آج کا دن

آج کا دن

اسپیشل فیچر

تحریر :


نائٹ آف دی لانگ نائیوز
30 جون 1934ء کو جرمنی میں نازی حکومت نے ایک خونی کارروائی کی جسے تاریخ میں نائٹ آف دی لانگ نائیوز کہا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف ایرنسٹ روہم اور اس کی نیم فوجی تنظیم تھی جو نازی پارٹی کے اقتدار میں آنے میں اہم کردار ادا کر چکی تھی لیکن اب جرمن فوج اور خود ہٹلر کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھی۔30 جون سے 2 جولائی 1934ء تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں درجنوں اہم سیاسی رہنماؤں، فوجی افسروں اور مخالف شخصیات کو گرفتار یا قتل کیا گیا۔ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد جرمن فوج نے ہٹلر کی قیادت کو مکمل طور پر قبول کر لیا۔
کانگو کی آزادی
30 جون 1960ء کو وسطی افریقہ کا ملک جمہوریہ کانگو تقریباً 75 برس کی نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد بلجیم سے آزاد ہوا۔ آزادی کی تقریب دارالحکومت لیوپولڈویل (موجودہ کنشاسا) میں منعقد ہوئی، جہاں بلجیم کے بادشاہ بوڈوئن بھی شریک تھے۔ اس موقع پر کانگو کے پہلے وزیر اعظم پاتریس لومومبا نے ایک تاریخی اور جرأت مندانہ تقریر کی جس میں انہوں نے بلجیئن نوآبادیاتی دور کے مظالم، استحصال اور نسلی امتیاز کا کھل کر ذکر کیا۔ ان کی تقریر نے پوری دنیا میں توجہ حاصل کی اور افریقی آزادی کی تحریکوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔اگرچہ آزادی ایک تاریخی کامیابی تھی لیکن اس کے بعد کانگو سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
ٹنگوسکا واقعہ
30 جون 1908ء کی صبح سائبیریا کے دور افتادہ علاقے ٹنگوسکا میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی فضائی دھماکوں میں سے ایک پیش آیا۔ ایک عظیم شہابِ ثاقب یا دمدار ستارے کا ٹکڑا زمین کی فضا میں داخل ہوا اور تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر زبردست دھماکے سے پھٹ گیا۔اس دھماکے کی طاقت کا اندازہ 10 سے 15 میگاٹن ٹی این ٹی کے برابر لگایا جاتا ہے جو بعد میں استعمال ہونے والے کئی ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ تھی۔ دھماکے سے تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر جنگل تباہ ہو گیا اور اندازاً آٹھ کروڑ درخت زمین بوس ہو گئے لیکن اس مقام پر کوئی بڑا گڑھا نہیں ملا کیونکہ شہابیہ زمین سے ٹکرانے کے بجائے فضا ہی میں پھٹ گیا تھا۔
خلائی جہاز سویوز 11 کا انجام
30 جون 1971ء کو سوویت یونین کے خلائی جہاز سویوز 11 کے تینوں خلا باز زمین پر واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے۔ یہ دنیا کی خلائی تاریخ کا ایک منفرد اور افسوسناک واقعہ تھا کیونکہ یہ واحد انسان ہیں جن کی موت vacuum of space میں واقع ہوئی۔یہ مشن دنیا کے پہلے خلائی سٹیشن سالیوت1 پر کامیاب قیام کے بعد واپس آ رہا تھا۔ خلا بازوں نے تقریباً 23 دن خلائی سٹیشن میں گزارے تھے جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ واپسی کے دوران کیپسول کے ایک پریشر والو میں خرابی پیدا ہوئی جس سے چند لمحوں میں کیبن کی تمام ہوا خارج ہو گئی۔ اس وقت خلا باز سپیس سوٹ نہیں پہنے ہوئے تھے اس لیے وہ چند سیکنڈ میں بے ہوش ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔
ہانگ کانگ میں برطانوی اقتدار کا اختتام
30 جون 1997ء برطانوی سلطنت کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا۔ اسی رات ہانگ کانگ پر تقریباً 156 سالہ برطانوی حکمرانی کا اختتام ہوا اور یکم جولائی 1997ء کی ابتدائی ساعتوں میں اس کا اقتدار عوامی جمہوریہ چین کو منتقل کر دیا گیا۔یہ منتقلی 1984ء کے چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت عمل میں آئی تھی جس کے مطابق ہانگ کانگ کو ایک ملک، دو نظام کے اصول کے تحت خصوصی انتظامی علاقہ بنایا گیا۔ اس نظام کے مطابق ہانگ کانگ کو اپنے معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام میں 50 برس تک وسیع خودمختاری حاصل رہنی تھی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

