یوکرائن جنگ کے دہانے پر ،روس کے ساتھ گزشتہ لڑائی کے دوران 14 ہزار افراد مارے گئے تھے

یوکرائن جنگ کے دہانے پر ،روس کے ساتھ گزشتہ لڑائی کے دوران 14 ہزار افراد مارے گئے تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر چغتائی


روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا سا سماں ہے ۔
یوکرائن کے مشرقی علاقے ''ڈونباس‘‘ میں روسی حمایت یافتہ باغیوں اور یوکرینی فوج کے درمیان جھڑپیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ متنازعہ علاقے میں دو پڑوسیوں کے درمیان سالوں سے چلی آئی ہلکی پھلکی لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے، برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ ''روسی افواج کی نقل و حمل جارحانہ ہونے کے باعث جنگ دنوں کی بات ہے، برطانوی فوج بھی ہائی الرٹ ہے‘‘۔گزشتہ کئی ماہ سے روس یوکرائن کے مشرقی علاقے کے ساتھ سرحد پر اپنی فوجی تعداد بڑھاتا جا رہا ہے۔ 2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس سرحد پر روس کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رس نے ''BUK‘‘ نامی میزائل بھی بھجوا دیئے ہیں یہ وہی میزائل ہیں جن کی مدد سے روس نے ملیشیاء کا بوئنگ طیاری مار گرایا تھا۔ امریکہ کئی ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جہاں ٹرینوں اور گاڑیوں میں بھاری اسلحہ بھر کر اس سرحد تک پہنچایا جا رہا ہے،بی ون لڑاکا طیاروں نے بھی روسی علاقے میں ،مگر یوکرائن کی سرحد کے قریب پروازیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے بعد سے تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔جلتی پر تیل کا کام یوکراینی صدر کے دونباس کے حالیہ دورے نے کیا۔ جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت جلد ہو جائے گی اور اس علاقے میں امن آجائے گا، کیونکہ اس جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ یہی کہ یوکرائن نیٹو کا حصہ بن جائے گا۔ جس پر روس کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ ذاخروف نے کہا کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت علاقے میں امن نہیں بلکہ کشیدگی کو مزید ہوا دے گی۔ جو کہ ایک بڑی جنگ کی صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ اور ان حالات میں یوکرائن کی سالمیت کو شدید خطرہ ہوگا۔حالیہ ہفتوں میں اس متنازعہ علاقہ میں روس کے حمایت یافتہ باغیوں اور یوکرینی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی تیز ہوئیں، گزشتہ چند دنوں میں 25 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
جب اس فوجی نقل و حرکت پر جرمن چانسلر اینجلہ مرکل نے روسی صدر سے فون پر رابطہ کیا تو انہوںنے کہا کہ '' روس اپنے ملک میں اپنی فوج کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بھیجنے میں آزاد ہے ‘‘۔اینجلہ مرکل کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
مغربی میڈیا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ''مغربی دنیا کی خالی خولی باتیں روس کو ڈرا نہیں سکتیں۔مغرب زیادہ سے زیادہ اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے لیکن 2014ء میں لگنے والی پابندیوں کا تاحال روس پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘‘۔
روسی پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے روسیوں کی نسل کشی کے حوالے سے کہا کہ '' یہاں بوسنیا (خاص طور پر گائوںسرے برینکا)جیسی نسل کشی کا خدشہ ہے، اس صورت میں روسی مداخلت ناگزیر ہو جائے گی ‘‘ ۔روسی صدر پیوٹن کے مشیر دیمتری کا کہنا ہے کہ روس ہر صورت اپنے شہریوں کے دفاع کیلئے مداخلت کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ 'یوکرائن کے خاتمے‘‘ کا آغاز ہوگا اور گولی ٹانگ پر نہیں بلکہ سیدھا چہرے پر ماری جائے گی۔ روس نے پہلی بار تسلیم کر لیا کہ اس چھوٹے سے ایک گائوں میں 1995ء میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان ذبح کر دیئے گئے تھے۔
بلوم برگ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں کہا کہ ''روس شائد نئے امریکی صدر کے اعصاب ٹسٹ کرنا چاہتا ہے،یا پھر وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں روس یوکرائن کے بارے میں مزید سخت موقف اختیار کرنے والاہے‘‘۔ ادھر سینئر یوکراینی فوجی افسر کا بھی کہنا ہے کہ '' روس فوج کی نقل و حمل توقع سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا مقصد بظاہر جنگ کے سوا کچھ نہیں‘‘۔انہوںنے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر روسی صدر نے حملے کاحکم جاری کیا تو یہ مئی کے وسط میں ہو سکتا ہے۔فی الحال روسی صدر نے یوکرائن کے مشرقی ساحل پربحریہ کو تیار کو ریڈ الرٹ کر دیا ہے۔ فوجی نقل حرکت سے یوکرائن کا دارالحکومت کیف بھی ان کے نشانے پر آ گیا ہے۔یوکرائن اسلئے بھی خوفزدہ ہے کہ روس نے2008ء میں جارجیا پر بھی اسی انداز میں دھاوا بول دیا تھا۔جریدے ''فارن پالیسی‘‘ نے لکھا ہے کہ عالمی تنازعات پر نظر رکھنے والی ٹیم کے مطابق '' روس نے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ یوکرائن کی سرحد سے 155 میل اپنی سرحد پر پہنچا دیا ہے، فوج کا ایک حصہ روسی شہر ''وورونخیف (Voronezh) میں مقیم ہے۔لہٰذا فوری حملے اور قبضے کا اندیشہ نہیں ہے۔مغربی ممالک کے پاس ابھی وقت ہے۔
