جابربن حیان علم کمیا کے بانی
اسپیشل فیچر
اس دورِجدید میں ہم جب بھی کسی چیز کے موجد کے متعلق دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہمارے سامنے فرانس، روس، برطانیہ، امریکہ وغیرہ کا باشندہ ہوتا ہے، ان میں ہم کہاں ہیں؟اس سوال کا جواب بھی ہے۔
اصل میں ہوا کیا؟
درحقیقت اگر ہم ان تمام ایجادات کے ماخذ کو ڈھونڈنے نکلیں تو بلاشبہ ہمیں مسلم سائنسدان ہی اس جدید سائنس کی بنیاد میں دکھائی دیتے ہیں۔ جب ہم اسلامی سائنس کی تاریخ اْٹھا کر دیکھتے ہیں تو ہمیں چند روشن ستاروں کے نام دکھائی دیتے ہیں، جن میں ایک نام جابر بن حیان کا ہے۔ جابر بن حیان ایک عرب کیمیا دان تھے جو721ء میں پیدا ہوئے اور 815ء میں وفات پائی۔
جابر بن حیان تاریخ کے پہلے کیمیا دان اور سائنسدان تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ جابر بن حیان جغرافیہ نگار، ماہر طبعیات، ماہر فلکیات اور مترجم تھے۔ جابر بن حیان جہنوں نے سائنسی نظریات کو دینی عقائد کی طرح اپنایا۔
دنیا آج تک انہیں ''بابائے کیمیا‘‘ کے نام سے جانتی ہے، اہل مغرب ''Geber‘‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھے۔
جابر بن حیان نے کیمیا کی اپنی کتابوں میں بہت سی اشیاء بنانے کے طریقے بتائے ہیں۔ انہوں نے شورے اور گندھک کے تیزاب جیسی چیز دنیا میں سب سے پہلے انہوں نے ایجاد کی جو موجودہ دور میں بھی نہایت اہمیت کی حامل اور سنسی خیز ہے۔ جابر بن حیان نے سب سے پہلے ''قرع النبیق‘‘ کے ذریعے کشید کرنے کا طریقہ دریافت کیا۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ پوری دنیا میں علمی، سائنسی اور فکری حوالے سے دوسری صدی عیسوی کے بعد کوئی اہم شخصیت پیدا نہ ہوئی تھیں، بقراط، ارسطو، اقلیدس، ارشمیدس اور جالینوس کے بعد صرف سکندریہ کی آخری محقق ہائیاتیا چوتھی صدی عیسوی میں گزری تھی۔لہٰذا علمی میدان میں چھائی ہوئی تاریکی میں روشن ہونے والی پہلی شمع جابر بن حیان کی تھی۔
جابر بن حیان کا روز گار دوا سازی اور دوا فروشی تھا یعنی کہ آپ ایک حکیم بھی تھے ،اس زمانے میں کوفہ میں علم و تدریس کے کافی مواقع تھے۔ کوفہ میں جابر بن حیان نے امام جعفر صادق کی شاگردی اختیار کی جن کے مدرسے میں مذہب کے ساتھ ساتھ منطق، حکمت اورکیمیا جیسے مضامین پڑھائے جاتے تھے۔ کیمیا میں حقیقی دلچسپی کی وجہ سے انہوں نے تجربات کا سلسلہ ختم نہ کیا۔
جابر بن حیان نے مادے کو عناصر میں اربعہ کے نظریئے سے نکالا۔ جابر بن حیان پہلے شخص تھے جہنوں مادے کے تین حصوں میں درجہ بندی کی نباتات، حیوانات اور معدنیات۔ بعدازاں معدنیات کو بھی تین حصوں میں تقسیم کیا۔ پہلے گروہ میں بخارات بن جانے والی اشیاء رکھیں اور انہیں ''روح‘‘ کا نام دیا۔ دوسرے گروہ میں آگ پر پگھلنے والی اشیاء مثلاً دھاتیں وغیرہ رکھیں اور تیسرے گروہ میں ایسی اشیاء رکھیں جو گرم ہوکر پھٹک جائیں اور سرمہ بن جائیں۔ پہلے گروہ میں گندھک سنکھیا، نوشادر وغیرہ شامل ہیں۔
آپ کو یہاں یہ بھی بتاتے چلیں !
جابر بن حیان کی تمام تصانیف کا ترجمہ لاطینی زبان کے علاوہ دیگر یورپی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ تقریباً آٹھ نو سو سال تک کیمیا کے میدان میں وہ تنہا چراغِ راہ تھے۔ اٹھارہویں صدی میں جدیدکیمیا کے احیاء سے قبل جابر بن حیان کے نظریات کو ہی حرفِ آخر خیال کیا گیا۔ بطور کیمیا دان ان کا ایمان تھا کہ علم کیمیا میں تجربہ سب سے اہم چیز ہے۔ انہوں نے عملی طور پر دنیا کو دکھایا کہ کچھ جاننے اور سیکھنے کیلئے صرف مطالعے اور علم کے علاوہ خلوص اور تندہی کے ساتھ تجربات کی بھی ضرورت ہے۔
جابر بن حیان کی فکر میں ''نظریہ میزان‘‘ کی حیثیت کلیدی ہے۔ قرآن کریم میں لفظ ''میزان‘‘ متعدد جگہ پر آیا ہے اس سے کائنات توازن کے علاوہ دونوں جہاں میں اللہ کا عدل اور روزِ قیامت کی جزا و سزا بھی مراد ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ میزان کی منہ بولتی تصویر ہے۔ آفتاب، ماہتاب، جمادات، حیوانات، نباتات تمام جاندار وغیر جاندار اشیاء کی حرکت اور سکون کا دار و مدار میزان پر ہے۔
میزان کائناتی اصولوں کا مرکز و محور ہے۔ جابر بن حیان کے نزدیک اعداد اسی توازن کا مظہر ہیں جس کی بنیاد پر دنیا وجود میں آئی اور قائم ہے۔
یُوں انیسویں صدی کے انگریز مفکروں کی طرح جابر بن حیان نے بھی سائنسی نظام کا رشتہ اپنے دینی عقائد کے ساتھ منسلک کر لیا تھا۔ جابر بن حیان سمجھتے تھے کہ ''منزل مقصود کبھی نہیں آتی یعنی جسے پالیا وہ منزل نہیں‘‘۔
اس شعور نے انہیں کائنات کی تحقیق میں آگے ہی آگے بڑھتے جانے کی دُھن اور حوصلہ دیا۔