نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گورنرپنجاب چودھری سرورکاوزرا،ایم این ایزکےاعزازمیں استقبالیہ
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی،فوادچودھری،اسدعمر،اسپیکراسدقیصربھی شریک
  • بریکنگ :- وزیرمملکت فرخ حبیب،زرتاج گل،ڈاکٹرنوشین حامداوردیگرکی شرکت
  • بریکنگ :- قومی اسمبلی کےہرحلقےمیں 6،صوبائی حلقےمیں 3 فلٹریشن پلانٹس لگائیں گے،گورنر
  • بریکنگ :- بغیرسیاسی تفریق قومی وصوبائی حلقوں میں پلانٹس لگیں گے،گورنرپنجاب
Coronavirus Updates

ڈمپلز کیوں بنتے ہیں؟ پیٹھ پر بننے والے ڈمپلز قابل تشویش ہو سکتے ہیں

 ڈمپلز کیوں بنتے ہیں؟ پیٹھ پر بننے والے ڈمپلز قابل تشویش ہو سکتے ہیں

اسپیشل فیچر

تحریر : ڈاکٹر سعدیہ اقبال


تیرے ڈمپل پہ واروں میں
ساری محبتیں اپنی
پہلی صدی عیسوی میں مارکوس ویلرئیس مارشل (Marcus Valerius Martialis )ایک معروف رومن شاعر گزرا ہے۔ شہنشاہ ڈومیشن (Domitian)،نروا اور ٹراجن (Trajan) کے ادوار میں 86ء سے 103ء کے درمیانی عرصے میں شائع ہونے والی بارہ منظوم کتابیں وجہ شہرت ہیں ۔ یہ پہلا شاعر ہے جس نے ڈمپلز کو بھی موضوع سخن بنایا ہے۔ بقول اس کے ''جیلا سین سے عاری چہرہ بے رونق ہوتا ہے ‘‘ ۔ اس کی شاعری میں چہرے کی اصل رونق ڈمپلز ہیں۔
شیکسپیئرکاڈرامہ ''دی ونٹرز ٹیلز‘‘(The Winter's Tale) خوبصورت ڈمپلز والے لڑکے کے ذکر سے خالی نہیں۔ ''گو ن ود دی ونڈ‘‘ (1936ء)میں ناول گار مارگریٹ مچلز نے ایک کردار کی خوبصورتی کے لئے ڈمپلز کا سہارا لیا ہے۔
براڈ پیٹ (Brad Pitt)، ایڈم لیوین (Adam Levine)اور بریڈ لے کوپر(Bradley Cooper) میں کیا چیز مشترک ہے؟..... ڈمپلز۔ تینوں اداکارائوں کے گال پر پڑنے والے ڈمپلز ان کی مسکراہٹ کو حسن بخشتے ہیں۔ گلو کارہ اور ڈانسر شرل این کورل (Cheryl Ann) ، اداکارہ کیمرون ڈیاز (Cameron Diaz) ...اور ڈچز آف کیمبرج کیٹ میڈلٹن کے چہرے کی خاص بات ڈمپلز ہیں۔پاکستانی اداکارہ ہانیہ عامرکو ''ڈمپل کوئین‘‘ کا خطاب بھی ملا ہے۔مہوش حیات، صبا قمر، علیزے شاہ،عائزہ خان،مایا علی،اوشنا شاہ، عریج فاطمہ ، حنا الطاف،زرنش خان،ماہرہ خان، سائرہ خان اورسجل علی....ڈمپلز ان سب کی خوبصورتی کا راز ہیں۔ کچھ مرد و خواتین ڈمپلز کو پسند کرتے ہیں۔ ان کے لئے ڈمپلز بنائے بھی جا سکتے ہیں، سائنس میں یہ صلاحیت موجود ہے۔
1962ء میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق '' ڈمپلز گھر میں خوشی اور خوش قسمتی کی علامت سمجھے جاتے ہیں ‘‘۔ ایشیائی ممالک میں ڈمپلز کوخوبصورتی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ چائنز اکیڈیمی آف میڈیکل سائنسز اینڈ پیکنگ اوریونین میڈیکل کالج بیجنگ نے بھی تحقیقات شائع کی ہیں۔ماہرین نے بتایا کہ '' کسی بھی سائنسی تشریح کے بغیر ڈمپلز والی خواتین بہت پر اعتماد ہو کر ہر چیلنج کا مقابلہ کرنے کو تیار رہتی ہیں۔کیونکہ وہ خود کو بلا وجہ دوسروں سے بہتر یا خوبصورت سمجھنے کے باعث زیادہ پر اعتماد ہو جاتی ہیں۔ اس کا تعلق سائنس سے نہیں بلکہ جذبات سے ہے‘‘۔
