شوگر کے خاتمے کا ممکنہ حل دریافت

شوگر کے خاتمے کا ممکنہ حل دریافت

اسپیشل فیچر

تحریر : اسد بخاری


نیا انجیکشن اس مرض کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے
دنیا بھر میں تیزی سے پھیلتی ہوئی بیماری شوگر (Diabetes) ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جس نے کروڑوں انسانوں کی زندگی کو متاثر کر رکھا ہے۔ اس مرض کے باعث نہ صرف مریضوں کو روزمرہ زندگی میں سخت احتیاط برتنی پڑتی ہے بلکہ یہ دل، گردوں اور آنکھوں سمیت کئی اہم اعضا کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔ تاہم حالیہ دنوں میں طبی ماہرین کی جانب سے ایک ایسی انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے امید کی ایک نئی کرن روشن کر دی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک نئی قسم کا انجیکشن تیار کیا جا رہا ہے جو نہ صرف خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے بلکہ ممکنہ طور پر اس بیماری کو جڑ سے ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ اگر یہ تحقیق کامیاب ثابت ہوتی ہے تو یہ طب کی دنیا میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگی، کیونکہ اب تک ذیابیطس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے صرف قابو میں رکھنے کی کوششیں ہی کی جاتی رہی ہیں۔ یہ پیش رفت لاکھوں مریضوں کیلئے ایک نئی زندگی کا پیغام بن سکتی ہے اور صحت کے عالمی منظرنامے کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ ایک بار دیا جانے والا علاج ایساہوگا کہ جسم خود ہی خون میں شوگر کی سطح کو کنٹرول کرنے کے قابل ہو جائے گاا ور ممکنہ طور پر اس کا اثر زندگی بھر قائم رہے گا۔ماہرین کے مطابق مریضوں کو ایک جین تھراپی دی جائے گی، جو پٹھوں کو طویل عرصے تک انسولین بنانے والا ذریعہ بنا دے گی اور اس کے اثرات کئی سال بلکہ دہائیوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔انگلینڈ میں ذیابیطس کے قومی ماہر مشیر ڈاکٹرپارتھاکر(Dr Partha Kar) نے اس طریقۂ علاج کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں ''فعال علاج‘‘ بننے کی صلاحیت موجود ہے، اور اگر یہ کامیاب ہو گیا تو یہ بہت سے لوگوں کی مدد کر سکتا ہے۔
نیا علاج، جسے ''KRIYA-839‘‘ کا نام دیا گیا ہے، ایک بالکل مختلف طریقہ اختیار کرتا ہے۔انسولین کو باہر سے دینے کے بجائے، اس کا مقصد مریض کے اپنے پٹھوں کو ایک مستقل ''انسولین فیکٹری‘‘ میں تبدیل کرنا ہے۔سائنسدانوں کو امید ہے کہ ران (thigh) میں ایک ہی انجیکشن کے بعد پٹھوں کے خلیات انسولین اور دیگر شوگر کو کنٹرول کرنے والے پروٹین بنانا شروع کر دیں گے،جس سے روزانہ علاج کی ضرورت یا تو ختم ہو جائے گی یا نمایاں حد تک کم ہو جائے گی۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ محققین کے مطابق یہ علاج جین ایڈیٹنگ نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی شخص کے ڈی این اے میں تبدیلی کرتا ہے۔ اس کے برعکس، یہ عضلاتی خلیات میں جینیاتی ہدایات پہنچاتا ہے، جس سے وہ وقت کے ساتھ ایک منظم انداز میں انسولین پیدا کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔ابتدائی حیوانی مطالعات میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے ہیں، جہاں یہ علاج چار سال تک مؤثر رہا۔اب پہلی بار اس کا تجربہ انسانوں پر کیا جائے گا۔
