21 فروری , مادری زبانوں‌ کا عالمی دن

21 فروری , مادری زبانوں‌ کا عالمی دن

اسپیشل فیچر

تحریر : حافظ غلام صابر


دنیا بھر میں ہر سال 21 فروری کو زبانوں کی پہچان اور اہمیت سے آگاہی کے لئے مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ نومبر 1999ء کو ''انسانی ثقافتی ورثہ کا تحفظ'' کی جنرل کانفرنس کے موقع پر یونیسکو نے مقامی زبانوں کے احیاء و بقاء کے لئے سال 21 فروری کو مادری زبانوں کا عالمی دن منانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ بلاشبہ زبان کسی بھی انسان کی ذات اور شناخت کا اہم ترین جزو ہے اسی لیے اسے بنیادی انسانی حقوق میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں تقریباً 7ہزار زبانیں بولی جاتی ہیں۔
پاکستانی ماہرینِ لسانیات کے مطابق ملک بھر میں مختلف لہجوں کے فرق سے 74 بولیاں / زبانیں بولی جاتی ہیں۔ 48 فیصد پاکستانی پنجابی زبان بولتے ہیں۔ اس کی ادبی روایت کئی صدیوں پر محیط ہے۔ حضرت بابا فرید گنج شکر رحمۃاللہ علیہ کی شاعری اور نوشہ گنج بخش رحمۃاللہ علیہ کی نثر سے لے کر آج تک اس زبان میں بے شمار کتابیں تخلیق ہو چکی ہیں۔ لیکن صد افسوس کہ آج تک اس زبان کو وہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں ہو سکا جو اس کا اولین حق تھا۔ یہ ادبی اعتبار سے کسی بھی دوسری زبان سے پیچھے نہیں اس میں ہمارے دین و مذہب، علم و ادب اور تہذیب و ثقافت کا بیش قیمت سرمایہ موجود ہے۔
پاکستان اور ہندوستان میں کی گئی مردم شماری کے مطابق دنیا میں پنجابی بولنے والوں کی تعداد 15 کروڑ سے زائد ہے۔ انگریز نے فاتحانِ عالم کی طرح ہمت اور بہادری کے ساتھ برصغیر کو فتح نہیں کیا بلکہ تاجروں کا بھیس بدل کر روٹی کی بھیک مانگتے ہوئے ہندوستان میں آیا اور مغلیہ حکمرانوں کے سامنے دامن پھیلا کر تجارتی سہولیات حاصل کیں لیکن موقع ملتے ہی لٹیروں اور ڈاکوؤں کی طرح اپنے ہی محسنوں کے گھر پرقبضہ کر لیا۔ انگریزی نے قدم جمانے کے بعد مقامی زبناوں کو نظر انداز کر دیا۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ''کسی قوم کو مٹانا ہو تو اس کی زبان مٹا دو‘‘ تو قوم کی روایات، تہذیب، ثقافت، تاریخ اور اس کی قومیت غرض سب کچھ مٹ جائے گا۔مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تہذیب و تمدن اور ثقافت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔اسی لئے دنیا بھر میں ابتدائی تعلیم مادری زبان میں دیے جانے کا انتظام ہوتا ہے کیونکہ بچے کے ذہن میں راسخ الفاظ اس کے اور نظام تعلیم کے درمیان ایک آسان اور زود اثر تفہیم کا تعلق پیدا کر دیتے ہیں۔لیکن انگریز نے پنجاب میں رائج نظامِ تعلیم کو ختم کرتے ہوئے پرائمری تک تعلیم کے لیے ،قامی زبانوں (سندھی، بلوچی اور پشتو)کی جگہ اردو زبان کو لازمی قرار دیا۔ جبکہ فارسی کی جگہ انگریزی سرکاری زبان بنا دی گئی ۔ انگریزی بولنے اور پڑھنے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ کہلانے لگے،باقی سب جاہل تھے ۔
انگریز نے غلامی کا وار اس انداز میں کیا کہ مسلمانوں کا صدیوں سے رائج نصاب بے وقعت ہو گیا۔ ایک طرف مسلمان معاشی طور پر دلد ل میں پھنستے چلے گئے تو دوسری طرف تعلیمی میدان میں انگریزی زبان کے فروغ کا زور و شور ان کو لے ڈوبا۔ علم و عمل کی بنیاد پر برصغیر پر ہزار سال حکومت کرنے والی مسلم قوم کو ایک دم جاہل گنوار بنا کر رکھ دیا گیا۔ انگریز کی اس کاری ضرب کی وجہ سے مسلمان اندھیروں میں ڈوبتے چلے گئے۔پنجاب کے وہ سورمے جو عظیم ہیرو تھے انہیں ڈاکو اور لٹیرے بنا کر پیش کیا گیا۔ اِس طرح پنجاب کی نئی نسل اپنی ہی زبان اور ثقافت پر نازاں ہونے کی بجائے شرمندگی محسوس کرنے لگی۔ انگریز نے پنجاب پر قبضہ کیا کیا، اس نے یہاں کے لوگوں کو احساس کمتری میں مبتلا کردیا اور انگریزی زبان کو اتنا اونچا درجہ دے دیا کہ عوام دیسی زبانیں بولنے میں شرمندگی محسوس کرنے لگے۔
نوآبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد بھی ہرشعبہ ہائے زندگی میں انگریزی کو ہی اہمیت دی جا رہی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگریزی ایک ترقی یافتہ اور جدید سائنسی علوم کے ذخیرے سے مالا مال زبان ہے۔ لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم نے اپنی زبان اور روایات چھوڑ کر کسی غیر کی زبان اور تہذیب و تمدن کو اپنا کر کبھی ترقی نہیں کی۔ کیونکہ مادری زبان انسان کی شناخت، ابلاغ، تعلیم اور ترقی کا بنیادی ذریعہ ہے لیکن جب زبان ناپید ہوتی ہے تو اسکے ساتھ ثقافتوں اور روایات کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔ جن معاشروں میں دانشوراپنی دھرتی کے ساتھ جُڑے رہتے ہیں اور ان کا تعلق اپنی مٹی کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے تو ان ممالک کی عوام اپنی ثقافت، زبان اور اپنی تاریخ پر فخر کرتی ہیں۔لہٰذا ہمیں ہر صورت اپنی ماں بولی کا بغیر کسی تعصب کے ضرورتحفظ کرنا چاہیے۔
حکومتِ وقت مادری و علاقائی اور قومی زبانوں کے ادباء و شعراء اور محققین کی سرپرستی کرے، ان کی تخلیقات کو سرکاری سطح پر شائع کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عالمی زبانوں کی کتب کو قومی و علاقائی زبانوں میں ترجمہ کیا جائے تاکہ ہماری قوم اندھیروں سے نکل کر وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں اپنا آپ منوا سکے۔ یونیورسٹیوں میں سندھی، بلوچی ،پنجابی زبان اور پشتون زبانوںمیں ایم اے، ایم فِل اور پی ایچ ڈی پروگرامز بھی شروع کیے جا چکے ہیں تاہم ان ڈگریوں کی معاشی اہمیت چونکہ محدود ہے کیونکہ ماں بولی کے احترام کے سوا عملاً کچھ نہیں ملتا۔پنجابی زبان تو ایک طرف آج تو اردو بھی عملاً سرکاری زبان نہیں اور اسے بھی انگریزی کی ضرورت کے سبب علاقائی زبانوں کے خیمے میں پناہ لینی پڑ گئی ہے۔
حکومتِ پاکستان کو چاہیے کہ ابتدائی کلاسز میں مادری زبان کو ذریعہ تعلیم بنایا جائے۔ دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبانوں کی ضرورت و اہمیت کو مانتے ہوئے تسلیم کیا ہے کہ ہر بچے کو اپنی مادری زبان میں تعلیم کا حق حاصل ہے اور تمام زبانوں کی بلا امتیاز ترویج و ترقی شہریوں کے بنیادی حقوق اور ریاستی فرائض کا حصہ ہے۔لیکن پاکستان میں آج بھی علاقائی زبانوں کی اہمیت اور مقام و مرتبے پر بحث جاری ہے۔ اگرچہ سندھ میں سندھی، خیبر پختونخوا میں پشتو اور بلوچستان میں بلوچی ابتدائی تعلیمی درجات میں پڑھائی جاتی ہے لیکن پنجاب میں پنجابی زبان کی ترویج و اشاعت کی سرکاری سطح پر کبھی بھی ضرورت محسوس نہیں کی گئی ۔
مادری زبان میں تعلیم سے بچے بہت جلد نئی باتوں کو سمجھ جاتے ہیں اور اس سے بچوں کی تعلیمی صحت پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جس سے زبان کی آبیاری ہوتی ہے، اس کے برعکس جن اقوام کا اپنی ہی مٹی سے تعلق کمزور ہو جاتا ہے شکست اور ذلت و پستی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ پرائمری سے تمام صوبوں میں مقامی زبانوں کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے ۔
ماں بولی جے بھُل جائو گے
ککھاں وانگوں رُل جائو گے

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ٹیکنالوجی کی دوڑ میں ماحول اور صحت داؤ پر