ڈمپلز 1980ء کی دہائی کے وسط میں زیادہ مقبول ہوئے جب گال اور تھوڑی کے ڈمپلز پر تحقیق سامنے آنے لگی ،اورچہرے کی خوبصورتی میں ڈمپلز کے چرچے ہوئے۔ 21ویں صدی میں یہ اصطلاح بہت عام ہوگئی۔طبی جرائد اور تحقیق میں یہ لفظ عام استعمال ہونے لگا۔ اب یہ مردوں اور عورتوں میں مقبول ہیں۔ ''انفینٹی میڈیکل گروپ‘‘ کی تحقیق کے مطابق امریکہ میں 20فیصد آبادی کے چہرے پر ڈمپلز پڑتے ہیں ۔ اور یہ لوگ ڈمپلز کی وجہ سے خود کو زیادہ خوبصورت محسوس کرتے ہیں،اس کا تعلق کسی خاص رنگ ، نسل یا گروپ سے نہیں ۔یہ پاکستان اور ترکی سمیت بہت سے اسلامی ممالک میں بھی عام ہیں۔
مگر ڈمپلز کیا ہیں ؟
جیلاسین (gelasin) اور ڈمپل الگ الگ لفظ ہیں لیکن ہم معنی ہیں۔جیلاسین یونانی لفظ جیلائین (gelaein) سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ''قہقہہ‘‘۔ غیر ملکی جریدہ ''جرنل آف سائنسز اینڈ ریسرچ ‘‘ نے ڈمپلز اور جیلا سین کو گال کے گوشت والے حصے میں پڑنے والی ہلکی سی گہرائی قراردیا ہے۔ یہ ''ڈمپل ‘‘کی سائنسی تشریح نہیں ہے۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے پلاسٹک سرجن برینٹ مولیکن (Brent Moelleken)نے جریدہ ''سمتھ سونین میگزین‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ '' ڈمپلز موروثی ہوتے ہیں، یہ دراصل گا ل کے پٹھوں کی 'ابنارملٹی‘ کانتیجہ ہیں۔ یہ جینز کے ذریعے بچوں میں منتقل ہو سکتے ہیں‘‘۔ اس ابنارملٹی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ جن افراد کو ڈمپل پڑتے ہیں ان کے رخسار کی ہڈی کے نیچے کہیں کہیں پٹھے کی ساخت میں فرق ہونے کے باعث ان کے درمیان ڈمپلز پڑ جاتے ہیں۔ پلاسٹک سرجن انتھونی یان کے مطابق '' ڈمپلز والے عضلات میں فرق ہو سکتا ہے۔ لیکن انہیں انفیکشن یا کسی اور خرابی کی علامت ہرگز نہیں سمجھنا چاہئے۔ اگر کوئی انہیں ختم کرنا چاہتا ہے تو علاج موجود ہے۔
مسکراہٹ یا قہقہہ کی صورت میں یہ زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔ یونیورسٹی آف یوٹاہ میں ''جینیاتی سائنس لرننگ سنٹر‘‘ کے مطابق ''ڈمپلز زیادہ تر موروثی ہوتے ہیں۔ بلکہ یہ کچھ زیادہ ہی موروثی ہیں۔ ڈمپلز والے باپ اور ماں کے بچوں میں اس کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں تاہم چوتھے اور پانچویں بچے میں ڈمپلز کی وراثت محدود ہو جاتی ہے‘‘۔2017ء کی تحقیق کے مطابق ''کچھ بچوں میں جینیاتی تبدیلیوں کے باعث ڈمپلز ختم بھی ہو سکتے ہیں‘‘۔
ڈمپلز چونکہ انتہائی آسانی کے ساتھ نئی نسل میں منتقل ہوسکتے ہیں تو انہیں بہت عام ہونا چاہئے ۔یہ بات سچ ہے۔ کیونکہ دیگر بیماریوں اور خرابیوں کے مقابلے میں ڈمپلز زیادہ عام ہیں۔تاہم ڈمپلز کی اناٹومی پر زیادہ تحقیق نہیں کی گئی۔
امریکہ میں زمانہ قدیم میں جیلا سین کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا تھا ۔ چین سمیت کئی دوسرے ممالک میں بھی یہ روایت عام تھی۔ اسی لیے یہ کہا جانے لگا کہ ڈمپلز خوبصورتی سمیت ہر اچھی بات کی علامت ہیں۔
ڈمپلز کا چہرے پر پڑنا ضروری نہیں۔ کچھ لوگوں کی تھوڑی پر لکیریں سی نظر آتی ہیں۔ یہ بھی جینیاتی طور پر ہو سکتی ہے۔ اگر کسی کے ماں اور باپ کی ٹھوڑی پر یہ لکیر بنتی ہو تو بچوں میں بھی امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ نچلے جبڑے کی بناوٹ میں کسی خرابی کی عکاس ہے۔ ہڈیوں کی نشوونما کے دوران نچلے جبڑے میں کچھ خرابی رہ جاتی ہے۔یہ اس کی علامت ہیں،پوری طرح آپس میں پیوست نہ ہونے کی وجہ سے وہاں ڈمپلز پڑ سکتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement
سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

