اردو کا پہلا اخبار
اسپیشل فیچر
اردو کا پہلا اخبار کونسا تھا، کب اور کہاں سے شروع ہوا؟یہ بحث عرصہ سے جاری ہے۔ اس ابہام کی وجہ ماضی کے ریکارڈ کا باقاعدہ مرتب نہ ہونا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ثبوت اور تفصیلات یکجا ہوتی چلی گئیں اور طویل عرصہ سے جاری اس بحث میں کمی آگئی ۔محققین آج بھی اس کھوج میںہیں کہ شاید اردو اخبار موجودہ دعوئوں کے برعکس بہت پہلے وجود میں آچکا تھا۔
ایک لمبے عرصہ تک اردو اخبار کے بانی کے طور پر تحریک آزادی کے شہید مولوی محمد باقر دہلوی کا نام لیا جاتا رہا ہے۔ جنہیں انگریزوں نے توپ کے سامنے باندھ کر بارود سے اڑا کر شہید کر دیا تھا۔ ان کا دہلی سے شائع ہونے والا اردو اخبار 1836ء سے 1857ء تک جاری رہا۔پھر یہ دعویٰ سامنے آیا کہ ''آگرہ ‘‘ نامی اردو اخبار جو 1831ء میں اکبر آباد سے شائع ہوا تھا ،اردو کا پہلا اخبار تھا۔ ابھی محققین کسی نتیجہ پر نہ پہنچے تھے کہ ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ '' جام جہاں نما ‘‘ جو شروع میں ایک ضمیمہ تھا کا پہلا شمارہ 27 مارچ 1822 ء کو منظر عام پر آیا تھا۔یہ اخبار 1824ء میںبند کردیا گیا لیکن 1825ء میں اس کا دوبارہ اجراء کیا گیا۔
اس کے بعد ایک اور دعویٰ سامنے آیا کہ کلکتہ سے1821 ء میں اپنی اشاعت کاآغاز کرنے والا '' مراۃ الاخبار‘‘ اردو کا پہلا اخبار تھا جس کے بانی راجا رام موہن تھے۔بعدازاں ایک نئی تحقیق سامنے آئی کہ کلکتہ سے کاظم علی نامی صحافی نے 1810ء میں '' اردو اخبار ‘‘کے نام سے سب سے پہلا اردو اخبار شروع کیاتھا۔ان تمام دعوئوں کے برعکس توجہ طلب بات یہ ہے کہ باقی اخبارات کے شواہد اور ثبوت دستیاب نہیں ماسوائے ''جام جہاں نما ‘‘ کے جس کی شہادت اپریل 1822ء کے '' کلکتہ جرنل ‘‘ کی اس خبر سے ملتی ہے۔''یہ ایک نیا اخبار ہندوستانی زبان ( اردو) میں جاری ہوا ہے،اسے کس نے جاری کیا، اس کا پتہ نہیں چل سکا،یہ اخبار کوارٹر سائز کے تین صفحات پر مشتمل ہے اور اس کانام ''جام جہاں نما ‘‘ ہے، اس کا پہلا شمارہ27 مارچ کو شائع ہوا‘‘۔ تاریخ کی کتابوں میں بھی اس اخبار کاباقاعدہ ذکر ملتا ہے اور یہ بھی لکھاملتا ہے کہ اس کے پہلے شمارے میں ایک نوٹس شائع ہوا تھا کہ '' یہ ایک ہفتہ وار اخبار ہے جس کی ماہانہ قیمت دو روپے ہے ‘‘۔ اگرچہ اس اخبار کے ابتدائی 80 شمارے کہیں بھی دستیاب نہیں، تاہم بعد کے 161 شمارے نیشنل آرکائیوز آف انڈیا نئی دہلی، نیشنل لائبریری کلکتہ اور برٹش لائبریری لندن میں موجود ہیں۔ کلکتہ کی عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر تہمینہ اسلام اپنے ایک مقالہ '' اے کیس سٹڈی آف اردو نیوز پیپر '' جام جہاں نما ‘‘ میں لکھتی ہیں کہ '' اس اخبار میں اداریہ نہیں ہوا کرتا تھا۔جبکہ اس اخبار میں سائنسی اور ترقیاتی خبریں ایک دلچسپ اندازمیں چھپتی تھیں ‘‘۔