یہ ٹرائل، جو اس سال کی بین الاقوامی کانفرنس برائے جدید ٹیکنالوجیز اور ذیابیطس کے علاج میں پیش کیا گیا، ایسے بالغ افراد کو شامل کرے گا جن کا بلڈ شوگر مناسب طور پر کنٹرول میں نہیں اور جو پہلے ہی خودکار انسولین فراہمی کے نظام استعمال کر رہے ہیں۔
اس سے سائنسدانوں کو یہ قریب سے جانچنے کا موقع ملے گا کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرتا ہے اور گلوکوز کی سطح کو کس حد تک مستحکم رکھتا ہے۔شرکاء کو ایک ہی آؤٹ پیشنٹ سیشن کے دوران، جو ایک گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے، دونوں رانوں میں انجیکشن دیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ اس علاج کو مکمل اثر دکھانے میں دو سے تین ماہ لگیں گے۔
اس کے ساتھ ایک مختصر مرحلہ ''امیون موڈیولیشن‘‘ کا بھی ہوگا، جس میں مدافعتی نظام کو عارضی طور پر کمزور کیا جائے گا تاکہ علاج خلیات میں مؤثر طریقے سے داخل ہو سکے۔محققین کے مطابق یہ مرحلہ کامیابی کیلئے نہایت اہم ہے۔اگر یہ علاج کامیاب ہوا تو اس کے اثرات کئی سال بلکہ ممکنہ طور پر پوری زندگی برقرار رہ سکتے ہیں۔یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے اینڈوکرائنولوجسٹ اور ایسوسی ایٹ پروفیسر جیریمی پیٹس نے کہا کہ یہ شعبہ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ٹائپ 1 ذیابیطس کی کمیونٹی میں ہم عموماً سنتے آئے ہیں کہ یہ سب کچھ 10 سے 15 سال میں ہوگا اور شاید کسی دن ممکن ہو، لیکن آج یہاں کھڑے ہو کر یہ کہنا بہت پرجوش ہے کہ یہ کام اب حقیقت میں جاری ہے اور ہو رہا ہے۔
ڈاکٹرپارتھاکر نے کہا کہ اس علاج کے ممکنہ اثرات انقلابی ہو سکتے ہیں، چاہے یہ انسولین کی مکمل ضرورت کو ختم نہ بھی کرے۔اگر آپ یہ کہیں کہ ہم آپ کی انسولین کی ضرورت کا 75 فیصد پورا کر سکتے ہیں، تو یقیناً آپ کہیں گے کہ یہ بہت بڑی بات ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جزوی کامیابی بھی مریضوں کو زیادہ مقدار میں انسولین لینے سے نجات دلانے یا پمپ اور مسلسل مانیٹرنگ سسٹمز پر انحصار کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ابھی کئی اہم سوالات باقی ہیں،خصوصاً یہ کہ یہ علاج کتنی مقدار میں انسولین پیدا کرے گا اور اس کے اثرات کتنے عرصے تک برقرار رہیں گے۔اگر یہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ بہت سے لوگوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔ میں اسے مثبت پیش رفت سمجھتا ہوں اور میں یقینی طور پر اس پر گہری نظر رکھوں گا۔دیگر ماہرین نے بھی احتیاط برتنے کی تلقین کی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
لاپتہ جنگی جہازکا ملبہ دریافت

لاپتہ جنگی جہازکا ملبہ دریافت

ایک صدی پرانا راز بے نقابپہلی جنگ عظیم کے ایک دیرینہ راز سے آخرکار پردہ اُٹھ گیا، برطانوی غوطہ خوروں نے ایک صدی سے زائد عرصے بعد امریکی جنگی جہاز کے ملبے کو دریافت کر لیا ہے۔ یہ جہاز 1918ء میں جرمن آبدوز کے تارپیڈو حملے کے نتیجے میں تباہ ہو کر سمندر کی گہرائیوں میں گم ہو گیا تھا۔ حالیہ دریافت کارن وال (Cornwall) کے ساحل کے قریب عمل میں آئی، جس نے نہ صرف تاریخ کے ایک اہم باب کو دوبارہ زندہ کر دیا بلکہ اُن درجنوں جانوں کی یاد بھی تازہ کر دی جو اس سانحے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ یہ پیشرفت سمندری تحقیق اور تاریخی کھوج کے میدان میں ایک اہم سنگ میل قرار دی جا رہی ہے۔امریکی کوسٹ گارڈ کا جہاز108 سال قبل سمندر میں غرق ہو گیا تھا۔اب اسے نیوکی (Newquay) کے ساحل سے تقریباً 50 میل دور گہرے سمندر میں غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے تلاش کیا ہے۔اس جہاز پر موجود تمام 131 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے، جن میں امریکی بحریہ اور کوسٹ گارڈ کے اہلکاروں کے ساتھ ساتھ برطانوی شہری بھی شامل تھے۔غوطہ خور ٹیم کے 54 سالہ رکن ڈومینک روبنسن کہتے ہیں کہ وہ پچھلے تین سال سے اس جہاز کی تلاش میں تھے ۔ٹیم نے اس جہاز کو تلاش کرنے کیلئے برطانیہ کے ہائیڈروگرافک آفس سے حاصل کردہ معلومات، بشمول سمندر کی تہہ کے ڈیٹا کا استعمال کیا۔انہوں نے جرمن ریکارڈز کا بھی تجزیہ کیا جو اس آبدوز سے متعلق تھے جس نے یہ جہاز تباہ کیا تھا، اور پچھلے تین سالوں میں متعدد غوطے لگا کر اس کی تلاش جاری رکھی۔ 26 اپریل کو بالآخر انہیں یہ حیران کن کامیابی حاصل ہوئی۔ٹیم نے اپنی دریافت کے نتائج امریکی کوسٹ گارڈ کے سامنے پیش کر دیے ہیں، اور مسٹر رابنسن کا کہنا ہے کہ انہیںپورا یقین ہے کہ انہوں نے ''ٹامپا‘‘(TAMPA) کو ہی دریافت کیا ہے۔اصل میں ہم یہ سوچ رہے تھے کہ ہم نے ہر ممکن جگہ دیکھ لی ہے جہاں یہ ہو سکتا تھا اور ہم تقریباً ہار ماننے ہی والے تھے، لیکن پھر ہم مزید نیچے گئے اور اسے تلاش کر لیا۔انہوں نے مزید کہاکہ زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جہاز کا ملبہ پانی کے نیچے صرف ایک جہاز ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سیلٹک سمندر میں، یہ جہاز کارن وال اور آئرلینڈ کے درمیان، 100 سال سے زیادہ عرصے سے پڑا ہوا ہے، اس لیے اسے طوفانوں اور ایک صدی سے زائد عرصے نے بری طرح متاثر کیا ہے۔جبکہ اسے پہلے تارپیڈو سے نشانہ بنایا گیا تھا۔انہوں نے بتایا کہ وہ جس چیز کی تلاش میں تھے ان میں لنگر، بڑے پتھر، انجن شامل تھے۔ انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز پر بندوقیں اور بڑی مقدار میں گولہ بارود بھی موجود تھا۔یہ ایک مضبوط اور اعلیٰ معیار کا بنایا گیا جہاز تھا۔انہوں نے کہا کہ ہم سب نے مختلف جہازوں کی تلاش میں غوطے لگائے ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کس دور میں استعمال ہوتے تھے۔ ہم نے برتن بھی دیکھے جن پر ''نیو جرسی‘‘ لکھا ہوا تھا، جو فوراً امریکہ سے تعلق کی ایک واضح نشانی تھی۔''ٹامپا‘‘ جہاز پہلی جنگ عظیم کے دوران قافلوں کی حفاظت کیلئے تعینات تھا، تاکہ جرمن آبدوزوں سے ان کو محفوظ رکھا جا سکے۔ یہ جہاز جبرالٹر اور انگلینڈ کے جنوبی ساحل کے درمیان سمندری راستے پر ڈیوٹی انجام دیتا تھا۔26 ستمبر 1918ء کو TAMPA نے ایک قافلے کو چھوڑا ہی تھا کہ اسے تارپیڈو حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ رابنسن کے مطابق وہ دن کافی دھندلا تھا اور قافلے سے الگ ہونے کے تقریباً چار گھنٹے بعد انہوں نے ایک بڑا دھماکہ سنا اور اس کے بعد TAMPA دوبارہ کبھی نظر نہیں آیا۔چونکہ موسم دھندلا تھا اور کوئی واضح سراغ نہیں ملا، اس لیے اس کا مقام ہمیشہ غیر واضح رہا۔انہوں نے مزید بتایاکہ امریکہ نے بعد میں بھی TAMPA نام کا ایک جہاز سروس میں رکھا۔بہت سے لوگوں نے TAMPA کو تلاش کرنے کی کوشش کی، جن میں ہم بھی شامل ہیں ۔یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ یہ کوئی ایک دن کی کامیابی نہیں بلکہ تین سال کی مسلسل محنت اور بہت سے دوسرے غوطہ خوروں کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔رابنسن کا کہنا تھا کہ اس قسم کی غوطہ خوری انتہائی سخت نوعیت کی ہوتی ہے ۔چونکہ یہ ملبہ تقریباً 100 میٹر کی گہرائی میں موجود تھا، اس لیے ٹیم کو سمندر کی تہہ میں صرف تقریباً 20 منٹ گزارنے کی اجازت ہوتی تھی، جس کے بعد انہیں سطح پر آہستہ آہستہ واپس آنے کیلئے تقریباً ڈھائی گھنٹے تک ڈی کمپریشن (decompression) کے عمل سے گزرنا پڑتا تھا۔ہم نے یہ تمام معلومات جمع کیں اور امریکی کوسٹ گارڈ کو پیش کیں، جنہوں نے ویڈیو اور تصاویر کا جائزہ لیا ہے اور انہیں یقین ہے کہ ہم نے TAMPA ہی کو تلاش کیا ہے۔

کھانے کے حیران کن عالمی ریکارڈز!

کھانے کے حیران کن عالمی ریکارڈز!

انسانی تاریخ میں کھانے پینے کا شوق ہمیشہ سے ایک اہم حیثیت رکھتا آیا ہے، بعض افراد اس شوق کو اس حد تک لے جاتے ہیں کہ وہ دنیا بھر میں حیرت اور تجسس کا باعث بن جاتے ہیں۔ کہیں دیو ہیکل برگر تیار کیے جاتے ہیں تو کہیں چند لمحوں میں درجنوں ہاٹ ڈاگ کھا لینے کے حیران کن کارنامے انجام دیے جاتے ہیں۔ یہی غیر معمولی کارنامے بعدازاں عالمی ریکارڈز کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اس مضمون میں ہم آپ کو کھانے کے پانچ حیران کن عالمی ریکارڈز سے روشناس کرائیں گے جو یقیناً آپ کو چونکا دیں گے۔سب سے بڑا برگردنیا کا سب سے بڑا برگر 2017ء میں جرمنی کے شہر پلسٹنگ میں ایک عوامی تقریب کے دوران پیش کیا گیا۔ اسے 6افراد نے مل کر تیار کیا تھا۔ یہ جرمن دوستوں کا ایک گروپ تھا جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کو کھانا کھلانے کے جذبے کے ساتھ اکٹھا ہوا تھا۔اس برگر میں سینکڑوں بیف پیٹیز شامل تھیں جن پر کیچپ اور مایونیز ڈالی گئی۔ اس میں بڑی مقدار میں پنیر اور ٹماٹر بھی شامل تھے۔ اس کے ساتھ دو دیو ہیکل بن رکھے گئے تھے جو اس کے مجموعی سائز کے مطابق تھے۔ اس کا وزن ایک اسمارٹ کار کے برابر یعنی 1,164.2 کلوگرام (2,566 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور یہ ایک برگر باآسانی ہزاروں افراد کھاسکتے تھے۔سب سے بڑا کدوپھر آتی ہے باری دنیا کے سب سے بڑے کدو کی، جس کا وزن حیران کن طور پر 1,246.9 کلوگرام (2,749 پاؤنڈ) تھا اور اس کا گھیراؤ 642.6 سینٹی میٹر (21 فٹ 1 انچ) تھا۔ اسے ٹراوس گینگر نے اْگایا جو ایک مقابلہ جاتی مالی ہیں اور زراعت خصوصاً کدو اگانے کے بے حد شوقین ہیں۔ٹراوس کا تعلق امریکہ کی ریاست مینیسوٹا کے علاقے انوکا سے ہے، جسے اکثر دنیا کا ''ہالووین دارالحکومت‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس ریکارڈ سے پہلے بھی وہ ایک ہزار کلوگرام سے زائد وزن کے کئی کدو اُگا چکے تھے۔یہ نیا عالمی ریکارڈ انہوں نے 2023ء میں ''سیف وے ورلڈ چیمپئن شپ پمپکن وے آف‘‘ کے 50ویں سالانہ مقابلے میں قائم کیاتھا، جہاں ہر کدو کو مقامی جج حضرات بڑی احتیاط سے جانچتے ہیں، اور پھر ''گریٹ پمپکن کامن ویلتھ ‘‘ (جی پی سی) کے ذریعے اس کی باضابطہ تصدیق کی جاتی ہے۔سب سے بڑاکیلوں کا گچھا بعض اوقات کچھ پھل جو باقاعدہ گچھوں کی صورت میں اُگائے جاتے ہیں، وہ بھی عالمی ریکارڈ قائم کرتے ہیں۔ سب سے بڑا کیلے کا گچھا کینری ، اسپین میں اُگایاگیا۔ اس کا مجموعی وزن 130 کلوگرام (286 پاؤنڈ 9 اونس) تھا اور اس میں 473 کیلے شامل تھے، جو اسے غیر معمولی طور پر بڑا اور گچھا بناتے ہیں۔اتنی بڑی تعداد میں کیلے اُگانا ایک زرعی منصوبے کا حصہ تھا، جو 160 ہیکٹر پر محیط تھا۔ اس منصوبے کا مقصد بنجر زمین کو زرخیز بنا کر اسے استوائی پھلوں کی کاشت کیلئے موزوں بنانا تھا، اور اس میں ایک بڑا حصہ خاص طور پر کیلے کی پیداوار کیلئے مختص کیا گیا تھا۔سب سے بڑا کیکاور یقیناً، میٹھی چیزوں کا ذکر نہ ہو تو بات ادھوری رہتی ہے۔ اٹلی کے شہر میلان میں ''نیشنل ایسوسی ایشن کیک ڈیزائنرز‘‘ سے تعلق رکھنے والے کیک آرٹسٹس کی ایک ٹیم نے دنیا کا سب سے بڑا کیک تیار کر کے سب کو حیران کر دیا۔ اس کی لمبائی 16.46 میٹر (54 فٹ)، چوڑائی 13.94 میٹر (45 فٹ 7 انچ) اور اونچائی 0.54 میٹر (1 فٹ 9.25 انچ) تھی،یعنی یہ ایک اپارٹمنٹ کے فلور جتنا بڑا تھا۔یہ کیک محض ایک میٹھا پکوان نہیں بلکہ ایک حقیقی خوردنی کینوس تھا، جسے اٹلی کے نقشے کی شکل میں ڈیزائن کیا گیا تھا۔ اس پر اٹلی کی مشہور علامتی عمارتوں کے چھوٹے ماڈلز بھی بنائے گئے تھے، جیسے ''لینگ ٹاور آف پیسا، ایلپس، اور کلوژیم۔اس عظیم الشان کیک کو ''Hobby Show‘‘ کے دوران باضابطہ طور پر پیش کیا گیا، جہاں آنے والے ہر فرد کو اس کا ذائقہ چکھنے کا موقع بھی دیا گیا۔