سخت گرمی سے کیسے بچیں؟

موسم گرما کی آمد کے ساتھ ہی گرمی کی شدت میں ہر گْزرتے دن کیساتھ اضافہ ہو رہا ہے اور اس بدلتے موسم کا اثر ہماری صحت پر بھی پڑتا ہے اور صحت کے متعلق بہت سی پریشانیاں پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہیں، اگر آپ بدلتے موسم کیساتھ گرمیوں میں جسم کو تندرست رکھنا چاہتے ہیں تو گرمی کی بیماریوں کے تدراک کرنے کے طریقوں کو سیکھنا ضروری ہے۔گرمی سے بچنے کے طریقوں کا ذکر کیا جا رہا ہے تاکہ آپ موسم کی شدت سے اپنے جسم کو محفوظ رکھ سکیں اور صحت مند رہ سکیں۔سب سے پہلے پانی:موسم گرما میں قْدرت نے ہمارے جسم کو قدرتی طور پر ٹھنڈا رکھنے کے لیے ہمارے جسم میں پسینے کا نظام بنایا ہے اور زیادہ گرمی میں زیادہ پسینہ آنے سے جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے خاص طور پر اْن لوگوں میں جو جسمانی مشقت کے کام کرتے ہیں اور ورزش وغیرہ کرتے ہیں یہ کمی جلدی پیدا ہو سکتی ہے اس لیے ضروری ہے کہ جسم میں پانی کی کمی کو پورا کیا جائے۔جب جسم میں پانی کی کمی پیدا ہوتی ہے تو بار بار پیاس لگتی ہے، معمول سے بہت کم پیشاب آتا ہے اور پیشاب کی رنگت گہری ہو جاتی ہے، جسم بہت جلد تھکاؤٹ کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے، سر میں درد اور چکر آ سکتے ہیں اور ایسی صْورت میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا بہت ضروری ہو جاتا ہے خاص طور پر نمک کی کمی کو پْورا کرنے کے لیے لیموں کی سکنجبین کا استعمال زیادہ کریں اور اس میں نمک ڈال کر پینا شروع کر دیں، نارنجی کا جْوس بھی جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتا ہے اسکے ساتھ چائے اور کافی کا استعمال کم کریں اور ہلکے رنگ کے کپڑے پہنیں کیونکہ گہرا رنگ سْورج کی دْھوپ کو اپنے اندر جلدی جذب کرتا ہے اور ایسا کپڑا جلدی گرم ہو جاتا ہے اور دْھوپ میں نکلنے سے پہلے اپنے سر کو سفید یا ہلکے رنگ کے کپڑے سے ضرور ڈھانپ لیں۔گرمی کے موسم میں معدے میں تیزابیت پیدا ہونی شروع ہوجاتی ہے جس سے کھٹی ڈکاریں، پیٹ کا بھاری پن، معدے میں جلن، پیٹ درد اور متلی جیسی شکایات بڑھ جاتی ہیں اور ایسی صْورت میں دھنیے کو پانی میں بھگو دیں اور 2 گھنٹے بعد اسکا پانی استعمال کریں اور اسی طرح پودینے کو پانی میں بھگو کر پانی استعمال کرنا شروع کر دیں، املی اور آلو بْخارے کو پانی میں رات بھر بھیگا رہنے دیں اورصْبح اسکا پانی پی لیں اور املی اور آلوبْخارے کی گٹھلیاں نکال کر اسے بھی ساتھ کھا لیں یہ آپ کے نظام انہظام کو خراب نہیں ہونے دے گا۔ْشک ادرک یا ادرک کا پائوڈر اور اس میں تھوڑا کالا نمک شامل کر کے وقفے وقفے سے اس چْورن کا استعمال کرنا بھی تیزابیت کے خاتمے کا باعث بنتا ہے، معدے میں تیزابیت کی صْورت میں سیدھا مت لیٹیں بلکہ چارپائی وغیرہ کے سر والی سائیڈ پر چارپائی کے پاؤں کے نیچے اینٹ وغیرہ رکھ کر اسے سرہانے سے اونچا کر لیں اور تیزابیت کی صْورت میں چائے اور کافی سے پرہیز کریں اور کچی لسی وغیرہ کا استعمال زیادہ کر دیں۔شدید گرمی سے اگر چکر آ رہے ہیں تو ایسی صْورت میں آملے کا شربت آپ کو فوری آرام پہنچائے گا اور ساتھ ہی تْلسی کے پتوں میں چینی مکس کر کے پیسٹ بنا لیں اور اسے پانی میں حل کر کے تھوڑی تھوڑی دیر بعد استعمال کریں یہ جسم سے گرمی کی شدت کو کم کرے گا۔موسم گرما میں سلاد والی سبزیوں کا استعمال زیادہ کریں خاص طور پر کھیرا کھانا شروع کر دیں کھیرے میں پانی کی ایک بڑی مقدار شامل ہوتی ہے جو جسم کو ڈی ہائیڈریٹ ہونے سے بچاتی ہے اسی طرح اگر گرمی زیادہ لگ رہی ہو تو سینے پر پیاز کے رس سے مالش کریں۔گرمی میں گرمی دانے بھی جسم میں تلخی پیدا کرتے ہیں ان سے بچنے کے لیے کالے زیرے کا پاؤڈر ناریل کے دْودھ میں مکس کر کے جسم پر مالش کرنا انتہائی فائدہ مند ثابت ہوتا ہے اور ساتھ ہی دھنیے کے پانی میں چینی شامل کرکے پینا بھی جسم کی تلخی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے۔فوڈ پوائزننگ بھی گرمی کے موسم سے جْڑی ہے اور خاص طور پر برسات کے موسم میں تو پنجاب کے ہسپتالوں میں اس بیماری سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی جاتی ہے اس بیماری سے بچنے کے لیے بازاری کھانا کھانا چھوڑ دیں اور کھانا کھانے سے پہلے، واش روم سے نکلنے کے بعد، پالتو جانوروں کو چْھونے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اینٹی بیکٹیریل صابن سے دھوئیں، اور موسمی پھل اور سبزیوں کا استعمال بھی اچھی طرح دھو کر کریں تاکہ ان کے اوپر کوئی جراثیم وغیرہ نہ رہ جائے اور اپنی خوراک میں ایسے کھانوں کو شامل کریں جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو جیسے پھل فروٹس اور سبزیاں۔لیموں جس کا نام سْن کر ہی منہ میں پانی بھر آتا ہے انسانی صحت کے لیے ایک انتہائی مْفید فروٹ ہے، خاص طور پر موسم گرما میں جب لوگوں کی قوت مدافعت کمزور ہو اس وقت لیموں میں موجود وٹامن سی ہمارے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے او گرمیوں کی بیماریوں سے بچاتا ہے۔لیموں منرلز اور وٹامنز سے بھر پور ہوتا ہے جو جسم کے امیون سسٹم کو طاقتور بناتا ہے اور انسان کو بیمار نہیں ہونے دیتا۔ گرمیوں میں لیموں کی سکنجبین بہت فائدہ مند ہوتی ہے جو جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے۔ اس کے اندر فائبر کی ایک بڑی مقدار بھوک کو مٹاتی ہے اور لیموں میں سیب اور انگور سے بھی زیادہ پوٹاشیم ہوتی ہے۔لیموں دل، دماغ اور جگر کے لیے صدیوں سے انتہائی مْفید سمجھا جاتا ہے اور لیموں پر ہونے والی جدید میڈیکل سائنس کی ریسرچز بھی لیموں کی اس قابلیت کو تسلیم کرتی ہیں۔لیموں کا جْوس اینٹی بیکٹریا اور اینٹی وائرل خوبیوں کیساتھ موسمی بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے اس کے ساتھ ساتھ یہ معدے سے تیزابیت کا خاتمہ کرکے نظام ہضم کو بہتر بناتا ہے خاص طور پر موسم برسات میں جب ہوا میں نمی کی مقدار بڑھی ہوتی ہے اور کھانے پینے کی اشیا پلک جھپکتے خراب ہوسکتی ہیں ۔ لیموں پانی معدے میں تباہی مچانے والے جراثیموں کو بے قابو نہیں ہونے دیتا۔لیموں کے اندر موجود وٹامن سی جہاں اور بہت سی بیماریوں میں شفا ہے وہاں یہ جلد کو صاف کرتا ہے ۔