ایلون مسک کے ڈیٹا سینٹر پر آلودگی پھیلانے کے الزاماتمصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی نے جہاں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی اہمیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، وہیں ان کے ماحولیاتی اور صحت سے متعلق اثرات بھی توجہ کا مرکز بنتے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں ایلون مسک کی کمپنی سے منسوب ایک ڈیٹا سینٹر کے خلاف دائر مقدمے نے اس بحث کو مزید شدت دے دی ہے، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر چلائے جانے والے اس مرکز سے سرطان سے منسلک مضر کیمیکل قریبی امریکی رہائشی علاقوں میں خارج کیے جا رہے ہیں۔ اگرچہ ان الزامات کی عدالتی سطح پر جانچ ابھی جاری ہے اور ان پر حتمی فیصلہ نہیں آیا، تاہم یہ معاملہ جدید ٹیکنالوجی، صنعتی ترقی، ماحولیاتی تحفظ اور عوامی صحت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کرتا ہے۔ایک نئے وفاقی مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایلون مسک کی کمپنی ''ایکس اے آئی‘‘ (xAI) کے وسیع ڈیٹا سینٹر کے اردگرد واقع رہائشی علاقوں میں سرطان سے منسلک کیمیکل خارج کیے جا رہے ہیں۔ نیشنل ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف کلرڈ پیپل (NAACP) نے اپنے بیان میں الزام عائد کیا ہے کہ ایکس اے آئی مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں فضائی آلودگی کیلئے درکار اجازت نامے کے بغیر 27 گیس ٹربائنز چلا رہی ہے، جس کے ذریعے اپنے کولوسس 2ڈیٹا سینٹر کیلئے ایک بجلی گھر قائم کر لیا گیا ہے۔ یہی ڈیٹا سینٹر کمپنی کے چیٹ بوٹ 'گروک‘ کو طاقت فراہم کرتا ہے۔مقدمے میں کہا گیا ہے کہ ان ٹربائنز سے یا تو دھواں اور آلودگی پیدا کرنے والے مضر مواد خارج ہوئے یا ان کے اخراج کا امکان موجود تھا۔ ان میں سموگ پیدا کرنے والے آلودہ ذرات، انتہائی باریک معلق ذرات (فائن پارٹیکیولیٹ میٹر) اور فارملڈیہائیڈ شامل ہیں، جو سرطان پیدا کرنے والا ایک معروف کیمیکل ہے۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ آلودہ مادے سانس کی نالی میں سوزش پیدا کر سکتے ہیں، پھیپھڑوں اور خون کی گردش تک گہرائی میں پہنچ سکتے ہیں جبکہ دمہ، دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرات میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔مقدمے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ان مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث زیادہ تر سیاہ فام آبادی پر مشتمل وہ علاقے مزید مضر آلودگی کا شکار ہوئے، جہاں پہلے ہی سانس کی بیماریوں کی شرح نسبتاً زیادہ ہے۔ یہ قانونی تنازع ایکس اے آئی کی تیزی سے ہونے والی توسیع کے گرد گھومتا ہے۔ کمپنی نے اپنے چیٹ بوٹ گروک کی تربیت کیلئے دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی ذہانت پر مبنی سپر کمپیوٹر تعمیر کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔مقدمے کے مطابق قومی بجلی کے نظام سے مطلوبہ مقدار میں بجلی حاصل نہ ہونے کے باعث کمپنی نے مبینہ طور پر ضروری اجازت نامے کے بغیر گیس سے چلنے والا ایک بجلی گھر تعمیر کیا تاکہ اس ڈیٹا سینٹر کو مسلسل بجلی فراہم کی جا سکے۔ اب این اے اے سی پی (NAACP) نے وفاقی عدالت سے درخواست کی ہے کہ ان گیس ٹربائنز کے آپریشن کو فوری طور پر روکا جائے، کمپنی پر مالی جرمانے عائد کیے جائیں اور ایکس اے آئی کو آلودگی پر قابو پانے کے مؤثر انتظامات نصب کرنے کا پابند بنایا جائے۔ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے مسیسیپی کے علاقے ساؤتھ ہیون میں میکروہارڈرنامی ڈیٹا سینٹر کی تعمیر پر 20 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے، جسے مسیسیپی کے گورنر ٹیٹ ریوز کی مکمل حمایت حاصل ہے۔یہ کمپنی کا تیسرا ڈیٹا سینٹر ہوگا۔ ایکس اے آئی کے چیف فنانشل آفیسر انتھونی آرمسٹرانگ کے مطابق، ان ڈیٹا سینٹرز کا مجموعہ دو گیگا واٹ کمپیوٹنگ صلاحیت کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا سپر کمپیوٹر بنائے گا۔این اے اے سی پی نے ارتھ جسٹس اور سدرن انوائرمنٹل لا سینٹر کی نمائندگی میں رواں سال اپریل میں ایکس اے آئی اور اس کی ذیلی کمپنی ایم زیڈ ایکس ٹیک کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ گزشتہ ماہ ایکس اے آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

