شخصیت میں تبدیلی کا کردار
اسپیشل فیچر
تبدیلی کیا ہے؟ تبدیلی کسے کہتے ہیں؟ تبدیلی کا انسانی زندگی پر کیا اثر پڑتا ہے؟ اور ہمارا تبدیلی سے کیونکر واسطہ پڑتا ہے؟ دراصل تبدیلی ایک بہت بڑا لفظ ہے۔ اس کی ہماری زندگی میں بہت اہمیت ہے اور یہ انسانی زندگی کے ہر پہلو میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ہر انسان اپنی زندگی میں کسی نہ کسی ''تبدیلی‘‘ سے ضرور متاثر ہوتا ہے، جو مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ہماری زندگی میں داخل ہوتی ہے لیکن تبدیلی کی ہماری زندگی میں واقع ہونے کی اتنی اہمیت نہیں۔ اصل اہمیت یہ ہے کہ ہم تبدیلی کواپنی ذات کیلئے کس طرح قبول کرتے ہیں؟ کیا ہم تبدیلی کو خوش دلی سے قبول بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ ہم اپنی زندگی میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلی سے مطمئن بھی ہیں کہ نہیں؟ اگر تبدیلی کو قبول کیا ہے تو اس سے سیکھا کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق اصل تبدیلی انسان کے اندر سے آتی ہے اور تبدیلی کا آنا کسی بھی معاشرے اور معاشرے میں موجود تمام انسانوں کیلئے بہت اہم ہے۔ تبدیلی سے ہی کسی انسان کی زندگی کا رہن سہن، سوچنے کا طریقہ، گفتگو کا انداز اور راہ سے بھٹکے ہوئے انسان کا راہ راست پر آ جانا، حتیٰ کہ انسان کی پوری زندگی کا تبدیل ہو جانا، یہ سب تبدیلی کی واضح مثالیں ہیں۔ تبدیلی کا آنا بہت ضروری ہے کہ یہ مستقل اکتاہٹ اور یکسانیت کے شکار افراد کو نیا پن بھی مہیا کرتی ہے، مگر تبدیلی سے مطمئن ہونا اور اس کو قبول کرنا بھی ایک پیچیدہ عمل ہے۔
کچھ تبدیلیاں خوشی کے ساتھ انسانی زندگی میں دستک دیتی ہیں تو کبھی کچھ تبدیلیاں دکھ لے کر انسانی زندگی میں داخل ہوتی ہیںجبکہ کچھ تبدیلیاں انسان کی زندگی میں جبراً آتی ہیں۔جب کوئی شخص اپنی زندگی میں بہت خوش اور مطمئن ہو اور وہ اچانک اداس، پریشان اور غمگین نظر آنا شروع ہو جائے تو تب انسان کی زندگی میں کوئی پریشان کن تبدیلی داخل ہو تی ہے۔ اس طرح کی تبدیلی مستقبل ہو یا عارضی ،انسان اس سے متاثر ضرور ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان مستقل طور پر پریشان و اداس رہنا شروع ہو جائے تو پھر اس کا مطلب کے کہ اس نے اس پریشان کن تبدیلی کو خود پر حاوی کر لیا ہے اور اس طرح یہ تبدیلی متاثرہ شخص کے ساتھ ساتھ اس کے گردو نواح میں رہنے والوں کے لئے بھی پریشانی کا باعث بنتی ہے۔
دوسری صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مشکل یا پریشانی میں مبتلا ہو،تنہائی پسند ہواور اچانک اس کی زندگی میں اچانک کوئی خوشگوار لمحہ آ جائے جو اس کو ذہنی سکون عطا کرے، تو یہ اس کی زندگی میں خوشگوار تبدیلی ہو گی۔ اس تبدیلی سے اس انسان کی زندگی میں واضح تبدیلی آتی ہے اور اس کی ہر چیز تبدیل ہو جاتی ہے۔ اچانک کسی چیز کا مل جانا، گھر کا تبدیل ہو جانا یا اللہ کی رحمت سے اعتماد کا بحال ہو جانا۔ سب خوشگوار تبدیلیوں کی علامات ہیں۔ ایسی تبدیلیاں انسان کی زندگی کا تکلیف دہ بوجھ نہ صرف ہلکا کر دیتی ہیں بلکہ اس کی زندگی پر اپنا خوشگوار اثر بھی چھوڑتی ہیں۔ نتیجتاً ایسی تبدیلی کو انسان نے قبول کر کے خود کو پرسکون کر رکھا ہے۔