پروشیا:گمشدہ طاقتور سلطنت

پروشیا:گمشدہ طاقتور سلطنت

پروشیا ایک بہت طاقتور ریاست تھی، یہ جدید جرمنی کی پیشرو کے طور پر رہی ۔یہ سلطنت شمالی پولینڈ کے ایک چھوٹے سے علاقے سے جرمنی کی ایک اہم سپرپاور بنی جو کہ پندرہویں صدی سے لے کر عالمی جنگ دوم تک قائم رہی۔عالمی جنگ دوم کے بعد اس سلطنت کا نام و نشان مٹا دیا گیا ۔اور یہ تاریخ کے اوراق میں گمشدہ صفحات کی صورت موجود ہے۔پروشیا یورپ کی ایک خوشحال ریاست تھی۔پروشیا کے وزیر اعظم بسمارک نے 1871 میں ایک بکھرے ہوئے جرمنی کو متحد کیا اور اس کے پہلے چانسلر بن گئے تھے ۔ لیکن ایسا کیسے ممکن ہوا کہ ایک چھوٹی ریاست کا حکمران پورے جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ اس کے پیچھے جدوجہد کی ایک لمبی کہانی ہے۔ انیسویں صدی میں پروشیا جرمنی کی ایک واحد بڑی طاقت تھی۔ سلطنت پروشیا پولینڈ اور لتھوینیا کے درمیان بالٹک سمندرکے کنارے پر واقع تھی۔اس کے رہائشی بالٹک زبان بولتے تھے۔شروع میں جرمن کا حصہ بننے سے پہلے یہ علاقہ چھوٹے چھوٹے ایسے علاقوں پر مشتمل تھا جو کہ رومن ایمپائر کے تحت تھے مگر ان کی زبان مشترکہ تھی۔ تیرہویں صدی میں جرمنی اور پولینڈنے ان علاقوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔پروٹیسٹینٹ ریفارمیشن کے نتیجے میں 1525 میں اس علاقے پر باقاعدہ حکومت قائم ہوئی۔ پولش بادشاہ کے بھتیجے البرٹ کو اس ریاست کا حکمران بناتے ہوئے ڈیوک آف پروشیا کا ٹائٹل دیا گیا۔البرٹ نے تعلیم اور آرٹ پر توجہ دی اور علاقے کے لوگوں کو باشعور بنایا۔13سال کی پروٹیسٹنٹ اور کیتھولک کی جنگ نے شمالی یورپ کو بہت نقصان پہنچایا۔ پروشیا کا ایک حصہ پولینڈ کے زیر اثر تھا لیکن جنگ کے بعد پروشیا نے اپنے علاقے کو پھیلایا اور پولینڈ کے زیر اثر حصہ بھی بقیہ پروشیا سے آملا۔پروشیا نے بہت جلد اپنی انتہائی ماہر افواج اور نیوی تیار کی جس نے خطے میں اسے ایک طاقتور ریاست بنا دیا ، اس لئے پروشیا نے 1701 میں باقاعدہ سلطنت کا اعلان کردیا۔یورپ کی یہ عظیم طاقتور ریاست کھڑی کرنے میں ولیم فریڈرک کا بہت بڑا کردار ہے ، اگرچہ وہ باقاعدہ کنگ ڈم کو دیکھنے لئے زندہ نہیں رہا لیکن یہ اعزاز اس کے بیٹے کو ملا کہ وہ ایک طاقتور سلطنت کاحکمران بنا۔فریڈک ولیم نے 13سالوں کی جنگ کے بعد ملک کی معیشت کو نئے سرے سے کھڑ ا کیا اور ملک کی فوج کو جدید سامان سے لیس کیا۔یہ مضبوط معیشت اور افواج ہی تھیں جس نے سلطنت کو ایک خوشحال اور طاقتور ریاست بنادیا۔اس نے اپنے بھتیجے ولیم (ڈچ ریپبلک)کے ساتھ بھی اتحاد قائم کیا جو بعد میں برطانیہ کے تخت پر بھی بیٹھا۔اسی دوران فریڈرک نے منتشر جرمنی پر بھی نظر رکھی۔جنگ نے کیتھولک رومن ایمپائر کو کمزور کردیا تھا۔ فریڈرک نے اس صورت حال سے فائدہ اٹھایا اور پروشیا کو مزید مضبوط کرنے کیلئے بھرپور محنت کی ۔ 1688 میں فریڈرک کی وفات کے بعد اس کا بیٹا فریڈرک ون پروشیا کی سلطنت کا بادشاہ بنا۔جرمنی اور پولینڈ کے درمیان میں پروشیا نے زبردست ملٹری طاقت حاصل کرلی۔فریڈرک ون اور انگلینڈ کے بادشاہ ولیم سوئم آپس میں کزن تھے۔فریڈرک کے بیٹے فریڈرک ون نے سیاسی طور پر جرمنی کو متحد کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔1713سے لیکر 1740تک پروشیا کی سلطنت نے بھرپور طاقت کے ساتھ یورپ میں حکومت کی کیونکہ اس کے امیر تجار اور اچھی معیشت نے یورپ کو اپنی طرف کھینچ لیا تھا۔ یورپ بھر سے لوگ پروشیا جانا پسند کرتے تھے۔فریڈرک ون نے سویڈن کے ساتھ ٹکر لی اور اپنے علاقوں کو وسعت دی۔فریڈرک ون کے بعد اس کے بیٹے فریڈرک ولیم دوم نے شاندار حکومت کی اور پروشیا کو مزید خوشحال بنایا۔ اسے'' فریڈرک دی گریٹ ‘‘کا خطاب دیا گیا۔فریڈرک دوم نے پولینڈ کی طرف بھی پیش قدمی کی اور کئی علاقے اپنی سلطنت میں شامل کرلئے اس کے علاوہ جرمنی پر قبضے کیلئے اپنے آسٹرین ہمعصر کے ساتھ بھی مقابلہ بازی شروع کردی۔مذہبی رواداری کی پالیسی ، آرٹ کے پھیلائواور لبرل سیاسی خارجہ پالیسی کے ذریعے پروشیا کو یورپ کی ایک طاقتور ریاست بنایا گیا۔اگلی صدی میں پروشیا نے جرمنی پر مکمل اثر و رسوخ حاصل کرلیا۔ انیسویں صدی میں بہت سے علاقوں کو جمع کرکے جرمنی کو یکجان کیا گیا اور اس کے پیچھے پروشیا کی طاقت تھی۔یہ کوششیں 1860سے شروع ہوئیں۔پروشیا کا اتنا اثرو رسوخ تھا کہ جب جرمن ایمپائر کا اعلان کیا گیا تو اس کے پہلے چانسلر پروشیا کے وزیراعظم تھے۔وہ1871 سے 1890تک جرمنی کے چانسلر رہے۔1918میں جب جرمن انقلاب آیا تو جرمن شہنشاہیت جمہوریہ ملک میں تبدیل ہوگئی۔جرمنی میں نازی ازم پروان چڑھا،جنگ عظیم دوم کے بعد جب جرمن کو شکست ہوئی تو جرمنی کو دو حصوں میں تقسیم کردیا گیا ، ایک حصہ امریکہ کے حصہ میں اور ایک حصہ روس کے پاس آیا جس کے بعد پروشیا کی ریاست ختم کردی گئی اور اس کا نام صرف تاریخ میں رہ گیا۔ ایک وقت میں یورپ کی مضبوط ترین سلطنت سمجھی جانیوالی ریاست جنگ کی تباہ کاریوں کی نظر ہوگئی۔