موسمیاتی بحران، پاکستان کیلئے بڑا معاشی چیلنج

قدرتی آفات سے مؤثر تحفظ کیلئے بروقت  منصوبہ بندی، زرعی تحفظ اور عالمی تعاون وقت کی اہم ضرورتپاکستان اس وقت دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ منفی اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی ادارے بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اگر موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اسی طرح برقرار رہی تو پاکستان کو مستقبل میں مزید شدید سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، شدید گرمی کی لہروں اور زرعی پیداوار میں نمایاں کمی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ عالمی حدت میں پاکستان کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، مگر اس کے باوجود موسمیاتی آفات کا بوجھ سب سے زیادہ انہی ممالک پر پڑ رہا ہے جو ترقی پذیر ہیں۔2022ء کے تباہ کن سیلاب نے دنیا کو یہ حقیقت دکھا دی تھی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی، سماجی اور انسانی بحران بھی ہے۔ لاکھوں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی، ہزاروں کلومیٹر سڑکیں اور پل تباہ ہوئے، لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اس سانحے نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے پاس آفات سے نمٹنے کیلئے مضبوط مالیاتی تحفظ کا نظام موجود نہیں۔بدقسمتی سے پاکستان میں قدرتی آفات کے بعد زیادہ تر انحصار ہنگامی امداد، بین الاقوامی مالی معاونت اور عطیات پر کیا جاتا ہے۔ یہ امداد اگرچہ متاثرین کیلئے اہم ہوتی ہے، لیکن اکثر دیر سے پہنچتی ہے، جبکہ متاثرہ خاندانوں کو فوری مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر آفت کے بعد بحالی کا عمل طویل اور دشوار ثابت ہوتا ہے۔دنیا کے کئی ممالک نے اس مسئلے کا حل پہلے ہی تلاش کر لیا ہے۔ افریقہ، ایشیاء اور بحرالکاہل کے متعدد ممالک نے ایسے مالیاتی نظام متعارف کرائے ہیں جن کے ذریعے قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہو جاتے ہیں۔ ان ممالک نے زرعی بیمہ، قومی ہنگامی فنڈز، پیشگی مالی معاونت، موسمی خطرات سے متعلق بیمہ اور علاقائی تعاون کے ذریعے اپنی معیشت کو زیادہ محفوظ بنایا ہے۔ ان اقدامات کی بدولت آفت آنے کے بعد بحالی کا عمل تیز ہوتا ہے اور معاشی نقصان نسبتاً کم رہتا ہے۔پاکستان کیلئے بھی یہی راستہ اختیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سب سے پہلے ایک جامع قومی موسمیاتی مالیاتی پالیسی مرتب کی جانی چاہیے جس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان واضح ذمہ داریاں طے ہوں۔ اس پالیسی کے تحت ایک مستقل قومی موسمیاتی تحفظ فنڈ قائم کیا جائے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں فوری مالی وسائل دستیاب ہوں اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں تاخیر نہ ہو۔زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر یہی شعبہ موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہا ہے۔ شدید بارشیں، خشک سالی، ژالہ باری اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ کسانوں کی محنت کو چند گھنٹوں میں ضائع کر دیتا ہے۔ اس صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت چھوٹے اور متوسط درجے کے کسانوں کیلئے آسان، سستی اور قابلِ رسائی زرعی بیمہ اسکیمیں متعارف کرائے تاکہ فصل تباہ ہونے کی صورت میں انہیں فوری مالی سہارا مل سکے۔ اس سے نہ صرف کسانوں کا معاشی تحفظ ممکن ہوگا بلکہ ملکی غذائی سلامتی بھی مضبوط ہوگی۔اس کے ساتھ بینکاری اور مالیاتی اداروں کو بھی موسمیاتی خطرات کو اپنی منصوبہ بندی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایسے قرضے اور مالیاتی سہولیات متعارف کرائی جائیں جو پانی کی بچت، جدید آبپاشی، شمسی توانائی، بارش کے پانی کو محفوظ بنانے، ماحول دوست صنعتوں اور موسمیاتی موافق زراعت کی حوصلہ افزائی کریں۔ اس سے ماحول کا تحفظ بھی ہوگا اور معیشت زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بروقت وارننگ سسٹم آفات سے ہونے والے نقصانات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔ جدید موسمیاتی پیش گوئی، سیلاب کی بروقت اطلاع، گلیشیئرز کی نگرانی، مقامی سطح پر آگاہی اور موثر انخلاء کے منصوبے ہزاروں جانیں بچانے کے ساتھ اربوں روپے کے معاشی نقصانات سے بھی محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک آفات کے بعد تعمیر نو کے بجائے آفات سے پہلے تیاری پر زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔بین الاقوامی برادری کی بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک نے صنعتی ترقی کے دوران سب سے زیادہ کاربن فضا میں خارج کی، جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ اس لیے عالمی موسمیاتی فنڈز تک پاکستان کی آسان رسائی، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، کم سود مالی معاونت اور موسمیاتی موافقت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ پاکستان کو اندرونی سطح پر بھی کئی بنیادی اصلاحات کرنا ہوں گی۔ جنگلات کے رقبے میں اضافہ، آبی ذخائر کی تعمیر، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال پر قابو، شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو شامل کرنا، ندی نالوں پر غیر قانونی تعمیرات کا خاتمہ، قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں کی توسیع اور ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اگر ان شعبوں میں مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے تو مستقبل کے خطرات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ پاکستان کیلئے ایک موجودہ قومی چیلنج بن چکی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، نجی شعبہ، مالیاتی ادارے، زرعی ماہرین اور بین الاقوامی شراکت دار مشترکہ طور پر ایسا نظام تشکیل دیں جو آفات آنے سے پہلے ہی ملک کو مالی اور انتظامی طور پر تیار کر دے۔اگر آج موسمیاتی تحفظ، مالیاتی منصوبہ بندی، جدید ٹیکنالوجی، ماحول دوست ترقی اور قدرتی وسائل کے موثر انتظام میں سرمایہ کاری کی گئی تو پاکستان نہ صرف آنے والی موسمیاتی آفات کے نقصانات کو کم کر سکے گا بلکہ پائیدار ترقی، غذائی تحفظ اور معاشی استحکام کی جانب بھی مضبوط قدم بڑھا سکے گا۔

