واسکوڈے گاما کی بربریت اور قدرت کا انصاف !
اسپیشل فیچر
واسکوڈے گاما کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک سیاح کا تصور ابھرتا ہے۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔واسکوڈے گاما سیاح تو نہیں لیکن تاریخ میںسیاہ کرتوتوںکی وجہ سے بھی جانا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک ملاح تھا، بلا کی ذہانت ، قائدانہ صلاحیتیں ، مہم جوئی اور جنگجوانہ عادات کے باعث ایک بحری قذاق کی شہرت رکھتا تھا ۔لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لفظ بحری قذاق کی تعریف میں کیا یہ بھی لکھا ہے کہ وہ مال اسباب لوٹنے کے ساتھ ساتھ پورے کے پورے جہاز کے مسافروں کو بلاوجہ قتل بھی کر دے؟۔ جہازوں کو نذر آتش کر دے یا اغوا کندگان کے اعضاء کاٹ کراپنی دھاک بٹھانے کے لئے وہاں کے حکمرانوں کو بھجوا دے؟ اگرچہ مزاہمت کی صورت میں تو اس طرح کا غیر انسانی فعل کسی حد تک سمجھ آتا ہے لیکن مال اسبا ب حاصل کر لینے کے بعد بھی اس فعل کو بحری قذاق نہیں بلکہ بحری دہشت گرد کہنا زیادہ موزوں رہے گا ۔
واسکوڈے گاما کون تھا ؟
واسکو ڈے گاما ایک پرتگالی بحری قذاق تھا ۔وہ 1469 میں پرتگال میں پیدا ہوا اور1524 میں کوچی (ہندوستان)میں فوت ہوا ۔یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں اپنے ملک سے باہر ڈکیتی کو جائز تصور کیا جاتا تھا ۔ 15ویں صدی میں یورپ میں مصالحے جن میں کالی مرچ اور دار چینی سر فہرست تھے ،سونے کے بھاؤ بکتے تھے اور ان سب اشیاء کا گڑھ ہندوستان ہوا کرتا تھا ۔ یورپی اقوام عام طور پر بحیرہ روم کے راستے اسکندریہ اور دیگر مشرقی بندرگاہوں پر پہنچتے تھے جہاں زیادہ تر عرب تاجر یہ اشیاء خریدتے تھے ۔لیکن بحیرہ روم میں ترکوں کے طاقت ور بحری بیڑے کے سبب یہ راستہ مغربی اقوام کے لئے پر خطر ہوتا چلا گیا جس پر یورپ کے حکمرانوں نے ہندوستان کے براہ راست راستے کی تلاش بارے سنجیدگی سے کوششیں شروع کر دیں ۔ یہ وہی زمانہ تھا جب سپین کے کولمبس نے ترکوں سے بچتے بچتے امریکہ دریافت کر لیا تھا۔ چنانچہ پرتگالی حکمرانوں نے ایک تجربہ کار ملاح واسکوڈے گاما کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے چار جہاز دے کر ہندوستان کا سہل اور چھوٹا رستہ تلاش کرنے کی مہم پر روانہ کیا۔ ساؤگیبرل نامی جہاز کا کپتان واسکوڈے تھا جبکہ ایک جہاز کا کپتان اس کا بھائی پاؤکو تیسرے جہاز کا کپتان نکو لاؤ کوئلو تھا جبکہ چوتھے جہاز کے نام بارے تاریخ کی کتابیں خاموش ہیں ۔
واسکوڈے گاما کو ہندوستان کے سفر کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
یہ سوال اکثر ذہنوں میں ابھرتا ہے کہ آخر ایسا کیا تھا کہ یورپ کے ملک پرتگال کے حکمرانوں پر دور دراز کے ایک ملک ہندوستان پہنچنے کی دھن سوار تھی؟ اس سوال کا جواب اتنا غیر متوقع ہے کہ شاید بہت سوں کو یقین نہ آئے۔ لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ چونکہ مصالحہ جات جیسا کہ کالی مرچ،دارچینی، لونگ اور الائچی وغیرہ صدیوں تک یورپ کے لئے ایک نایاب اور بیش قیمت اشیاء کا درجہ رکھتی تھیں۔