30 جون:شہابیوں کا عالمی دن
اسپیشل فیچر
ہر سال 30 جون کو دنیا بھر میں شہابیوں کا عالمی دن (International Asteroid Day)منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد عوام میں شہابیوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، ان کی سائنسی اہمیت کو اجاگر کرنا اور زمین کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے عالمی سطح پر جاری کوششوں کو فروغ دینا ہے۔ بظاہر آسمان پر گردش کرنے والے یہ اجسام محض فلکیاتی دلچسپی کا باعث دکھائی دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے بعض زمین کے لیے سنگین خطرہ بھی بن سکتے ہیں جبکہ بہت سے شہابیے ہمارے نظامِ شمسی کی تخلیق کے راز اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔
ٹنگوسکا واقعہ اور عالمی دن کی اہمیت
شہابیوں کا عالمی دن 30 جون کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ اسی تاریخ کو 1908ء میں روس میں سائبیریا کے علاقے ٹنگوسکا میں ایک عظیم فلکیاتی واقعہ پیش آیا تھا۔ ایک دیوہیکل شہابیہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر دھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں تقریباً دو ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے ہوئے لاکھوں درخت جڑ سے اکھڑ گئے۔ خوش قسمتی سے یہ علاقہ غیر آباد تھا اس لیے بڑے پیمانے پر انسانی جانوں کا نقصان نہیں ہوا، لیکن اگر ایسا واقعہ کسی بڑے شہر کے اوپر پیش آتا تو تباہی ناقابلِ تصور ہوتی۔ یہی واقعہ آج بھی سائنسدانوں کو یاد دلاتا ہے کہ خلا سے آنے والے خطرات حقیقی ہیں اور ان کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔
شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر میں فرق
شہابیے دراصل سورج کے گرد گردش کرنے والے پتھریلے یا دھاتی اجسام ہیں جو زیادہ تر مریخ اور مشتری کے درمیان موجود Asteroid Belt میں پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بعض اپنے مدار سے ہٹ کر زمین کے قریب بھی آ جاتے ہیں۔ اکثر لوگ شہابیہ، شہابِ ثاقب اور شہابی پتھر کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ تین مختلف اصطلاحات ہیں۔ خلا میں موجود پتھریلا جسم شہابیہ (Asteroid) کہلاتا ہے۔ جب اس کا کوئی حصہ زمین کی فضا میں داخل ہو کر جلنے لگتا ہے تو اسے شہابِ ثاقب (Meteor) کہا جاتا ہے، جو رات کو آسمان پر ایک روشن لکیر کی صورت میں نظر آتا ہے۔ اگر اس کا کچھ حصہ جلنے سے بچ جائے اور زمین پر آ گرے تو وہ شہابی پتھر (Meteorite) کہلاتا ہے۔ اسی لیے International Asteroid Dayبنیادی طور پر خلا میں موجود شہابی اجسام کے بارے میں شعور بیدار کرنے کا دن ہے۔
زمین کیلئے خطرات اور جدیداقدامات
سائنسدانوں کے مطابق تقریباً 6 کروڑ 60 لاکھ سال قبل ایک بہت بڑا شہابیہ موجودہ میکسیکو کے علاقے میں زمین سے ٹکرایا تھا۔ اس تصادم کے نتیجے میں عالمی سطح پر موسمی تبدیلیاں آئیں اور ڈائنوسار سمیت بے شمار جاندار معدوم ہو گئے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ بڑے شہابیے پوری زمین کے ماحول کو بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔اسی خطرے کے پیش نظر ناسا، یورپی خلائی ایجنسی اور دیگر خلائی ادارے زمین کے قریب آنے والے شہابیوں کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔ جدید دوربینوں، کمپیوٹر ماڈلز اور خلائی مشنز کی مدد سے ان کے مدار کا جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی خطرناک شہابیہ زمین کی طرف بڑھتا دکھائی دے تو بروقت حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔ 2022ء میں ناسا نے DART مشن کے ذریعے پہلی مرتبہ ایک شہابیہ سے خلائی جہاز کو جان بوجھ کر ٹکرا کر اس کے مدار میں معمولی تبدیلی پیدا کی۔ اس کامیاب تجربے نے ثابت کیا کہ مستقبل میں کسی خطرناک شہابیہ کا راستہ تبدیل کرنا ممکن ہو سکتا ہے۔
تحقیق، مستقبل اور انسانیت کا مشترکہ مشن
شہابیوں کی تحقیق صرف خطرات تک محدود نہیں، یہ اجسام نظامِ شمسی کی تشکیل کے ابتدائی دور کے باقی ماندہ ٹکڑے ہیں جن میں اربوں سال پرانا مادہ محفوظ ہے۔ ان کے مطالعے سے سائنسدان یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ سورج، سیارے اور زمین کیسے وجود میں آئے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ زمین پر پانی اور زندگی کے لیے ضروری نامیاتی مرکبات بھی ابتدائی دور میں شہابیوں کے ذریعے پہنچے ہوں گے۔مستقبل میں کئی ممالک شہابیوں سے قیمتی دھاتیں حاصل کرنے کے امکانات پر بھی تحقیق کر رہے ہیں۔ اگرچہ یہ منصوبے ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں لیکن ان کی کامیابی خلائی معیشت میں ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہے۔شہابیوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ زمین کائنات میں تنہا نہیں بلکہ ایک وسیع اور متحرک نظام کا حصہ ہے۔ جدید سائنس، بین الاقوامی تعاون اور مسلسل تحقیق کے ذریعے نہ صرف کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھایا جا سکتا۔ ہے بلکہ زمین کو ممکنہ خلائی خطرات سے بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