یورپ میں گرمی کی شدید لہر
اسپیشل فیچر
موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرناک اشارے
یورپ طویل عرصے تک معتدل موسم، خوشگوار گرمیوں اور ٹھنڈی ہواؤں کیلئے جانا جاتا رہا ہے لیکن اب صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں یورپ ایسی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہے جسے سائنسدان اب تک کی سب سے زیادہ گرم اور مرطوب ہیٹ ویو قرار دے رہے ہیں۔ درجہ حرارت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جبکہ فضا میں بڑھتی ہوئی نمی نے اس گرمی کو انسانی صحت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ محض ایک اتفاقیہ واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کی واضح علامت ہے جو مستقبل میں دنیا کے دیگر خطوں کیلئے بھی خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتی ہے۔
نمی اور گرمی کا امتزاج
عام طور پر جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو انسانی جسم پسینہ خارج کرکے خود کو ٹھنڈا رکھتا ہے لیکن اگر ہوا میں نمی بہت زیادہ ہو تو پسینہ جلد خشک نہیں ہوتا۔ نتیجتاً جسم کا قدرتی نظام متاثر ہو جاتا ہے اور جسمانی درجہ حرارت خطرناک حد تک بڑھنے لگتا ہے۔اسی وجہ سے ماہرین صرف درجہ حرارت نہیں بلکہ ہیٹ انڈیکس یا محسوس ہونے والے درجہ حرارت کو زیادہ اہم قرار دیتے ہیں۔ موجودہ ہیٹ ویو میں کئی یورپی ممالک میں اگرچہ درجہ حرارت 40 سے 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، لیکن نمی کی وجہ سے لوگوں نے اس سے کہیں زیادہ گرمی محسوس کی۔یہ صورتحال بچوں، بزرگوں، مزدوروں اور مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔
یورپ میں ریکارڈ ٹوٹنے لگے
فرانس، سپین، اٹلی، جرمنی، پرتگال، پولینڈ اور وسطی یورپ کے کئی ممالک شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد شہروں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں جبکہ کئی علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی بڑھ گئے ہیں۔شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور سانس کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ کئی ممالک نے سکول بند کر دیے، بیرونی کھیلوں کی سرگرمیاں محدود کر دیں اور شہریوں کو دن کے اوقات میں گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایات جاری کیں۔بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ ہونے سے توانائی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ زراعت، سیاحت اور صنعتی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا واضح اثر
ماہرین اس بات پر تقریباً متفق ہیں کہ اس نوعیت کی شدید گرمی قدرتی موسمی تغیر کا نتیجہ نہیں بلکہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کا اثر ہے۔کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کے مسلسل استعمال سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی مقدار بڑھ رہی ہے جو زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ نتیجتاً نہ صرف گرمی کی لہریں زیادہ شدید ہو رہی ہیں بلکہ ان کا دورانیہ بھی طویل ہوتا جا رہا ہے۔ اب وہ علاقے بھی شدید گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں ماضی میں ایسی صورتحال شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آتی تھی۔تحقیقی اداروں کے مطابق اگر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں فوری کمی نہ کی گئی تو آئندہ برسوں میں یورپ سمیت دنیا کے کئی خطوں میں اس سے بھی زیادہ شدید اور مرطوب ہیٹ ویوز معمول بن سکتی ہیں۔
پاکستان کیلئے سبق
اگرچہ یہ ہیٹ ویو یورپ میں آئی ہے لیکن پاکستان بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں ملک شدید گرمی، غیر معمولی بارشوں، تباہ کن سیلاب اور گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے جیسے واقعات کا سامنا کر چکا ہے۔پاکستان کے جنوبی اور وسطی علاقوں میں گرمی کے ساتھ نمی بھی اکثر بہت زیادہ ہوتی ہے جس کے باعث ہیٹ انڈیکس خطرناک حد تک پہنچ جاتا ہے۔ کراچی، لاہور، ملتان اور دیگر بڑے شہروں میں موسم گرما کے دوران یہی صورتحال بارہا دیکھی جاتی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ شہری منصوبہ بندی، زیادہ درخت لگانے، گرین ایریاز میں اضافہ، صاف توانائی کے استعمال اور عوام میں آگاہی پیدا کیے بغیر مستقبل میں ایسے خطرات سے نمٹنا مشکل ہوگا۔عام شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے گرمی کے اثرات کم کر سکتے ہیں مثلاً زیادہ پانی پینا، دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلنا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا اور بزرگوں اور بچوں کا خصوصی خیال رکھنا۔یورپ کی ہیٹ ویو صرف ایک عارضی موسمی واقعہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک واضح انتباہ ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی اور نمی کا امتزاج اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا مسئلہ بن چکی ہے۔اگر عالمی برادری نے گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، قابلِ تجدید توانائی کے فروغ اور ماحول دوست پالیسیوں پر فوری عمل نہ کیا تو مستقبل میں ایسی شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور زیادہ تباہ کن ہو جائیں گی۔