موستار کا پل

موستار کا پل

تاریخ، تہذیب اور امن کی لازوال علامتموستار کا پل محض پتھروں سے تعمیر کیا گیا ایک قدیم شاہکار نہیں بلکہ تہذیبوں، ثقافتوں اور انسانوں کو جوڑنے والی ایک زندہ علامت ہے۔ بوسنیا و ہرزیگووینا کے تاریخی شہر موستار میں دریائے نیریتوا پر قائم یہ پل صدیوں تک مشرق اور مغرب، مختلف قومیتوں اور مذاہب کے درمیان باہمی ہم آہنگی اور بقائے باہمی کی علامت رہا۔ 16ویں صدی میں سلطنت عثمانیہ کے دور میں تعمیر ہونے والا یہ منفرد پل اپنے دلکش طرزتعمیر اور تاریخی اہمیت کے باعث عالمی شہرت رکھتا ہے۔ اگرچہ 1993ء میں بوسنیائی جنگ کے دوران یہ پل تباہ کر دیا گیا، مگر بعد ازاں بین الاقوامی تعاون سے اس کی ازسرِنو تعمیر نے یہ ثابت کر دیا کہ نفرت اور جنگ کے مقابلے میں امن، محبت اور اتحاد کی قوت کہیں زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔ موستار کا مطلب ہے پرانا پل، روسی زبان میں موست بمعنی پل اور سٹار یا سٹاری پرانا۔ یعنی موستار کا شہر اس کے درمیان بہنے والے دریائے نریتوا کے اوپر بنے ہوئے پرانے پل کی وجہ سے مشہور ہے۔ یہ ترکش معمار خیر الدین کی نگرانی میں بنایا گیا تھا۔ دریائے نریتواپر اس پل کی تعمیر کا آغاز 1557 ء میں ہوا اور 1566 ء میں مکمل ہوا۔ پل اس لیے بھی شہرت کا حامل ہے کہ یہ ایک محراب کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ اس کی تعمیر میں پتھر اور چونا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ پل ساڑھے چار سو سال سے بھی زیادہ پرانا ہے۔ یہ پل پورے علاقے میں اپنی نوعیت کا واحد پل ہے، جو اپنی محرابی ساخت کی وجہ سے تاریخی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی لمبائی 95 فٹ، چوڑائی 13 فٹ اور اونچائی 79 فٹ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پل کی تکمیل کے وقت اس کے افتتاح سے قبل سلطنت عثمانیہ کے سلطان نے قسم کھائی تھی کہ پل کے نیچے عارضی ستون ہٹانے کے بعد پل اگر نیچے گر گیا تو معمار خیرالدین کو قتل کر دیا جائے گا۔کہا جاتا ہے کہ معمار خیرالدین کو اپنے آپ پر اور اپنی کاریگری پر بھروسہ تو تھا لیکن سلطان کا خوف اس کے ذہن پر غالب آ گیا۔ جس دن پل کے نیچے سے عارضی ستون ہٹائے جانے تھے، اس دن معمار خیرالدین نے اپنی قبر بھی تیار کروانا شروع کر دی، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ وہ پل آج بھی قابل استعمال چلا آ رہا ہے۔ بقول محترمہ ساجدہ سلاجک صاحبہ گزشتہ جنگ میں اس موستار پل کو تباہ کرنے میں سربوں اور کروٹوں کو ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ پہلے سرب زور آزمائی کرتے رہے، پھر کروٹ گولہ باری کرتے رہے پھر کہیں جا کردہ اس پل کے کچھ حصے کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو سکے۔ جنگ کے خاتمے کے بعد اس پل کو دوبارہ بنانے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اس میں ورلڈ بینک ''یونیسکو‘‘ اورآغا خاں ٹرسٹ نے خاص طور پر مددکی۔ اس کے علاوہ اٹلی، ہالینڈ،ترکی، کروشیا اور بوسنیا کی حکومت نے خاص تعاون کیا۔ پھر کہیں 2004 ء میں اس تاریخی پل کو پیدل چلنے والوں کیلئے کھولا گیا۔ تقریباً 80 فٹ کی بلندی سے پیشہ ور غوطہ خور دریائے نریتوا میں ایک خاص سٹائل میں غوطہ لگا کر حاضرین سے داد وصول کرتے ہیں۔ جبکہ دریا کا پانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے۔ آج موستار کا پل نہ صرف ایک سیاحتی مرکز ہے بلکہ یہ انسانیت کیلئے اس حقیقت کی یاد دہانی بھی ہے کہ دلوں اور معاشروں کو جوڑنے والے پل ہمیشہ دیواروں سے زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔

عید ملنا!

عید ملنا!

مرزا صاحب ہمارے ہمسائے تھے، یعنی ان کے گھر میں جو درخت تھا اس کا سایہ ہمارے گھر میں بھی آتا تھا۔ اللہ نے انہیں سب کچھ وافر مقدار میں دے رکھا تھا۔ بچے اتنے تھے کہ بندہ ان کے گھر جاتا تو لگتا اسکول میں آگیا ہے۔ ان کے ہاں ایک پانی کا تالاب تھا جس میں سب بچے یوں نہاتے رہتے کہ وہ تالاب میں 500 گیلن پانی بھرتے اور سات دن بعد 550 گیلن نکالتے۔ وہ مجھے بھی اپنے بچوں کی طرح سمجھتے، یعنی جب انہیں مارتے تو ساتھ میں مجھے بھی پیٹ ڈالتے، انہیں بچوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا سخت ناپسند تھا۔ حالانکہ ان کی بیگم سمجھاتیں کہ مسلمان بچے ہیں، آپس میں نہیں لڑیں گے تو کیا غیروں سے لڑیں گے۔ ایک روز ہم لڑ رہے تھے، بلکہ یوں سمجھیں رونے کا مقابلہ ہو رہا تھا۔ یوں بھی رونا بچوں کی لڑائی کا ٹریڈ مارک ہے۔ اتنے میں مرزا صاحب آگئے۔''کیوں لڑ رہے ہو؟‘‘ہم چپ! کیونکہ لڑتے لڑتے ہمیں یہ بھول گیا تھا کہ کیوں لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے ہمیں خاموش دیکھا تو دھاڑے، ''چلو گلے لگ کر صلح کرو۔‘‘ وہ اتنی زور سے دھاڑے کہ ہم ڈر کر ایک دوسرے کے گلے لگ گئے۔ اس بار جب میں نے عید پر لوگوں کو گلے ملتے دیکھا تو یہی سمجھا کہ یہ سب لوگ بھی ہماری طرح صلح کر رہے ہیں۔عید کے دن گلے ملنا، عید ملنا کہلاتا ہے۔ پہلی بار اس دن انسان گلے ملا، جب خدا نے اسے ایک سے دو بنایا۔ یوں آج بھی گلے ملنے کا عمل دراصل انسان کے ایک نہ ہونے کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ عمل ہمیں دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتا ہے کہ وہ گلے پڑ تو سکتے ہیں، گلے مل نہیں سکتے۔ہمارے ہاں عید ملنا، عید سے بہت پہلے شروع ہو جاتا ہے۔ دکاندار گاہکوں سے، کلرک سائلوں سے اور ٹریفک پولیس والے گاڑی والوں کو روک روک کر ان سے عید ملتے ہیں۔ بازاروں میں عید سے پہلے اتنا رش ہوتا ہے کہ وہاں سے گزرنا بھی عیدملنا ہی لگتا ہے۔ کچھ نوجوان تو لبرٹی اور بانو بازار میں عید ملنے کی ریہرسل کرنے جاتے ہیں۔عید کے دن میں خوشبو لگا کر عید گاہ کا رخ کرتا ہوں۔ واپسی پر کپڑوں سے ہر قسم کی خوشبو آ رہی ہوتی ہے سوائے اس خوشبو کے جو لگاکر جاتا ہوں۔ عید مل مل کر وہی حال ہوجاتا ہے جو سومیٹر کی ریس جتنے کے بعد ہوتا ہے۔ اوپر سے گوجرانوالہ کی عید ملتی مٹی ایسی کہ جب واپس آکر گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہوں تو گھر والے گردن نکال کر پوچھتے ہیں،''جی! کس سے ملنا ہے؟