یوکرائن جنگ کے دہانے پر ،روس کے ساتھ گزشتہ لڑائی کے دوران 14 ہزار افراد مارے گئے تھے

یوکرائن جنگ کے دہانے پر ،روس کے ساتھ گزشتہ لڑائی کے دوران 14 ہزار افراد مارے گئے تھے

اسپیشل فیچر

تحریر : یاسر چغتائی


روس اور یوکرائن کے درمیان جنگ کا سا سماں ہے ۔
یوکرائن کے مشرقی علاقے ''ڈونباس‘‘ میں روسی حمایت یافتہ باغیوں اور یوکرینی فوج کے درمیان جھڑپیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ متنازعہ علاقے میں دو پڑوسیوں کے درمیان سالوں سے چلی آئی ہلکی پھلکی لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کر چکی ہے، برطانوی جریدے کا کہنا ہے کہ ''روسی افواج کی نقل و حمل جارحانہ ہونے کے باعث جنگ دنوں کی بات ہے، برطانوی فوج بھی ہائی الرٹ ہے‘‘۔گزشتہ کئی ماہ سے روس یوکرائن کے مشرقی علاقے کے ساتھ سرحد پر اپنی فوجی تعداد بڑھاتا جا رہا ہے۔ 2014 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اس سرحد پر روس کے فوجیوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب جا پہنچی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رس نے ''BUK‘‘ نامی میزائل بھی بھجوا دیئے ہیں یہ وہی میزائل ہیں جن کی مدد سے روس نے ملیشیاء کا بوئنگ طیاری مار گرایا تھا۔ امریکہ کئی ایسی ویڈیوز بھی دیکھنے کو ملیں جہاں ٹرینوں اور گاڑیوں میں بھاری اسلحہ بھر کر اس سرحد تک پہنچایا جا رہا ہے،بی ون لڑاکا طیاروں نے بھی روسی علاقے میں ،مگر یوکرائن کی سرحد کے قریب پروازیں شروع کر دی ہیں۔ اس کے بعد سے تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی ہے ۔جلتی پر تیل کا کام یوکراینی صدر کے دونباس کے حالیہ دورے نے کیا۔ جہاں انھوں نے اعلان کیا کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت جلد ہو جائے گی اور اس علاقے میں امن آجائے گا، کیونکہ اس جنگ کے خاتمے کا واحد راستہ یہی کہ یوکرائن نیٹو کا حصہ بن جائے گا۔ جس پر روس کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا، روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ ذاخروف نے کہا کہ یوکرائن کی نیٹو میں شمولیت علاقے میں امن نہیں بلکہ کشیدگی کو مزید ہوا دے گی۔ جو کہ ایک بڑی جنگ کی صورتحال اختیار کر سکتی ہے۔ اور ان حالات میں یوکرائن کی سالمیت کو شدید خطرہ ہوگا۔حالیہ ہفتوں میں اس متنازعہ علاقہ میں روس کے حمایت یافتہ باغیوں اور یوکرینی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں بھی تیز ہوئیں، گزشتہ چند دنوں میں 25 یوکرینی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔
جب اس فوجی نقل و حرکت پر جرمن چانسلر اینجلہ مرکل نے روسی صدر سے فون پر رابطہ کیا تو انہوںنے کہا کہ '' روس اپنے ملک میں اپنی فوج کو کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ بھیجنے میں آزاد ہے ‘‘۔اینجلہ مرکل کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ تھا۔
مغربی میڈیا نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہ ''مغربی دنیا کی خالی خولی باتیں روس کو ڈرا نہیں سکتیں۔مغرب زیادہ سے زیادہ اقتصادی پابندیاں لگا سکتا ہے لیکن 2014ء میں لگنے والی پابندیوں کا تاحال روس پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا‘‘۔
روسی پریس سیکرٹری دیمتری پیسکوف نے روسیوں کی نسل کشی کے حوالے سے کہا کہ '' یہاں بوسنیا (خاص طور پر گائوںسرے برینکا)جیسی نسل کشی کا خدشہ ہے، اس صورت میں روسی مداخلت ناگزیر ہو جائے گی ‘‘ ۔روسی صدر پیوٹن کے مشیر دیمتری کا کہنا ہے کہ روس ہر صورت اپنے شہریوں کے دفاع کیلئے مداخلت کرتا رہے گا۔ ساتھ ہی انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ کشیدگی میں اضافہ 'یوکرائن کے خاتمے‘‘ کا آغاز ہوگا اور گولی ٹانگ پر نہیں بلکہ سیدھا چہرے پر ماری جائے گی۔ روس نے پہلی بار تسلیم کر لیا کہ اس چھوٹے سے ایک گائوں میں 1995ء میں آٹھ ہزار بوسنیائی مسلمان ذبح کر دیئے گئے تھے۔
بلوم برگ نے بگڑتی ہوئی صورتحال کے بارے میں کہا کہ ''روس شائد نئے امریکی صدر کے اعصاب ٹسٹ کرنا چاہتا ہے،یا پھر وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مستقبل میں روس یوکرائن کے بارے میں مزید سخت موقف اختیار کرنے والاہے‘‘۔ ادھر سینئر یوکراینی فوجی افسر کا بھی کہنا ہے کہ '' روس فوج کی نقل و حمل توقع سے کہیں زیادہ ہے اور اس کا مقصد بظاہر جنگ کے سوا کچھ نہیں‘‘۔انہوںنے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر روسی صدر نے حملے کاحکم جاری کیا تو یہ مئی کے وسط میں ہو سکتا ہے۔فی الحال روسی صدر نے یوکرائن کے مشرقی ساحل پربحریہ کو تیار کو ریڈ الرٹ کر دیا ہے۔ فوجی نقل حرکت سے یوکرائن کا دارالحکومت کیف بھی ان کے نشانے پر آ گیا ہے۔یوکرائن اسلئے بھی خوفزدہ ہے کہ روس نے2008ء میں جارجیا پر بھی اسی انداز میں دھاوا بول دیا تھا۔جریدے ''فارن پالیسی‘‘ نے لکھا ہے کہ عالمی تنازعات پر نظر رکھنے والی ٹیم کے مطابق '' روس نے ہتھیاروں کا بڑا ذخیرہ یوکرائن کی سرحد سے 155 میل اپنی سرحد پر پہنچا دیا ہے، فوج کا ایک حصہ روسی شہر ''وورونخیف (Voronezh) میں مقیم ہے۔لہٰذا فوری حملے اور قبضے کا اندیشہ نہیں ہے۔مغربی ممالک کے پاس ابھی وقت ہے۔
