر کے دوران نسبتاً ٹھنڈے موسم کے سال آتے تھے، جنہیں لا نینا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ ڈاکٹر گیرارڈ وضاحت کرتی ہیں کہ اس وقفے کے دوران ان چٹانوں کو چند سال کا موقع ملتا تھا تاکہ وہ ''سانس لے سکیں‘‘ اور دباؤ کے اثرات سے دوبارہ بحال ہو سکیں۔ تاہم تحقیق سے ظاہر ہوا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی ایل نینو کے گرم مراحل کو زیادہ شدید اور زیادہ بار آنے والا بنا رہی ہے، جبکہ ایل نینو اور لا نینا کے درمیان عبوری ادوار مختصر اور زیادہ گرم ہوتے جا رہے ہیں۔ ڈاکٹر گیرارڈ کا کہنا ہے: چونکہ 2026ء میں ایک اور ایل نینو متوقع ہے، اور یہ گزشتہ مرحلے کے فوراً بعد آئے گا، اس لیے بہت سی چٹانوں کو بحالی کیلئے کافی وقت نہیں مل سکے گا۔ یہ مرحلہ مرجانی چٹانوں کے وسیع پیمانے پر انہدام کا سبب بن سکتا ہے۔ اب خدشہ یہ ہے کہ 2026ء دنیا بھر کی سمندری چٹانوں کیلئے ایک 'ٹِپنگ پوائنٹ‘ ثابت ہو سکتا ہے، یعنی وہ حد عبور ہو جائے گی جہاں ماحولیاتی نظام میں تبدیلی اچانک اور ناقابلِ واپسی ہو جاتی ہے۔