اس تنازعے کی تاریخ کیا ہے؟
یوکرائن اور روس کے درمیان یہ تنازعہ مارچ 2014 میں شدت اختیار کر گیا جب یوکرائن کے خطے کریمیا میں روس نے اپنے حمایت یافتہ باغیوں کی مدد سے قبضہ کر لیا تھا ۔ اس سات سالہ کشیدگی کے دوران 13، 14 ہزار افراد مارے گئے تھے۔ یوکرائن کو تب ہی سے خوف لاحق ہے کہ کہیں کریمیا جیسا سانحہ پھر رونما نہ ہو جائے اور مشرقی علاقہ بھی ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے۔اس واقعے کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے روس پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ بعدازاں یوکرائن میں صدر زیلینسکی نے اقتدار میں آتے ہی قیام امن کیلئے کوششیں تیز کیں، اور 2020 میں دونوں ممالک کے درمیان امن اور جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ، لیکن تب ہی سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں ۔یوکرائن، مغربی ممالک اور نیٹو کا ماننا ہے کہ روس ان باغیوں کی فوجی مدد کر رہا ہے ، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ ادھر اگر کوئی فوجی ہیں بھی تو وہ رضاکار ہیں۔
کشیدگی اچانک کیوں بڑھ گئی ؟
روس کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ یوکراینی صدر زیلنسکی نے سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے روسی کی حمایت سے چلنے والے تین ٹی وی سٹیشنوں کی بندش کا حکم دے دیا۔ انہوںنے روس نواز رہنماء میڈووچک (Medvedchuk) کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دے دیا ۔ روس میں زیلنسکی کو جارجیا کے سابق صدر میخائل ساکاشولی (Saakashvili) جیسا لیڈر سمجھا جا رہا ہے، جن کے دور میں روس نے جارجیا پر حملہ کر دیا تھا۔
2015ء میں ختم ہونے والی جنگ سات سال لڑی گئی تھی۔جس سے یوکرائن کی معیشت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔
دنیا کیا کر رہی ہے؟
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین پساکی کا کہنا تھا 2014 میں اس تنازع کے آغاز کے بعد سے روسی سرحد پر فی الوقت فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، اور امریکہ اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے،انھوں نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ یوکرائن میں روسی فوجیوں کی موجودگی کے پیش نظر امریکہ اپنے جنگی جہاز یوکرائن کی مدد کیلئے بھیج سکتا ہے۔ اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ ' ' امریکہ نے اپنے دو جہاز (تباہ کن آبدوزیں )ممکنہ میدان جنگ کی جانب روانہ کر دی ہیں۔ اس ضمن میں ترکی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے ۔ 1936میں ہونے والے ایک معاہدے کی رو سے امریکہ ترکی کی سمندری حدود سے گزرنے کے لئے اسے 15دن کا پیشگی نوٹس دینے کا پابند ہے، جو دے دیا گیا ہے۔اس نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے روس نے کہا ہے کہ '' اگر امریکی فوج نے کسی قسم کی غیر دوستانہ پیش قدمی کی تو روس ا س کاجواب دے گا‘‘۔امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ''وہ تمام روسی کارروائی پر جاسوسی نظام کی مدد سے نظر رکھے ہوئے ہے‘‘۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ''وہ اس علاقے میں میزائل شکن نظام‘‘ پہنچا دے گا تاکہ یوکرائن پر حملے کو ناکام بنایا جا سکے‘‘۔جو بائیڈن انتظامیہ نے دنیا بھر کے رہنمائوں سے رابطہ بھی قائم کر لیا ہے، جلد ہی کسی مشترکہ حکمت عملی کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے روس سے بھی پیش قدمی پر ''وضاحت ‘‘ مانگ لی ہے جس کا روس نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ برطانیہ کے فوجی کمانڈروں نے بھی فوج کو ہائی الرٹ کردیا ہے کہ کسی بھی لمحے جنگ چھڑ سکتی ہے ، اور روس بڑا حملہ کر سکتا ہے۔جس کیلئے تیار رہنا ہوگا۔
روس اور یوکرائن کی دفاعی صلاحیتیں ؟
مغربی میڈیا کے مطابق یوکرائن اپنے موجودہ دفاعی آلات کیساتھ روس سے کسی صورت جنگ نہیں لڑ سکتا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 1991 کے بعد سے یوکرائن نے اپنی فضائیہ میں کسی نئے جنگی طیارے کا اضافہ نہیں کیا، جس میں سرد جنگ کے زمانے کے ہی کل 125 جہاز موجود ہیں، اور ملک کا فقط 30کروڑ ڈالر کا دفاعی بجٹ ہے ۔ اس کے برعکس روس کے جدید جنگی ہتھیار چند ہی منٹوں میں یوکرائن کے جہازوں کا صفایا کر سکتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوکرائن 'ڈرونز'کے ذریعے وہ روس کے ٹینکوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرائن کے پاس متبادل اور کوئی دفاعی ٹیکنالوجی نظر نہیں آتی۔غیر ملکی جریدے فوربس نے لکھا ہے کہ ''روس ڈرونز کو ناکام بنانے کے لئے ریڈیو لنکس کو جام کر سکتا ہے‘‘۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت کا ارتقا… 12 اہم سنگِ میل