تاہم پانچ سو سال پہلے تک اسے بیچنے اور اس سے دولت کمانے والے صرف عرب تاجر ہوا کرتے تھے ۔ اور یہ راز کہ کالی مرچ اور دیگر مصالحہ جات کی پیداوار کہاں ہوتی ہے اور اس کی اصل منڈی کہاں ہے ،صرف عرب ہی جانتے تھے ۔15ویں صدی میں ریاست کیرالہ کے لئے کالی مرچ کو وہی مقام حاصل تھا جو آج کے دور میں خلیجی ریاستوں کے لئے تیل کو حاصل ہے ۔ چنانچہ ایک عرصے تک عربوں نے پوری دنیا خصوصاََ یورپ سے اس راز کو مخفی رکھا ہوا تھا ۔جبکہ یورپ ہی اس زمانے میں ان مصالحہ جات کا سب سے بڑا خریدار ہوا کرتا تھا۔
یہ راز جا ن لینے کے بعد کہ مصالحوں کا مرکز ہندوستان ہے،1497ء میں پرتگال کے بادشاہ مانویل نے اپنے سب سے ماہر سمندری جہاز راں واسکو ڈے گاما کو کالی مرچ کا مرکز تلاش کرنے کا کام سونپا ۔ واسکوڈے گاما کی قیادت میں چار جہازوں کا قافلہ افریقہ کا چکر کاٹ کر کینیا کی بندر گاہ مالندی پہنچا ۔جہاں اسے ہندی تاجر نظر آئے جن میں سے ایک ملاح کو اغوا کر کے یہ اپنے ساتھ ہندوستان لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ جس سے اس کی مشکل بہت حد تک آسان ہو گئی۔تقریباََایک سال کے طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد یہ 20 مئی 1498 کا دن تھا جب واسکوڈے گاما 12000میل کا سفر طے کر کے ہندوستان کی ریاست مالا بار (موجودہ نام کیرالہ ) کے شہر کالی کٹ کے ساحل پر اترا۔ یہ طویل بحری سفر میں موزمبیق (موجودہ کینیا)سے ہوتا ہوا ہندوستان پہنچا تھا ۔اس کٹھن سفر کے دوران اس کے بحری فلیٹ کے اکثر لوگ بار بار موت کے منہ سے بچتے رہے ۔ اس طویل سفر میں انہیں اکثر و بیشتر بلند و بالا سمندری لہروں سے نبر دآزما بھی ہونا پڑا ۔ خوراک کی کمی کا سامنا تو اکثر انہیں درپیش رہا جسے وہ پاس سے گزرتے جہازوں کو لوٹ کر یا کسی قریبی بندرگاہ کی شہری آبادی پر دھاوا بول کر پورا کرتے رہے ۔ اس طویل سفر کے دوران اسے اکثر اپنے ساتھیوں سے بیماری کے حملوں یا بے رحم سمندری طوفانی لہروں کی وجہ سے ہاتھ بھی دھونا پڑے ۔ کالی کٹ تک پہنچنے میں کینیا سے اسے23 دن لگے ۔جبکہ واپسی پر یہی سفر ہوا کے مخالف سمت ہونے کے باعث 132 دن میں طے کیا۔
کالی کٹ کے ہندو راجہ سامو تھری نے واسکوڈے گاما کی خوب آؤ بھگت کی لیکن درباری یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اس وقت کی روایات کے مطابق واسکوڈے گاما نے راجہ کو تحفے میں سونے اور جواہرات کی جگہ چار ارغوانی چغے ، چھ ٹوپیاں ، چار مونگے کی شاخیں ، سات دھاتی برتن ، ایک صندوق شکر کا ، خوردنی تیل اور ایک ڈرم شہد شاہی تحفے کے طور پر پیش کئے۔ جو کسی طور بھی ایک سلطنت کے حکمران کے شایان شان نہ تھے ۔
راجہ ساموتھری ایک زیرک اور ذہین حکمران تھا ، اس نے واسکوڈے کو شاہی قاصد ماننے سے انکار کر دیا ۔ جب واسکوڈے نے راجہ سے واپس جانے کی اجا زت چاہی اور ساتھ ہی مطالبہ کیا کہ نہ بک سکنے والے سامان کی رکھوالی کے لئے اسے اپنا ایک نمائندہ یہاں چھوڑنے کی اجازت دی جائے۔ لیکن راجہ یہ بات نہ مانا بلکہ راجہ نے بک جانے والے سامان پر دوسرے تاجروں کی طرح اسے بھی ٹیکس ادا کرنے کا کہا جو عام طور پر سونے کی شکل میں ہوا کرتا تھا ۔