اس تنازعے کی تاریخ کیا ہے؟
یوکرائن اور روس کے درمیان یہ تنازعہ مارچ 2014 میں شدت اختیار کر گیا جب یوکرائن کے خطے کریمیا میں روس نے اپنے حمایت یافتہ باغیوں کی مدد سے قبضہ کر لیا تھا ۔ اس سات سالہ کشیدگی کے دوران 13، 14 ہزار افراد مارے گئے تھے۔ یوکرائن کو تب ہی سے خوف لاحق ہے کہ کہیں کریمیا جیسا سانحہ پھر رونما نہ ہو جائے اور مشرقی علاقہ بھی ان کے ہاتھ سے نہ چلا جائے۔اس واقعے کے بعد یورپی یونین اور امریکہ نے روس پر پابندیاں بھی عائد کر دیں۔ بعدازاں یوکرائن میں صدر زیلینسکی نے اقتدار میں آتے ہی قیام امن کیلئے کوششیں تیز کیں، اور 2020 میں دونوں ممالک کے درمیان امن اور جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط بھی ہوئے ، لیکن تب ہی سے دونوں ممالک ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگاتے ہیں ۔یوکرائن، مغربی ممالک اور نیٹو کا ماننا ہے کہ روس ان باغیوں کی فوجی مدد کر رہا ہے ، جبکہ روس کا کہنا ہے کہ ادھر اگر کوئی فوجی ہیں بھی تو وہ رضاکار ہیں۔
کشیدگی اچانک کیوں بڑھ گئی ؟
روس کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ یوکراینی صدر زیلنسکی نے سخت پالیسی اختیار کرتے ہوئے روسی کی حمایت سے چلنے والے تین ٹی وی سٹیشنوں کی بندش کا حکم دے دیا۔ انہوںنے روس نواز رہنماء میڈووچک (Medvedchuk) کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دے دیا ۔ روس میں زیلنسکی کو جارجیا کے سابق صدر میخائل ساکاشولی (Saakashvili) جیسا لیڈر سمجھا جا رہا ہے، جن کے دور میں روس نے جارجیا پر حملہ کر دیا تھا۔
2015ء میں ختم ہونے والی جنگ سات سال لڑی گئی تھی۔جس سے یوکرائن کی معیشت انتہائی خراب ہو گئی تھی۔
دنیا کیا کر رہی ہے؟
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری جین پساکی کا کہنا تھا 2014 میں اس تنازع کے آغاز کے بعد سے روسی سرحد پر فی الوقت فوجیوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے، اور امریکہ اس صورتحال کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتا ہے،انھوں نے یہ انتباہ بھی جاری کیا کہ یوکرائن میں روسی فوجیوں کی موجودگی کے پیش نظر امریکہ اپنے جنگی جہاز یوکرائن کی مدد کیلئے بھیج سکتا ہے۔ اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے ترکی کے وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ ' ' امریکہ نے اپنے دو جہاز (تباہ کن آبدوزیں )ممکنہ میدان جنگ کی جانب روانہ کر دی ہیں۔ اس ضمن میں ترکی کو باضابطہ طور پر آگاہ کیا گیا ہے ۔ 1936میں ہونے والے ایک معاہدے کی رو سے امریکہ ترکی کی سمندری حدود سے گزرنے کے لئے اسے 15دن کا پیشگی نوٹس دینے کا پابند ہے، جو دے دیا گیا ہے۔اس نقل و حرکت کو دیکھتے ہوئے روس نے کہا ہے کہ '' اگر امریکی فوج نے کسی قسم کی غیر دوستانہ پیش قدمی کی تو روس ا س کاجواب دے گا‘‘۔امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ''وہ تمام روسی کارروائی پر جاسوسی نظام کی مدد سے نظر رکھے ہوئے ہے‘‘۔ امریکہ نے کہا ہے کہ ''وہ اس علاقے میں میزائل شکن نظام‘‘ پہنچا دے گا تاکہ یوکرائن پر حملے کو ناکام بنایا جا سکے‘‘۔جو بائیڈن انتظامیہ نے دنیا بھر کے رہنمائوں سے رابطہ بھی قائم کر لیا ہے، جلد ہی کسی مشترکہ حکمت عملی کا اعلان بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے روس سے بھی پیش قدمی پر ''وضاحت ‘‘ مانگ لی ہے جس کا روس نے کوئی خاطر خواہ جواب نہیں دیا۔ برطانیہ کے فوجی کمانڈروں نے بھی فوج کو ہائی الرٹ کردیا ہے کہ کسی بھی لمحے جنگ چھڑ سکتی ہے ، اور روس بڑا حملہ کر سکتا ہے۔جس کیلئے تیار رہنا ہوگا۔
روس اور یوکرائن کی دفاعی صلاحیتیں ؟
مغربی میڈیا کے مطابق یوکرائن اپنے موجودہ دفاعی آلات کیساتھ روس سے کسی صورت جنگ نہیں لڑ سکتا۔ رپورٹ بتاتی ہے کہ 1991 کے بعد سے یوکرائن نے اپنی فضائیہ میں کسی نئے جنگی طیارے کا اضافہ نہیں کیا، جس میں سرد جنگ کے زمانے کے ہی کل 125 جہاز موجود ہیں، اور ملک کا فقط 30کروڑ ڈالر کا دفاعی بجٹ ہے ۔ اس کے برعکس روس کے جدید جنگی ہتھیار چند ہی منٹوں میں یوکرائن کے جہازوں کا صفایا کر سکتے ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یوکرائن 'ڈرونز'کے ذریعے وہ روس کے ٹینکوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یوکرائن کے پاس متبادل اور کوئی دفاعی ٹیکنالوجی نظر نہیں آتی۔غیر ملکی جریدے فوربس نے لکھا ہے کہ ''روس ڈرونز کو ناکام بنانے کے لئے ریڈیو لنکس کو جام کر سکتا ہے‘‘۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے

ڈیجیٹل دور میں ہماری نجی زندگی کا تحفظہر سال 28 جنوری کو دنیا بھر میں انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے یا ڈیٹا پروٹیکشن ڈے منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد عوام، اداروں اور حکومتوں میں اس بات کا شعور اجاگر کرنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں ذاتی معلومات (Personal Data) کس قدر قیمتی ہیں اور ان کے تحفظ کی کتنی زیادہ ضرورت ہے۔ آج جب ہماری زندگی کا بڑا حصہ انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز، سوشل میڈیا اور آن لائن سروسز سے جْڑا ہوا ہے، تو ڈیٹا پرائیویسی ایک تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، قانونی اور اخلاقی سوال بن چکا ہے۔ڈیٹا پروٹیکشن کیا ہے؟ڈیٹا پروٹیکشن سے مراد کسی فرد کی ذاتی معلومات جیسے نام، شناختی نمبر، فون نمبر، ای میل، بینک تفصیلات، طبی ریکارڈ، لوکیشن ڈیٹا اور آن لائن سرگرمیوں کا تحفظ ہے، تاکہ یہ معلومات بغیر اجازت استعمال، فروخت یا غلط ہاتھوں میں نہ جائیں۔ ڈیجیٹل دور میں ہر کلک، ہر سرچ اور ہر ایپ استعمال کرنے سے ہمارا ڈیٹا کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کیا جاتا ہے، جو اگر غیر محفوظ ہو تو سنگین مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی تاریخڈیٹا پروٹیکشن ڈے کی بنیاد یورپ میں رکھی گئی۔ 28 جنوری 1981ء کو کونسل آف یورپ نے پہلا بین الاقوامی معاہدہ (Convention 108) منظور کیا جو ذاتی ڈیٹا کے تحفظ سے متعلق تھا۔ اسی یاد میں 2006ء سے ہر سال یہ دن منایا جا رہا ہے۔ بعد ازاں یورپ کے ساتھ ساتھ امریکہ، ایشیا اور دیگر خطوں میں بھی اس دن کو اہمیت دی جانے لگی۔ڈیجیٹل دنیا میں بڑھتے خطراتآج کے دور میں ڈیٹا ایک نئی کرنسی بن چکا ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا کی بنیاد پر اشتہارات، کاروباری حکمت عملیاں اور حتیٰ کہ سیاسی مہمات بھی چلاتی ہیں۔ ڈیٹا لیکس، ہیکنگ، شناخت کی چوری (Identity Theft)، آن لائن فراڈ اور سائبر جرائم کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک چھوٹی سی لاپرواہی جیسے کمزور پاس ورڈ یا غیر محفوظ وائی فائی کسی فرد کی مالی اور سماجی زندگی کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔سوشل میڈیا اور پرائیویسیفیس بک، ایکس (ٹوئٹر)، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگ روزمرہ زندگی کی تفصیلات شیئر کرتے ہیں۔ اکثر صارفین یہ نہیں جانتے کہ ان کی تصاویر، لوکیشن اور ذاتی خیالات کیسے ڈیٹا کی صورت میں محفوظ اور استعمال کیے جاتے ہیں۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کیا شیئر کر رہے ہیں، کس کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں۔قوانین اور ضابطےدنیا کے کئی ممالک نے ڈیٹا پروٹیکشن کے لیے سخت قوانین بنائے ہیں۔ یورپ کا GDPR (General Data Protection Regulation) اس کی نمایاں مثال ہے جس کے تحت صارفین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جان سکیں کہ ان کا ڈیٹا کہاں اور کیسے استعمال ہو رہا ہے۔ امریکہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں بھی مختلف قوانین نافذ ہیں۔ہمارے ملک میں اگرچہ ڈیجیٹل سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں لیکن ڈیٹا پروٹیکشن سے متعلق قانون سازی ابھی ارتقائی مراحل میں ہے۔ پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن بل پر بحث ضرور ہو رہی ہے، مگر اس پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ڈیٹا پرائیویسی صرف فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اداروں اور حکومتوں کی بھی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری ہے۔ سرکاری محکمے، بینک، ٹیلی کام کمپنیاں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے عوام کا حساس ڈیٹا رکھتے ہیں۔ اگر یہ ادارے ڈیٹا سکیورٹی کو سنجیدگی سے نہ لیں تو بڑے پیمانے پر نقصان ہو سکتا ہے۔ ڈیٹا پرائیویسی ڈے اسی اجتماعی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔عام صارف کیا کر سکتا ہے؟ڈیٹا کے تحفظ کے لیے چند بنیادی اقدامات ہر فرد اختیار کر سکتا ہے جیسا کہ مضبوط اور منفرد پاس ورڈز کا استعمال،دہری تصدیق (Two-factor authentication)،غیر ضروری ایپس کو اجازت نہ دینا،پبلک وائی فائی پر حساس معلومات شیئر نہ کرنا،سوشل میڈیا پر پرائیویسی سیٹنگز کو باقاعدگی سے چیک کرنا۔یہ اقدامات بڑے نقصانات سے بچا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی اور انسانی حقوقڈیٹا پرائیویسی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ نجی زندگی کا احترام، اظہارِ رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی ڈیٹا کے درست استعمال سے جُڑے ہیں۔ اگر ڈیٹا کا غلط استعمال ہو تو نہ صرف فرد بلکہ جمہوری نظام اور معاشرتی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔انٹرنیشنل ڈیٹا پرائیویسی ڈے محض ایک علامتی دن نہیں بلکہ ایک یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل سہولتوں کے ساتھ خطرات بھی وابستہ ہیں۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور فرد، ادارہ اور ریاست ڈیٹا کے تحفظ کو سنجیدگی سے لیں۔ شعور، قانون سازی اور ذمہ دارانہ رویہ ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم ڈیجیٹل ترقی کے ساتھ اپنی نجی زندگی کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔ڈیٹا پرائیویسی کا تحفظ دراصل ہماری شناخت، آزادی اور مستقبل کا تحفظ ہے۔