‘‘سیاست دان تو عید یوں ملنے نکلتے ہیں، جیسے الیکشن کمپین پر نکلے ہوں۔ جیتنے سے پہلے عید تو وہ آگے بڑھ کر ملتے ہیں اور جیتنے کے بعد عید مل کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ پنجاب کے ایک سابق گورنر کا عید ملنے کا انداز نرالہ ہوتا تھا۔ ان کا حافظہ ہمارے ایک ادیب دوست جیسا تھا جو ایک ڈاکٹر سے اپنے مرض نسیان کاعلاج کروا رہے تھے، دو ماہ کے مسلسل علاج کے بعد ایک دن ڈاکٹر نے پوچھا،''اب تو نہیں بھولتے آپ؟‘‘۔''بالکل نہیں، مگر آپ کون ہیں اور یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟‘‘وہ سابق گورنر بھی عید پر معززین شہر سے عید ملنا شروع کرتے، ملتے ملتے درمیان تک پہنچتے تو بھول جاتے کہ کس طرف کے لوگوں سے مل لیا اور کس طرف کے لوگوں سے ابھی ملنا ہے۔ یوں وہ پھر نئے سرے سے عید ملنے لگتے۔ ایسے ہی ایک صاحب تیز دریا عبور کرنے کی کوشش میں تھے مگر عین دریا کے درمیان سے واپس پلٹ آئے۔ لوگوں نے وجہ پوچھی تو کہنے لگے، دراصل جب میں دریا کے درمیان پہنچا تو بہت تھک گیا تھا سو واپس لوٹ آیا۔شاعر وہ طبقہ ہے جو خوشی غمی ہر دوموقعوں پر شعر سناتا ہے۔ کہتے ہیں کہ سکھ کرپان کے بغیر، بنگالی پان کے بغیر اور شاعر دیوان کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا۔ اس لیے شاعر عید ملنے کیلئے بھی مشاعرے ہی کرتے ہیں۔ یوں مشاعروں کو لفظوں کا عید ملنا کہہ لیں اگرچہ وہ ہوتی تو لفظوں کی ہاتھا پائی ہے۔بچے پیار سے عید کو عیدی کہتے ہیں۔ اس لیے ان کو عیدی ملناان کا عید ملنا ہے۔ عورتیں بھی اکٹھی ہوکر عید ملتی ہیں، لیکن جہاں چار عورتیں اکٹھی ہوں وہاں وہ ایک دوسری سے نہیں، پانچویں سے خوب خوب ملتی ہیں۔ اور کوئی وہاں سے اٹھ کر اس لیے نہیں جاتی کہ جانے کے بعد وہاں بیٹھی رہنے والیاں اس سے ''عید ملنا‘‘ نہ شروع کردیں۔عید کے روز امام مسجد سے عید ملنے کا یہ طریقہ ہے کہ اپنی مٹھی مولوی صاحب کی ہتھیلی پر یوں رکھیں کہ ان کے منہ سے جزاک اللہ کی آواز نکلے۔ چھوٹے شہروں میں نوجوانوں کی اکثریت سنیما گھروں میں بھی عید ملنے جاتی ہے۔ بکنگ کے سامنے وہ عید ملن ہوتی ہے کہ جو سفید سوٹ پہن کر آتا ہے وہ براؤن سوٹ بلکہ کبھی کبھی تو کالے سوٹ میں لوٹتا ہے، اکثر بنیان میں بھی واپس آتے ہیں۔ عید ملنا وہ ورزش ہے جس سے وزن بہت کم ہوتا ہے۔ میرا ایک دوست بتاتا ہے کہ بیرون ملک میں نے عید پر سو پونڈ کم کیے۔

آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

آج تم یاد بے حساب آئے! کیپٹن محمد سرور شہید(نشان حیدر) (1948-1910ء)

٭...10نومبر 1910ء کو راولپنڈی کے گاؤں سنگھوری میں پیدا ہوئے۔٭...آپ کے والد راجہ محمد حیات خاں بھی فوج میں حوالدار تھے۔٭...ابتدائی تعلیم گورنمنٹ مسلم ہائی سکول فیصل آباد سے حاصل کی۔٭... 1927 ء میں دسویں جماعت میں اول پوزیشن حاصل کی۔٭...15 اپریل 1929ء کو فوج میں بطور سپاہی شمولیت اختیار کی۔٭... 1944ء میں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔٭... دوسری جنگ عظیم میں شاندار فوجی خدمات پر 1946ء میں کیپٹن کے عہدے پر ترقی پائی۔٭...قیام پاکستان کے بعد پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔٭... 1948ء میں جب پنجاب رجمنٹ کی سیکنڈ بٹالین میں کمپنی کمانڈر کے عہدے پر فائز تھے انہیں کشمیر میں آپریشن پر مامور کیا گیا۔٭...27 جولائی 1948ء کو اوڑی سیکٹر میں دشمن کی اہم فوجی پوزیشن پر حملہ کیا۔اس حملے میں ایک گولی کیپٹن سرور کے سینے میں لگی اور آپ نے شہادت پائی۔٭...27اکتوبر 1959ء کو انہیں نشانِ حیدرسے نوازا گیا۔

آج کا دن

آج کا دن

انسولین کی ایجاد27 جولائی 1921ء کو ٹورنٹو یونیورسٹی کے بائیو کیمسٹ ڈاکٹر فریڈریک بینٹنگ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انسولین دریافت کی، جو ذیابیطس کے علاج میں ایک انقلابی پیش رفت ثابت ہوئی۔ بینٹنگ پیشے کے لحاظ سے ہڈیوں کے سرجن تھے، لیکن انہوں نے لبلبے (Pancreas) پر تجربات کرتے ہوئے یہ اہم دریافت کی۔انسولین کی دریافت سے قبل ذیابیطس ایک لاعلاج اور مہلک بیماری سمجھی جاتی تھی۔ جنیوا کنونشنجنگی قیدیوں سے متعلق جنیوا کنونشن پر27 جولائی 1929ء کو دستخط ہوئے جبکہ یہ 19 جون 1931ء کو نافذ ہوا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کا ایک مجموعہ ہے جو جنگوں کے دوران انسانی ہمدردی کے اصولوں کو یقینی بنانے کیلئے بنایا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد جنگ کے دوران زخمیوں، بیماروں، قیدیوں اور عام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ریڈ کراس کا قیام بھی اسی کنونشن کے تحت عمل میں آیا۔جیٹ طیارے کی پہلی اڑان 1949ء میں آج کے روزدنیا کے پہلے جیٹ انجن سے لیس مسافر بردار طیارے نے اپنی پہلی کامیاب پرواز کی۔''ڈی ہیولینڈ ڈی ایچ 106‘‘ دنیا کا پہلا کمرشل جیٹ ہوائی جہاز ہے۔اس میں چار ڈی ہیولینڈ گھوسٹ ٹربو جیٹ انجن نصب تھے۔ اس نے اپنی پہلی تجارتی پرواز مئی 1952ء میں بھری ۔یوکرین ائیر شو حادثہ27جولائی2015ء کو یوکرین میں ہونے والے فضائی شو میں ایک حادثہ پیش آیا۔یہ شو یوکرین کی فضائیہ کے زیر اہتمام کروایا گیا تھا۔ اس میں ایک جہاز اپنی محارت دکھاتا ہوا ائیر فیلڈ کے قریب گر کر تباہ ہو گیا۔اس حادثے میں 77افراد جان بحق جبکہ543کے قریب زخمی ہوئے۔ یہ حادثہ دنیا میں کسی بھی ائیر شو کے دوران ہونے والے حادثات میں سب سے بھیانک تصور کیا جاتا ہے۔سی زیروک قتل عام27جولائی 1997ء کو الجزائر کے علاقے سی زیروک میں ایک قتل عام کیا گیا جسے ''زیروک قتل عام‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں تقریباً 50 لوگ مارے گئے۔ 1997ء میں الجزائر میں خانہ جنگی عروج پر تھی۔دوگوریلا گروہ حکومت سے لڑائی میں مصروف تھے۔اس حملے سے قبل گاؤں کی بجلی کو منقطع کر دیا گیا اور آرمی بیرکس کے قریب حملہ کیا گیا۔