زلزلہ ،جو 32سال جاری رہا

زلزلہ ،جو 32سال جاری رہا

فروری 1861 کو جب انڈونیشا کے جزیرے سماٹرا میں 8.5میگا حجم کا زلزلہ آیا تو اس نے ہلچل مچا دی ۔ زمین زور زور سے ہلنے لگی۔سمندر کا پانی ساحلوں سے اچھل کر قریبی آبادیوں میں پہنچ گیا۔ اس زلزلے سے سینکڑوں لوگ لقمہ اجل بنے۔یہ اتنا خطرناک زلزلہ تھا کہ زمین کی نچلی سطح میں یہ زلزلہ 32 سال تک رہا اور زمین ہلاتا رہا۔تاہم ارتعاش ہلکی ہوگئی تھی لیکن یہ اپنی نوعیت کا سست ترین زلزلہ تھا۔ یہ زلزلے کی وہ قسم تھی جو کئی کئی دن ، کئی کئی ماہ یا کئی کئی سال برقرار رہتے ہیں۔سنگاپور کی نین ینگ ٹیکنالوجی یونیورسٹی کی جیوڈیسسٹ کے مطابق انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ کوئی زلزلہ اتنے سال تک بھی رہ سکتا ہے لیکن تحقیق سے پتا چلا کہ ایسا ممکن ہے اور یہ سب سماٹرا جزیرے پر ہوا۔ اس طرح کے سست رفتار زلزلے کا ریکارڈ سامنے آنے پر سائنسدانوں کیلئے یہ جاننے میں آسانی ہوگئی کہ ہماری زمین کی کچھ تہیں مسلسل حرکت میں ہیں۔ یہ تو سب کو پتا ہے کہ زلزلہ'' ٹیکٹانک پلیٹس‘‘کے ٹکرانے سے آتا ہے لیکن یہ تحقیق حیران کرنے والی تھی کہ کیا کوئی زلزلہ اتنا سست رفتار بھی ہوسکتا ہے کہ وہ کئی سالوں پر محیط ہوجائے۔انڈونیشیا کے دیگر علاقوں میں بھی زلزلے آتے رہتے ہیں ، جنوبی جزیرہ اینگانو انہی زلزلوں کی وجہ سے آہستہ آہستہ ڈوب رہا ہے کیونکہ زلزلوں سے زمین میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ سنگاپور ٹیکنالوجی کی ایک محقق نے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کے سست رفتار زلزلے قریبی جزیرے میں بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک واحد واقعہ نہیں کہ جو اٹھارویں صدی میں وقوع پذیر ہوا ، یہ اب بھی ہوسکتا ہے ۔جدید تحقیق کا انحصار زمین کی ٹیکٹانک شفٹس کی غیرمتوقع کورل پر ہے۔ کورل کی کچھ اقسام اوپر کی طرف باہر کو نکلتی ہیں۔ یہ کورل تہوں کی شکل میں ایک مجموعہ کی طرح ہوتی ہیں۔ جس طرح درختوں کے جھنڈ، سائنسدان ان کے ڈھانچوں کو پانی کی سطح کو جانچنے کیلئے بھی دیکھتے ہیں۔سمند رکی سطح میں تبدیلی آب وہوا کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے جیسے گلیشئرز کا پگھلنا، یا پھر لینڈسکیپ کی بلندی میں شفٹ سے بھی ایسا ہوسکتا ہے، سماٹرا میں آنے والے زلزلے میں یہ دوسری وجہ ہوسکتی ہے اور یہ زمین دوز ٹیکٹانک پلیٹوں کے درمیان زبردست ٹکرائو سے ہوسکتا ہے ۔ سماٹرا کا جزیرہ اس زون میں واقع ہے کہ جہاں آسٹریلین ٹیکٹانک پلیٹس سنڈا پلیٹس سے نیچے ہوتی ہیں۔ لیکن یہ انڈونیشیا کے جزیروں میں بھی زمین دوز ٹیکٹانک پلیٹوں سے منسلک ہوتی ہے ۔ یہ زمین دوز پلیٹیں جب ٹکراتی ہیں تو ان سے اوپر والی سطح بھی حرکت میں آتی ہے جو باہر نکل کر سمندر میں گرنے کا باعث بنتی ہے جس سے سمندر کی سطح میں تبدیلی آتی ہے۔ ایسی شفٹ اس وقت بھی واقع ہوئی تھی جب 2005میں سماٹرا میں ریکٹر سکیل پر 8.7 حجم کا زلزلہ آیا تھا۔اسی طرح کی اچانک زمین کی حرکت کی شفٹ 1861میں بھی دیکھی گئی تھی ۔ ماہرین کی ٹیم کا خیال ہے کہ یہ تبدیلیاں اس لئے ہوتی ہیں کہ علاقے کی شفٹ میں تبدیلی ہورہی ہوتی ہے جہاں دو ٹیکٹانک پلیٹس آپس میں جڑتی ہیں۔

چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

چین کی شہنشاہیت کتنی امیر تھی ؟

کہا جاتا ہے کہ چین کی قدیم سلطنتیں دنیا کی امیر ترین سلطنتوں میں شامل تھیں۔ریشم، نمک اور لوہے کی تجارت پر ان کی اجارہ داری نے چین کو دنیا کادولت مند ترین ملک بنا دیا تھا۔چاول کی اہم ترین فصل کی بھی دنیا بھر میں مانگ تھی اسی لئے وہاں دولت مندوں کا ایک طاقت ور طبقہ حکمرانوں کی صف میں شامل ہو چکا تھا ۔118قبل مسیح میں بھی 28ارب سکے گردش میں تھے، محنت مزدوری بھی انہی سکوں میں ادا کی جاتی تھی۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ قدیم چینی باشندے بھی معاشی ترقی کے رازوں سے واقف تھے۔اگر گزشتہ دو ہزار سال کے افراط زر کو شامل کر لیا جائے تو ہر سال جاری ہونے والے 28کروڑ سکوں کی مالیت اربوں ڈالر بنتی ہے۔ماہر معاشیات آگس میڈیسن کے مطابق 10صدی عیسوی میں چین کی فی کس جی ڈی پی 450ڈالرکے برابر تھی۔تاہم جوزف نیدھم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے چینیوں کو اس سے کہیں امیر قرار دیا ہے۔چین کی شہنشاہیت یورپ کی شہنشاہیت سے کہیں بہتر اور دولتمند سمجھی جاتی رہی ہے ۔زمانہ قدیم میں چین کی شہنشاہیت نے دنیا کی معیشت پر اپنا بڑا اثرقائم رکھا۔چین آج بھی ایک معاشی سپر پاور ہے۔یورپ میں آج چین کو جدید، ہائی ٹیک، اور ترقی یافتہ معیشت سمجھا جاتا ہے ۔ اس کے پیچھے ایک بڑی تاریخ ہے اور ماضی قدیم میں بھی چین کی معیشت دنیا بھر میں ٹاپ پر رہی تھی۔چینی تہذیب میں دیوار چین اور ممنوعہ شہر کا بہت اہم کردار ہے۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ چین کی ایمپائر کو مغرب سے مقابلے کے بعد کچھ عرصہ زوال کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ چین کئی صدیوں تک دنیا کا امیر ترین ملک رہا۔حتی کہ مغرب کے ساتھ دوستانہ تعلقات کے استوار کرنے کے بعد بھی دنیا کی تجارت پر چین کا کافی قبضہ رہا۔ستارہویں اور اٹھارویں صدی میں مغرب سے تعلقات استوار ہونے سے پہلے بھی چین کی شہنشاہیت ایک امیر اور دولت مند شہنشاہیت تھی۔مغرب کے ساتھ کمرشل تعلقات کو فروغ دینے کا مقصد یہ تھا کہ آنے والے سالوں میں چین کا دنیا کی معیشت پر اثر برقرار رکھا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس میں مغرب کے بھی مفادات شامل تھے۔مغرب کا مشرق کی ایک امیر ترین شہنشاہیت کے ساتھ بہتر روابط رکھنا ،کہ جب وہ اپنی سلطنت کے دائرہ کار کو بڑھا رہا تھا ، ایک ضروری قدم تھا۔ افیون کی جنگ نے چین کی معیشت کو بہت نقصان پہنچایا اور اس دور میں جب یہ جنگ لڑی گئی چین کئی سال پیچھے چلا گیا۔ تاہم سولہویں صدی کو چین کیلئے بہت خوش آئند کہا جاتا ہے جب وہ دنیا کی 25سے30 فیصد معیشت تھی۔شروع میں چین کی اشیا بہت مہنگی تھی لیکن اٹھارویں صدی میں ان کی قیمتیں گر گئیں۔ مثال کے طور پر پورسلین برطانیہ کے درمیانے درجے کے تاجروں کی پہنچ میں ہوگیا۔ چائے بھی ان میں سے ایک تھی جو امیر اور غریب کی پہنچ میں ہوگئی۔چین کیلئے چاندی کی تجارت بہت اہم تھی اور چاندی کی تجارت سے اس نے اپنی معیشت کو مضبوط کیاکیونکہ اس دور میں یورپ اپنی کالونیوں کو ایک نئی دنیا میں بدل رہا تھا۔غلاموں کو چاندی کی کانوں میں جھونکا جارہا تھا جس سے چاندی کی پیداوار میں اضافہ ہوا ، یہ چاندی چین کیلئے اہم تھی ۔ خاص طور پر جب چین کی ''منگ سلطنت ‘‘میں چاندی کا بہت استعمال ہوا کیونکہ یہ اس سلطنت کی پالیسی تھی۔اسی سلطنت نے پہلی مرتبہ سکوں کی جگہ کاغذ کی کرنسی متعارف کرائی۔لیکن یہ سکیم ناکام ہوگئی جس پر سلطنت کو چاندی کی ضرورت پڑی اور 1425میں چاندی کی کرنسی شروع کی گئی۔ پندرہویں اور اٹھارویں صدی میں دنیا کا بیشتر چاندی چین بھیجا جاتا تھا جبکہ اس کے متبادل کے طور پر چین کی اشیا یورپ میں آتی تھیں۔ ہسپانیہ کی چاندی بھی چینی ایمپائر کے لئے اہم تھی، اس کے سکوں کو ''بدھاز‘‘ کہا جاتا تھا۔سولہویں سے اٹھارویں صدی جو کہ ''ہائی قنگ دور ‘‘ کہلاتا ہے میں آبادی دگنی ہوگئی۔تاہم اس دوران مقامی مصنوعات اور پیداوار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔چینی ایمپائر کی معیشت کا زوال اٹھارویں صدی میں شروع ہوا جب یورپی طاقتوں نے محسوس کیا کہ چین کے ساتھ تجارت میں بہت خسارہ کما رہے ہیں۔آزاد تجارت کا نعرہ بلند ہوا۔یورپ کے تاجروں کو براہ راست چین میں اترنے کی اجازت نہیں تھی۔آزاد تجارت کو فروغ دینے کیلئے برطانیہ نے اپنا نمائندہ چین بھیجا۔ شہنشاہ چین کے پیدائش کے دن ملاقات کا اہتمام کیا گیا۔ تاہم معاہدہ نہ ہو سکا۔ معیشت میں تنزلی کی ایک اور وجہ افیون کی جنگ تھی۔یورپ کے تاجروں نے چین میں چاندی کی جگہ کسی اور متبادل چیز کو بھیجنے کا فیصلہ کیا جس کا حل یہ سوچا گیا کہ افیون چین بھیجی جائے۔ایسٹ انڈیا کمپنی جو کہ اس وقت ایک طاقت ور کمپنی تھی نے 1730میں افیون امپورٹ کرنا شروع کردیا۔افیون دوائوں اور تفریح کیلئے کئی صدیوں سے چین میں استعمال ہوتی آ رہی تھی۔لیکن اس کا مجرمانہ استعمال اٹھارویں صدی کے ابتدا میں ہوا۔ جس کی وجہ سے اس پر پابندی لگا دی گئی۔تاہم ایسٹ انڈیا کمپنی نے افیون کی امپورٹ جاری رکھی۔برطانیہ کے علاوہ امریکہ بھی چین میں افیون کی تجارت سے وابستہ تھا۔ 1830 تک افیون چین کے کلچر کاحصہ بن چکی تھی۔ سموکنگ شہروں میں تیزی سے پھیل چکی تھی۔ 1839میں بادشاہ ڈائوگوئنگ نے غیرملکی افیون کی امپورٹ پر پابندی لگا دی۔ برطانوی افیون کو بڑی مقدار میں ضائع کردیا گیا۔ جس کے بعد برطانوی جنگی بحری جہازوں اور چین کے درمیان افیون جنگ چھڑ گئی۔ برطانوی افواج جدید ہتھیاروں سے لیس تھی جس نے جلد ہی چین کے شہروں پر قبضہ کرلیا اور ایک اہم شہر چنکیانگ کو اپنے کنٹرول میں کرلیا۔جنگ میں کامیابی کے بعد برطانوی حکومت آزاد تجارت کی شرط عائد کرنے کے قابل ہوگئی۔1842میں نانکنگ معاہدہ پر دستخط ہوئے۔اس طرح پورٹ آزاد تجارت کیلئے کھول دیئے گئے۔افیون جنگ نے چین کی کمزور یوں کو آشکار کردیا جس سے مغربی افواج کی طاقت میں اضافہ ہوا۔آنے والے سالوں میں فرانس اور امریکہ نے بھی چین کے ساتھ اسی طرح کے معاہدے کئے۔چین اب بھی ایک آزاد ملک تھا لیکن اس کے بہت سے معاملات میں مغربی طاقتوں کا اثر و رسوخ بڑھ گیا۔ شنگھائی کے بہت سے حصوں پر غیرملکی طاقتوں کا اثر رسوخ ہوگیا اور اس کے کاروبار اور انتظامی امور کے مالک بن گئے۔ اس طرح 1856میں دوسری افیون جنگ چھڑ گئی۔اس میں بھی برطانوی اور فرانسیسی افواج نے کامیابی حاصل کی اور بیجنگ کو تخت و تاراج کیا گیا۔اس طرح چین کی تجارت پر غیرملکی اثر ورسوخ بڑھ گیا۔اس طرح چین کی معیشت کو کمزور کردیا گیا اور جو شہنشاہیت میں ایک دولت مند ملک تھا اسے جھکنے پر مجبور کردیا گیا۔