آج کا دن

آج کا دن

امریکی بحری بیڑے پر حملہ1964 میں ویتنام جنگ کے دوران ایک اہم واقعہ پیش آیا جب امریکی طیارہ بردار جہاز ''یو ایس این ایس‘‘ بندرگاہ پر لنگر انداز تھا۔ اسی دوران ویت کانگ کے دو غوطہ خور جنگجوؤں نے جہاز کے نچلے حصے میں بارودی مواد نصب کیا، جس کے نتیجے میں ایک زور دار دھماکہ ہوا اور جہاز ڈوب گیا۔بعد ازاں جہاز کو سمندر سے نکال کر مرمت کی گئی اور سات ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ سروس میں شامل کر دیا گیا۔بیس بال کا آغاز1920 میں نیگرو نیشنل لیگ کے تحت بیس بال کا پہلا باضابطہ میچ کھیلا گیا۔ یہ لیگ اس دور میں قائم کی گئی تھی جب نسلی امتیاز کے باعث سیاہ فام کھلاڑیوں کو بڑی پیشہ ورانہ لیگوں میں کھیلنے کی اجازت نہیں تھی۔ اس تاریخی مقابلے نے نہ صرف افریقی نژاد امریکی کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کیا بلکہ بیس بال کی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا، جو بعد میں کھیل میں برابری اور مواقع کی جدوجہد کی علامت بن گیا۔ٹونی بلیئر وزیر اعظم بنے1997ء میں آج کے دن ٹونی بلیئر برطانیہ کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔ وہ43 سال کی عمر میں وزیر اعظم بنے۔انہیں گزشتہ دوسو سالوں میں سب سے کم عمر وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کی مقبولیت میں اس وقت کمی واقع ہوئی جب انہوں نے عراق کے معاملے میں امریکی پالیسی کی حمایت کی۔2006ء میں انہوں نے اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کیا اور 27جون2007ء کو مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا۔کیریبین فضائی حادثہ1970ء میں ''اے ایل ایم فلائٹ 980‘‘ ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہو گئی جب اسے فنی خرابی اور ایندھن کی کمی کے باعث ہنگامی طور پر اتارنے کی کوشش کی گئی۔ طیارہ سمندر میں گر گیا، جس کے نتیجے میں 23 افراد ہلاک ہوئے۔ اس حادثے نے ہوا بازی کی دنیا میں حفاظتی اقدامات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے طریقہ کار پر سنجیدہ سوالات اٹھائے اور بعد ازاں بہتری کی کوششوں کو تیز کیا گیا۔میانمار میں سمندی طوفان2مئی 2008ء کو میانمار میں شدید سمندی طوفان آیا جسے ''نرگس سائیکلون‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی تباہ کن طوفان تھا جو میانمار کی ریکارڈ شدہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفت کا سبب بنا۔طوفان نے گنجان آباد علاقوں میں 40 کلومیٹر تک طوفانی لہریں پیدا کیں۔اس طوفان سے بہت بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی اور تقریباًایک لاکھ38ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ صرف لابوٹا ٹاؤن شپ میں 80ہزار لوگ ہلاک ہوئے، بوگلے میں تقریباً 10ہزار اموات رپورٹ ہوئیں۔ 55 ہزار کے قریب افراد لاپتہ ہوئے ۔طوفان کی وجہ سے 12 بلین ڈالر کا نقصان ہوا۔جرمنی: مزدور یونینوں کا خاتمہ1933 میں جرمنی میں ایک اہم سیاسی تبدیلی کے دوران ملک کی آزاد مزدور یونینوں کو ختم کر کے ان کی جگہ جرمن لیبر فرنٹ قائم کر دی گئی۔ یہ اقدام اس وقت کے حکمرانوں کی جانب سے مزدور تحریک کو ایک مرکزی اور ریاستی کنٹرول میں لانے کی کوشش تھی۔ اس تنظیم نے تمام مزدور سرگرمیوں کو حکومت کے تابع کر دیا اور آزاد یونینوں کے کردار کو مکمل طور پر ختم کر دیا۔ اس تبدیلی نے جرمن معاشرے میں مزدوروں کی آزادی اور حقوق پر گہرے اثرات ڈالے اور ملک کے سیاسی ڈھانچے کو مزید سخت کنٹرول میں دے دیا۔

کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

کیا تازہ ہوا ذہنی کارکردگی کو بہتر بنانے کیلئے موثر ہے ؟

حالیہ برسوں میں فضائی آلودگی انسانی صحت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر سامنے آئی ہے۔ صرف پھیپھڑوں اور دل کی بیماریاں ہی نہیں بلکہ اب سائنسدان یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ آلودہ ہوا دماغی صحت اور ذہنی کارکردگی پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی حوالے سے حال ہی میں ایک تحقیق سامنے آئی ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایئر پیوریفائر دماغی کارکردگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔یہ تحقیق امریکہ کے ایک ایسے علاقے میں کی گئی جہاں ٹریفک اور صنعتی آلودگی نسبتاً زیادہ تھی۔ اس تحقیق میں مجموعی طور پر 119 افراد شامل تھے جن کی عمر 30 سے 74 سال کے درمیان تھی۔ ان افراد کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔ایک گروپ کو حقیقی HEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر دیے گئے جبکہ دوسرے گروپ کو ایسے پیوریفائر دیے گئے جو دیکھنے میں بالکل اصلی تھے لیکن ہوا کو صاف نہیں کرتے تھے۔شرکانے ایک ماہ تک اپنے گھروں میں یہ پیوریفائر استعمال کیے۔ اس دوران محققین نے ان کی ذہنی کارکردگی کو مختلف ٹیسٹوں کے ذریعے جانچا جن میں یادداشت، توجہ، مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت اور ذہنی لچک (cognitive flexibility) شامل تھی۔ایک ماہ بعد دونوں گروپوں کے نتائج کا موازنہ کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ صاف ہوا کا دماغی صلاحیتوں پر کیا اثر پڑا۔تحقیق کے نتائج کافی دلچسپ تھے۔ خاص طور پر 40 سال سے زائد عمر کے افراد میں نمایاں فرق دیکھا گیا۔ جن افراد نے ایئر پیوریفائر استعمال کیے تھے انہوں نے ذہنی ٹیسٹ تقریباً 12 فیصد تیزی سے مکمل کیے۔اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ صاف ہوا دماغی کارکردگی میں بہتری لا سکتی ہے، خاص طور پر درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں۔فضائی آلودگی اور دماغ کا تعلقسائنسدانوں کے مطابق فضائی آلودگی میں موجود باریک ذرات (particulate matter) صرف پھیپھڑوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ جسم میں داخل ہو کر دماغ پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔یہ ذرات دماغی سوزش بڑھا سکتے ہیں،خون کی شریانوں کو متاثر کر سکتے ہیں،دماغی خلیات کے درمیان رابطے کو کمزور کر سکتے ہیں۔بعض تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ طویل عرصے تک آلودہ ہوا میں رہنے سے الزائمر اور یادداشت کی خرابی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ایئر پیوریفائر کا کردارHEPA فلٹر والے ایئر پیوریفائر ہوا میں موجود باریک ذرات، دھول، پولن اور کچھ حد تک آلودگی کو کم کرتے ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق جب اندرون خانہ ہوا صاف ہوتی ہے تو دماغ کو بہتر آکسیجن ملتی ہے اور ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ شرکاکی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی، خاص طور پر اُن افراد میں جو پہلے سے آلودگی والے ماحول میں رہ رہے تھے۔کیا یہ نتیجہ حتمی ہے؟اگرچہ یہ نتائج امید افزا ہیں لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ یہ ایک مختصر مدت کی تحقیق تھی۔ صرف ایک ماہ کے مشاہدے کی بنیاد پر طویل مدتی نتائج اخذ نہیں کیے جا سکتے۔اس کے علاوہ شرکا کی تعداد محدود تھی۔مختلف طرزِ زندگی رکھنے والے افراد شامل تھے۔طویل مدتی دماغی صحت پر اثرات ابھی واضح نہیں۔اس لیے مزید وسیع اور طویل تحقیقات کی ضرورت ہے۔عام زندگی کیلئے اس کا مطلباس تحقیق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ صاف ہوا صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہے۔ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو شہروں میں رہتے ہیں جہاں آلودگی زیادہ ہوتی ہے، ایئر پیوریفائر ایک مددگار آلہ ثابت ہو سکتا ہے،تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ صرف پیوریفائر پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ مجموعی طور پر ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے جیسے درخت لگانا،گاڑیوں کے دھوئیں کو کم کرنا،صاف توانائی کے ذرائع استعمال کرنا۔یہ تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہماری روزمرہ کی ہوا، جسے ہم عام طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں، ہمارے دماغی افعال پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ ایئر پیوریفائر کے استعمال سے وقتی طور پر ذہنی کارکردگی میں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن اس کے مستقل فوائد جاننے کے لیے مزید تحقیق ضروری ہے۔مختصراً کہا جا سکتا ہے کہ صاف ہوا صرف سانس لینے کے لیے نہیں بلکہ بہتر سوچنے اور بہتر فیصلہ کرنے کے لیے بھی اہم ہے۔ 

