مملوک سلاطین کے آداب ِدربار
اسپیشل فیچر
مملوک قرون وسطی میں مسلم خلفاء اور ایوبی سلاطین کیلئے خدمات انجام دینے والے مسلم سپاہی تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ وہ زبردست عسکری قوت بن گئے اور ایک سے زیادہ مرتبہ حکومت بھی حاصل کی جن میں طاقتور ترین مصر میں 1250ء سے 1517ء تک قائم مملوک سلطنت تھی۔اولین مملوک سپاہیوں نے 9ویں صدی میں عباسی خلفاء کیلئے خدمات انجام دیں۔ عباسی انھیں خصوصا ًقفقاز اور بحیرہ اسود کے شمالی علاقوں سے بھرتی کرتے تھے۔ چرکاسیوں کے سوا اکثر قیدی غیر مسلم نسل سے تعلق رکھتے تھے جو اسلام قبول کرنے کے بعد خلیفہ کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالتے تھے۔ مملوک نظام کے تحت حکمرانوں کو ایسے جانباز سپاہی میسر آئے جنہیں کاروبار سلطنت سے کوئی سروکار نہ تھا۔ مقامی جنگجو اکثر سلطان یا خلیفہ کے علاوہ مقامی قبائل کے شیوخ، خاندان یا اعلیٰ شخصیات کے فرماں بردار ہوتے تھے۔ اگر کوئی سردار حکمران کے خلاف بغاوت کرتا ہے تو ان سپاہیوں کی جانب سے بھی بغاوت کا خدشہ رہتا ہے۔
مملوک چھاؤنیوں میں رہتے تھے جہاں وہ تیر اندازی اور دیگر صحت مند تفریح کے ذریعے اپنا دل بہلاتے تھے۔ تربیت مکمل کرنے کے بعد وہ غلام نہیں رہتے تھے۔ سلطان مملوک فوج کو براہ راست اپنی کمان میں رکھتا تھا تاکہ وہ مقامی قبائل کی جانب سے بغاوت کی صورت میں اسے استعمال کرسکے۔غلاموں کے ساتھ مسلمانوں کے اعلیٰ سلوک کی واضح مثال ان مملوک سپاہیوں کا اونچے عہدوں تک پہنچنا ہے جن میں سپہ سالاری تک شامل ہے۔
1206ء میں ہندوستان میں مسلم افواج کے مملوک کمانڈر قطب الدین ایبک خود کو سلطان قرار دیتے ہوئے پہلے آزاد سلطانِ ہند بن گئے اور خاندان غلاماں کی بادشاہت کی بنیاد رکھی جو 1290ء تک قائم رہی۔
مملوک سلاطین تو زیادہ تر فتح و تسخیر میں لگے رہے لیکن ان کے لوازم شاہی میں دربار کا ہونا ضروری تھا، اس لئے انہوں نے دربار منعقد کرکے ہندوستانی باشندوں کے ذوق اور پڑوسی ملکوں کے معیار کے مطابق روایتیں قائم کرنے کی پوری کوشش کی۔
سلطان دربار میں آکر بیٹھتا تو اس کی جگہ اونچی اور نمایاں ہوتی، جہاں پر شاہی تخت رکھا رہتا، یہ عموماً چار پایوں کا ہوتا اور اس کی شکل چوپہل ہوتی اور اس میں سونے کا کام ہوتا، اس کے سر پر چتر ہوتا، چتر کے اوپر چھوٹا سا سایہ گستر یعنی شامیانہ لگایا جاتا جس کا رنگ یا تو سرخ یا سیاہ ہوتا اور اس میں جواہرات ٹکے رہتے۔
(1)اس کے اوپر ہما کی شکل بھی بنی رہتی جو ایک مبارک پرندہ سمجھا جاتا ہے، تخت کے بغل میں دورباش رکھا رہتا، یہ گویا شاہی عصا تھا، سلطان کے تخت کے پیچھے سلاح دار، جان دار، سہم الحشم، نائب سہم الحشم کھڑے رہتے۔
(2)سلاح دار سے مراد ہتھیار بند محافظ ہیں، وہ سلطان کے اسلحہ کے بھی نگراں ہوتے اور دربار میں اس کے پیچھے کھڑے رہتے، یا جب سلطان کی سواری باہر نکلتی تو وہ اس کے ساتھ ساتھ ہوتے، ان کا نگراں سر سلاح دار کہلاتا جو دائیں بائیں دونوں بازوئوں پر ہوتے۔ سلطان کی حفاظت کیلئے کچھ تندرست شکیل اور خوب صورت لشکر بھی ہوتے جو جاندار کہلاتے، ان کی پوشاک بھی خوبصورت ہوتی، ان کے ہاتھوں میں ننگی تلواریں ہوتیں اور وہ سلطان کے جلو میں کھڑے رہتے، ان کا نگراں سرجان دار کہلاتا جو دائیں بائیں دونوں طرف ہوتے، وہ سلطان کے سر پر مور چھل بھی ہلاتے رہتے۔ سلطان کی سواری کے ساتھ جان دار گھوڑے پر سوار رہتے۔ پیدل محافظ سہم الحشم کہلاتے۔ دربار میں یہ سب بھی تخت کے پیچھے ہوتے، ان کے مدد گار نائب سہم الحشم کہلاتے۔
