شوگر کے خاتمے کا ممکنہ حل دریافت
اسپیشل فیچر
نیا انجیکشن اس مرض کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری شوگر (Diabetes) ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ اس مرض کے باعث نہ صرف مریضوں کو روزمرہ زندگی میں سخت احتیاط برتنی پڑتی ہے بلکہ یہ دل، گردوں اور آنکھوں سمیت کئی اہم اعضا کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں طبی ماہرین کی جانب سے ایک ایسی انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک نئی قسم کا انجیکشن تیار کیا جا رہا ہے جو نہ صرف خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ طب کی دنیا میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، کیونکہ اب تک ذیابیطس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صرف قابو میں رکھنے کی کوششیں ہی کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پیش رفت لاکھوں مریضوں کیلئے ایک نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور صحت کے عالمی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ ایک بار دیا جانے والا علاج ایساہوگا کہ جسم خود ہی خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو جائے گاا ور ممکنہ طور پر اس کا اثر زندگی بھر قائم رہے گا۔ماہرین کے مطابق مریضوں کو ایک جین تھراپی دی جائے گی، جو پٹھوں کو طویل عرصے تک انسولین بنانے والا ذریعہ بنا دے گی اور اس کے اثرات کئی سال بلکہ دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔انگلینڈ میں ذیابیطس کے قومی ماہر مشیر ڈاکٹرپارتھاکر(Dr Partha Kar) نے اس طریقۂ علاج کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ''فعال علاج‘‘ بننے کی صلاحیت موجود ہے، اور اگر یہ کامیاب ہو گیا تو یہ بہت سے لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔
نیا علاج، جسے ''KRIYA-839‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کرتا ہے۔انسولین کو باہر سے دینے کے بجائے، اس کا مقصد مریض کے اپنے پٹھوں کو ایک مستقل ''انسولین فیکٹری‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ ران (thigh) میں ایک ہی انجیکشن کے بعد پٹھوں کے خلیات انسولین اور دیگر شوگر کو کنٹرول کرنے والے پروٹین بنانا شروع کر دیں گے،جس سے روزانہ علاج کی ضرورت یا تو ختم ہو جائے گی یا نمایاں حد تک کم ہو جائے گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ محققین کے مطابق یہ علاج جین ایڈیٹنگ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی شخص کے ڈی این اے میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ عضلاتی خلیات میں جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے، جس سے وہ وقت کے ساتھ ایک منظم انداز میں انسولین پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ابتدائی حیوانی مطالعات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں یہ علاج چار سال تک مؤثر رہا۔اب پہلی بار اس کا تجربہ انسانوں پر کیا جائے گا۔
یہ ٹرائل، جو اس سال کی بین الاقوامی کانفرنس برائے جدید ٹیکنالوجیز اور ذیابیطس کے علاج میں پیش کیا گیا، ایسے بالغ افراد کو شامل کرے گا جن کا بلڈ شوگر مناسب طور پر کنٹرول میں نہیں اور جو پہلے ہی خودکار انسولین فراہمی کے نظام استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے سائنسدانوں کو یہ قریب سے جانچنے کا موقع ملے گا کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرتا ہے اور گلوکوز کی سطح کو کس حد تک مستحکم رکھتا ہے۔شرکاء کو ایک ہی آؤٹ پیشنٹ سیشن کے دوران، جو ایک گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے، دونوں رانوں میں انجیکشن دیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس علاج کو مکمل اثر دکھانے میں دو سے تین ماہ لگیں گے۔
اس کے ساتھ ایک مختصر مرحلہ ''امیون موڈیولیشن‘‘ کا بھی ہوگا، جس میں مدافعتی نظام کو عارضی طور پر کمزور کیا جائے گا تاکہ علاج خلیات میں مؤثر طریقے سے داخل ہو سکے۔محققین کے مطابق یہ مرحلہ کامیابی کیلئے نہایت اہم ہے۔اگر یہ علاج کامیاب ہوا تو اس کے اثرات کئی سال بلکہ ممکنہ طور پر پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے اینڈوکرائنولوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر جیریمی پیٹس نے کہا کہ یہ شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ٹائپ 1 ذیابیطس کی کمیونٹی میں ہم عموماً سنتے آئے ہیں کہ یہ سب کچھ 10 سے 15 سال میں ہوگا اور شاید کسی دن ممکن ہو، لیکن آج یہاں کھڑے ہو کر یہ کہنا بہت پرجوش ہے کہ یہ کام اب حقیقت میں جاری ہے اور ہو رہا ہے۔
ڈاکٹرپارتھاکر نے کہا کہ اس علاج کے ممکنہ اثرات انقلابی ہو سکتے ہیں، چاہے یہ انسولین کی مکمل ضرورت کو ختم نہ بھی کرے۔اگر آپ یہ کہیں کہ ہم آپ کی انسولین کی ضرورت کا 75 فیصد پورا کر سکتے ہیں، تو یقیناً آپ کہیں گے کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جزوی کامیابی بھی مریضوں کو زیادہ مقدار میں انسولین لینے سے نجات دلانے یا پمپ اور مسلسل مانیٹرنگ سسٹمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی کئی اہم سوالات باقی ہیں،خصوصاً یہ کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرے گا اور اس کے اثرات کتنے عرصے تک برقرار رہیں گے۔اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ بہت سے لوگوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ میں اسے مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں اور میں یقینی طور پر اس پر گہری نظر رکھوں گا۔دیگر ماہرین نے بھی احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