’’نانا کی جان قمرو‘‘۔۔۔انور اقبال بھی چل بسے, ٹی وی،فلم،تھیٹراورریڈیو پر فن کے جوہر دکھائے ، پہلی بلوچی فلم بنانے کا کریڈٹ بھی اپنے نام کیا
اسپیشل فیچر
پاکستان ٹیلی ویژن انڈسٹری کے سینئر اداکار انور اقبال بلوچ 71 برس کی عمر میں کینسر کے باعث طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ۔ ڈرامہ سیریل''شمع‘‘ میں اداکاری کے جوہر دِکھا کر شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والے انور اقبال بلوچ نے بے شمار اردو اور سندھی ڈراموں میں کام کیا۔جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد 1976 ء میں پروڈکشن سے اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ بلوچی زبان کی پہلی فلم ''ہمل و ماہ گنج‘‘بنانے کا کریڈٹ بھی انہی کے نام ہے، اس فلم کو پروڈیوس بھی انور اقبال نے کیا تھا جبکہ اس میں بطور ہیرو بھی خود ہی آئے تھے۔ اس فلم کی کہانی نامور شاعر سید ظہور شاہ ہاشمی نے لکھی تھی جبکہ فلم کی دیگر کاسٹ میں انیتا گل، نادر شاہ عادل، اے آر بلوچ ، نور محمد لاشاری شامل تھے۔ اداکاری کی دنیا میں نام کمانے والے انور اقبال اداکاری کے علاوہ ایک استاد بھی رہے ، ایک نجی سکول میں بچوں کو تعلیم دیتے رہے۔ ٹی وی ڈرامہ سیریل '' شمع ‘‘ سے ملک گیر شہرت پانے والے ''نا نا کی جان قمرو ‘‘ انور اقبال انتہائی ملنسار شخصیت کے مالک تھے ، 2ماہ قبل انکی اہلیہ کا انتقال ہوا جس کے بعدسے وہ مسلسل بیمار رہے۔
انور اقبال25 دسمبر 1949 ء کو بلوچ سیاسی رہنماحاجی محمداقبال بلوچ کے گھر کراچی میں پیدا ہوئے ، کراچی یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔راقم سے ایک ملاقات میں انہوں نے خود بتایا تھاکہ'' فلموں میں کام کرنے کاشوق نو عمری سے تھا ایک مرتبہ ایسٹرن سٹوڈیودوستوں کے ساتھ شوٹنگ دیکھنے گیا تو سیٹ پر اداکار محمدعلی تھے،میں انکی فلمیں بہت شوق سے دیکھا کرتا تھا۔انکوملنے گیاتوانہوں نے پوچھا کیسے آئے ہو فلموں میں کام کرنے کا شوق ہے کیا؟ میں نے کہا ہاں۔۔جس پرعلی بھائی نے برجستہ کہا بیٹا پڑھ رہے ہوتو اپنی تعلیم پر توجہ دو۔۔۔جب تعلیم مکمل ہوجائے تو اس فیلڈمیں آنا۔انکی یہ بات ذہن نشین کرلی۔اللہ کے فضل سے تعلیم مکمل کی۔ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے کیا، اس کے بعدکئی پروڈیوسر ز کیجانب سے ڈراموں میں کام کرنے کی آفرز ملتی رہیں مگرنہیں کیا۔‘‘
پھرشوبز کی فیلڈمیں کیسے آگئے؟ انکا کہناتھا کہ''میں فاطمہ ثریا بجیاکی بہت عزت کرتا تھا ان کا کہا ٹال نہیں سکتا تھا، قاسم جلالی صاحب بھی مجھے آفرکرچکے تھے ،ان کومنع کردیا تھا۔فاطمہ ثریابجیا نے مجھے پہلا چانس دیا جس پر ہمیشہ احسان مندرہوں گا ،ان کی شفقت و محبت کا مقروض ہوں ، انہوں نے مجھے ایک ہی کریکٹرسے دنیابھرمیں شہرت دیدی۔‘‘
انوراقبال بلوچ نے 70 ء کی دہائی میں اپنے فنی کیریئر کاآغاز کیا ان کوشہرت فاطمہ ثریابجیا کے لکھے سکرپٹ ،اے آر خاتون کے ناول '' شمع ‘‘ کے کردار'' قمرو‘‘ سے ملی ،وہ سینئر اداکار ماجدعلی کے نواسے بنے تھے وہ ان کو'' نانا کی جان قمرو‘‘ کہہ کربلاتے تھے ۔ اس ڈرامے میں کئی نامور فنکاروں نے کام کیا ، سینئر فنکاروں کے ساتھ کام کرکے انہوں نے جو کچھ سیکھا وہ ان کی فنی زندگی کیلئے گوہر نایاب ثابت ہوا۔
نسیم حجازی کے ناول پر بنائی گئی تاریخی سیریل '' آخری چٹان ‘‘ میں ان کا کردار متاثرکن رہا ان کی پرفارمنس کو ناظرین نے بہت پسند کیا۔اس ڈرامہ سیریل میں ان کا کردار منفرد نوعیت کاتھا۔ عمدہ کردارنگاری نے ان کی شہرت فلم انڈسٹری تک پہنچا دی۔اسوقت ہرفلمساز ان کوکاسٹ کرنے کیلئے رابطے کرتا لیکن ٹی وی ڈرامہ سیریل کے بعد ہی وہ کوئی فلم سائن کرنے کااختیار رکھتے تھے۔ پورے فنی کیریئر میں''نانا کی جان قمرو ‘‘ انکی شناحت بنا رہا۔