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

صحت مند لمبی زندگی کا راز قدیم یونانیوں کی نظر میں

جیسے آج کے دور میں لوگ لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں قدیم زمانے کے لوگ بھی ایسے ہی یہ خواہش رکھتے تھے۔ یونانی اور رومی لوگ دور دراز علاقوں کے باشندوں کے بارے میں عجیب و غریب کہانیاں سنتے تھے کہ وہ سو سال سے بھی زیادہ جیتے ہیں۔ یونانی ادیب Lucian (تقریباً 120-180 ء) لکھتا ہے: ''واقعی کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جو بہت لمبی عمر پاتی ہیں جیسے سیرس (چین کے لوگ) جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تین سو سال تک زندہ رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کی لمبی عمر کی وجہ وہاں کی آب و ہوا کو قرار دیتے ہیں، کچھ زمین کو اور کچھ ان کی خوراک کوکیونکہ کہا جاتا ہے کہ وہ صرف پانی پیتے ہیں۔اسی طرح ایتھوس کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ 130 سال تک زندہ رہتے ہیں اور جنوبی میسوپوٹیمیا کے لوگ سو سال سے زیادہ عمر پاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ جو کی روٹی کھاتے ہیں، جو ان کی بینائی کو تیز رکھتی ہے۔‘‘چاہے ان باتوں میں کتنی ہی سچائی ہو ایک بات واضح ہے کہ یونانی اور رومی لوگ بھی لمبی اور صحت مند زندگی کے خواہش مند تھے اور وہ اس کے طریقے تلاش کرتے رہتے تھے۔ایک قدیم طبیب کی نظر میںقدیم زمانے کے طبیب اس بات میں دلچسپی رکھتے تھے کہ لمبی عمر پانے والے لوگ روزمرہ زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ یونانی حکیم جالینوس( Galen،129-216 ء) نے ایسے دو لوگوں کا ذکر کیا ہے جنہیں وہ خود جانتا تھا۔پہلا شخص ٹیلیفس نامی ایک عالم تھا جو تقریباً سو سال جیا۔ جالینوس کے مطابق وہ دن میں صرف تین بار کھانا کھاتا تھا اور اس کی خوراک نہایت سادہ تھی۔ صبح وہ پانی میں پکا ہوا دلیہ شہد کے ساتھ کھاتا تھا۔ دوپہر کو پہلے سبزیاں کھاتا پھر تھوڑی سی مچھلی یا پرندے کا گوشت۔ شام کو وہ صرف روٹی کھاتا۔اس کی نہانے کی عادتیں بھی کچھ مختلف تھیں۔ وہ روزانہ زیتون کے تیل سے مساج کرواتا لیکن نہاتا کم تھا۔سردیوں میں مہینے میں دو بار، گرمیوں میں چار بار، اور درمیانی موسم میں تین بار۔دوسرا شخص اینٹیوکس نامی ایک بوڑھا طبیب تھا جو اسی سال سے زیادہ جیا۔ اس کی خوراک بھی سادہ تھی۔ صبح شہد کے ساتھ روٹی، دوپہر کو مچھلی اور رات کو ہلکی غذا جیسے دلیہ یا پرندے کا گوشت کھاتا تھا۔وہ روزانہ چہل قدمی کرتا تھا، کبھی رتھ میں سیر کرتا اور کبھی لوگوں سے اٹھوا کر شہر میں گھومتا تھا۔ اس کے علاوہ وہ اپنی عمر کے مطابق ہلکی پھلکی ورزش بھی کرتا تھا۔جالینوس کے مطابق اسی متوازن طرزِ زندگی کی بدولت اینٹیوکس بڑھاپے تک صحت مند رہا۔ وہ آخر وقت تک ذہنی اور جسمانی طور پر تندرست رہا۔ہم کیا سیکھ سکتے ہیں؟ہر کوئی سو سال نہیں جیتا،یہ بات قدیم لوگ بھی جانتے تھے مگر Lucian ایک بات کہتا ہے:''دنیا کے ہر علاقے اور ہر موسم میں وہی لوگ لمبی عمر پاتے ہیں جو مناسب ورزش کرتے ہیں اور صحت کے مطابق غذا اختیار کرتے ہیں۔‘‘اس لیے وہ مشورہ دیتا ہے کہ اگر ہم لمبی اور صحت مند زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے لوگوں کے طرزِ زندگی کو اپنانا چاہیے جو واقعی لمبی عمر پاتے ہیں۔اگر آپ دوسری صدی عیسوی کے روم میں رہتے، تو ٹیلیفس اور اینٹیوکس جیسے سادہ غذا کھانے اور متحرک رہنے والے لوگ آپ کے لیے بہترین نمونہ ہوتے۔  

آج کا دن

آج کا دن

انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی29 اپریل 1660ء کو انگلینڈ میں بادشاہت کی بحالی کی راہ ہموار ہوئی جب چارلس ii آف انگلینڈکو دوبارہ بادشاہ تسلیم کرنے کا عمل شروع ہوا۔ اس پیش رفت نے خانہ جنگی اور جمہوریہ کے دور کے بعد سیاسی استحکام پیدا کیا۔اولیور کومویل کے دور کے خاتمے کے بعد یہ ایک بڑی تبدیلی تھی جس نے برطانیہ کی آئینی تاریخ پر گہرا اثر ڈالا۔ لوئزیانا خریداری کا معاہدہ 29 اپریل 1803ء کو امریکہ اور فرانس کے درمیان ریاست لوئزیانا کی خریداری کا معاہدہ طے پایا۔ اس معاہدے کے تحت نپولین بوناپارٹ نے ایک وسیع علاقہ امریکہ کو فروخت کیا جس سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا رقبہ تقریباً دوگنا ہو گیا۔ یہ معاہدہ امریکی تاریخ کا ایک اہم سنگِ میل سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس نے مغرب کی جانب توسیع، معاشی ترقی اور سیاسی طاقت میں اضافہ ممکن بنایا۔ڈاخاؤ حراستی کیمپ کی آزادی29 اپریل 1945ء کو امریکی افواج نے ڈاخاؤ حراستی کیمپ کو آزاد کروایا۔ یہ نازی جرمنی کے ابتدائی اور بدنام زمانہ کیمپوں میں سے ایک تھا جہاں ہزاروں قیدیوں کو قید اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب اتحادی فوجیں یہاں پہنچیں تو انہوں نے انتہائی خوفناک حالات دیکھے۔بھوکے، بیمار قیدی اور لاشوں کے انبار۔ یہ واقعہ دوسری عالمی جنگ کے اختتامی دنوں میں نازی مظالم کی ایک ہولناک تصویر دنیا کے سامنے لایا اور اس کے بعد جلد ہی جرمنی کی شکست واقع ہوئی۔ سیگون سے انخلا29 اپریل 1975ء کو امریکہ نے ویتنام جنگ کے آخری مرحلے میں اپنے شہریوں اور اتحادیوں کو سیگون سے نکالنا شروع کیا۔ اس وقت شمالی ویتنام کی افواج شہر کے قریب پہنچ چکی تھیں اور جنوبی ویتنام کی حکومت تقریباً ختم ہو چکی تھی۔ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے سفارتخانے اور دیگر مقامات سے لوگوں کو نکالا گیا اور یہ منظر دنیا بھر میں نشر ہوا۔ یہ انخلاویتنام جنگ کے اختتام کی واضح علامت تھا کیونکہ اگلے ہی دن سیگون پر قبضہ ہو گیا۔ لاس اینجلس فسادات 29 اپریل 1992ء کو امریکہ کے شہر لاس اینجلس میں شدید فسادات شروع ہوئے جب عدالت نے روڈنی کنگ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو بری کر دیا۔ اس فیصلے نے عوام میں غم و غصہ پیدا کیا اور شہر میں لوٹ مار، آتش زنی اور احتجاج شروع ہو گیا۔ یہ فسادات کئی دنوں تک جاری رہے اور درجنوں افراد ہلاک جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے۔ اس واقعے نے امریکہ میں نسلی امتیاز، پولیس کے رویے اور عدالتی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کیے اور بعد میں اصلاحات کی بحث کو جنم دیا۔