پاکستان کی دس بلند ترین عمارتیں
اسپیشل فیچر
پاکستان ترقی کے مراحل میں ہے۔ پیشرفت تھوڑی سست ہے لیکن آج ہم نے دوسرے ممالک کے ساتھ آگے بڑھنے کیلئے مختلف شعبوں میں کئی سنگ میل حاصل کیے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح پاکستان کے شہر بھی ترقی کر رہے ہیں۔ اگرچہ اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی آپ دنیا کے دوسرے حصوں میں دیکھ سکتے ہیں، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم کافی حد تک ترقی کر چکے ہیں۔ ''اسکائی لائنز‘‘ یا فلک بوس عمارتیں کسی بھی ملک کی ترقی کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے کئی شہروں نے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے کئی اونچی عمارتیں تعمیر کی ہیں۔ انفراسٹرکچر اور فلک بوس عمارتیں متوازی چل رہی ہیں۔ پاکستان کے معروف شہروں جیسے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں زیادہ تر اونچی عمارتیں ہیں۔ یہاں ان کی اونچائی کے مطابق ٹاپ 10 بلند ترین عمارتوں کا ذکر کیا جا رہاہے۔
بحریہ آئیکون ٹاور
بحریہ آئیکون ٹاور پاکستان کی بلند ترین عمارت ہے جس کی 62 منزلیں ہیں۔ یہ کراچی میں واقع ہے۔ اس اسکائی لائن کو مکمل کرنے میں 10 سال لگے۔ یہ عمارت شاپنگ مال اور رہائشی اپارٹمنٹس کیلئے وقف ہے۔
چپل اسکائی مارک
چپل اسکائی مارک پاکستان کا سب سے اونچا رہائشی ٹاور ہے۔ یہ 50 منزلہ عالیشان عمارت ہے جو کراچی میں واقع ہے۔ اس عمارت کی تعمیر جاری ہے۔ اس فلک بوس عمارت کی تعمیر کا بنیادی مقصد رہائشی ٹاورز کو ایک نیا طرز زندگی فراہم کرنا ہے۔
بخت ٹاور
بخت ٹاور ہمارے پاس پاکستان کی تیسری بلند ترین عمارت ہے جو آپریشنل ہے۔ اس کی 34 منزلیں اور 476 فٹ اونچی ہے۔ یہ بھی کراچی میں واقع ہے اور 2015ء میں مکمل ہوا۔
اوقیانوس ٹاورز
اس عمارت کا پرانا نام دی مال یا سوفیٹل ہوٹل پلازہ تھا۔ یہ شاید پاکستان کی سب سے بڑی عمارت ہے۔ یہ کراچی میں سی ویو کلفٹن کے قریب واقع ہے جس کی 30 منزلیں ہیں۔ اس اسکائی سکریپر کو مکمل کرنے میں تقریباً سات سال لگے۔ یہ 2014ء میں مکمل ہوا۔
میگا جی 4 ٹاور
یہ میگا جی 4 ٹاور بلاک کراچی کلفٹن کے علاقے میں واقع ہے۔ یہ2016 ء میں مکمل ہوا اور اس کی 30 منزلیں ہیں جن کی اونچائی 387 فٹ ہے۔ یہ عمارت خریداروں کیلئے جنت ہے جسے خریداری، فوڈ کورٹ اور کچھ دیگر سرکاری مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈولمین ٹاورز
ڈولمین ٹاورز رہائشی اور کارپوریٹ سیکٹر دونوں کیلئے ایک پروجیکٹ ہے۔ یہ پاکستان کی بلند ترین عمارتوں کی فہرست میں بھی شامل ہے جن کی 45 منزلیں اور 656 فٹ بلند ہیں۔ اس اسکائی لائن کی تعمیر 2019ء میں مکمل ہوئی ۔
کانسٹی ٹیوشن ایونیو ٹاور 1 اور 2
آئینی ٹاورز اسلام آباد میں واقع ہیں جس کی 26 منزلیں ہیں۔ اس کی اونچائی 344 فٹ ہے۔ یہ سال 2014 ء میں مکمل ہوئے۔
سینٹورس مال
سینٹورس اسلام آباد پاکستان کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک ہے۔ اس کی 26 منزلیں ہیں اور تقریباً 110 میٹر اونچی ہے۔ یہ منصوبہ 2013 ء میں مکمل اور آپریشنل ہوا۔
یوفون ٹاور اسلام آباد
یہ ٹیلی کام ٹاور اسلام آباد جناح ایونیو میں واقع ہے۔ یوفون ٹاور اسلام آباد زیادہ تر کارپوریٹ دفاتر کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ یہ فلک بوس عمارت 2010 ء میں مکمل ہوئی تھی۔ یوفون ٹاور کی 28 منزلیں ہیں اور اس کی اونچائی 371 فٹ ہے۔
جے ایس سینٹرکراچی
جے ایس سینٹر کراچی میں ایک اور فلک بوس عمارت ہے۔ یہ 31 منزلہ عمارت ہے جس کی اونچائی 100 میٹر ہے۔ اس کی تعمیر 2011 ء میں شروع ہوئی اور 2013 ء میں مکمل ہوا۔
آنے والے وقت میں بلند ترین عمارتیں انسانی ضرورت کا حصہ بن چکی ہوں گی۔ کیونکہ ان بلند عمارتوں کی تعمیر سے زمین کو کم اسے کم استعمال میں لا کر زیادہ لوگوں کو رہائشی سہولیات مہیا کرنا ہے جس سے آنے والے وقت میں زمین کی کمی جیسے مسائل کوحل کرنا ہے۔