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کیا ہے؟عام سی شے، حیران کن سائنسی عمل

آگ کو انسان صدیوں سے جانتا اور استعمال کرتا آ رہا ہے۔ کھانا پکانے سے لے کر صنعت، جنگ اور روزمرہ زندگی میں، آگ انسانی تہذیب کا بنیادی حصہ رہی ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جس آگ کو ہم ایک ''چیز‘‘ یا ''شے‘‘ سمجھتے ہیں، سائنسی اعتبار سے وہ کسی ٹھوس، مائع یا گیس کی صورت میں موجود ہی نہیں۔ دراصل آگ کوئی مادہ نہیں بلکہ ایک کیمیائی عمل ہے اور یہی حقیقت اسے عام فہم تصورات سے کہیں زیادہ عجیب بنا دیتی ہے۔عام طور پر ہم آگ کو شعلوں، روشنی اور حرارت کی شکل میں دیکھتے ہیں اس لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ آگ بھی ہوا یا گیس کی طرح کوئی مادہ ہے مگر سائنس کہتی ہے کہ آگ نہ تو مادہ ہے اور نہ ہی اسے کسی برتن میں بند کیا جا سکتا ہے۔ آگ دراصل جلنے کا عمل ہے جسے سائنسی زبان میں Combustion کہا جاتا ہے۔ یہ وہ کیمیائی ردعمل ہے جس میں کوئی ایندھن آکسیجن کے ساتھ تیزی سے مل کر حرارت اور روشنی پیدا کرتا ہے۔فائر ٹرائینگل؟سائنسدان آگ کے بارے میں سمجھانے کے لیے ایک سادہ مگر اہم تصور پیش کرتے ہیں جسے فائر ٹرائینگل کہا جاتا ہے۔ اس کے تین بنیادی عناصر ہیں: ایندھن، یعنی وہ شے جو جل سکتی ہو، جیسے لکڑی، کوئلہ، تیل یا گیس۔ آکسیجن ،ہوا میں موجود آکسیجن جلنے کے عمل کے لیے لازمی ہے، اور حرارت یعنی ابتدائی توانائی جو جلنے کے عمل کو شروع کرتی ہے جیسے چنگاری یا شعلہ۔ اگر ان تین میں سے ایک بھی عنصر ختم کر دیا جائے تو آگ بجھ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آگ بجھانے کے لیے کبھی پانی، کبھی ریت اور کبھی فوم استعمال کیا جاتا ہے تاکہ آکسیجن یا حرارت کا سلسلہ ٹوٹ جائے۔شعلے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟ہم جو آگ کے شعلے دیکھتے ہیں وہ دراصل خود آگ نہیں بلکہ جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرم گیسیں ہوتی ہیں۔ جب لکڑی یا موم بتی جلتی ہے تو اس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، پانی کے بخارات اور دیگر گیسیں بنتی ہیں۔ یہ گیسیں اوپر کی طرف اٹھتی ہیں اور ان میں موجود باریک کاربن ذرات (Soot) جب بہت زیادہ گرم ہو جاتے ہیں تو چمکنے لگتے ہیں۔ یہی چمک ہمیں زرد یا نارنجی شعلے کی صورت میں دکھائی دیتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ مکمل جلنے کی صورت میں، جیسے گیس کے چولہے پر شعلہ نیلا ہوتا ہے کیونکہ وہاں کاربن ذرات نہیں بنتے بلکہ گیس صاف طور پر جلتی ہے۔کیا آگ پلازما ہے؟کبھی کبھار یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آیا آگ کو پلازما کہا جا سکتا ہے یا نہیں۔ پلازما مادے کی ایک خاص حالت ہوتی ہے جس میں ایٹم اپنے الیکٹران کھو دیتے ہیں۔ عام آگ جیسے لکڑی یا موم بتی کی آگ اتنی گرم نہیں ہوتی کہ اسے مکمل پلازما کہا جائے تاہم بہت زیادہ درجہ حرارت پر مثلاً سورج یا ویلڈنگ آرک میں آگ پلازما کی کچھ خصوصیات ضرور اختیار کر لیتی ہے۔آگ اور مادہ کا تعلقآگ خود مادہ نہیں مگر یہ مادے کو تبدیل ضرور کرتی ہے۔ جلنے کے بعد لکڑی راکھ میں بدل جاتی ہے، گیسیں فضا میں شامل ہو جاتی ہیں اور توانائی حرارت و روشنی کی شکل میں خارج ہو جاتی ہے۔ اس طرح آگ دراصل مادے کو ختم نہیں کرتی بلکہ اسے ایک حالت سے دوسری حالت میں بدل دیتی ہے، جو توانائی کے قانونِ تحفظ کی بہترین مثال ہے۔زمین پر آگ کیوں ممکن ہے؟آگ جیسی ہمیں زمین پر نظر آتی ہے وہ کائنات میں بہت نایاب ہے۔ اس کی بنیادی وجہ زمین کے ماحول میں آکسیجن کی وافر مقدار ہے جو پودوں اور دیگر جانداروں کی بدولت ممکن ہوئی۔ اگر زمین پر زندگی نہ ہوتی تو شاید آگ بھی وجود میں نہ آتی۔ یہی وجہ ہے کہ سائنسدان کہتے ہیں کہ آگ بالواسطہ طور پر زندگی کی مرہونِ منت ہے۔خلا میں آگ کا عجیب رویہخلا میں جہاں کششِ ثقل نہیں ہوتی آگ کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ وہاں شعلے اوپر کی طرف نہیں اٹھتے بلکہ گول شکل اختیار کر لیتے ہیں کیونکہ گرم گیسیں اوپر نہیں جا سکتیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آگ کا ظاہری انداز ماحول پر بہت زیادہ منحصر ہوتا ہے۔آگ جسے ہم ایک عام اور روزمرہ کی چیز سمجھتے ہیں، درحقیقت ایک پیچیدہ اور حیرت انگیز سائنسی عمل ہے۔ یہ نہ کوئی ٹھوس شے ہے نہ مائع اور نہ ہی مکمل گیس بلکہ یہ توانائی کے اخراج کا وہ مظاہرہ ہے جو ایندھن اور آکسیجن کے ملاپ سے پیدا ہوتا ہے۔ آگ کو سمجھنا ہمیں نہ صرف سائنس کے بنیادی اصولوں سے روشناس کراتا ہے بلکہ یہ بھی سکھاتا ہے کہ کائنات میں بہت سی چیزیں ویسی نہیں ہوتیں جیسی ہمیں نظر آتی ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