دربار کا سب سے اہم رکن امیر صاحب ہوتا، جو کبھی حاجب المجاب، ملک المجاب، امیر المجاب کہلاتا، امیر صاحب اور باربک ایک ہی عہدہ تھا، وہی تمام امراء کی جگہیں ان کے مراتب کے مطابق مقرر کرتا، اس کی مدد کیلئے نائب امیر حاجب ہوتے، کسی نائب امیر حاجب کے ساتھ خصوصیت کا اظہار کیا جاتا تو وہ سید المجاب یا شرف المجاب کے خطاب سے نوازا جاتا۔ نائب امیر حاجب، امیر حاجب کی مدد کیا کرتے تھے۔ امیر حاجب دربار کے امرا کا تعارف کراتا، یا سلطان کسی درباری سے کچھ کہنا چاہتا تو وہ امیر جاجب سے کہتا، امیر جاجب اپنے مختلف حاجب کے ذریعہ سے یہ پیام دربار تک پہنچاتا، سلطان کے سامنے تمام درخواستیں امیر حاجب کے ذریعے سے پیش ہوتیں، وہ ان کو بلند آواز سے پڑھ کر سناتا، سلطان کوئی فیصلہ دیتا تو اس کو قلم بند کردیا جاتا، دوات دار کاغذ، قلم اور سیاہی لئے حاضر رہتا، اس فیصلہ پر مہر دار شاہی مہر لگا دیتا، جس کے بعد یہ درخواستیں دبیر خاص کے حوالہ کر دی جاتیں۔ امیر حاجب سلطنت کا معزز رکن ہوتا، اس لئے کبھی کبھی وہ سلطان کی عدم موجودگی میں اس کی نیابت بھی کرتا، اس عہدہ پر عموماً شاہی خاندان ہی کے افراد مقرر کئے جاتے۔شحنۂ بار گاہ دربار کی زینت و آرائش کا ذمہ دار ہوتا، نقیب اور چائوش جا بجا کھڑے رہتے اور جب کوئی سلطان کی خدمت میں پیش کیا جاتا تو وہ بسم اللہ زور سے کہتا۔
دربار میں تمام درباری کھڑے رہتے، صرف خاص خاص اشخاص کو بیٹھنے کی اجازت ہوتی، جب کوئی دربار میں آتا تو سلطان کے تخت کے پاس آکر زمین پر سر رکھ کر تین بار زمین بوسی کرتا۔اس کو تعظیم بجالانا کہتے، علماء صلحا اور مشائخ زمین بوسی سے مستثنیٰ ہوتے، اگر سلطان تخت پر نہ ہوتا تو بھی درباری زمین بوسی کرتے، سوری خاندان کی حکومت کے زمانہ میں تو سلطان کی عدم موجودگی میں تخت پر کفش اور ترکش رکھ دیئے جاتے۔
سلاطین اپنی خواہش کے مطابق دربار کے آداب میں ترمیم اور اضافہ کرتے رہتے جیسا کہ آگے کی تفصیلا سے ظاہر ہوگا۔عام دربار کے علاوہ ایک مجلس خاص بھی ہوا کرتی تھی، جس میں وزراء کے علاوہ صاحب تدبیر ملوک رائے زن شریک ہوتے تھے اور مجلس خاص کے علاوہ ایک مجلس خلوت بھی ادا کرتی تھی، جس میں صرف محرم راز اور معتمد علیہ شریک ہوتے تھے۔
دربار کے داخلہ کے دروازہ پر نوبت بجتی رہتی تھی، وہاں نقیب بھی کھڑے رہتے، ان کا نگران اعلیٰ نقیب، النقبا کہلاتا، وہ ہر آنے جانے الے پر نگرانی رکھتا، دروازے پر متصدی بھی بیٹھے رہتے، کوئی شخص اندر جانے نہیں پاتا جب تک وہ اس کا نام اپنی کتاب اور روزنامچہ میں نہ لکھ لیتے، یہ روزنامچے رات کے وقت سلطان کے سامنے پیش کئے جاتے۔
درباریوں کیلئے مخصوص پوشاک ہوتی، سلطان جس کو خلعت عطا کرتا، وہ وہی لباس پہن کر آتا، غیر معمولی دربار عموماً تاج پوشی، سالگرہ، تاج پوشی کی سالگرہ کسی سفیر کی آمد، نذر قبول کرنے، تہوار یا فتح و کامرانی کے جشن منانے کی خاطر کیا جاتا، سلاطین دہلی میں سب سے زیادہ بارعب دربار سلطان بلبن کا تھا اور سب سے پرشکوہ سلطان محمد تغلق کا تھا۔