مصنوعی ذہانت ( AI) اکیسویں صدی کی اہم ترین ٹیکنالوجیز میں شمار ہوتی ہے۔ آج یہ ٹیکنالوجی انسانوں کے سوالات کے جواب دینے، تصاویر بنانے، زبانوں کا ترجمہ کرنے، بیماریوں کی تشخیص میں معاونت فراہم کرنے اور پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ تاہم مصنوعی ذہانت کا یہ سفر چند سالوں کی کہانی نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سائنسی تحقیق، تجربات، ناکامیوں اور کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔اس سفر میں بارہ ایسے اہم مراحل آئے جنہوں نے AI کی ترقی کو نئی سمت دی۔ ابتدائی تصورات سے عملی مصنوعی ذہانت تکمصنوعی ذہانت کی تاریخ میں پہلا اہم سنگِ میل 1950ء میں آیا جب برطانوی ریاضی دان اور کمپیوٹر سائنسدان ایلن ٹیورنگ نے اپنے مقالے میں یہ سوال اٹھایا کہ کیا مشینیں سوچ سکتی ہیں؟ انہوں نے ایک تجربہ کیا جسے بعد میں ''ٹیورنگ ٹیسٹ‘‘ کہا گیا۔ اس تصور کے مطابق اگر کوئی مشین گفتگو کے دوران انسان کی طرح جواب دے اور مبصر قابلِ اعتماد طریقے سے مشین اور انسان میں فرق نہ کر سکے تو اسے ذہانت کی ایک اہم علامت سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے چھ سال بعد، 1956ء میں امریکہ کے ڈارٹ ماؤتھ کالج میں محققین کا ایک اہم اجتماع منعقد ہوا۔ اسی موقع پر ''مصنوعی ذہانت‘‘ کی اصطلاح کو باقاعدہ سائنسی تحقیق کے میدان کے طور پر متعارف کرانے میں اہم پیش رفت ہوئی۔ جان میکارتھی، مارون منسکی اور دیگر محققین نے اس پر غور کیا کہ مشینوں کو سیکھنے، مسائل حل کرنے اور انسانی ذہانت کے بعض پہلوؤں کی نقل کرنے کے قابل کیسے بنایا جا سکتا ہے۔1966ء میں جوزف وائزن بام نے ELIZA نامی پروگرام متعارف کرایا جو ابتدائی چیٹ بوٹس میں سے ایک تھا۔ یہ پروگرام صارف کے الفاظ میں مخصوص اشارے تلاش کرکے پہلے سے طے شدہ جوابات دیتا تھا۔ اگرچہ اس کی صلاحیتیں محدود تھیں لیکن اس نے دکھایا کہ کمپیوٹر کے ساتھ بامعنی محسوس ہونے والی گفتگو ممکن ہے۔ ناکامیوں سے مشین لرننگ تک 1974ء سے 1980ء کے درمیان AI کے شعبے کو پہلی بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ محققین کے بلند دعوؤں کے باوجود کمپیوٹر اس دور میں متوقع نتائج فراہم نہیں کر پا رہے تھے نتیجتاً حکومتوں اور تحقیقی اداروں نے مالی معاونت کم کر دی۔ اس مرحلے کو ''AI winter‘‘ کہا جاتا ہے۔تاہم تحقیق مکمل طور پر بند نہیں ہوئی۔ 1980ء کے آس پاس Expert Systems نے کاروباری دنیا میں توجہ حاصل کی۔ یہ ایسے کمپیوٹر پروگرام تھے جو مخصوص شعبوں کے قواعد اور ماہرین کے علم کی بنیاد پر فیصلے کرنے میں مدد دیتے تھے۔ کارنیگی میلن یونیورسٹی میں تیار کردہ R1 سسٹم نے صنعتی استعمال کے امکانات نمایاں کیے۔1986ء میں مشین لرننگ کی ترقی کے لیے ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی، اس کے باوجود 1987ء سے 1993ء کے درمیان مصنوعی ذہانت کو ایک بار پھر مالی اور صنعتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایکسپرٹ سسٹمز کی کمزورویوں اور مہنگے ہارڈویئر نے سرمایہ کاروں کی دلچسپی کم کر دی۔ یہ دوسرا AI Winter تھا جس نے واضح کیا کہ محض بلند توقعات کافی نہیں؛ ٹیکنالوجی کو قابلِ اعتماد اور عملی طور پر مفید بھی ہونا چاہیے۔ ڈیپ لرننگ سے جدید AI تک 1997ء میں IBM کے شطرنج کھیلنے والے کمپیوٹر Deep Blue نے عالمی چیمپئن گیری کاسپاروف کو چھ مقابلوں کی سیریز میں شکست دے کر تاریخ رقم کی۔ اس کامیابی نے دنیا کو دکھایا کہ کمپیوٹر انتہائی پیچیدہ کھیل میں بھی عالمی سطح کے انسانی کھلاڑی کو مات دے سکتا ہے۔ اگرچہ یہ نظام مخصوص قواعد اور حسابی صلاحیتوں پر انحصار کرتا تھا لیکن اس نے مصنوعی ذہانت کی عملی قوت کو نمایاں کیا۔2012ء میںAlexNet نامی ڈیپ لرننگ ماڈل نے تصاویر کی شناخت کے مقابلے میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ اس کامیابی میں گرافکس پروسیسنگ یونٹس (GPUs) کا اہم کردار تھا۔ اس پیش رفت نے ڈیپ لرننگ کو عملی میدان میں آگے بڑھایا اور تصویر شناسی، آواز کی شناخت اور دیگر شعبوں میں نئی راہیں کھولیں۔2016ء میں گوگل ڈیپ مائنڈ کے نظام AlphaGoنے جنوبی کوریا کے ممتاز کھلاڑی لی سیڈول کو قدیم چینی کھیل ''گو‘‘ میں شکست دی۔ اس کھیل میں ممکنہ چالوں کی تعداد شطرنج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔ AlphaGo کی کامیابی نے ظاہر کیا کہ مشینیں سیکھنے، حکمتِ عملی بنانے اور پیچیدہ فیصلے کرنے کے ایسے طریقے اپنا سکتی ہیں جو پہلے ناقابلِ تصور سمجھے جاتے تھے۔2017ء میں ٹرانسفارمر (Transformer) نامی نیورل نیٹ ورک آرکیٹیکچر متعارف ہوا۔ اس نے زبان کے مختلف حصوں کے درمیان تعلقات سمجھنے اور بڑے متنی ڈیٹا سے سیکھنے کے طریقوں میں اہم تبدیلی پیدا کی۔ بعد میں یہی طرزِ تعمیر متعدد جدید زبان ماڈلز کی بنیاد بنا۔ چیٹ جی پی ٹی اور مصنوعی ذہانت کا مستقبلنومبر 2022ء میں ChatGPT کی لانچنگ نے مصنوعی ذہانت کو عام لوگوں کی زندگیوں کا حصہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔اس تبدیلی نے تعلیم، کاروبار، صحافت، طب اور سافٹ ویئر کی تیاری سمیت متعدد شعبوں میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ کا بنیادی سبق یہ ہے کہ سائنسی ترقی ایک سیدھا راستہ اختیار نہیں کرتی۔ ایلن ٹیورنگ کے ابتدائی سوال سے لے کر ٹرانسفارمر ماڈلز اور ChatGPT تک ہر پیش رفت نے اگلی نسل کی ٹیکنالوجی کے لیے بنیاد فراہم کی۔ مستقبل میں AI کی کامیابی کا انحصار صرف اس کی رفتار یا ذہانت پر نہیں بلکہ اس بات پر بھی ہوگا کہ اسے کتنی ذمہ داری، شفافیت اور انسانی فلاح کے اصولوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

 28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

28 اکتوبر …ورلڈ اینی میشن ڈے