خلائی شٹل چیلنجر کا حادثہ28 جنوری 1986ء کو امریکی خلائی ایجنسی ناسا کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے سانحات میں سے ایک کا سامنا کرنا پڑا جب خلائی شٹل چیلنجر پرواز کے صرف 73 سیکنڈ بعد تباہ ہو گئی۔ اس حادثے میں شٹل میں سوار تمام سات خلا باز ہلاک ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ شٹل کے سالڈ راکٹ بوسٹر میں خرابی تھی۔ اس سانحے نے ناسا کی انتظامی کمزوریوں، دباؤ میں کیے گئے فیصلوں اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کو بے نقاب کر دیا۔چیلنجر حادثے کے بعد امریکی خلائی پروگرام کو تقریباً تین سال کے لیے معطل کر دیا گیا۔ پرائیڈ اینڈ پریجوڈس کی اشاعت 28 جنوری 1813ء کو انگریزی ادب کی تاریخ کا ایک اہم دن آیا جب مشہور ناولPride and Prejudice پہلی بار شائع ہوا۔ اس ناول کی مصنفہ جین آسٹن تھیں جو اس دور میں خواتین مصنفات میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔یہ ناول انیسویں صدی کے برطانوی معاشرے میں طبقاتی فرق، شادی، خواتین کے سماجی کردار اور اخلاقی اقدار پر گہری نظر ڈالتا ہے۔ کہانی کی مرکزی کردار الزبتھ بینیٹ ایک ذہین، خوددار اور آزاد خیال خاتون ہے جبکہ مسٹر ڈارسی ایک امیر مگر بظاہر مغرور شخص۔ ناول کا مرکزی خیال یہ ہے کہ کس طرح غرور اور تعصب انسانی تعلقات میں غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں۔ امریکی کوسٹ گارڈ کا قیام28 جنوری 1915ء کو امریکہ میں کوسٹ گارڈ کے قیام کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد امریکی ساحلی حدود کی حفاظت، سمندری قوانین کا نفاذ اور انسانی جانوں کا تحفظ تھا۔کوسٹ گارڈ نہ صرف ایک فوجی ادارہ ہے بلکہ امن کے زمانے میں یہ سول انتظامیہ کے تحت بھی کام کرتا ہے۔ جنگ کے دوران اسے امریکی بحریہ کے ماتحت کر دیا جاتا ہے۔پہلی اور دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکی کوسٹ گارڈ نے اہم کردار ادا کیا۔ لیگو برِک کا پیٹنٹ 28 جنوری 1958ء کو ڈنمارک کی کھلونوں کی کمپنی LEGO نے اپنی مشہور پلاسٹک برِک کا پیٹنٹ حاصل کیا۔ یہ وہی ڈیزائن تھا جس نے بعد میں دنیا بھر کے بچوں اور بڑوں میں تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دیا۔لیگو کا آغاز 1932ء میں ہوا تھا مگر 1958ء کا پیٹنٹ اس کمپنی کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔ اس ڈیزائن کی بدولت لیگو کھلونوں کو نہ صرف مضبوط بنایا جا سکا بلکہ انہیں بار بار جوڑنے اور کھولنے کی سہولت بھی حاصل ہوئی۔ لیگو نے بچوں کی تعلیم اور تخلیقی اظہار میں انقلابی کردار ادا کیا۔ دنیا بھر کے سکولوں میں لیگو کو تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی28 جنوری 1547ء کو انگلینڈ کے بادشاہ ایڈورڈ ششم کی تاج پوشی کا اعلان کیا گیا۔ وہ مشہور بادشاہ ہنری ہشتم کا بیٹا تھا اور صرف نو سال کی عمر میں تخت پر بیٹھا۔ایڈورڈ ششم کے دورِ حکومت میں انگلینڈ میں مذہبی اصلاحات کو نمایاں فروغ ملا۔ چونکہ وہ خود کم عمر تھااس لیے اصل اختیارات اس کے مشیروں کے ہاتھ میں تھے جنہوں نے چرچ آف انگلینڈ کو مزید پروٹسٹنٹ سمت میں آگے بڑھایا۔ ایڈورڈ ششم کی حکومت چھ سال پر مشتمل تھی اور وہ 15 سال کی عمر میں وفات پا گیا مگر اس کا دور انگلینڈ کی مذہبی اور سیاسی تاریخ میں گہرے اثرات چھوڑ گیا۔

گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

گلو بل فریز: سردی کی عالمی لہر نے زندگی کو کیسے بدل دیا

زمین کی تاریخ میں کئی ایسے دور گزرے ہیں جنہوں نے زندگی کے دھارے کو یکسر بدل دیا مگر آج سے تقریباً 44.5کروڑ سال پہلے آنے والا شدید عالمی سرد دور (Global Freeze) ان میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس دور میں پیش آنے والا لیٹ آرڈووِیشین ماس ایکسٹنکشن (Late Ordovician Mass Extinction) زمین کی ابتدائی بڑی معدومیوں میں سے ایک تھا جس نے سمندری حیات کے تقریباً 85 فیصد حصے کو ختم کر دیا۔ تاہم حیران کن طور پر یہی تباہی بعد ازاں ایک نئی ارتقائی کامیابی کی بنیاد بنی جس کے نتیجے میں جبڑے رکھنے والے فقاری جانوروں (Jawed Vertebrates) کا عروج ممکن ہوا۔جب زمین اچانک منجمد ہو گئیآرڈووِیشین دور (48.6 تا 44.3 کروڑ سال قبل) کے اختتام پر زمین نے اچانک ایک بڑی موسمی کروٹ لی۔ جنوبی نصف کرے میں واقع عظیم براعظم گونڈوانا پر وسیع گلیشیئر پھیل گئے۔ سمندروں کا پانی برف میں تبدیل ہونے لگا جس کے باعث کم گہرے سمندر سکڑ گئے۔ اس تبدیلی کو ماہرین آئس ہاؤس کلائمیٹ کہتے ہیں۔ اسی دوران سمندری کیمیائی توازن بگڑ گیا، آکسیجن کی کمی اور سلفر کی زیادتی نے سمندری حیات کے لیے حالات مزید جان لیوا بنا دیے نتیجتاً وہ دنیا جس میں زندگی کا بڑا حصہ سمندروں پر مشتمل تھا شدید بحران کا شکار ہو گئی۔معدومی کے دو بڑے مرحلےسائنسدانوں کے مطابق یہ معدومی اچانک نہیں آئی بلکہ دو مراحل میں وقوع پذیر ہوئی۔ پہلے مرحلے میں شدید سردی اور گلیشیئروں کے پھیلاؤ نے سمندری مسکن تباہ کر دیے۔ چند ملین سال بعد جب حالات کچھ بہتر ہونے لگے تو دوسرا مرحلہ آیا۔ اس بار برف پگھلی، سمندر کی سطح بلند ہوئی مگر گرم اور کم آکسیجن والے پانی نے اُن انواع کو بھی ختم کر دیا جو سرد ماحول سے مطابقت پیدا کر چکی تھیں۔اس تباہی سے پہلے زمین کی سمندری دنیا حیرت انگیز حد تک متنوع تھی۔ لمپری نماکونوڈونٹ اپنی بڑی بڑی آنکھوں کے ساتھ سمندروں میں تیرتے تھے، ٹرائیلوبائٹس سمندر کی تہہ پر رینگتے دکھائی دیتے تھے جبکہ دیوہیکل سی سکارپینز اور پانچ میٹر لمبے خول والے نوٹیلائڈز سمندروں کے طاقتور شکاری تھے۔ اس ماحول میں جبڑے والے ابتدائی فقاری جانور موجود تو تھے مگر تعداد میں کم اور نسبتاً غیر نمایاں۔پناہ گاہیں اور ارتقا کا نیا موقعاوکی ناوا انسٹیٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی تازہ تحقیق جو Science Advances میں شائع ہوئی بتاتی ہے کہ اس تباہی کے دوران کچھ خطے ریفیو جیا بن گئے یعنی ایسی محفوظ پناہ گاہیں جہاں چند انواع باقی رہ سکیں۔یہاں جبڑے والے فقاری جانوروں کو ایک غیر متوقع برتری حاصل ہوئی۔ تحقیق کے مطابق یہی گروہ ان محدود مگر نسبتاً محفوظ علاقوں میں زندہ رہا اور آہستہ آہستہ تنوع اختیار کرنے لگا۔200 سالہ فوسل ریکارڈ کا نیا تجزیہتحقیق کے لیے سائنسدانوں نے گزشتہ 200 برسوں کے فوسل ڈیٹا کو یکجا کر کے ایک نیا جامع ڈیٹا بیس تیار کیا۔ اس تجزیے سے واضح ہوا کہ معدومی کے بعد اگرچہ فوری طور پر بحالی نہیں ہوئی مگر کئی ملین سالوں میں جبڑے والے فقاری جانوروں کی اقسام میں مسلسل اضافہ ہوتا گیا۔ تحقیق کے مرکزی مصنف وہائی ہیگی وارا کے مطابق یہ اضافہ براہِ راست معدومی کے بعد پیدا ہونے والے حالات کا نتیجہ تھا۔جغرافیہ نے ارتقا کو کیسے شکل دی؟تحقیق کا ایک اہم پہلو حیاتی جغرافیہ ہے۔ سائنسدانوں نے پہلی بار یہ جانچا کہ معدومی سے پہلے اور بعد میں انواع زمین کے مختلف خطوں میں کیسے پھیلیں۔ خاص طور پر موجودہ جنوبی چین کا خطہ نہایت اہم ثابت ہوا جہاں جبڑے والی ابتدائی مچھلیوں کے مکمل فوسلز ملے ہیں جو جدید شارک سے قریبی تعلق رکھتی ہیں۔ یہی خطہ بعد میں عالمی سطح پر فقاری جانوروں کے پھیلاؤ کا مرکز بنا۔ارتقائی حیاتیات کا ایک پرانا سوال یہ ہے کہ آیا جبڑا کسی نئے ماحولیاتی کردار کے حصول کے لیے بنا یا پہلے ماحول دستیاب تھا اور بعد میں ارتقائی تبدیلی آئی؟اس تحقیق کے مطابق پہلے خالی ماحولیاتی جگہیں پیدا ہوئیں جو معدوم ہونے والی انواع نے چھوڑ دی تھیں۔ ان جگہوں کو پُر کرنے کے عمل میں جبڑے والے جانوروں نے بتدریج ارتقائی برتری حاصل کی۔مکمل صفایا نہیں ترتیب نواہم بات یہ ہے کہ یہ معدومی مکمل صفایا نہیں تھی۔ کئی بغیر جبڑ والے فقاری جانور آئندہ چارکروڑ سال تک سمندروں میں غالب رہے تاہم وقت کے ساتھ ساتھ جبڑے والے جانور زیادہ مؤثر ثابت ہوئے اور بالآخر غالب آ گئے۔سائنسدان اس عمل کو ڈائیورسٹی ری سیٹ سائیکل کہتے ہیں یعنی قدرتی آفات کے بعد زندگی کا نیا مگر مانوس انداز میں دوبارہ ابھرنا۔آج کے لیے کیا سبق؟پروفیسر لارن سالان کے مطابق یہ تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ شدید ماحولیاتی تبدیلیاں صرف تباہی نہیں لاتیں بلکہ بعض اوقات نئی ارتقائی راہیں کھولتی ہیں۔آج جب دنیا ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے تو زمین کی قدیم تاریخ ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ زندگی کس طرح بحرانوں سے گزر کر خود کو نئے سانچوں میں ڈھالتی ہے۔