ڈاکٹر سمیع احمد اپنی ایک کتاب '' اردو صحافت اور تحریک آزادی ‘‘ میں لکھتے ہیں '' یہ ایک ہفت روزہ اخبار تھا جو بدھ کے روز شائع ہوتا تھا۔اس کے سرورق کے ہیڈر میں دونوں طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی تصویر ہوا کرتی تھی‘‘۔
گربچن چندن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''صحافت کے ابتدائی دور میں جب آمدورفت کی سہولتیں کم یاب اور ذرائع محدود تھے ''جام جہاں نما‘‘ زیادہ تر دستیاب انگریزی اخبارات کے مضامین اور خبروں کے اردو ترجمے اور فارسی وقائع نگاروں کے اپنے دفتر میں موصول ہونے والے مراسلات پر انحصار کرتا رہا ‘‘۔ گربچن چندن آگے چل کر لکھتے ہیں کہ '' یہ ہری ہردت ہی تھے جن کی اردو سے چاہت نے انہیں صحافت کے میدان میں اترنے پر مجبور کیالیکن ان کا یہ تجربہ فوراً کامیاب اس لئے نہ ہو سکا کہ لوگوں کی اکثریت ناخواندہ اور غریب تھی۔ چنانچہ دو ماہ بعد ہی انہوں نے اردو چھوڑ کر فارسی زبان میں اخبار نکال لیا جو اس وقت اشرافیہ کی زبان تھی لیکن اردو سے ان کی لگن نے ایک سال بعد ہی اس فارسی اخبار کے ساتھ ہی اردو میں چار صفحات کے ایک ضمیمہ کا آغاز کیا جو 23 مئی 1823ء سے 23 جنوری 1828ء تک متواتر شائع ہوتا رہا‘‘۔
اس سب کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اردو اخبار کاآغاز ہندوستان کے پہلے مجاہد اور شہید آزادی ٹیپو سلطان نے کیا تھا۔تاریخی حوالوں کے مطابق ٹیپو سلطان نے 1794ء میں ایک حکم نامہ جاری کیا تھا کہ سرکاری پریس سے اردو زبان کاایک اخبار جاری کیا جائے جس کی چھپائی عربی حروف میں ٹائپ کی جائے۔ اور اس اخبار کا نام '' قومی اخبار ‘‘ رکھاجائے۔یہ اخبار سرکاری سرپرستی اور نگرانی میں جاری ہواجو اردو زبان کا پہلا اخبار تھا۔بنیادی طور پر یہ ایک ہفتہ وار عسکری اخبار تھا، اس لئے اخبار تک عوامی رسائی نہ تھی بلکہ یہ صرف فوجیوں میں تقسیم ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اسے عوامی اردواخبار کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں نے پریس پر قبضہ کرکے اس اخبار کی تمام کاپیاں جلا کر ہمیشہ کیلئے اسے بند کر دیا۔
لاہور سے پہلا اردو اخبار ؟:''کوہ نور ‘‘ برطانوی دور میں ہندوستان کے شہر لاہور سے شائع ہونے والا پہلا اردو ہفت روزہ اخبار تھا، جس کا آغاز 14مئی 1850ء میں منشی ہرسنگھ رائے کی زیر ادارت ہوا۔ برطانوی عہد کے صوبہ پنجاب کی صحافت میں اس اخبار کاایک اہم مقام رہا ہے۔ہرسنگھ رائے کو ''کوہ نور ‘‘ کی بدولت ملک گیر شہرت حاصل ہوئی۔ہرسنگھ رائے نے پنجاب میں اردو کو فروغ دینے اور تعلیم کو عام کرنے میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