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

چٹانوں میں تراشی گئی عبادت گاہیں

لالیبیلا کے گرجا گھر قدیم افریقی انجینئرنگ کا شاہکارایتھوپیا کے شمالی پہاڑی خطے امہارا میں واقع لالیبیلا ایک ایسا تاریخی اور مذہبی شہر ہے جو صدیوں سے دنیا کو حیرت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ یہ شہر اپنی چٹانوں کو تراش کر بنائی گئی عظیم الشان گرجا گھروں کی بدولت عالمی شہرت رکھتا ہے، جو انسانی محنت، عقیدت اور فن تعمیر کا بے مثال شاہکار ہیں۔ زمین کی سطح سے نیچے ایک ہی چٹان کو کاٹ کر تعمیر کیے گئے یہ گرجا گھر نہ صرف مذہبی تقدس کے حامل ہیں بلکہ قدیم افریقی تہذیب کی اعلیٰ انجینئرنگ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت بھی ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر بارہویں اور تیرہویں صدی عیسوی میں تعمیر کیے گئے، جب ایتھوپیا پر زاگوا خاندان کی حکومت تھی۔ روایت کے مطابق ان گرجا گھروں کی تعمیر کا حکم شاہ لالیبیلا نے دیا، جن کا خواب تھا کہ افریقہ میں ایک مقدس شہر قائم کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ لالیبیلا کو آج بھی ‘‘افریقہ کا یروشلم'' کہا جاتا ہے۔ اس شہر کی تعمیر محض سیاسی یا مذہبی منصوبہ نہیں تھی بلکہ یہ ایک تہذیبی اعلان تھا کہ افریقہ بھی علم، فن اور تعمیر میں کسی سے کم نہیں۔لالیبیلا کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا راک ہیون فنِ تعمیر (Rock Hewn Architecture) ہے۔ یہاں گرجا گھر زمین کے اوپر تعمیر نہیں کیے گئے بلکہ ایک ہی چٹان کو اوپر سے نیچے کی طرف کاٹ کر وجود میں لائے گئے۔ یعنی پہلے چٹان کے گرد گہری خندق بنائی گئی، پھر اندرونی حصے کو تراش کر ستون، محرابیں، چھتیں اور راہداریاں تشکیل دی گئیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس پورے عمل میں نہ سیمنٹ استعمال ہوا، نہ اینٹیں اور نہ ہی لوہے کے جدید اوزار۔ اس کے باوجود یہ عمارتیں صدیوں سے قائم ہیں۔لالیبیلا میں کل 11 گرجا گھر ہیں، جنہیں تین بڑے گروہوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر گرجا گھر نہ صرف ساخت کے اعتبار سے منفرد ہے بلکہ اس کا مذہبی اور علامتی مفہوم بھی الگ ہے۔ ان میں سب سے مشہور ''چرچ آف سینٹ جارج ‘‘ ہے، جو صلیب کی مکمل شکل میں تراشا گیا ہے۔ یہ گرجا گھر سطح زمین سے نیچے واقع ہے اور اس تک پہنچنے کیلئے تنگ راستوں اور سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو زائرین کو روحانی یکسوئی کی طرف لے جاتا ہے۔اسی طرح بیٹے مدھانِ عالم (Bete Medhane Alem) کو دنیا کا سب سے بڑا یک سنگی گرجا گھر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اندر تراشے گئے ستون اور چھتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ قدیم افریقی معمار نہ صرف ساختی توازن سے واقف تھے بلکہ جمالیاتی حسن کو بھی غیرمعمولی اہمیت دیتے تھے۔ یہ گرجا گھر محض عبادت کے مقامات نہیں بلکہ زندہ عجائب گھر ہیں، جہاں ہر دیوار، ہر نقش اور ہر راستہ ایک کہانی سناتا ہے۔لالیبیلا کے گرجا گھروں کی انجینئرنگ کا ایک اور حیرت انگیز پہلو نکاسی آب ہے۔ پہاڑی علاقے میں بارش کے پانی کو عمارتوں سے محفوظ طریقے سے نکالنے کیلئے زیر زمین نالیاں بنائی گئیں جو آج بھی کارآمد ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ان معماروں کو جغرافیہ، موسم اور تعمیراتی سائنس کی گہری سمجھ حاصل تھی۔مذہبی اعتبار سے لالیبیلا ایتھوپیائی آرتھوڈوکس عیسائیوں کیلئے نہایت مقدس مقام ہے۔ سال بھر یہاں عبادات جاری رہتی ہیں، لیکن کرسمس اور ایپی فینی کے موقع پر ہزاروں زائرین سفید روایتی لباس پہن کر ان گرجا گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ دعائیں، جلوس اور چراغوں کی روشنی اس شہر کو ایک روحانی منظرنامے میں بدل دیتی ہے، جہاں ماضی اور حال ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔لالیبیلا کی عالمی اہمیت کا اعتراف اس وقت ہوا جب اسے یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔ اس اعزاز کا مقصد نہ صرف ان گرجا گھروں کو محفوظ بنانا ہے بلکہ دنیا کو یہ باور کرانا بھی ہے کہ افریقی تہذیبیں محض زبانی روایات تک محدود نہیں بلکہ تعمیر، فن اور فکر میں بھی عظیم ورثہ رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے قدرتی عوامل، وقت کی مار اور سیاحتی دباؤ کے باعث یہ گرجا گھر خطرات سے دوچار ہیں۔لالیبیلا کے گرجا گھر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان اگر عقیدت، علم اور محنت کو یکجا کر لے تو پتھر بھی بولنے لگتے ہیں۔ یہ عبادت گاہیں صرف مذہبی عمارتیں نہیں بلکہ ایک تہذیب کی اجتماعی دانش، صبر اور تخلیقی قوت کا مظہر ہیں۔ آج کے جدید دور میں، جہاں بلند عمارتیں شیشے اور فولاد سے بنتی ہیں، لالیبیلا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت وسائل کی کثرت میں نہیں بلکہ وژن اور ہنر میں ہوتی ہے۔آخرکار، لالیبیلا کا شہر اور اس کے چٹانوں میں تراشے گئے گرجا گھر انسانی تاریخ کے ان روشن ابواب میں شامل ہیں جو یہ اعلان کرتے ہیں کہ افریقہ محض تاریخ کا پس منظر نہیں بلکہ خود تاریخ کا خالق بھی رہا ہے۔ یہ شاہکار آنے والی نسلوں کیلئے پیغام ہیں کہ ایمان، فن اور علم جب یکجا ہوں تو صدیوں کو مات دے سکتے ہیں۔