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

ملکہ نیل : دو دہائیوں تک قصر حکمرانی میں رہنے والی

مصر میں اپنے وقت کی مشہور اور خوبصورت ملکہ نیل نفرتیتی کا مقبرہ واقع ہے۔خوبصورت نقش و نگار اور اپنی لمبی صراحی دار گردن کی بدولت یہ ملکہ اپنے حسن کا ثانی نہیں رکھتی تھی اور مصر کے بازاروں میں سب جگہ اسی کے مجسمے پائے جاتے تھے۔ قلوپطرہ کے علاوہ بھی مصر کی ایک حسین ملکہ تھی۔ نام تو اس کا نفرتیتی تھا لیکن پیار سے لوگ اسے نیل کی ملکہ کہا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اس کو سرکاری طور پر اس کے شوہر اور بادشاہ وقت فرعون آخینا تن نے کوئی درجن بھر القابات سے نوازا ہوا تھا۔ وہ قدیم مصری حسن کا ایک شاہکار تھی۔ آج تک مصر میں جتنے بھی اس ملکہ کے مجسمے بنائے اور خریدے جاتے ہیں وہ شاید ہی کسی اور کے ہوں۔ تقریباً ہر مجسمے میں وہ اپنی بڑی بڑی آنکھوں، صراحی دار گردن اور لمبے سے تاج کے ساتھ بہت ہی منفرد نظر آتی ہے۔ اس نے اپنے شوہر کے پہلو میں کھڑے ہو کر دو دہائیوں تک مصر پر حکومت کی۔ اس دوران اس کے خاوند نے فرعونوں کے تاریخی دارالخلافہ تھبیس سے کوئی سو کلومیٹر آگے امرنا کے مقام پر اپنا نیا دارالخلافہ بنا لیااور خود بھی وہاں منتقل ہوگیا ۔وہاں جا کر اس نے نئے سرے سے اپنے محلات اور مندروں وغیرہ کی تعمیر شروع کروائی۔ نفرتیتی بھی اسی کے ساتھ ہی وہاں منتقل ہوئی اور کاروبار سلطنت چلانے میں اپنے شوہر کا خوب ساتھ نبھایا جودو سرے فرعونوں کے بر عکس حیرت انگیز طور پر صرف ایک خدا کو مانتا تھا ۔ ایک طبی تحقیق کے مطابق وہ ایک وبائی مرض کا شکار ہو کر محض چالیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوئی اور اپنی خوبصورتی کے علاوہ ذہانت اور عظمت کی بے شمار داستانیں مصریوں اور دنیا والوں کے لئے چھوڑ گئی۔حیرت انگیز طور پر اس کی موت کے بعد اس کا کوئی مقبرہ یا مدفن تاریخ دانوں کو نہ ملا۔ تاہم 1880ء میںامرنا کے رہائشیوں نے ایک بری طرح تباہ شدہ مقبرہ دریافت کیا جس پر تفصیلاً تحقیق کی گئی تو پتہ چلا کہ یہ مقبرہ اس کے شوہربادشاہ آخیناتن اور اس کی بیٹی کا تھا۔ ملکہ نفرتیتی کے مدفن کاپھر بھی علم نہ ہوسکا ۔ پھر اسی تحقیق کے دوران ڈرامائی طور پر بادشاہ کے اس مقبرے کے ساتھ بری طرح تباہ شدہ حالت میں ایک اورکمرہ دریافت ہو۔ا اس کو جب کھولا گیا تو اس میں سے تین خواتین کی ممیاں برآمد ہوئیں جس میں سے ایک بڑی عمر کی عورت اور دو نسبتاً جوان لڑکیوں کی تھیں۔ کافی بحث و مباحثے کے بعد ماہرین آثار قدیمہ نے یہ تسلیم کر لیا کہ بڑی عمر کی یہ خاتون ہی دراصل عظیم ملکہ نفرتیتی تھی۔

 میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

میانداد کاچھکا اور بشریٰ انصاری کا گیت

یہ 18 اپریل1986 کی بات ہے ، موسم بہار اور گرمی کے موسم کے درمیان خوشگوار دن چل رہے تھے۔ ان دنوں میں محلے کے چند گھروں میں ہی ٹی وی ہوا کرتا تھا۔ انٹینا کو ادھر ادھر گھما کر ٹی وی سکرین کلیئر کی جاتی تھی۔محلے کے ایک ہی گھر میں سب کرکٹ کے دیوانے جمع ہوجایا کرتے تھے۔ میزبان جو کہ خود بھی کرکٹ کا شوقین ہوتا تھا بھی خوش ہوتا تھا کہ اس کے گھر رونق لگی ہوئی ہے ۔شارجہ میں آسٹریلیشیا کپ کا پاکستان اور انڈیا کے درمیان فائنل میچ کھیلا جارہا تھا۔ میچ پر انڈیا کی مکمل گرفت تھی ، ہم سب نے زندگی کی سب سے زیادہ دعائیں اس دن مانگیں جب آخری اوور میں پاکستان کو جیت کیلئے 11رنز درکار تھے اور جاوید میانداد کریز پر موجود تھے۔ اس آخری ایک ہی اوور میں وسیم اکرم اور وکٹ کیپر ذوالقرنین آئوٹ ہوچکے تھے۔ توصیف احمدنے سنگل لے کر جاوید میانداد کو سٹرائیک دی۔ آخری گیند پر چار رنز درکار تھے ۔ جاوید میانداد چیتن شرما کا سامنا کررہے تھے۔کمنٹیٹر کی آواز گونجی۔۔۔''لاسٹ بال کمنگ اپ، فور رنز ریکوائرڈ، ہی ہٹ اے سکس اینڈ پاکستان ہیوو ون‘‘اور ہم سب خوشی سے اچھل پڑے۔ایک ناقابل یقین میچ جاوید میانداد نے پاکستان کی گود میں لاکر رکھ دیا تھا۔کہا جاتا ہے کہ پاکستان کی جیت کا اتنا جشن منایا گیا کہ شام تک شارجہ کی مٹھائی کی دکانیں ہر قسم کے میٹھے سے خالی ہو چکی تھیں۔یہ واقعہ کرکٹ کی تاریخ میں اس لئے بھی اچھوتا تھا کہ آج تک کسی بیٹسمین نے ون ڈے میں اس طرح آخری گیند پر چھکا مارکر میچ نہیں جتوایا تھا۔ 1986 میں ہونے والے آسٹریلیشیا کپ میں آسٹریلیا، انڈیا، نیوزی لینڈ، پاکستان اور سری لنکا کی ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔شارجہ کرکٹ سٹیڈیم میں کھیلے گئے اس فائنل میچ میں انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے245 رنز بنائے تھے اور پاکستان کو جیت کیلئے 246رنز کا ہدف دیا تویہ ایک بظاہر مشکل ٹارگٹ لگ رہا تھا۔ انڈیا کی طرف سے سنیل گواسکر ، دلیپ ونگسارکر اور کرس سری کانت نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا تھا۔ جواب میں بھارتی بائولرز نے عمدہ بائولنگ کرائی اور کسی بھی پاکستانی بیٹسمین کو ٹکنے نہ دیا سوائے جاوید میانداد کے کوئی بھی بلے باز قابل ذکر سکور نہ کرسکا۔ جاوید میانداد نے اس میچ میں 116رنز بنائے اور مین آف دی میچ رہے تھے ۔ حالانکہ چتن شرما نے اس میچ میں اچھی بائولنگ کرائی تھی اور تین کھلاڑیوں کو آئوٹ بھی کیا تھالیکن آخری گیند پر چھکا ان کے لئے بڑا برا ثابت ہوا جس نے زندگی بھر ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔چیتن شرما اب بھی کہتے ہیں کہ وہ چھکا آج بھی آسیب کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے، اور شاید اس وقت تک کرتا رہے گا، جب تک کہ میں زندہ ہوں۔میں اس کو بھلا دینا چاہتا ہوں لیکن لوگ نہیں چاہتے کہ میں اسے بھلاؤں اور آخر وہ بھلائیں بھی کیسے ؟ یہ مقابلہ بھی تو پاکستان کے خلاف تھا اور ہندوستان کا کوئی شخص پاکستان سے ہارنا نہیں چاہتا۔ایک مرتبہ چیتن نے کہا تھا کہ لوگوں کو ورلڈ کپ 1987ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف میری ہیٹ ٹرک یاد نہیں، انگلستان کے خلاف اسی کے ملک میں شاندار کارکردگی یاد نہیں، یاد ہے تو وہ صرف ایک گیند جو میں نے شارجہ میں جاوید میانداد کو پھینکی تھی۔ لوگ شاید یہ بات بھول جاتے ہیں کہ میں اس وقت 20 سال کا نوجوان تھا، جبکہ میرے سامنے جاوید میانداد جیسے پائے کا بلے باز تھا، مجھ سے غلطی ہوئی اور انہوں نے اس کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔جاوید میانداد نے اپنی سوانح حیات'' کٹنگ ایج‘‘ میں اس میچ کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔میانداد نے تسلیم کیا کہ متواتر وکٹیں گرنے کے سبب وہ ایک مرحلے پر یقین کر چکے تھے کہ پاکستان کے جیتنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔میانداد لکھتے ہیں کہ جب عمران خان آؤٹ ہوئے تو انھوں نے سوچ لیا تھا کہ پاکستان کے جیتنے کی اب کوئی امید نہیں بچی اور اس وقت وہ ہارا ہوا میچ کھیل رہے تھے اور کوشش کر رہے تھے کہ پورے 50 اوورز تک کھیل کر شکست کا مارجن کم سے کم کر سکیں۔میانداد کہتے ہیں جب 48 واں اوور شروع ہوا تو اس وقت انھیں پہلی بار یہ احساس ہوا کہ پاکستان یہ میچ جیت سکتا ہے۔پاکستان کو آخری تین اوورز یعنی 18 گیندوں پر 31 رنز درکار تھے۔جاوید میانداد کا کہنا تھا کہ ''عقلمند بلے باز ہمیشہ بائولر کا دماغ پڑھنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ کیا کرے گا۔‘‘'مجھے پتا تھا کہ آخری گیند پر چیتن شرما یارکر کی کوشش کریں گے لہٰذا میں کریز سے تھوڑا سا آگے آکر کھڑا ہو گیا تھا تاکہ اگر وہ یارکر کرتے ہیں تو میں پیچھے ہٹ کر کھیل سکوں۔خوش قسمتی سے گیند پورے ریڈار پر آئی اور میں نے شارٹ کھیل دیا۔ گیند فل ٹاس تھی اور میری مڈ آن اور مڈوکٹ کے درمیان شارٹس لگ بھی رہی تھیں، اس لئے میں نے سوچا تھا کہ اسی ایریا میں شارٹ کھیلوں گا‘‘۔چیتن شرما نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ کہا کہ یہ ان کی بدقسمتی تھی کہ وہ جو گیند کرنا چاہتے تھے وہ نہ ہو سکی۔ میری بدقسمتی کہ وہ گیند فل ٹاس ہو گئی۔چیتن شرما یہ تسلیم کرتے ہیں کہ انھوں نے آخری گیند کرنے سے قبل اپنا ذہن تبدیل کیا تھا کہ انھیں شارٹ پچ گیند کرنی چاہیے۔ آخری لمحے میں بائولر کے لیے ذہن تبدیل کرنا صحیح نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس وقت بہت ہی کم ہوتا ہے۔چیتن شرما کا کہنا تھا کہ اس مرحلے پر وہ بہت زیادہ خوفزدہ تھے کیونکہ وہ اپنے ملک کے لیے یہ میچ ہارنا نہیں چاہتے تھے۔ انڈیا کے عظیم بلے باز سنیل گواسکر کہتے ہیں کہ اس آخری گیند پر چیتن شرما کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں ہے۔کریڈٹ جاوید میانداد کو جاتا ہے جنھوں نے انتہائی ذہانت سے وہ اننگز اور خاص کر آخری گیند کھیلی تھی۔جاوید میانداد نے جس بیٹ سے تاریخی چھکا لگایا وہ انھوں نے شارجہ کرکٹ کے روح رواں عبدالرحمن بخاطر کو تحفے میں دے دیا تھا۔تاہم جب ٹورنامنٹ کا آفیشل ڈنر ہوا تو اس یادگار بیٹ کو نیلام کرنے کا اعلان ہوا اور اسی وقت اس کا خریدار مل گیا ۔اس چھکے کے بعد جاوید میانداد کو ہر جانب سے قیمتی انعامات بھی ملے جن میں مرسڈیز کار بھی شامل تھی۔اس یادگار چھکے کے حوالے سے انور مقصود کا لکھا گیت جب بشریٰ انصاری نے پیروڈی میں گایا تو اس کی دھوم مچ گئی۔ بول تھے ''ایک چھکے کے جاوید کو سولاکھ ملیں گے، توصیف بچارے کو درھم آٹھ ملیں گے‘‘۔توصیف احمد نے بتایا کہ مجھے آٹھ درہم تو نہیں ملے لیکن اس گیت کے بعد انکم ٹیکس والے میرے گھر پہنچ گئے ۔جاوید میانداد کا بھی کہنا تھا کہ انہیں سو لاکھ نہیں ملے تھے اس دور میں کرکٹ میں اتنا پیسہ نہیں تھا۔