ماحولیات پر اثر انداز ہوتی گرین ہاؤس گیسز
اسپیشل فیچر
صنعتی انقلاب گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور فضاء میں کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اضافے کا باعث بنا۔جس کی وجہ سے درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ ایک اندازے کے مطابق درجہ حرارت میںاوسطاً 1 ڈگری سیلسیس کا اضافہ ہوا ہے۔ نتیجتاً سطح سمندر بلند ہوئی، شدید موسمی واقعات بڑھے اور گلیشیئرز تیزی سے پگھلنے لگے اور ماحول کو اچھا خاصا نقصان پہنچا۔ ان مسائل پر قابو پانے کیلئے ''پیرس معاہدہ‘‘ بھی طے پایا مگر متعدد ممالک کی ہٹ دھرمی کے باعث اس پر صحیح معنوں میں عملدرآمد نہیں کیا جا سکا۔ توانائی کے حصول کیلئے حیاتیاتی ایندھن کے استعمال کوکم کر کے قابلِ تجدید اور ماحول کیلئے بے ضرر توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
گیسوں کے ا خراج کو کم کر کے درجہ حرارت میں اضافے کوروکاجاسکتا ہے۔ قابل تجدید توانائی کے ذرائع بشمول شمسی، ہوا، ہائیڈرو اور جیوتھرمل پاورحیاتیاتی ایندھن کے استعمال کے مقابلے میں بہت کم گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کرتے ہیں۔ اس منتقلی سے ہم ماحول میں خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر ماحول دشمن گیسوں کی مقدار کو مؤثر طریقے سے کم کر سکتے ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے مطابق 2020ء میں قابل تجدید توانائی سے تقریباً 29فیصد عالمی بجلی کی پیداوار کی گئی۔پیداوار میں وقت کے ساتھ ساتھ مزید اضافہ ممکن ہے۔ آئی ای اے کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر ہم 2030ء تک 56فیصد عالمی توانائی قابلِ تجدید ذرائع سے بنانے کے اہل ہوگئے تو مسلسل بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کو محض 1.5ڈگری سیلسیس تک محدود کیا جاسکتا ہے۔
قابلِ تجدید ذرائع کی طرف منتقلی نہ صرف ماحول کیلئے موزوں ہے بلکہ اس سے ملکی اقتصادیات میں بھی بہتری آنے کے امکانات ہیںکیونکہ اس سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (IRENA) کے مطابق قابل تجدید توانائی کے شعبے نے 2019ء میں دنیا بھر میں ایک کروڑ 15لاکھ افراد کو ملازمتیں فراہم کیں۔ امریکہ میں صرف شمسی اور ہوا کی صنعتوں نے 2020 ء میں 4لاکھ 46ہزار سے زیادہ لوگوں کو روزگار فراہم کیا۔''گلوبل کمیشن آن دی اکانومی اینڈ کلائمیٹ‘‘ کے مطابق عالمی توانائی کے ذرائع کی یہ منتقلی 2030ء تک 26 ٹریلین امریکی ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔تاہم اس تناظر میں متوقع سنجیدگی دیکھنے کو نہیں ملتی وگرنہ زمینی حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔
تمام اقوام موسمیاتی تبدیلی میں اپنا حصہ ڈالتی ہیںلیکن اگر تاریخی پس منظر کو مدنظر رکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ ترقی یافتہ ممالک نے گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں زیادہ حصہ ڈالا ہے۔تاہم تمام اقوام خاص طور پر بڑے پیمانے پر صنعتکاری کرنے والے ممالک کو موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے میں مساوات اور انصاف سے کام لینا چاہیے۔ مگر برازیل اور آسٹریلیا جیسے ممالک بھی اس معاہدے پر عمل درآمد نہ کر سکے۔ معاہدوں پر عمل درآمد کو یقینی نہ بنانا اس تناظر میں ناکامی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔مثال کے طور پر ''پیرس معاہدے‘‘ کا مقصد گلوبل وارمنگ کو صنعتی انقلاب سے پہلے کی سطح سے 2 ڈگری سیلسیس نیچے لے جانا ہے مگر بہت سے ممالک معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں۔
کلائمیٹ ایکشن ٹریکر کے مطابق اگر پیرس معاہدے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا گیاتو اس صدی کے آخر تک عالمی درجہ حرارت میں تقریباً 2.4 سے 2.9 ڈگری سیلسیس تک کا اضافہ ہو سکتا ہے ، جو ''پیرس معاہدے‘‘ کے اہداف سے کافی زیادہ ہے۔ امریکہ 2017 ء میں ''پیرس معاہدے‘‘ سے دستبردارہو گیاتھا مگر 2021ء میں امریکی صدرجو بائیڈن نے اس میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کیا۔برازیل کو ایمیزون کے جنگلات کی کٹائی پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ پیرس معاہدے میں یہ طے پایاتھا کہ جنگلات کی کٹائی کو ممکنہ حد تک روکا جائے گا کیونکہ کوئلے کا استعمال گرین ہاؤس گیسزمیں اضافے کا باعث بنتا ہے۔
ٹیکنالوجی قابل تجدید توانائی کی پیداوار اور استعمال کی کارکردگی کو بہتر بنا سکتی ہے ۔قابل تجدید توانائی کی ٹیکنالوجیزپر کام کیا جاتا رہا ہے جس کی وجہ سے ان کی کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ جدید ونڈ ٹربائن دستیاب ہوا کے زیادہ تناسب کو توانائی میں تبدیل کر رہی ہیں۔بین الاقوامی قابل تجدید توانائی ایجنسی (IRENA) کی ایک رپورٹ کے مطابق ساحلی ہوا کے فارمز کی صلاحیت بڑھ گئی ہے جو 34 فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔اسی طرح ''فوٹو وولٹک‘‘ (PV) سولر پینلز کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ امریکہ میں ''نیشنل رینیوایبل انرجی لیبارٹری‘‘ (NREL) کی ایک رپورٹ کے مطابق کمرشل سولر پینلز کی اوسط کارکردگی 2000ء کے اوائل میں تقریباً 12فیصد تھی جو بڑھ کر حالیہ برسوں میں 20فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔
ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز اور سمارٹ گرڈز کے انضمام سے قابل تجدید توانائی کی پیداوار، استعمال اور کنٹرول کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ''نیچر انرجی‘‘ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ سمارٹ گرڈ ٹیکنالوجی اور توانائی کے نظام کو بہتر بنانے سے، قابل تجدید توانائی 2030ء تک ریاستہائے متحدہ امریکہ میں بجلی کی کل طلب کا 80 فیصد تک فراہم کر سکتی ہے۔
زمین پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے اثرات سے نمٹنے کیلئے عالمی تعاون کی اشد ضرورت ہے تاہم تمام ممالک کو اس کیلئے مل کر کام کرنا ہوگااور ٹیکنالوجی کے ذریعے توانائی کو قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کرنا مزید آسان بنانا ہو گا۔