تخیل، فن اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کا عالمی دندنیا میں بعض فنون ایسے ہیں جو زبان، رنگ و نسل اور جغرافیائی سرحدوں کی پابندیوں سے آزاد ہو کر انسانی ذہنوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ اینیمیشن بھی ایسا ہی ایک فن ہے جو بے جان تصاویر کو حرکت، خیالات کو کردار اور تخیل کو ایک ایسی بصری حقیقت میں تبدیل کر دیتا ہے جسے بچے، نوجوان اور بڑے یکساں دلچسپی سے دیکھتے ہیں۔ کارٹون فلموں سے لے کر جدید سنیما، ویڈیو گیمز، تعلیمی پروگراموں، اشتہارات اور ڈیجیٹل میڈیا تک اینیمیشن نے انسانی زندگی کے متعدد شعبوں میں اپنی اہمیت منوا لی ہے۔ اسی فن کی تاریخی خدمات، تخلیقی امکانات اور مستقبل کے امکانات کو اجاگر کرنے کے لیے ہر سال 28 اکتوبر کو International Animation Day منایا جاتا ہے۔یہ محض تفریحی فلموں اور کارٹون کرداروں کا جشن نہیں بلکہ ان فنکاروں، مصوروں، ہدایت کاروں، تکنیکی ماہرین اور تخلیق کاروں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی ہے جن کی محنت سے تصاویر حرکت کرتی، کہانیاں جنم لیتی اور پیچیدہ خیالات لوگوں کیلئے قابلِ فہم بنتے ہیں۔تاریخی پس منظرانٹر نیشنل اینیمیشن ڈے کی تاریخ انیسویں صدی کے آخری عشرے سے جڑی ہوئی ہے۔ 28 اکتوبر 1892ء کو فرانسیسی موجد اور فنکار ایمیل ریناؤڈ (Émile Reynaud) نے پیرس کے گریوین میوزیم میں اپنے ایجاد کردہ آلے تھیٹر آپٹیک (Theatre Optique) کے ذریعے متحرک تصاویر کی ایک نمائش پیش کی۔ اس واقعے کو اینیمیشن کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل تصور کیا جاتا ہے۔ ریناؤڈ کے اس آلے میں ہاتھ سے تیار کردہ تصاویر کو ایک مخصوص طریقے سے ترتیب دے کر روشنی، آئینوں اور پروجیکشن کی مدد سے پردے پر دکھایا جاتا تھا۔ تصاویر کو تیزی سے یکے بعد دیگرے پیش کرنے سے دیکھنے والوں کو حرکت کا احساس ہوتا تھا۔ اس زمانے میں نہ تو کمپیوٹر تھے اور نہ ڈیجیٹل کیمرے لیکن انسانی تخیل اور سائنسی تجربے نے ایسی بصری تفریح کی بنیاد رکھ دی جو آنے والی صدیوں میں ایک وسیع صنعت کی شکل اختیار کرنے والی تھی۔ریناؤڈ کی یہ کاوش اس لیے بھی اہم تھی کہ اس نے متحرک تصاویر کو محض ایک تکنیکی تجربے کے بجائے عوامی تفریح اور کہانی سنانے کے مؤثر وسیلے کے طور پر پیش کیا۔ یہی تصور آگے چل کر اینیمیٹڈ فلموں، کارٹون سیریز اور جدید ڈیجیٹل تخلیقات کی ترقی میں اہم ثابت ہوا۔انٹرنیشنل اینیمیٹڈ فلم ایسوسی ایشن(ASIFA) نے 2002ء میں 28 اکتوبر کو اینیمیشن ڈے کے طور پر منانے کا آغاز کیا۔ اس کا بنیادی مقصد اینیمیشن کے فن کو دنیا بھر میں فروغ دینا، مختلف ممالک کے فنکاروں کے درمیان تعاون بڑھانا اور عوام کو اس فن کی تاریخ اور امکانات سے روشناس کرانا تھا۔ اس کے بعد یہ دن نمائشوں، فلمی پروگراموں، ورکشاپس اور دیگر تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے منایا جانے لگا۔اینیمیشن کیا ہے؟اینیمیشن دراصل ایسا تخلیقی عمل ہے جس میں تصاویر، اشکال، کرداروں یا اشیا کو اس انداز میں یکے بعد دیگرے دکھایا جاتا ہے کہ وہ حرکت کرتے ہوئے محسوس ہوں۔ روایتی اینیمیشن میں ہر منظر ہاتھ سے بنایا جاتا تھا جبکہ جدید دور میں کمپیوٹر سافٹ ویئر، 3D ماڈلنگ اور ڈیجیٹل تکنیکوں نے اس عمل کو زیادہ متنوع اور مؤثر بنا دیا ہے۔اینیمیشن کی مختلف اقسام میں2D اینیمیشن، 3Dاینیمیشن، سٹاپ موشن، کٹھ پتلیوں کی مدد سے تیار کردہ متحرک فلمیں اور کمپیوٹر سے تخلیق کردہ مناظر شامل ہیں۔ ہر طریقے کی اپنی خصوصیات اور تخلیقی امکانات ہیں۔آج کسی فلم میں خیالی دنیا کی تخلیق، کسی اشتہار میں مصنوعات کی خصوصیات کی وضاحت، کسی تعلیمی ویڈیو میں انسانی جسم کے پیچیدہ نظام کی تشریح یا کسی ویڈیو گیم میں حقیقت سے قریب کرداروں کی حرکت، یہ سب اینیمیشن کے مختلف استعمال ہیں۔ اس طرح اینیمیشن فن اور سائنس کے درمیان ایک مضبوط رابطہ قائم کرتی ہے۔ تعلیم اور آگاہی میں کرداراینیمیشن کی مقبولیت کا سب سے نمایاں پہلو یہ ہے کہ یہ مشکل معلومات کو آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کر سکتی ہے۔ بچوں کے لیے بنائے جانے والے تعلیمی پروگراموں میں حروفِ تہجی، اعداد، سائنسی تصورات، اخلاقی اقدار اور سماجی رویوں کو کہانیوں اور کرداروں کے ذریعے سمجھایا جاتا ہے۔اسی طرح طبی تعلیم میں انسانی جسم کے اندرونی نظام، انجینئرنگ میں مشینوں کے طریقہ کار اور سائنس میں ایسے مظاہر کی وضاحت کے لیے اینیمیشن استعمال ہوتی ہے جنہیں براہِ راست دیکھنا مشکل ہوتا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، ماحولیاتی آلودگی، قدرتی آفات اور صحتِ جیسے موضوعات پر آگاہی پیدا کرنے میں بھی متحرک تصاویر مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔اینیمیشن کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے سمجھنے کے لیے کسی مخصوص زبان پر مکمل عبور ضروری نہیں۔ مناسب بصری علامتوں، کرداروں اور مناظر کے ذریعے مختلف زبانیں بولنے والے افراد تک بھی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے عالمی رابطے اور ثقافتی تبادلے کا مؤثر ذریعہ بناتی ہے۔اینیمیشن میں مہارت حاصل کرنے اور اسے بطور پیشہ اپنانے کے لیے آپ کو چند سافٹ ویئرز سیکھنے ہوں گے جیسا کہ 3D اینیمیشن اور ماڈلنگ کے لیےAutodesk Maya؍Blender (بلینڈر بالکل مفت ہے)۔ موشن گرافکس اور وی ایف ایکس کے لیےAdobe After Effects اور2Dکارٹون اور اینیمیشن کے لیے Adobe Animate ؍Toon Boom Harmony۔

آج کا دن

آج کا دن

ہارورڈ کالج کا قیام28 اکتوبر 1636ء کو امریکی ریاست میساچوسٹس کی نوآبادیاتی اسمبلی نے ایک تعلیمی ادارے کے قیام کے لیے مالی وسائل مختص کیے جس سے ہارورڈ کالج کی بنیاد پڑی۔ یہ ادارہ بعد میں ہارورڈ یونیورسٹی کے نام سے دنیا بھر میں مشہور ہوا۔ہارورڈ کے قیام کا بنیادی مقصد ایسے افراد تیار کرنا تھا جو مذہبی، تعلیمی اور سماجی ذمہ داریاں ادا کر سکیں۔ 1638ء میں جان ہارورڈ نامی ایک مذہبی رہنما نے اپنے اثاثوں اور کتابوں کا ایک اہم حصہ اس ادارے کے لیے وقف کیا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں ادارے کا نام ہارورڈ رکھا گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ کالج ایک بڑی یونیورسٹی میں تبدیل ہوا اور سائنس، طب، قانون، سیاست، معاشیات اور ادب سمیت متعدد شعبوں میں نمایاں مقام حاصل کیا۔آزادی کے مجسمے کا افتتاح28 اکتوبر 1886ء کو امریکہ کے صدر گروور کلیولینڈنے نیویارک میں آزادی کے مجسمے(Statue of Liberty)کا باضابطہ افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ فرانس کی طرف سے امریکہ کو تحفے کے طور پر پیش کیا گیا تھا جس کا مقصد آزادی، جمہوریت اور دوستی کے مشترکہ اصولوں کو اجاگر کرنا تھا۔Liberty Enlightening the World کے عنوان سے یہ یادگار دنیا بھر میں آزادی اور انسانی وقار کی علامت بن گئی۔ اس کی تعمیر فرانسیسی مجسمہ ساز فریڈرک آؤگست بارتھولدی نے کی جبکہ اس کا ڈھانچہ مشہور انجینئر ایفل (Eiffel) نے تیار کیا۔ وقت کے ساتھ یہ امریکہ کی قومی پہچان بن گئی۔ 1984 ء میں اقوام متحدہ نے اسے عالمی ورثہ قرار دیا۔مارچ آن روم 28 اکتوبر 1922ء کو فاشسٹ رہنما بینیٹو مسولینی نے اپنی پارٹی کے ہزاروں کارکنان کے ہمراہ اٹلی کے دارالحکومت روم کی طرف مارچ کیا۔ یہ مظاہرہ حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے تھا جس کے نتیجے میں بادشاہ وکٹر ایمینوئل سوم نے حکومت برطرف کر کے مسولینی کو وزیراعظم مقرر کر دیا۔ یہ دن اٹلی میں فاشزم کے آغاز کاثابت ہوا جس نے آنے والے برسوں میں یورپ کی سیاست پر گہرے اثرات ڈالے۔ مسولینی کی آمرانہ حکومت نے اٹلی کو نازی جرمنی کے قریب کیا اور بالآخر ملک دوسری جنگِ عظیم میں شامل ہو گیا۔ ''مارچ آن روم ‘‘کو آج بھی انتہا پسند سیاست کے ابھرنے کی ایک علامت سمجھا جاتا ہے جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ کس طرح جمہوری نظام کمزور قیادت کے باعث آمریت میں بدل سکتا ہے۔کیوبا میزائل بحران کاخاتمہ28 اکتوبر 1962ء کو سوویت رہنما نکیتا خروشیف نے اعلان کیا کہ سوویت یونین کیوبا میں نصب کیے گئے میزائل واپس لے گا۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی کیوبن میزائل بحران ختم ہوا، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے قریب لے آیا تھا۔ بحران اس وقت شروع ہوا جب امریکہ نے کیوبا میں سوویت بیلسٹک میزائل تنصیبات کا سراغ لگایا۔ صدر جان ایف کینیڈی نے بحری ناکہ بندی کا حکم دیا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ 13 دن تک دنیا بھر میں خوف و ہراس کا عالم رہا۔ بالآخر خفیہ مذاکرات کے ذریعے معاہدہ طے پایا کہ سوویت یونین کیوبا سے میزائل ہٹائے گا اور امریکہ ترکی سے اپنے میزائل واپس لے گا۔ یہ بحران سرد جنگ کے دوران سفارتی فہم و فراست کی ایک کامیاب مثال بن گیا ۔جس نے عالمی سطح پر ایٹمی پالیسیوں پر گہرے اثرات ڈالے۔انڈونیشیا کا یومِ نوجوانان28 اکتوبر 1928ء کو انڈونیشیا کے نوجوانوں نے جکارتہ میں منعقدہ یوتھ کانگرس میں ایک تاریخی عہد کیا جسے (Sumpah Pemuda) یعنی ''نوجوانوں کا عہد‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس عہد میں نوجوانوں نے اعلان کیا کہ ہم ایک قوم، ایک وطن اور ایک زبان رکھتے ہیں ۔اس اتحاد نے انڈونیشیا کی قومی تحریک کو نئی جان بخشی۔ اُس وقت ملک ڈچ نوآبادیاتی تسلط میں تھا مگر نوجوانوں کے اس اتحاد نے آزادی کی راہ ہموار کی۔ یہی نظریہ بعد ازاں 1945 ء میں آزادی کے اعلان کی بنیاد بنا۔ آج بھی 28 اکتوبر کو انڈونیشیا میں یومِ نوجوانان کے طور پر منایا جاتا ہے جو حب الوطنی، اتحاد اور زبان و ثقافت کے احترام کی یاد دلاتا ہے۔

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت،ترقی کی دوڑ اور تباہی کا خطرہ

مصنوعی ذہانت (AI) اکیسویں صدی کی انقلابی ٹیکنالوجی بن کر ابھری ہے جس نے انسانی زندگی، معیشت، تعلیم، صحت، صنعت اور عالمی سیاست کے بنیادی تصورات کو تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ چند لمحوں میں پیچیدہ سوالات کے جواب دینا، بڑی مقدار میں معلومات کا تجزیہ کرنا، بیماریوں کی تشخیص میں مدد فراہم کرنا اور ایسے کام انجام دینا جو پہلے کئی گھنٹوں یا دنوں میں مکمل ہوتے تھے، اب مصنوعی ذہانت کے ذریعے ممکن ہو رہا ہے۔ تاہم اس غیر معمولی ترقی کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی موجود ہے: کیا انسان اپنی تخلیق کردہ اس ٹیکنالوجی کو محفوظ رکھنے اور اس کے ممکنہ نقصانات کو روکنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے؟ سائنسی جریدے 'لائیو سائنس ‘میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یونیورسٹی آف باتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اخِل بھردواج نے اسی سوال پر توجہ مرکوز کی ہے۔ ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیاں ایک دوسرے کے ساتھ ایسی مسابقت میں الجھی ہوئی ہیں جہاں کسی ایک کی غیر ذمہ داری دوسروں کو بھی خطرات کی پروا کیے بغیر آگے بڑھنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت کو جوہری توانائی کے شعبے کے تجربات سے سبق سیکھنا چاہیے، جہاں بڑے خطرات سے نمٹنے کے لیے نگرانی، باہمی تعاون اور حفاظتی ضوابط کا ایک نظام تشکیل دیا گیا۔ ترقی کی دوڑ اور اجتماعی خطراتمصنوعی ذہانت کی دنیا میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان مقابلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ہر ادارہ زیادہ طاقتور، تیز رفتار اور بہتر صلاحیتوں کے حامل ماڈل تیار کرکے مارکیٹ میں اپنی برتری قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس مقابلے کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ تحقیق میں سرمایہ کاری بڑھتی ہے اور نئی سہولتیں تیزی سے سامنے آتی ہیں۔ لیکن جب تجارتی مفادات اور سبقت حاصل کرنے کی خواہش حفاظتی اقدامات پر غالب آ جائے تو یہی دوڑ سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے۔فرض کریں کہ ایک کمپنی مصنوعی ذہانت کے کسی نئے نظام کو مکمل حفاظتی جانچ کے بغیر متعارف کرا دیتی ہے۔ اگر اس سے اسے کاروباری فائدہ حاصل ہوتا ہے تو حریف اداروں پر بھی دباؤ بڑھے گا کہ وہ اپنے نظام جلد مارکیٹ میں لائیں۔ اس صورت میں ہر کمپنی یہ سوچ سکتی ہے کہ اگر اس نے احتیاط کے باعث تاخیر کی تو وہ مقابلے میں پیچھے رہ جائے گی۔ نتیجتاً انفرادی فیصلوں کا مجموعی اثر پوری صنعت اور معاشرے کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔مصنوعی ذہانت کے سسٹمز کو بجلی کے نیٹ ورک، پانی کی فراہمی، مالیاتی اداروں اور صحت کے شعبے میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اگر ان سسٹمز میں تکنیکی خرابی پیدا ہو، انہیں غلط معلومات فراہم کی جائیں یا ان کی صلاحیتوں کا غلط استعمال ہو تو نتائج محض مالی نقصان تک محدود نہیں رہیں گے۔ یہاں اصل مسئلہ ٹیکنالوجی کی ترقی نہیں بلکہ اس ترقی کے ساتھ ذمہ داری، احتیاط اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔جوہری صنعت سے کیا سبق ملتا ہے؟جوہری توانائی کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے لیے حفاظتی انتظامات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ جوہری توانائی بجلی پیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن اس کے غلط استعمال یا حفاظتی نظام میں ناکامی کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے وقت کے ساتھ اس شعبے میں نگرانی، تربیت، تکنیکی معیارات اور بین الاقوامی تعاون کو بنیادی اہمیت حاصل ہوئی۔1979ء میں امریکہ کے تھری مائل آئی لینڈ جوہری بجلی گھر میں پیش آنے والے حادثے نے واضح کیا کہ آلات کے ڈیزائن میں خامیاں، انتباہی نظام کی کمزوریاں اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی ناکافی تربیت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔اسی طرح 1986ء میں چرنوبل کا حادثہ جوہری توانائی کے شعبے کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس حادثے نے دنیا کو دکھایا کہ کسی ایک ادارے کی ناکامی کے اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے۔مصنوعی ذہانت اور جوہری توانائی میں فرق ضرور ہے مگرد دونوں شعبوں میں ایک بنیادی مماثلت موجود ہے، کہ کسی ایک فریق کی غلطی دوسروں کے لیے بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ نگرانی، شفافیت اور جوابدہی مصنوعی ذہانت کی صنعت میں خود ضابطہ کاری کا تصور اسی ضرورت سے جنم لیتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ کمپنیاں صرف حکومتی قوانین کا انتظار کرنے کے بجائے اپنے لیے مشترکہ حفاظتی اصول بنائیں، ایک دوسرے کے سسٹمز کا جائزہ لیں اور ممکنہ خطرات کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کریں۔اخِل بھردواج کے مطابق اے آئی کے جدید اور طاقتور ماڈلز کو عام استعمال میں لانے سے پہلے آزادانہ جانچ، باہمی جائزے اور حفاظتی معیارات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا ئے۔ اگر کوئی سسٹم خطرناک صلاحیتوں کا حامل ہو تو اس کی خامیوں اور ممکنہ نقصانات کا جائزہ اس کے وسیع پیمانے پر استعمال سے پہلے لیا جانا چاہیے۔اس مقصد کے لیے آزاد ماہرین اورتھرڈ پارٹیز کو کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ کمپنیاں خود اپنی کارکردگی کا جائزہ لے کر اسے محفوظ قرار دینے تک محدود نہ رہیں۔حکومتوں اور عالمی برادری کی ذمہ داریمصنوعی ذہانت کی ترقی کسی ایک ملک یا کمپنی تک محدود نہیں، اس کے اثرات عالمی معیشت، قومی سلامتی اور انسانی زندگی کے متعدد شعبوں تک پھیل سکتے ہیں؛ چنانچہ اس کے خطرات سے نمٹنے کے لیے قومی قوانین کے ساتھعالمی تعاون بھی ضروری ہے۔حکومتوں کو ایسے ضوابط متعارف کرانے چاہئیں جو کمپنیوں کو خطرات کی نشاندہی اور سنگین واقعات کی رپورٹنگ کا پابند بنائیں۔ آزادانہ نگرانی کے اداروں کو مناسب اختیارات دیے جائیں جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا واضح نظام موجود ہو۔

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