راجہ سے اس کے مذاکرات ناکام ہو گئے چنانچہ واپسی پر اس نے کالی کٹ پر بمباری کر دی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا ۔چونکہ یہاں رہ کر وہ ہندوستانی سستے مصالحوں کا ایک ذخیرہ جمع کر چکا تھا جسے وہ یورپ لے جا کر سونے کے بھاؤ بیچ کر خوب منافع کمانا چاہتا تھا ۔لہٰذا وہ ہندوستان سے مصالحے اور دیگر سامان جو وہ اپنے ساتھ یورپ لے گیا تھا وہ اس بحری مہم کے کل خرچے سے ساٹھ گنا زیادہ مالیت کے تھے ۔سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ واسکوڈے ٹیکس کیا دیتا، الٹا جاتے جاتے سولہ مقامی باشندوں کو غلام بنا کر ساتھ لے گیا۔ واپسی پر مالندی ان کا پہلا پڑاؤ تھا لیکن یہاں تک پہنچتے پہنچتے واسکوڈے کے عملے کے نصف سے زیادہ لوگ بیماریوں سے لڑتے لڑتے زندگی کی بازی ہار چکے تھے ۔ ایک جہاز طوفان کی شدت سے برباد ہو گیا تھا۔ عملے کی کمی پیدا ہو گئی چنانچہ چارو ناچار واسکوڈے کو اپنا ایک جہاز مالندی چھوڑنا پڑا ۔ لگ بھگ دو سال بعد10 جولائی 1499کو 28ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرنے کے بعد یہ پرتگالی بیڑا لزبن واپس پہنچا تو 170 کے عملے میں سے صرف 54 آدمی واپس لوٹ سکے تھے ۔ لیکن اس قافلے کے ساتھ واسکوڈے شامل نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے بھائی کی بیماری کے سبب مالندی جزیرے پر ہی رک گیا تھا۔
واسکو ڈے کی بربریت
واسکوڈے ہندوستان کے اپنے پہلے سفر کے دوران اس علاقے کے لوگوں کے بارے میں، یہاں کی روایات اور ہندوستان میں چھپے خزانوں بارے بہت حد تک آگاہی حاصل کر چکا تھا۔چنانچہ اس مرتبہ وہ پندرہ جنگی جہازوں اور آٹھ سو فوجیوں کے بیڑے کے ساتھ آیا ۔ اس نے راستے میں ملنے والے متعدد جہازوں کو لوٹا۔ راستے ہی میں کالی کٹ سے مکہ مکرمہ جاتے مسلمانوں کے ایک جہاز ،جس میں 400 حجاج (بشمول 50 خواتین) کو لوٹنے کے بعد آگ لگا دی۔اسی سفر کے دوران واسکوڈے نے کالی کٹ کے نزدیک 20 ہندوستانی جہازوں کو لوٹا، ان کے عملے کو بے دردی سے ذبح کیا اور 800 سے زائد قیدیوں کے ناک، کان اور ہاتھ کاٹ کر ایک کشتی میں ڈال کر ایک خط کے ساتھ وہاں کے راجہ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ وہ ان کا سالن بنا کر کھا لے ۔
اس دفعہ واسکوڈے کے تیور کچھ اور تھے ۔ جسے کالی کٹ کے راجہ نے بھانپتے ہوئے اپنا ایک ایلچی بات چیت کے لئے بھیجا۔ لیکن طاقت کے نشے سے سرشار واسکوڈے نے ایلچی کے ہونٹ اور کان کاٹ کر اسکی جگہ کتے کے کان سلوا کر راجہ کو بھجوا دئیے ۔اگلی بار جب واسکوڈے ہندوستان وارد ہوا تو اس نے افریقہ کے مشرقی ساحلی شہروں کو بلاوجہ بمباری کا نشانہ بنایا ۔ہندوستان کی ایک بندر گاہ اور ایک ساحلی شہر گوا پر اپنا قبضہ جما لیا اور عملاََ بر صغیر میں پرتگالی کالونی کی بنیاد رکھ دی۔انسان اس روئے زمین پر جتنا بھی ظلم کر لے اور اپنے آپ کو جتنا بھی طاقت ور سمجھ بیٹھے قدرت کے قانون کے سامنے سب بے بس ہیں ۔سن 1524 میں اس سفاک شخص کو ایک معمولی مچھر نے کاٹ کر ملیریا بخار میں مبتلا کر دیا ، اور چند دنوں کے اندر بے گناہوں کا یہ قاتل شخص انتہائی بے بسی کے عالم میں ہندوستان کے شہر کوچی میں لقمہ اجل بن گیا۔