30 جون:شہابیوں کا عالمی دن

ہر سال 30 جون کو دنیا بھر میں شہابیوں کا عالمی دن (International Asteroid Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں شہابیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، ان کی سائنسی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر آسمان پر گردش کرنے والے یہ اجسام محض فلکیاتی دلچسپی کا باعث دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض زمین کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں جبکہ بہت سے شہابیے ہمارے نظامِ شمسی کی تخلیق کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ٹنگوسکا واقعہ اور عالمی دن کی اہمیتشہابیوں کا عالمی دن 30 جون کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ اسی تاریخ کو 1908ء میں روس میں سائبیریا کے علاقے ٹنگوسکا میں ایک عظیم فلکیاتی واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک دیوہیکل شہابیہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے لاکھوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ خوش قسمتی سے یہ علاقہ غیر آباد تھا اس لیے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا، لیکن اگر ایسا واقعہ کسی بڑے شہر کے اوپر پیش آتا تو تباہی ناقابلِ تصور ہوتی۔ یہی واقعہ آج بھی سائنسدانوں کو یاد دلاتا ہے کہ خلا سے آنے والے خطرات حقیقی ہیں اور ان کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر میں فرقشہابیے دراصل سورج کے گرد گردش کرنے والے پتھریلے یا دھاتی اجسام ہیں جو زیادہ تر مریخ اور مشتری کے درمیان موجود Asteroid Belt میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے مدار سے ہٹ کر زمین کے قریب بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تین مختلف اصطلاحات ہیں۔ خلا میں موجود پتھریلا جسم شہابیہ (Asteroid) کہلاتا ہے۔ جب اس کا کوئی حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلنے لگتا ہے تو اسے شہابِ ثاقب (Meteor) کہا جاتا ہے، جو رات کو آسمان پر ایک روشن لکیر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگر اس کا کچھ حصہ جلنے سے بچ جائے اور زمین پر آ گرے تو وہ شہابی پتھر (Meteorite) کہلاتا ہے۔ اسی لیے International Asteroid Dayبنیادی طور پر خلا میں موجود شہابی اجسام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا دن ہے۔زمین کیلئے خطرات اور جدیداقداماتسائنسدانوں کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ایک بہت بڑا شہابیہ موجودہ میکسیکو کے علاقے میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس تصادم کے نتیجے میں عالمی سطح پر موسمی تبدیلیاں آئیں اور ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار معدوم ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بڑے شہابیے پوری زمین کے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور دیگر خلائی ادارے زمین کے قریب آنے والے شہابیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ جدید دوربینوں، کمپیوٹر ماڈلز اور خلائی مشنز کی مدد سے ان کے مدار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک شہابیہ زمین کی طرف بڑھتا دکھائی دے تو بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ 2022ء میں ناسا نے DART مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک شہابیہ سے خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ٹکرا کر اس کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اس کامیاب تجربے نے ثابت کیا کہ مستقبل میں کسی خطرناک شہابیہ کا راستہ تبدیل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔تحقیق، مستقبل اور انسانیت کا مشترکہ مشنشہابیوں کی تحقیق صرف خطرات تک محدود نہیں، یہ اجسام نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی دور کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں اربوں سال پرانا مادہ محفوظ ہے۔ ان کے مطالعے سے سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج، سیارے اور زمین کیسے وجود میں آئے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اور زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات بھی ابتدائی دور میں شہابیوں کے ذریعے پہنچے ہوں گے۔مستقبل میں کئی ممالک شہابیوں سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کے امکانات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کی کامیابی خلائی معیشت میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہے۔شہابیوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین کائنات میں تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع اور متحرک نظام کا حصہ ہے۔ جدید سائنس، بین الاقوامی تعاون اور مسلسل تحقیق کے ذریعے نہ صرف کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکتا۔ ہے بلکہ زمین کو ممکنہ خلائی خطرات سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے 3کروڑ 40لاکھ بچے خطرے میں

پاکستان کے 3کروڑ 40لاکھ بچے خطرے میں

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر دنیا کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بھاری بوجھ وہ بچے اٹھا رہے ہیں جن کا اس بحران کے پیدا ہونے میں کوئی کردار نہیں۔Children's Climate Risk Report (2026) کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب دس کروڑ سے زائد بچے بیک وقت کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت جیسے متعدد خطرات کی زد میں ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کا عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں آنے والے شدید سیلاب، ریکارڈ توڑ گرمی، سموگ، بارشوں کے غیر متوقع سلسلے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ ایک انسانی بحران بن چکی ہے جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔شدید موسم اور بچوں کو لاحق خطراتیونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں بچوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ کم عمر بچوں میں جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے جس کے باعث وہ ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی، خصوصاً لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں سموگ بچوں میں دمہ، نمونیا اور سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافہ کر رہی ہے۔اسی طرح صاف پانی کی کمی اور آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی امراض پھیل رہے ہیں۔ غذائی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی سے لاکھوں خاندان مناسب خوراک فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجے میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔سیلاب، نقل مکانی اور تعلیم کا بحرانپاکستان میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے یہ ثابت کر دیا کہ قدرتی آفات کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو پہنچتا ہے۔ لاکھوں بچے بے گھر ہوئے، ہزاروں سکول تباہ یا متاثر ہوئے اور کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں مہینوں معطل رہیں۔ جب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں تو بچوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے دوبارہ سکول نہیں جا پاتے اور بعض اوقات انہیں گھریلو ذمہ داریوں یا مزدوری میں لگنا پڑتا ہے۔اس صورتحال کا ایک اور پہلو ذہنی صحت ہے۔ گھر، سکول اور معمول کی زندگی سے محرومی بچوں میں خوف، اضطراب اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے بچوں کو صرف خوراک اور رہائش ہی نہیں بلکہ نفسیاتی معاونت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہے؟یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو موسمیاتی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ ایسے سکول تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو شدید موسموں کا مقابلہ کر سکیں، صحت کے مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم، ہنگامی امدادی منصوبے اور بچوں کے تحفظ کے خصوصی پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، جنگلات میں اضافے، پانی کے بہتر انتظام، ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور موسمیاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے سے آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دیا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کو بھی شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ آبادی کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔آج کا فیصلہ، کل کی نسلوں کا مستقبلپاکستان کے تین کروڑ چالیس لاکھ بچے صرف ایک عدد نہیں بلکہ ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر ان کی صحت، تعلیم اور تحفظ کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف ماحول بچانے کی نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، انسانی ترقی اور قومی سلامتی کی جنگ بھی ہے۔حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور عام شہری اگر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان موسمیاتی خطرات کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر آج کے موسمیاتی خطرات کل کے انسانی، معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائیں گے، اور ان کا سب سے بڑا بوجھ انہی بچوں پر پڑے گا جو اس بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

جدید چپ متعارف

جدید چپ متعارف

مصنوعی ذہانت کی دنیا میں ایک اور سنگِ میلپرسنل کمپیوٹرز میں اے آئی،ٹیکنالوجی کی دنیا کا نیا موڑمصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں تیز رفتار ترقی نے کمپیوٹر کے روایتی تصورات کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب مصنوعی ذہانت صرف بڑے ڈیٹا سینٹرز اور کلاؤڈ پلیٹ فارمز تک محدود نہیں رہی بلکہ اسے براہ راست ذاتی کمپیوٹرز تک پہنچانے کی دوڑ بھی تیز ہو گئی ہے۔ اسی تناظر میں دنیا کی معروف چپ ساز کمپنی این ویڈیا نے ایک نئی اور جدید اے آئی چپ متعارف کرائی ہے، جس کا مقصد مصنوعی ذہانت کو براہ راست پرسنل کمپیوٹرز تک منتقل کرنا ہے۔ اس نئی ٹیکنالوجی کی بدولت صارفین انٹرنیٹ یا کلاؤڈ پر انحصار کم کرتے ہوئے اپنے کمپیوٹر پر ہی جدید اے آئی ایپلی کیشنز، تخلیقی سافٹ ویئر، ڈیٹا تجزیے اور دیگر ذہین نظاموں سے زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر انداز میں استفادہ کر سکیں گے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف ذاتی کمپیوٹنگ کے شعبے میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو گی بلکہ مصنوعی ذہانت کے روزمرہ استعمال کو بھی مزید آسان، عام اور قابلِ رسائی بنا دے گی، جس کے اثرات تعلیم، تحقیق، کاروبار اور تخلیقی صنعتوں سمیت زندگی کے متعدد شعبوں پر مرتب ہوں گے۔امریکی ٹیکنالوجی کمپنی این ویڈیا رواں سال کے آخر تک مائیکروسافٹ، ڈیل اور دیگر معروف برانڈز کے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں مصنوعی ذہانت (AI) کی جدید صلاحیتیں متعارف کرانے جا رہی ہے، جس کے ذریعے کمپنی اپنے اے آئی کاروبار کو مزید وسعت دے گی۔امریکا کی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سانتا کلارا میں قائم اے آئی چپس بنانے والی کمپنی نے تائیوان کے شہر تائی پے میں منعقدہ اپنی سالانہ این ویڈیا جی ٹی سی کانفرنس کے دوران نئے اور طاقتور چپس متعارف کرائے، جو لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں جدید مصنوعی ذہانت کی سہولیات فراہم کریں گے۔کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جینسن ہوانگ کے مطابق یہ نئی پیش رفت ''پرسنل کمپیوٹر کو ازسرِنو متعارف کرائے گی‘‘۔ یہ پیش رفت مائیکروسافٹ اور این ویڈیا کے درمیان گزشتہ تین برسوں سے جاری تعاون کا نتیجہ ہے اور اس کے ذریعے این ویڈیا کا مقابلہ چپ ساز کمپنی ایڈوانسڈ مائیکرو ڈیوائسز (AMD) اور کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی معروف کمپنیوں انٹیل اور ایپل سے مزید سخت ہو جائے گا۔جینسن ہوانگ نے تقریب کے دوران ''آرٹی ایکس سپارک‘‘(RTX Spark) نامی نیا سپر چپ بھی متعارف کرایا، جو سی پی یو (Central Processing Unit) اور جی پی یو (Graphics Processing Unit) دونوں کی صلاحیتوں کو یکجا کرتا ہے۔ یہ چپ ونڈوز پر مبنی نئے لیپ ٹاپ اور ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز کو طاقت فراہم کرے گی، جنہیں کمپنی نے ''اے آئی پرسنل کمپیوٹرز‘‘ کا نام دیا ہے۔ ان نئے کمپیوٹرز کی فروخت رواں سال خزاں کے موسم میں شروع ہونے کی توقع ہے۔یہ چپ تائیوان کی کمپنی میڈیا ٹیک کے اشتراک سے تیار کی گئی ہے اور ابتدائی طور پر ڈیل، ایچ پی، لینوو، ایسوس، مائیکروسافٹ سرفیس اور ایم ایس آئی کے کمپیکٹ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوگی، جبکہ بعد ازاں ایسر اور گیگا بائٹ بھی اس ٹیکنالوجی پر مبنی ماڈلز متعارف کرائیں گے۔دنیا کی سب سے قیمتی کمپنیوں میں شمار ہونے والی این ویڈیا کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی تخلیقی کاموں (Content Creation) اور گیمنگ کے شعبے میں انقلاب برپا کرے گی۔جینسن ہوانگ کے مطابق ''جب آپ کے کمپیوٹر میں ایک خودمختار مصنوعی ذہانت پر مبنی معاون (AI Agent) موجود ہوگا، جو آپ کو سمجھے گا اور آپ کی مدد کرے گا، تو آپ اس سے بات کر سکیں گے، وہ آپ کو دیکھ سکے گا، آپ اس سے فائلیں پڑھنے، تحقیق میں مدد کرنے اور دیگر متعدد کام انجام دینے کیلئے کہہ سکیں گے۔ یوں پرسنل کمپیوٹر پہلے سے کہیں زیادہ ذہین اور کارآمد بن جائے گا۔مائیکروسافٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ این ویڈیا کے ''آر ٹی ایکس سپارک‘‘ سپر چپس سے لیس پرسنل کمپیوٹرز نہایت طاقتور مصنوعی ذہانت ماڈلز اور پیچیدہ کمپیوٹنگ ورک لوڈز کو باآسانی چلانے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔این ویڈیا کے مطابق، ان نئے سپر چپس کی بدولت یہ پرسنل کمپیوٹرز مصنوعی ذہانت پر مبنی ایجنٹس کو براہِ راست اپنے سسٹم پر چلا سکیں گے، جس کیلئے ہر وقت کلاؤڈ سروس یا انٹرنیٹ پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے صارفین کو تیز رفتار کارکردگی، بہتر رازداری، کم تاخیر اور زیادہ مؤثر انداز میں اے آئی سہولیات میسر آئیں گی۔ماہرین کے مطابق این ویڈیا کا یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ذاتی مصنوعی ذہانت معاونین (Personal AI Agents)کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ٹیکنالوجی ریسرچ اور مشاورتی ادارے اومڈیا (Omdia) کے چیف تجزیہ کار لیان جے سو نے کہا کہ صارفین کیلئے اس کا مطلب زیادہ انتخاب اور بہتر مواقع ہیں، اور یہ ہمیشہ ایک مثبت پیش رفت ہوتی ہے۔دوسری جانب ٹیکنالوجی مارکیٹ ریسرچ فرم کاؤنٹر پوائنٹ ریسرچ کے شریک بانی اور تجزیہ کار نیل شاہ نے این ویڈیا کے اس اعلان کو ایسا قدم قرار دیا جو آئندہ دس برسوں میں پرسنل کمپیوٹرز کی شکل و صورت اور استعمال کا انداز بدل کر رکھ دے گا۔

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر:ایک خاموش بحران

زیر زمین پانی کے کم ہوتے ذخائر:ایک خاموش بحران

اگر کسی صبح آپ اپنے گھر کا نل کھولیں اور اس میں سے پانی نہ آئے تو یقینا آپ کو فوراً احساس ہو جائے گا کہ پانی کی کتنی اہمیت ہے۔ لیکن شاید ہم میں سے بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ ہمارے گھروں، شہروں اور کھیتوں تک پہنچنے والا یہ پانی آخر آتا کہاں سے ہے۔ دریائوں، نہروں اور ڈیموں کا ذکر تو اکثر ہوتا رہتا ہے، مگر زمین کے سینے میں صدیوں سے محفوظ وہ خزانہ، جسے ہم زیر زمین پانی یا گرائونڈ واٹر کہتے ہیں، خاموشی سے ختم ہوتا جا رہا ہے۔یہ ایک ایسا بحران ہے جو نظر نہیں آتا، اسی لیے شاید اس پر توجہ بھی کم دی جاتی ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی آبی سلامتی کا مستقبل بڑی حد تک اسی پوشیدہ ذخیرے سے وابستہ ہے۔ اگر یہ ذخائر ختم ہوتے رہے تو صرف کھیت ہی بنجر نہیں ہوں گے بلکہ شہر بھی پیاس کا شکار ہو سکتے ہیں۔پاکستان پہلے ہی پانی کی کمی کا سامنا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ آبادی میں مسلسل اضافہ، موسمیاتی تبدیلی، بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز اور پانی کے غیر محتاط استعمال نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ہم اکثر دریائوں میں کم پانی، ڈیموں کی ضرورت یا صوبوں کے درمیان آبی تنازعات پر گفتگو کرتے ہیں، لیکن زمین کے نیچے موجود پانی کے تیزی سے کم ہوتے ذخائر ہماری توجہ حاصل نہیں کر پاتے۔آج ملک کے لاکھوں ٹیوب ویل دن رات زمین سے پانی کھینچ رہے ہیں۔ یہ پانی کھیتوں کو سیراب کرنے، شہروں کی ضروریات پوری کرنے اور صنعتوں کو چلانے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ مسئلہ پانی کے استعمال میں نہیں بلکہ اس کے بے دریغ اور بے قابو استعمال میں ہے۔ قدرت جتنی رفتار سے ان ذخائر کو دوبارہ بھرتی ہے، ہم اس سے کہیں زیادہ تیزی سے انہیں خالی کر رہے ہیں۔لاہور، راولپنڈی، پشاور اور کوئٹہ جیسے بڑے شہر بڑی حد تک زیر زمین پانی پر انحصار کرتے ہیں۔ بعض علاقوں میں پانی کی سطح ہر سال کئی فٹ نیچے جا رہی ہے۔ لوگ جب پانی کم ہونے کی شکایت کرتے ہیں تو نئے اور زیادہ گہرے بور کروا لیتے ہیں۔ یوں مسئلہ وقتی طور پر تو حل ہو جاتا ہے مگر اصل بحران مزید سنگین ہو جاتا ہے۔بلوچستان کی مثال ہمارے سامنے ہے، جہاں کئی علاقوں میں زیر زمین پانی اس قدر نیچے جا چکا ہے کہ کسانوں نے زمینیں چھوڑنا شروع کر دی ہیں۔ کوئٹہ برسوں سے اس مسئلے کا سامنا کر رہا ہے اور بعض دیہی علاقوں میں پانی کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار زراعت پر ہے اور زراعت کا دارومدار پانی پر۔ ہمارے آبپاشی کے نظام کو دنیا کے بڑے نظاموں میں شمار کیا جاتا ہے، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ نہری پانی کی دستیابی میں کمی اور زرعی رقبے میں اضافے نے کسانوں کو ٹیوب ویلوں کی طرف دھکیل دیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ بیشتر کسان اپنی فصلوں کیلئے زیر زمین پانی استعمال کر رہے ہیں۔ دوسری طرف ہم اب بھی ایسی فصلیں اگا رہے ہیں جنہیں پانی کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ گنا اور چاول جیسی فصلیں ان علاقوں میں بھی کاشت کی جا رہی ہیں جہاں پانی پہلے ہی کم ہے۔ روایتی فلڈ ایریگیشن کے طریقے بھی پانی کے بڑے ضیاع کا سبب بنتے ہیں۔ پانی کھیتوں میں ضرورت سے زیادہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور اس کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ فصلوں کی پانی کی ضرورت بڑھا رہا ہے۔ بارشوں کا نظام غیر یقینی ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی طویل خشک سالی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی شدید سیلاب آ جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم سیلابی پانی کو محفوظ کرنے اور اسے زیر زمین ذخائر تک پہنچانے کا موثر نظام بھی نہیں بنا سکے۔یہ مسئلہ صرف ماحولیات تک محدود نہیں بلکہ براہ راست عام آدمی کی زندگی سے جڑا ہوا ہے۔ جب پانی کی سطح نیچے جاتی ہے تو کسانوں کو زیادہ گہرے کنویں کھودنے پڑتے ہیں، زیادہ طاقتور موٹریں لگانی پڑتی ہیں اور بجلی کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں۔ چھوٹے کسان یہ بوجھ برداشت نہیں کر پاتے اور ان کی معاشی مشکلات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔شہروں میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ پانی کی قلت بڑھنے کے ساتھ لوگ نجی واٹر ٹینکروں پر انحصار کرنے لگتے ہیں۔ غریب آبادیوں کیلئے صاف پانی کا حصول مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پانی کے معیار کا مسئلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ بعض علاقوں میں زیر زمین پانی میں نمکیات، صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز اور آرسینک کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں صحت کے مسائل جنم لے رہے ہیں۔اس صورتحال کا تقاضا ہے کہ ہم زیر زمین پانی کو ایک قومی اثاثہ سمجھیں۔ پانی کے بے تحاشا استعمال کو روکنے کیلئے موثر قوانین اور نگرانی کا نظام ضروری ہے۔ نئے ٹیوب ویلوں کی رجسٹریشن اور پانی کے استعمال کے باقاعدہ ریکارڈ کی ضرورت ہے۔ساتھ ہی بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، ری چارج ویلز بنانے، چھوٹے آبی ذخائر تعمیر کرنے اور شہری علاقوں میں ایسے منصوبے متعارف کرانے کی ضرورت ہے جو پانی کو دوبارہ زمین میں جذب ہونے کا موقع دیں۔ جدید آبپاشی کے طریقوں کو فروغ دے کر بھی پانی کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔عوامی شعور بیدار کرنا بھی بے حد ضروری ہے۔ چونکہ زیر زمین پانی نظر نہیں آتا، اس لیے اس کی اہمیت کا احساس بھی کم ہوتا ہے۔ اگر لوگ یہ جان لیں کہ ان کے گھروں، کھیتوں اور شہروں کی بقا اسی پوشیدہ خزانے سے وابستہ ہے تو شاید وہ اس کے استعمال میں احتیاط بھی اختیار کریں۔دنیا کے کئی ممالک نے دانشمندانہ پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجی اور عوامی تعاون کے ذریعے اپنے زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو محفوظ بنایا ہے۔ پاکستان کے پاس بھی ماہرین، ادارے اور وسائل موجود ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جائے۔زمین کے نیچے موجود پانی صدیوں میں جمع ہوتا ہے مگر چند دہائیوں میں ختم بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہم نے آج اس خاموش بحران کو نظر انداز کیا تو آنے والی نسلیں ہمیں شاید کبھی معاف نہ کر سکیں۔

 دفتر میں نوکری

دفتر میں نوکری

ہم نے دفتر میں کیوں نوکری کی اور چھوڑی، آج بھی لوگ پوچھتے ہیں مگر پوچھنے والے تو نوکری کرنے سے پہلے بھی پوچھا کرتے تھے ''بھئی، آخر تم نوکری کیوں نہیں کرتے؟‘‘، ''نوکری ڈھونڈتے نہیں ہو یا ملتی نہیں؟‘‘، ''ہاں صاحب، ان دنوں بڑ ی بیروز گاری ہے‘‘، ''آخرکب تک گھر بیٹھے ماں باپ کی روٹی توڑو گے‘‘۔''لو اور سنو، کہتے ہیں، غلامی نہیں کریں گے۔‘‘''میاں صاحبزادے! برسوں جوتیاں گھسنی پڑیں گی، تب بھی کوئی ضروری نہیں کہ۔۔۔‘‘غرض کہ صاحب گھر والوں، عزیز رشتے داروں، پڑوسیوں اور دوستوں کے دن رات کے تقاضوں سے تنگ آکر ہم نے ایک عدد نوکری کرلی۔ نوکری تو کیا کی، گھر بیٹھے بٹھائے اپنی شامت مول لے لی۔ وہی بزرگ جو اٹھتے بیٹھتے بے روزگاری کے طعنوں سے سینہ چھلنی کئے دیتے تھے، اب ایک بالکل نئے انداز سے ہم پر حملہ آور ہوئے؟‘‘۔ ''اماں، نوکری کرلی؟ لاحول ولا قوہ!‘‘، ''ارے، تم اور نوکری؟‘‘، ''ہائے، اچھے بھلے آدمی کو کولہو کے بیل کی طرح دفتر کی کرسی میں جوت دیا گیا‘‘، ''اگر کچھ کام وام نہیں کرنا تھا تو کوئی کاروبار کرتے اس نوکری میں کیا رکھا ہے‘‘۔لیکن ملازمت کا پرسہ اور نوکری پر جانا دونوں کام جاری تھے۔ ایسے حضرات اور خواتین کی بھی کمی نہ تھی جن کی نظروں میں خیر سے ہم اب تک بالکل بے روزگار تھے۔ لہٰذا ان سب کی طرف سے نوکری کی کنویسنگ بھی جاری تھی۔ روزگار کرنے اور روز گار نہ کرنے کا بالکل مفت مشورہ دینے والوں سے نبٹ کر ہم روز انہ دفتر کا ایک چکر لگاآتے۔ یہاں چکر لگانے کا لفظ میں نے جان بوجھ کر استعمال کیاہے کیونکہ اب تک ہم کو نوکری مل جانے کے باوجود کا م نہیں ملا تھا۔ بڑے صاحب دورے پر گئے ہوئے تھے۔ ان کی واپسی پر یہ طے ہونا تھا کہ ہم کس شعبے میں رکھے جائیں گے۔ دفتر ہم صرف حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرنے کی حدتک جاتے تھے۔ فکر اس لیے نہ تھی کہ ہماری تنخواہ جڑرہی تھی، یعنی پیسے دودھ پی رہے تھے۔ پریشانی اس بات کی تھی کہ اس 'باکار‘ 'بے کاری‘ کے نتیجے میں ہم کہیں 'حرام خور‘ نہ ہوجائیں۔بے روزگاری کے تقاضوں سے ہم اس قدر تنگ آچکے تھے کہ اب کسی پر یہ ظاہر کرنا نہ چاہتے تھے کہ باوجود روزگار سے لگے ہونے کے ہم بالکل بے روزگار ہیں اور بے روز گا ر بھی ایسے کہ جس سے کارتو کار، بے گار تک نہیں لیا جارہا ہے۔اس کے بعدہم دفتر میں جاکر حاضری لگا الٹے قدموں باہر آتے، سائیکل اٹھاتے اور شہر کے باہر دیہات، باغوں اور کھیتوں کے چکر لگا لگا کر دل بہلاتے اور وقت کاٹتے۔لیکن دوچار دن میں، جب دیہات کی سیر سے دل بھرگیا، تو شہر کے نکڑ پر ایک چائے خانے میں اڈا جمایا۔ پھر ایک آدھ ہفتے میں اس سے بھی طبیعت گھبرا گئی۔ اب سوال یہ کہ جائیں تو جائیں کہاں؟ ایک ترکیب سوجھ گئی۔ گھر میں کہہ دیا، چھٹی لے لی ہے۔ دوچار دن بڑے ٹھاٹھ رہے آخر جھک مارکر وہی دفتری آوارہ گردی شروع کردی۔ رفتہ رفتہ وقت گزاری سے اتنے عاجز آگئے کہ ایک دن یہ سوچ کر کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری، استعفیٰ جیب میں رکھ کر دفتر پہنچے لیکن ہماری بدقسمتی ملا حظہ فرمائیے کہ قبل اس کے کہ ہم استعفیٰ پیش کرتے ہمیں یہ خوشخبری سنادی گئی کہ فلاں شعبے سے ہم کو وابستہ کر دیا گیا ہے، جہاں ہم کو فلاں فلاں کام کرنے ہوں گے۔اب ہم روزانہ بڑی پابندی سے پورا وقت دفتر میں گزارنے لگے۔ دن دن بھر دفتر کی میز پر جمے ناولیں پڑھتے، چائے پیتے اور اونگھتے رہتے۔ جب ہم اپنے انچارج سے کام کی فرمائش کرتے تو وہ بڑی شفقت سے کہتے ایسی جلدی کیاہے، عزیزم زندگی بھر کام کرنا ہے۔ایک دن ہم جیسے ہی دفتر پہنچے تو معلوم ہوا کہ جن ڈائریکٹر صاحب کو ہم اپنے گھر میں مرحوم قرار دے چکے تھے، وہ ہم کو طلب فرما رہے ہیں۔ فوراً پہنچے۔بڑے اخلاق سے ملے۔ دیر تک اِدھر ادھر کی باتیں کرنے کے بعد بولے، ''اچھا!‘‘،''آپ نے شائد مجھے کسی کام سے یاد فرمایا تھا‘‘۔''اوہ! ٹھیک ہے۔ سکریٹری صاحب سے مل لیجئے۔ وہ آپ کو سمجھا دیں گے‘‘۔سکریٹری صاحب سے ایک ہفتے بعد کہیں ملاقات ہوسکی۔ انہوں نے اگلے دن بلایا اور بجائے کام بتانے کے ڈپٹی سکریٹری کاپتہ بتا دیا۔ موصوف دورے پر تھے۔ دوہفتے بعد ملے۔ بہت دیر تک دفتری نشیب و فر از سمجھانے کے بعد ہمیں حکم دیاکہ اس موضوع پر اس اس قسم کا ایک مختصر سا مقالہ لکھ لائیے آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔خوشی کے مارے ہم پھولے نہ سمائے کہ ہم بھی دنیامیں کسی کام آسکتے ہیں۔ دوصفحے کا مقالہ تیار کرنا تھا جو ہم نے بڑی محنت کے بعد آدھے گھنٹے کے اندر تیار کردیا۔ موصوف نے مقالہ بہت پسند کیا۔مزید کام کیلئے ہم ان کے کمرے کا رخ کرنے ہی والے تھے کہ اس دفتر کے ایک گھاگ افسر نے ہمارا راستہ روکتے ہوئے ہمیں سمجھایا، بھیّا اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا چاہتے ہو یا ہم لوگوں کی نوکریاں ختم کرانا چاہتے ہو؟ آخر تمہارا مطلب کیا ہے؟ جو کام تم کو دیا گیا تھا، اسے کرتے رہو ہم لوگ دفتر میں کام کرنے نہیں بلکہ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کیلئے آتے ہیں۔اگلے دن اتوار کی چھٹی تھی۔ ناشتہ کرتے وقت اخبار کے میگزین سیکشن پر جو نظر دوڑائی تو وہی مقالہ ہمارے ایک صاحب کے صاحب کے صاحب کے صاحب کے نام نامی اور اسم گرامی کے دم چھلّے کے ساتھ بڑے نمایاں طور پر چھپا ہوا نظر آ گیا۔

آج تم یاد بے حساب آئے!شکیل:ہر دلعزیز اداکار (29مئی 1938ء تا 29جون 2023ء )

آج تم یاد بے حساب آئے!شکیل:ہر دلعزیز اداکار (29مئی 1938ء تا 29جون 2023ء )

٭...29مئی 1938ء کو غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے،تعلق بھوپال سے تھا، اصل نام یوسف کمال تھا۔٭...1952ء میں اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان منتقل ہوئے۔٭...ابتدائی تعلیم ایک فرانسیسی مشنری اسکول سے حاصل کی۔٭...1950ء کی دہائی میں زمانہ طالب علمی سے ہی غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور ریڈیو پاکستان کی طلبا کیلئے تیار کی گئی خصوصی نشریات میں بھی شرکت کی۔ ٭...1960ء کی دہائی میں علی احمد نے تھیٹر پر متعارف کرایا،جو کراچی میں تھیٹر کے فروغ کیلئے انتہائی سرگرم تھے۔شکیل نے ان کے ساتھ اسٹریٹ تھیٹر اور روایتی تھیٹر دونوں میں عملی شرکت کی ۔٭... بڑے پردے پرآمد 1966ء میں فلم' 'ہونہار‘‘ سے ہوئی۔ جس میں انہیں چاکلیٹی ہیرو وحید مراد کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔درجنوں فلموں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔٭...اپنی اداکارانہ صلاحیتوں سے کئی عشروں تک پاکستان اور دنیا بھر میں اردو ڈراموں کی پہچان بنے رہے۔٭...1972ء میں نشر ہونے والے ڈرامے کے 'انکل عرفی‘ ہوں یا 1984ء میں نشر ہونے والے ڈرامے 'آنگن ٹیڑھا‘ کے محبوب احمد یا پھر 1982ء میں نشر ہونے والے ڈرامے 'ان کہی‘ کے تیمور احمد ہوں، ہر کردار کو اس انداز سے نبھایا کہ وہ امر ہوگیا۔ ٭...ٹیلی وژن ڈراموں میں ایسا نام کمایا کہ لوگ ان کی جیسی اداکاری کرنے کی تمنا کرنے لگے۔٭...نیک انسان تھے، شوٹنگ کے دوران نماز کے وقت پر خاموشی سے کونے میں جاکے سربسجود ہو جاتے۔٭...انگریزی فلم ''جناح‘‘ میں پہلے پاکستانی وزیراعظم لیاقت علی خان کا کردار نبھایا۔ ٭... 1992ء میں انہیں صدارتی ایوراڈ ''پرائیڈ آف پرفارمنس‘‘سے نوازا گیا۔٭...2015ء میں انہیں حکومت کی طرف سے '' ستارہِ امتیاز‘‘ دیا گیا۔٭... یوسف کمال سے شکیل کاسفر کامیابیوں، کامرانیوں اور عروج و شہرت سے بھرپور رہا۔ ٭...29جون 2023ء کو کراچی میں انتقال ہوا۔٭...ان کی کیروٹڈ شریان میں رکاوٹ کا مسئلہ تھا اورچند روز بعدسرجری ہونی تھی‘ جوڑوں کی بھی تکلیف تھی۔مقبول ڈرامےانکل عرفی، ان کہی، شہزوری، زیر زبر پیش، آنگن ٹیڑھا ، افشاں، غرور، دوسری عورت، چودھویں کا چاند،کوٹھی نمبر 156، پرچھائیاں، عروسہ، چاند گرہن، میری ذات ذرہ بے نشاں، کنکر،اڈاری، جنتفلمو گرافیجوشِ انصاف، ناخدا ، پاپی ، زندگی (1968ء)، داستان (1969ء) ، انسان اور گدھا ،بادل اور بجلی‘ چاہت (1973ء)، جیدار (1981ء)، جناح (1998ء)، دستاویزی فلم ''ٹریفک ‘‘(بی بی سی چینل4)،زہر عشق (2016ء)