آڈیو ویژول ہرٹیج کا عالمی دن

ماضی کی آوازیں ،تاریخ کے محفوظ نقوشہر قوم کی تاریخ محض کتابوں، تحریری دستاویزات اور تاریخی عمارتوں میں محفوظ نہیں ہوتی ، اس کا ایک بڑا حصہ تصاویر، فلموں، ریڈیو نشریات، ٹیلی ویژن پروگراموں، آڈیو ریکارڈنگز اور دیگر آڈیو ویژول میڈیم میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ذرائع ماضی کے واقعات، معاشرتی تبدیلیوں، تہذیبی روایات اور انسانی تجربات کو اس انداز میں محفوظ کرتے ہیں کہ آنے والی نسلیں نہ صرف تاریخ کو پڑھ سکیں بلکہ اسے دیکھ اور سن بھی سکیں۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 27 اکتوبر کو عالمی یومِ سمعی و بصری ورثہ(World Day for Audiovisual Heritage) منایا جاتا ہے جس کا مقصد دنیا کے آڈیو ویژول ہرٹیج کے تحفظ، اس کی اہمیت اور اس تک عوام کی رسائی کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔یہ دن اقوامِ متحدہ کے ادارہ یونیسکو کی کوششوں سے عالمی سطح پر منایا جاتا ہے جبکہ آڈیو ویژول آرکائیوز کی بین الاقوامی رابطہ کونسل (CCAAA) بھی اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس دن کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ فلموں، آوازوں اور ویڈیو ریکارڈنگز کی صورت میں محفوظ انسانی یادداشت کو ضائع ہونے سے بچانا عالمی ثقافتی ذمہ داری ہے۔ آڈیو ویژول ہرٹیج، تاریخ کا زندہ ریکارڈ آڈیو ویژول ہرٹیج میں فلمیں، پرانی تصاویر، ریڈیوپروگرام، سیاسی و سماجی رہنماؤں کی تقاریر،انٹر ویو، دستاویزی فلمیں، موسیقی، لوک کہانیاں، ٹیلی ویژن نشریات اور دیگر صوتی و بصری ریکارڈ شامل ہیں۔ یہ مواد کسی معاشرے کے تاریخی، ثقافتی، سیاسی اور سماجی ارتقا کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔تحریری تاریخ کسی واقعے کی تفصیلات بیان کرتی ہے لیکن ویڈیو ریکارڈنگ اس واقعے کے مناظر، لوگوں کے تاثرات اور ماحول کی کیفیت بھی سامنے لے آتی ہے۔ اسی طرح کسی بزرگ کی آواز میں ریکارڈ کی گئی لوک داستان، کسی تاریخی شخصیت کی تقریر یا کسی اہم واقعے کی ریڈیو رپورٹ اپنے دور کی زبان، طرزِ اظہار اور اجتماعی احساسات کی عکاسی کرتی ہے۔یہ ریکارڈ محققین، مؤرخین، صحافیوں، طلبہ اور عام شہریوں کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی مدد سے نہ صرف ماضی کے واقعات کی تحقیق کی جا سکتی ہے بلکہ ان ادوار کے بارے میں موجود غلط فہمیوں کو دور کرنے اور تاریخی حقائق کی جانچ میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ ڈیجیٹل دور میں تاریخی ریکارڈ جدید ٹیکنالوجی نے آڈیو ویژول مواد کی تیاری، نقل اور ترسیل کو آسان بنا دیا ہے لیکن اس کے باوجود تاریخی ریکارڈ کا تحفظ ایک بڑا چیلنج ہے۔ پرانی فلمیں وقت گزرنے کے ساتھ خراب ہو سکتی ہیں، مقناطیسی ٹیپوں پر محفوظ آوازیں اور ویڈیوز اپنی اصل کیفیت کھو سکتی ہیں جبکہ پرانے آلات کی عدم دستیابی کے باعث کئی ریکارڈنگز کو دوبارہ چلانا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔اس کے علاوہ نمی، درجہ حرارت میں تبدیلی، گردوغبار، ناقص سٹوریج اور قدرتی آفات بھی تاریخی مواد کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ڈیجیٹل مواد کو بھی محفوظ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ فائلیں خراب ہو سکتی ہیں، سٹوریج کے آلات ناکارہ ہو سکتے ہیں اور پرانے ڈیجیٹل فارمیٹس مستقبل میں ناقابلِ استعمال ہو سکتے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ تاریخی ریکارڈ کو مناسب ماحول میں محفوظ کیا جائے، اس کی ڈیجیٹل کاپیز تیار کی جائیں اور ان کاپیز کو مختلف محفوظ مقامات پر رکھا جائے۔ ساتھ ہی فائلوں کی باقاعدہ جانچ، مستند معلومات کے ساتھ درجہ بندی اور جدید فارمیٹس میں منتقلی کا مستقل انتظام بھی ضروری ہے۔ محض ریکارڈ محفوظ کر لینا کافی نہیں، اس کی صداقت، پس منظر اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ پاکستان کا آڈیو ویژول ورثہ نہایت متنوع اور تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ تحریکِ پاکستان کے مناظر، قیامِ پاکستان سے متعلق تقاریر، ابتدائی قومی نشریات، تاریخی سیاسی اجتماعات، پرانی دستاویزی فلمیں، علاقائی موسیقی، لوک داستانیں اور مختلف خطوں کی ثقافتی تقریبات ہمارے اجتماعی ماضی کا اہم حصہ ہیں۔ریڈیو پاکستان کی پرانی نشریات، پاکستان ٹیلی ویژن کے ابتدائی پروگرام، قومی رہنماؤں کی تقاریر اور مختلف علاقوں کی زبانوں میں ریکارڈ کی گئی لوک موسیقی میں ایسا قیمتی مواد موجودہے جو آنے والی نسلوں کے لیے تاریخی اور علمی سرمایہ ہے۔ اسی طرح ملک کے مختلف خطوں کی روایات، لوک ادب، ثقافتی تقریبات اور بزرگوں کی زبانی تاریخ کو ریکارڈ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ علاقائی شناخت اور تہذیبی تنوع محفوظ رہ سکے۔ پرانی فلموں اور آڈیو ٹیپس کی کیٹلاگنگ، ان کی ڈیجیٹل منتقلی اور محققین کے لیے مناسب رسائی فراہم کرنا اس عمل کے بنیادی تقاضے ہیں۔ مصنوعی ذہانت اور ورثے کا تحفظڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے آڈیو ویژول ورثے کے تحفظ کے لیے نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ جدید سسٹمز کے ذریعے پرانی ریکارڈنگز میں شور کم کیا جا سکتا ہے، تصاویر کی مرمت کی جا سکتی ہے، آوازوں کو تلاش کرنا آسان بنایا جا سکتا ہے اور تاریخی مواد کو دنیا بھر کے لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ تاہم ان سہولتوں کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی تصویر، آواز یا ویڈیو میں ایسی تبدیلیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں جو اصل تاریخی حقیقت کو مسخ کر دیں۔اس لیے اصل ریکارڈ کو محفوظ رکھنا، ڈیجیٹل تبدیلیوں کی وضاحت کرنا اور ہر مواد کے ماخذ کی تصدیق کرنا ناگزیر ہے۔ورلڈ ڈے آف آڈیو ویژول ہرٹیج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ماضی کی آوازیں اور تصاویر محض پرانی یادگاریں نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی مشترکہ امانت ہیں۔ اگر آج ان کی حفاظت کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو کل ہماری تاریخ کے کئی اہم باب ہمیشہ کے لیے خاموش ہو سکتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت 27 اکتوبر 1947ء کو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کے سیاہ دور کا آغاز ہوا جب بھارتی افواج نام نہاد الحاق کی بنیاد پر غیر قانونی طور پر سری نگر میں اتریں اور ریاست پر قبضہ کر لیا ۔ بعد کے برسوں میں اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر زیرِ بحث آیا اور خطے میں جنگ بندی کی کوششیں ہوئیں تاہم بھارت اپنے غیر قانونی قبضے کو برقرار رکھتے ہوئے جان بوجھ کر اقوام متحدہ کے چارٹر اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کر تا آ رہا ہے۔ 27 اکتوبر 1947ء کے غیر قانونی واقعے نے جنوبی ایشیا کی سیاست، سلامتی اور سفارتکاری پر گہرے اثرات مرتب کئے ہیں۔ بین الاقوامی قانون بالخصوص چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں آبادیاتی تبدیلی بھی کی جا رہی ہے۔ جنرل ایوب خان کا اقتدار27 اکتوبر 1958ء کو جنرل محمد ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو اقتدار سے ہٹا کر ملک کی صدارت سنبھال لی۔ اس وقت پاکستان شدید سیاسی عدم استحکام، حکومتوں کی تبدیلی اور آئینی اختلافات کا سامنا کر رہا تھا۔ ملک کا پہلا آئین 1956ء میں نافذ ہوا لیکن سیاسی اداروں اور قیادت کے درمیان کشیدگی برقرار رہی۔7 اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا نے آئین منسوخ کر دیا، قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں، سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں ختم کر دیں اور ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ انہوں نے جنرل ایوب خان کو چیف مارشل لا ء ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا تاہم چند ہی ہفتوں بعد دونوں میں اقتدار کی کشمکش شدت اختیار کر گئی۔ 27 اکتوبر کو ایوب خان نے اسکندر مرزا کو صدارت چھوڑنے پر مجبور کیا اورانہیں ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ نیویارک سب وے 27 اکتوبر 1904ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں پہلی زیرِ زمین شہری ریلوے سروس کا افتتاح ہوا۔ یہ واقعہ جدید شہری نقل و حمل کی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔ افتتاح کے روز نیویارک کے میئر جارج میک کلیلن جونیئر نے پہلی نمائشی ٹرین چلائی۔ ابتدائی ریلوے لائن تقریباً 9.1 میل طویل تھی اور اس میں 28 سٹیشن شامل تھے۔ یہ لائن مین ہیٹن کے سٹی ہال سے شروع ہو کر گرینڈ سینٹرل اور ٹائمز سکوائر سے گزرتی ہوئی 145ویں سٹریٹ تک جاتی تھی۔اس منصوبے نے شہر کے مختلف علاقوں کے درمیان سفر کو آسان بنایا اور شہری زندگی، کاروبار اور رہائش کے انداز پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ آج نیویارک کا سب وے دنیا کے معروف ترین شہری ٹرانسپورٹ نظاموں میں شمار ہوتا ہے۔ کیوبا میزائل بحران27 اکتوبر 1962ء سرد جنگ کے خطرناک ترین دنوں میں سے ایک تھا۔ اس وقت امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان کیوبا میں سوویت میزائلوں کی تنصیب کے معاملے پر شدید کشیدگی جاری تھی اور امریکی صدر جان ایف کینیڈی نے کیوبا کے گرد بحری ناکہ بندی نافذ کی جبکہ سوویت رہنما خروشیف کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری تھے۔27 اکتوبر کو بحران مزید سنگین ہو گیا جب امریکی فضائیہ کا یو2 جاسوس طیارہ کیوبا کے اوپر مار گرایا گیا اور اس کا پائلٹ میجر روڈولف اینڈرسن جونیئر ہلاک ہو گیا۔ 27 اکتوبر کو اس بحران کا خطرناک ترین دن قرار دیا جاتا ہے کیونکہ اس وقت کسی غلط اندازے یا غیر ارادی فوجی کارروائی کے تباہ کن نتائج نکل سکتے تھے۔ ترکمانستان کی آزادی 27 اکتوبر 1991ء کو وسطی ایشیا کی ریاست ترکمانستان نے سوویت یونین سے آزادی کا اعلان کیا۔ ترکمانستان طویل عرصے تک روسی سلطنت اور بعد ازاں سوویت نظام کا حصہ رہا۔ سوویت دور میں اسے ایک الگ سوویت جمہوریہ کی حیثیت حاصل تھی۔1991ء میں سوویت یونین میں سیاسی بحران شدت اختیار کر گیا اور اگست میں ماسکو میں ناکام فوجی بغاوت کے بعد مختلف سوویت جمہوریاؤں میں آزادی کی تحریکوں کو تقویت ملی۔ ترکمانستان میں 26 اکتوبر 1991ء کو آزادی کے معاملے پر ریفرنڈم منعقد ہوا۔97 فیصد سے زائد آبادی نے ریفرنڈم میں حصہ لیا اوررائے دہندگان میں 94 فیصد سے زائد نے آزادی کی حمایت کی۔ اگلے روز یعنی 27 اکتوبر کو ترکمانستان کی سپریم سوویت نے باضابطہ طور پر آزادی کا اعلان کر دیا۔