آج کا دن
اسپیشل فیچر
نائٹ آف دی لانگ نائیوز
30 جون 1934ء کو جرمنی میں نازی حکومت نے ایک خونی کارروائی کی جسے تاریخ میں نائٹ آف دی لانگ نائیوز کہا جاتا ہے۔ اس کارروائی کا بنیادی ہدف ایرنسٹ روہم اور اس کی نیم فوجی تنظیم تھی جو نازی پارٹی کے اقتدار میں آنے میں اہم کردار ادا کر چکی تھی لیکن اب جرمن فوج اور خود ہٹلر کے لیے خطرہ سمجھی جا رہی تھی۔30 جون سے 2 جولائی 1934ء تک جاری رہنے والی اس کارروائی میں درجنوں اہم سیاسی رہنماؤں، فوجی افسروں اور مخالف شخصیات کو گرفتار یا قتل کیا گیا۔ہلاک ہونے والوں کی تعداد درجنوں سے لے کر سینکڑوں تک بتائی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد جرمن فوج نے ہٹلر کی قیادت کو مکمل طور پر قبول کر لیا۔
کانگو کی آزادی
30 جون 1960ء کو وسطی افریقہ کا ملک جمہوریہ کانگو تقریباً 75 برس کی نوآبادیاتی حکمرانی کے بعد بلجیم سے آزاد ہوا۔ آزادی کی تقریب دارالحکومت لیوپولڈویل (موجودہ کنشاسا) میں منعقد ہوئی، جہاں بلجیم کے بادشاہ بوڈوئن بھی شریک تھے۔ اس موقع پر کانگو کے پہلے وزیر اعظم پاتریس لومومبا نے ایک تاریخی اور جرأت مندانہ تقریر کی جس میں انہوں نے بلجیئن نوآبادیاتی دور کے مظالم، استحصال اور نسلی امتیاز کا کھل کر ذکر کیا۔ ان کی تقریر نے پوری دنیا میں توجہ حاصل کی اور افریقی آزادی کی تحریکوں کے لیے حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔اگرچہ آزادی ایک تاریخی کامیابی تھی لیکن اس کے بعد کانگو سیاسی بحران کا شکار ہو گیا۔
ٹنگوسکا واقعہ
30 جون 1908ء کی صبح سائبیریا کے دور افتادہ علاقے ٹنگوسکا میں انسانی تاریخ کے سب سے بڑے قدرتی فضائی دھماکوں میں سے ایک پیش آیا۔ ایک عظیم شہابِ ثاقب یا دمدار ستارے کا ٹکڑا زمین کی فضا میں داخل ہوا اور تقریباً 5 سے 10 کلومیٹر کی بلندی پر زبردست دھماکے سے پھٹ گیا۔اس دھماکے کی طاقت کا اندازہ 10 سے 15 میگاٹن ٹی این ٹی کے برابر لگایا جاتا ہے جو بعد میں استعمال ہونے والے کئی ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ تھی۔ دھماکے سے تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر جنگل تباہ ہو گیا اور اندازاً آٹھ کروڑ درخت زمین بوس ہو گئے لیکن اس مقام پر کوئی بڑا گڑھا نہیں ملا کیونکہ شہابیہ زمین سے ٹکرانے کے بجائے فضا ہی میں پھٹ گیا تھا۔
خلائی جہاز سویوز 11 کا انجام
30 جون 1971ء کو سوویت یونین کے خلائی جہاز سویوز 11 کے تینوں خلا باز زمین پر واپسی کے دوران ہلاک ہو گئے۔ یہ دنیا کی خلائی تاریخ کا ایک منفرد اور افسوسناک واقعہ تھا کیونکہ یہ واحد انسان ہیں جن کی موت vacuum of space میں واقع ہوئی۔یہ مشن دنیا کے پہلے خلائی سٹیشن سالیوت1 پر کامیاب قیام کے بعد واپس آ رہا تھا۔ خلا بازوں نے تقریباً 23 دن خلائی سٹیشن میں گزارے تھے جو اس وقت ایک عالمی ریکارڈ تھا۔ واپسی کے دوران کیپسول کے ایک پریشر والو میں خرابی پیدا ہوئی جس سے چند لمحوں میں کیبن کی تمام ہوا خارج ہو گئی۔ اس وقت خلا باز سپیس سوٹ نہیں پہنے ہوئے تھے اس لیے وہ چند سیکنڈ میں بے ہوش ہو گئے اور جانبر نہ ہو سکے۔
ہانگ کانگ میں برطانوی اقتدار کا اختتام
30 جون 1997ء برطانوی سلطنت کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا۔ اسی رات ہانگ کانگ پر تقریباً 156 سالہ برطانوی حکمرانی کا اختتام ہوا اور یکم جولائی 1997ء کی ابتدائی ساعتوں میں اس کا اقتدار عوامی جمہوریہ چین کو منتقل کر دیا گیا۔یہ منتقلی 1984ء کے چین برطانیہ مشترکہ اعلامیے کے تحت عمل میں آئی تھی جس کے مطابق ہانگ کانگ کو ایک ملک، دو نظام کے اصول کے تحت خصوصی انتظامی علاقہ بنایا گیا۔ اس نظام کے مطابق ہانگ کانگ کو اپنے معاشی، عدالتی اور انتظامی نظام میں 50 برس تک وسیع خودمختاری حاصل رہنی تھی۔