کچھ تبدیلیاں انسان کی زندگی میں جبراً داخل ہوتی ہیں، جن کو انسان بعض اوقات قبول نہیں کرنا چاہتا لیکن مجبوراً قبول کرنا پڑتا ہے۔ اس کی ذمہ داری بذات خود اس انسان پر اور اس کی اَنا اور ضد پر عائد ہوتی ہے۔ یہ تبدیلیاں خوشگوار بھی ہوتی ہیں اور ناخوشگوار بھی۔ ایسی صورتحال میں انسان ایک خاص وقت کے بعد خود کو مغرور سمجھتا ہے تو کوئی نہ کوئی ناخوشگوار تبدیلی اس کی انا اور ضد پر حملہ آور ہو جاتی ہے۔ جس سے وہ چیخ اٹھتا ہے اور سخت ترین اضطراب کا شکار ہو جاتا ہے اور اس تبدیلی کو قبول نہیں کرتا۔
دوسری جانب جب کوئی شخص کسی تکلیف دہ وقت کو بھی اپنا سب کچھ سمجھ لیتا ہے اور اپنی انا اور ضد سے کام لیتے ہوئے اپنی زندگی کو بہتر سے بہترین کرنے میں کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھا پاتا تو ایسے میں اس کے ارد گرد کے وہ لوگ جو اس کو اہمیت دیتے ہیں، اس کی ذات و وجود کو سمجھتے ہیں وہ اس کی زندگی میں ٹھوس بنیادوں پر دخل اندازی کرتے ہوئے اس کی زندگی میں کوئی نہ کوئی خوشگوار تبدیلی لاتے ہیں یا لانے کی خواہش کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں داخل ہونے والی اس تبدیلی کو بھی وہ اس طرح قبول نہیں کر پاتا جس طرح سے اس کو قبول کرنا چاہئے کیونکہ انسان کی ضد اور انا دونوں اس کے راستے میں حائل ہوتے ہیں۔ انسان بذات خود ایسی تبدیلی کو لے کر اپنے احباب و رشتہ داروں کے سامنے خوش ہونے کا مظاہرہ تو کرتا ہے لیکن اندر ہی اندر مزید پیچیدہ تر اور ذہنی تنائو کا شکار بھی ہو جاتا ہے۔ یوں نتیجتاً اندرونی طور پر وہ اس تبدیلی کو بھی قبول نہیں کر پاتا۔
لفظ تبدیلی ایک جامع اصطلاح ہے۔ تبدیلی ہر انسان کے اندر سے نمودار ہوتی ہے لیکن تبدیلی کو قبول کس طرح سے کیا جا رہا ہے، تبدیلی کے آنے سے انسان مطمئن بھی ہے یا صرف دوسروں کو دکھانے کیلئے اس نے خود کو مطمئن کر رکھا ہے۔ تبدیلی سب سے بہترین وہی ثابت ہوتی ہے جو انسان کی زندگی کا احاطہ کرتے ہوئے اور اس کے احساسات و جذبات، فکر و افکار سے مطابقت رکھتے ہوئے مناسب طور پر انسان کے اندر واقع ہو جس سے انسان بھی مطمئن ہو۔ اس کو خوش دلی سے قبول بھی کرے نہ کہ اندر ہی اندر بے سکون، بے چین اور پریشان و اداس ہو۔
تبدیلی لانے کیلئے ضروری نہیں کہ یہ زور زبردستی یا انسان کو مکمل طور پر ہلا کر اس کے احساسات، جذبات، خواہشات اور مقاصد کو دبا کر انسان کے اندر داخل ہو، بلکہ اصل تبدیلی لانے کیلئے ضروری ہے کہ انسان اپنے ذہن کو ، اپنے احساسات کو کشادہ کرکے اس کو من و عن سمجھے، اپنے اندر آنے والی تبدیلی کو خوش دلی کے ساتھ قبول کرے اور اس سے مطمئن ہو کر پر اعتماد طریقے سے زندگی بسر کرنے کا عہد کرے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے ارد گرد وقوع پذیر ہونے والے حالات و واقعات کا ہر لمحہ جائزہ لے کر یہ جانے کہ ''تبدیلی کب، کہاں اور کیونکر‘‘ ضروری ہے۔
طوبیٰ سعید لکھاری اوردرس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ ہیں،ان کے مضامین ملک کے مؤقر جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں