پاکستان کے 3کروڑ 40لاکھ بچے خطرے میں
اسپیشل فیچر
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کی حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر دنیا کو خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کا سب سے بھاری بوجھ وہ بچے اٹھا رہے ہیں جن کا اس بحران کے پیدا ہونے میں کوئی کردار نہیں۔
Children's Climate Risk Report (2026) کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب دس کروڑ سے زائد بچے بیک وقت کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان میں تقریباً تین کروڑ چالیس لاکھ بچے ایسے ہیں جو شدید گرمی، سیلاب، خشک سالی، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت جیسے متعدد خطرات کی زد میں ہیں۔پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جن کا عالمی کاربن اخراج میں معمولی حصہ ہے لیکن موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سب سے زیادہ برداشت کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں آنے والے شدید سیلاب، ریکارڈ توڑ گرمی، سموگ، بارشوں کے غیر متوقع سلسلے اور پانی کی بڑھتی ہوئی قلت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب ایک سائنسی بحث نہیں بلکہ ایک انسانی بحران بن چکی ہے جس کا سب سے زیادہ اثر بچوں پر پڑ رہا ہے۔
شدید موسم اور بچوں کو لاحق خطرات
یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شدید گرمی کی لہریں بچوں کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ کم عمر بچوں میں جسم کا درجہ حرارت برقرار رکھنے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے جس کے باعث وہ ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی پیچیدگیوں کا جلد شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب فضائی آلودگی، خصوصاً لاہور اور دیگر بڑے شہروں میں سموگ بچوں میں دمہ، نمونیا اور سانس کی دیگر بیماریوں میں اضافہ کر رہی ہے۔اسی طرح صاف پانی کی کمی اور آلودہ پانی کے استعمال سے ہیضہ، اسہال اور دیگر متعدی امراض پھیل رہے ہیں۔ غذائی قلت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ خشک سالی اور زرعی پیداوار میں کمی سے لاکھوں خاندان مناسب خوراک فراہم کرنے سے قاصر ہیں جس کے نتیجے میں بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
سیلاب، نقل مکانی اور تعلیم کا بحران
پاکستان میں 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے یہ ثابت کر دیا کہ قدرتی آفات کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو پہنچتا ہے۔ لاکھوں بچے بے گھر ہوئے، ہزاروں سکول تباہ یا متاثر ہوئے اور کئی علاقوں میں تعلیمی سرگرمیاں مہینوں معطل رہیں۔ جب خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوتے ہیں تو بچوں کی تعلیم سب سے پہلے متاثر ہوتی ہے۔ بہت سے بچے دوبارہ سکول نہیں جا پاتے اور بعض اوقات انہیں گھریلو ذمہ داریوں یا مزدوری میں لگنا پڑتا ہے۔اس صورتحال کا ایک اور پہلو ذہنی صحت ہے۔ گھر، سکول اور معمول کی زندگی سے محرومی بچوں میں خوف، اضطراب اور ذہنی دباؤ پیدا کرتی ہے۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے بچوں کو صرف خوراک اور رہائش ہی نہیں بلکہ نفسیاتی معاونت کی بھی ضرورت ہوتی ہے جس پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔
پاکستان کو کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو موسمیاتی پالیسیوں کا محور بنائیں۔ ایسے سکول تعمیر کرنے کی ضرورت ہے جو شدید موسموں کا مقابلہ کر سکیں، صحت کے مراکز کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جائے اور صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے لیے مؤثر ارلی وارننگ سسٹم، ہنگامی امدادی منصوبے اور بچوں کے تحفظ کے خصوصی پروگرام بھی ناگزیر ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ قابلِ تجدید توانائی کے فروغ، جنگلات میں اضافے، پانی کے بہتر انتظام، ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور موسمیاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنانے سے آنے والی نسلوں کو بہتر مستقبل دیا جا سکتا ہے۔ مقامی حکومتوں کو بھی شہری منصوبہ بندی میں موسمیاتی خطرات کو مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ آبادی کو محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
آج کا فیصلہ، کل کی نسلوں کا مستقبل
پاکستان کے تین کروڑ چالیس لاکھ بچے صرف ایک عدد نہیں بلکہ ملک کا مستقبل ہیں۔ اگر ان کی صحت، تعلیم اور تحفظ کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلوں کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔ موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ صرف ماحول بچانے کی نہیں بلکہ بچوں کے مستقبل، انسانی ترقی اور قومی سلامتی کی جنگ بھی ہے۔حکومت، نجی شعبہ، تعلیمی ادارے، سول سوسائٹی اور عام شہری اگر مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں تو پاکستان موسمیاتی خطرات کے اثرات کو کم کر سکتا ہے۔ بصورت دیگر آج کے موسمیاتی خطرات کل کے انسانی، معاشی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جائیں گے، اور ان کا سب سے بڑا بوجھ انہی بچوں پر پڑے گا جو اس بحران کے ذمہ دار نہیں ہیں۔