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

صفر:جو کچھ نہ ہو کر بھی سب کچھ ہے

ریاضی کی دنیا میں اگر کسی ایک عدد کو سب سے زیادہ انقلابی قرار دیا جائے تو وہ بلا شبہ صفر ہے۔ بظاہر یہ ایک سادہ سا ہندسہ ہے جس کی اپنی کوئی مقدار نہیں مگر حقیقت میں یہی ''کچھ نہ ہونے‘‘ کا تصور انسانی تاریخ کی سب سے بڑی فکری جست ثابت ہوا۔ صفر نے نہ صرف حساب کے طریقے بدلے بلکہ سائنس، معیشت، ٹیکنالوجی اور حتیٰ کہ فلسفے پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔صفر سے پہلے کی دنیایہ بات جاننا دلچسپ ہے کہ انسانی تہذیب ہزاروں برس تک صفر کے بغیر چلتی رہی۔ قدیم مصری، یونانی اور رومی گنتی کے نظام رکھتے تھے مگر ان میں صفر کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں تھا۔ رومن اعداد میں آج بھی صفر نہیں پایا جاتا، اسی وجہ سے ان کے ذریعے بڑے حساب یا پیچیدہ ریاضیاتی مسائل حل کرنا نہایت مشکل تھا۔ اس دور میں لوگ اشیا کو گنتے تو تھے مگر ''کچھ نہ ہونے‘‘ کو ایک عدد کی شکل میں سمجھنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ ایک فکری انقلابصفر کا باقاعدہ تصور پہلی بار برصغیر میں ابھرا۔ ساتویں صدی میں بھارتی ریاضی دان برہما گپتا نے صفر کو محض ایک خالی جگہ یا علامت نہیں بلکہ ایک مکمل عدد کے طور پر متعارف کرایا۔ انہوں نے صفر کے ساتھ جمع، تفریق اور دیگر حسابی اصول بھی وضع کیے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ریاضی محض گنتی سے نکل کر ایک منظم علم کی صورت اختیار کرنے لگی۔بعد ازاں یہی تصور مسلم دنیاتک پہنچا۔ مسلم ریاضی دانوں خصوصاً الخوارزمی نے ہندوستانی عددی نظام کو اپنایا، اس میں بہتری پیدا کی اور اسے یورپ تک منتقل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج دنیا بھر میں رائج اعداد کو ''ہندوعربی اعداد‘‘ کہا جاتا ہے۔ عددی نظام کی بنیادصفر کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ اس نے مقاماتی عددی نظام کو ممکن بنایا۔ مثال کے طور پر 101 اور 11 میں فرق صرف صفر کی وجہ سے ہے۔ صفر یہ بتاتا ہے کہ کسی خاص مقام پر کوئی قدر موجود نہیں، مگر اس کے باوجود وہ مقام اہم ہے۔ اگر صفر نہ ہو تو نہ ہزار بن سکتے ہیں، نہ لاکھ، نہ کروڑ اور نہ ہی اعشاری نظام وجود میں آ سکتا ہے۔بینکاری، حساب کتاب، تجارت، بجٹ سازی اور قومی معیشتیں سب اسی نظام پر قائم ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ صفر کے بغیر جدید معیشت کا تصور بھی ممکن نہیں۔مثبت اور منفی اعداد کا توازنصفر ریاضی میں توازن کا نقطہ ہے۔ یہ مثبت اور منفی اعداد کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ نفع اور نقصان، گرمی اور سردی، سطح سمندر سے اوپر اور نیچے یہ سب تصورات صفر کے بغیر ادھورے ہیں۔ اگر صفر نہ ہوتا تو منفی اعداد محض ایک خیالی تصور رہ جاتے اور الجبرا جیسا اہم علم کبھی پروان نہ چڑھ پاتا۔مساواتوں اور مسائل کا حلریاضی اور طبیعیات کے بیشتر مسائل آخرکار صفر پر آ کر ختم ہوتے ہیں۔ مساواتوں کا حل عموماً یہ تلاش کرنا ہوتا ہے کہ کسی مقدار کی قیمت صفر کب بنتی ہے۔ گراف میں دو لکیروں کا نقطہ تقاطع کسی شے کا رک جانا یا کسی قوت کا ختم ہونا،یہ سب صفر کے ذریعے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔سائنس اور کیلکولس میں صفرجدید سائنس، خاص طور پر کیلکولس صفر کے تصور کے بغیر نامکمل ہے۔ رفتاریاتبدیلی کی شرح اس بات پر منحصر ہے کہ کوئی مقدار صفر کے کتنے قریب پہنچ رہی ہے۔ طبیعیات کے قوانین، انجینئرنگ کے فارمولے اور خلائی سائنس سب صفر کے گرد گھومتے ہیں۔ڈیجیٹل دنیا کی بنیادآج کی ڈیجیٹل دنیا صفر کے بغیر ناقابلِ تصور ہے۔ کمپیوٹر، موبائل فون، انٹرنیٹ، اے آئی یہ سب بائنری سسٹم پر کام کرتے ہیں جس کی بنیاد دو ہندسوں پر ہے: 0 اور 1۔ صفر یہاں ''آف‘‘ کی علامت ہے جبکہ ایک ''آن‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ یوں صفر نے جدید ٹیکنالوجی کو جنم دینے میں مرکزی کردار ادا کیا۔صفر محض ریاضی کا عدد نہیں بلکہ ایک گہرا فلسفیانہ تصور بھی ہے۔ یہ ''عدم‘‘، ''خلا‘‘ اور ''خالی پن‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔ بہت سی تہذیبیں ''کچھ نہ ہونے‘‘ کے تصور سے خوف زدہ تھیں مگر صفر نے انسان کو سکھایا کہ عدم بھی معنی رکھتا ہے اور بعض اوقات ''کچھ نہ ہونا‘‘ ہی سب سے بڑی حقیقت ہوتا ہے۔صفر نے گنتی کو علم میں، حساب کو سائنس میں اور معلومات کو ٹیکنالوجی میں بدل دیا۔ یہ وہ خاموش عدد ہے جس کے بغیر جدید دنیا کا پہیہ ایک لمحے کو بھی نہیں گھوم سکتا۔ بظاہر کچھ نہ ہونے والا یہ ہندسہ درحقیقت انسانی ذہانت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔یقیناً صفر وہ عدد ہے جس نے ''کچھ نہیں‘‘ کو '' سب کچھ ‘‘بنا دیا۔

آج کا دن

آج کا دن

آشوٹزکیمپ کا خاتمہ27 جنوری 1945ء کو سوویت یونین کی ریڈ آرمی نے پولینڈ میں واقع نازی حراستی کیمپ آشوٹز کو آزاد کروایا۔ یہ کیمپ دوسری عالمی جنگ کے دوران نازی جرمنی کے نسل کش پروگرام کی سب سے خوفناک علامت سمجھا جاتا ہے۔ اندازوں کے مطابق یہاں تقریباً 11 لاکھ افراد کو قتل کیا گیا، جن میں یہودیوں کے علاوہ پولش، روما (Gypsies)، سوویت جنگی قیدی اور دیگر اقلیتیں بھی اس ظلم کا نشانہ بنیں۔جب سوویت فوجی کیمپ میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہزاروں کمزور، بھوکے اور بیمار قیدیوں کو زندہ پایا ۔ آشوٹز کی آزادی نے دنیا کو نازی مظالم کی اصل شدت سے آگاہ کیا۔ برقی بلب کا پیٹنٹ27 جنوری 1880ء کو مشہور امریکی موجد تھامس ایڈیسن کو برقی بلب کا پیٹنٹ دیا گیا۔ اگرچہ ایڈیسن سے پہلے بھی کئی سائنسدان روشنی پیدا کرنے کے تجربات کر چکے تھے مگر ایڈیسن کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے بلب کو عملی، سستا اور طویل عرصے تک جلنے کے قابل بنایا، جس سے یہ عام لوگوں کے استعمال میں آ سکا۔ایڈیسن کے بلب نے انسانی زندگی میں انقلابی تبدیلی پیدا کی۔ برقی بلب کی ایجاد کے بعد شہروں میں رات کے وقت سرگرمیاں بڑھیں، صنعتوں کو فروغ ملا اور تعلیمی و سماجی زندگی میں نئی وسعت پیدا ہوئی اوریہ ایجاد جدید برقی نظام کی بنیاد بنی۔اپولو 1 کا حادثہ27 جنوری 1967ء کو امریکی خلائی پروگرام کو شدید دھچکا لگا جب اپولو 1 مشن کے دوران ایک زمینی آزمائش میں آگ لگنے سے تین خلابازہلاک ہو گئے۔ یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب کیپسول لانچ پیڈ پر موجود تھا اور اندر آکسیجن بھری ہوئی تھی جس نے آگ کو انتہائی تیزی سے پھیلنے میں مدد دی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ ڈیزائن کی خامیاں، حفاظتی انتظامات کی کمی اور ناقص مواد اس حادثے کی بنیادی وجوہات تھیں۔ اس کے بعد ناسا نے خلائی جہازوں کے ڈیزائن، حفاظتی پروٹوکول اور آزمائشی طریقہ کار میں بڑی اصلاحات کیں، بالآخر 1969 میں انسان پہلی بار چاند پر قدم رکھنے میں کامیاب ہوا۔موزارٹ کی پیدائش27 جنوری 1756ء کو دنیا کا عظیم موسیقار وولف گینگ امیڈیئس موزارٹ آسٹریا کے شہر سالزبرگ میں پیدا ہوا۔ موزارٹ بچپن ہی سے غیر معمولی موسیقی صلاحیتوں کا مالک تھا۔پانچ سال کی عمر میں وہ موسیقی ترتیب دینے لگا اور یورپ بھر میں شاہی درباروں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔موزارٹ نے اپنی مختصر زندگی (35 سال) میں 600 سے زائد موسیقی کے شاہکار تخلیق کیے جن میں سمفنیز، اوپرا، سوناتاز اور مذہبی موسیقی شامل ہے۔ موزارٹ کی مشہور تخلیقات میں The Magic Flute،Don Giovanni اور Requiem شامل ہیں جو آج بھی دنیا بھر میں شوق سے سنی اور پیش کی جاتی ہیں۔پیرس امن معاہدہ 27 جنوری 1973ء کو پیرس امن معاہدے پر دستخط کیے گئے جس کا مقصد ویتنام جنگ کا خاتمہ تھا۔ یہ جنگ تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی اور اس میں لاکھوں افراد ہلاک ہوئے۔ معاہدے کے تحت امریکہ نے ویتنام سے اپنی فوجیں واپس بلانے پر رضامندی ظاہر کی جبکہ جنگی قیدیوں کی رہائی اور جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔ ویتنام جنگ نے امریکی معاشرے میں شدید اختلافات کو جنم دیا تھا اور عوامی دباؤ کے باعث حکومت کو جنگ ختم کرنے کی راہ اختیار کرنا پڑی۔ اگرچہ پیرس معاہدے کے بعد بھی ویتنام میں کچھ عرصہ لڑائی جاری رہی۔