ان کے بھائی احمد اقبال جو ایک بلوچی چینل کے مالک ہیں نے بتایاکہ وہ کئی بیماریوں میں مبتلا ہوچکے تھے ، شوگر اور پیٹ کے کئی امراض کیساتھ کینسر جیسے موذی مرض سے بھی جنگ لڑرہے تھے۔ بگڑتی صحت کے پیش نظر ان کونجی ہسپتال میں کچھ روزقبل داخل کرایاگیاتھاعلاج جاری تھا کہ وہ خالق حقیقی سے جاملے۔ انور اقبال نے بیماری کے باوجودہمت نہیں ہاری بیوی کی تیمار داری کیلئے زیادہ وقت گھر پر ہی گزارتے تھے ،انہوں نے پسماندگان میں 4 بیٹیاں چھوڑی ہیں۔
انوراقبال نے پہلی بلوچی فلم'' ہمل ماہ گنج ‘‘ بنائی جو ایک بلوچ ہیرو پرمبنی تھی جس نے بلوچستان کے کوسٹل بیلٹ گوادر کوپرتگالیوں سے بچانے کیلئے جنگ لڑی اورفاتح رہا ۔ اس فلم کے ہدایتکار اسلم بلوچ ، گیت نگار عطا شاد اور موسیقار فتح محمد تھے۔ ولی محمد اور عشرت جہاں جیسے منجھے ہوئے گلوکاروں نے اس فلم کے گیت گائے۔ افسوسناک امریہ رہاکہ1974 ء میں اس فلم کوبلوچیوں کی جانب سے بلوچ ثقافت کے خلاف پرچار قرار دیکر متنازعہ بنادیاگیا جو آج تک سینما گھروں میں نمائش کیلئے پیش نہیں کی جاسکی۔
اس فلم کے مکالمے وکہانی معروف صحافی نادر شاہ عادل نے لکھے تھے، اس فلم کوسنسر سرٹیفکیٹ بھی جاری کردیاگیاتھااس دوران نیشنل عوامی پارٹی (اے این پی) نے احتجاجی مہم چلا دی ۔ بعد ازاں 40 برس گزر جانے کے بعداس فلم کو آرٹس کونسل میں دکھایا گیا ۔ اس فلم کے ریلیز نہ ہونیکا صدمہ بھی انور اقبال کوعمر بھر رہاکیونکہ وہ بڑی سکرین کی پہلی بلوچی فلم پر اپنے سرمائے سے بھی محروم ہوگئے تھے ۔
انور اقبال بلوچ لیاری کے علاقے بغدادی میں پیدا ہوئے تھے ان کا خاندان مسلم آباد سے شفٹ ہواتھا، والد حاجی اقبال بلوچ نے1960 ء میں ایک ٹریول ایجنسی قائم کی جوکراچی سے گوادر پی آئی اے کے ٹکٹ فروخت کرتی تھی۔ قاسم جلالی نے انور اقبال کے اندر کے فنکار کو پہچانا اور متعدد ڈراموں میں کاسٹ کیا۔''شمع ‘‘کے بعدقاسم جلالی نے ان کو ڈرامہ'' عشق پیچا‘‘ میں منفرد رول دیا ، پہلے مغل شہنشاہ بابر کی زندگی پربنائی گئی سیریز'' بابر ‘‘ میں بھی اہم کردار اداکیایوں ان پر تاریخی کرداروں کی چھاپ لگ گئی۔انور اقبال نے اس چھاپ کو ختم کرنے کیلئے دیگر ڈرامہ پروڈیوسرز کی آفرزکوقبول کرنے کا فیصلہ کیا۔
بلوچی ہونے کے باوجود وہ اردو زبان کو خوب سمجھتے تھے پھر ا نہیں سندھی ڈراموں میں بھی مواقع ملتے رہے۔انہوں نے ان گنت اردو اور سندھی ڈراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور سلور سکرین کے فلمسازوں اور ہدایتکاروں کواپنی جانب متوجہ کیا۔ ان کے اردو و سندھی قابل ذکر ڈراموں میں ''بابر، دوستوں جوپیار، پل سیرت،رشتہ انجانا سا‘‘ اور کئی دیگرشامل ہیں۔
انکو 2012 ء میں فنی خدمات کے صلے میں پرائیڈآف پرفارمنس بھی دیاگیا۔آخری دنوں میں لیاری کے نوجوانوں کی فیچرفلم'' دلدل‘‘ میں کام کررہے تھے جس کی عکسبندی کیلئے ہمیشہ فکرمندرہتے تھے۔انہوں نے سوشل میڈیاپر'' پردہ سیمیں ‘‘کے عنوان سے ملکی ڈراموں اور فلموں کے حوالے سے ایک گروپ بنایاہواتھاجس کے وہ سرپرست تھے۔ ایسے فنکارصدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ سلطان راہی جب کراچی آتے تو ہمیشہ انوراقبال کوفون کرتے اور انور اقبال انکے ساتھ ساتھ رہتے۔ انور اقبال کہا کرتے تھے کہ'' درویشی میں نے سلطان راہی سے سیکھی ،جس طر ح وہ عام ورکرز کو عزت دیتے تھے اس کا تصور آج کے دور میں محال ہے۔‘‘اللہ رب العزت انور اقبال بلوچ کے درجات بلند فرمائے ۔