نصابی پرندے اور جانور
اسپیشل فیچر
ہمارے بچپن کی طرح ہمارے بہت سے نصابی پرندے اور جانور بھی ماضی کا حصہ بن چکے ہیں۔ آئیے انھیں تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بلبل کا بچہ
سکول جاتے ہی ہر بچے کی بلبل کے بچے سے شناسائی ضرور ہوجا تی تھی ۔اس کی خوراک صرف پانی اور کھچڑی تھی۔ شاعر نے ایسے شریف النفس بچے کو اڑاکر اچھا نہیں کیا ۔سوال یہ ہے کہ اڑائے جانے پر وہ واپس نہیں آیا تو کہاں گیا ؟۔مرگیا ہو یا بیرون ملک چلا گیاہو۔ اگر زندہ ہوا تو یقینا دادا پردادا ہوگا اور اس درخت کو یاد کرتا ہوگا جہاں اکیلا بیٹھا کرتا تھا ۔ادھر شعرا کے ہاں بلبل کے مذکر یا مونث ہونے پر خوب لے دے ہوئی۔ایک شاعراسے He جبکہ بہت سے شعرا اسے She ثابت کرنے پر بضد ہیں ۔ایک راوی کے مطابق جب بلبل کے بچے کو اڑایا گیا تو وہ غریب الوطنی کے عالم میں چیچہ وطنی کے جنگلات میں آ گیا۔ جہاں ایک رات اسے ایک نصابی جگنو نے اپنی روشنی کے ذریعے گھر تک پہنچایا تھا۔بعد ازاں حیدر علی آتش عندلیب کو مل کر آہ و زاریاں کرنے کی دعوت بھی دیتا رہا مگر قمر جلالوی کی اس خبر پر کہ صیاد و باغباں میں ملاقات ہو چکی ہے ، بلبل نے آنسو بہا بہا کر باغ چھوڑکراپنی خیر منائی۔
پیاسا کوا
جگاڑ لگا کر پانی پینے والے کوے کو کون نہیں جانتا؟۔کچھ مورخین اس واقعہ کی صحت پر سوال اٹھاتے ہیں کیونکہ علاقے اور باغ کا محل وقوع متعین ہے نہ واقعہ کا دور واضح ہے ۔کنکریوں کے ذکر سے قیاس ہے کہ کوئی پہاڑی علاقہ ہو سکتا ہے۔ ایک اور روایت کے مطابق وہی سیانا کوا بعد میں لومڑی کی خوشامد سے اپنے منہ کا نوالہ گرا بیٹھا۔ کچھ کوئوں کو اعزاز حاصل ہے کہ وہ جھوٹ بولنے والوں کو کاٹ لیتے ہیں اور مہمان کی آمد کی خبراہل خانہ کے کان کھا کر دیتے ہیں ۔اسی کوے کا پھوپھی زادکوا ایک بار اپنی چونچ گندھے ہوئے آٹے میں پھنسا بیٹھا تھا ۔نصابی کوے کے خاندان کے بہت سے چشم وچراغ ہنس کی چال چلنے کا شوق بھی رکھتے ہیں۔
چوہا
ہمارے نصابی چوہے نے جال میں پھنسے شیر کو جالی کاٹ کر آزاد کروایا۔اس عظیم کارنامے پر کمپیوٹر کی ایک ڈیوائس کا نام '' مائوس‘‘ رکھ دیا گیا۔ سچ ہے کہ نسل بگڑتے دیر نہیں لگتی، شیر کے دل میں گھر کرنے والے چوہے کی غلیظ اولادیں انسان کے گھر میں ''بِل‘‘ کردیتی ہیں۔چوہوں کی Gen.Z تو ایسی احمق نکلی کہ گھڑی پہ چڑھ کر ناچتی ہے اور ٹھیک ایک بجنے پر دھڑام سے گر پڑتی ہے۔ تاہم چا لاک بلی کوبے بس کرنے والے ذہین چوہے بھی موجود ہیں ۔
شیر
ہمارا نصابی شیر سیاسی شیر کے برعکس کافی دبدبے کا حامل تھا۔ لوگ اس کے نام سے ایک دوسرے کو ڈرایا کرتے تھے ۔شوخا چرواہا تو روز ہی شیر آنے کا ناٹک کرتاتھا جس کا شیر کو علم ہوگیا اور وہ سچ مچ آ گیا۔ شعرا کے ہاں تو شیر کی آمد سے رن کانپ اٹھتا تھا آخر بلی کا بھانجا جو ہوا۔
کچھوا اور خرگوش
نصاب میں ایک لمبے عرصے تک کچھوے اور خرگوش کا راج رہا ۔کچھوے کی طبعی عمر چالیس سال تک ہوسکتی ہے جبکہ خرگوش دس سال تک جی سکتا ہے۔یوں خرگوش کچھوے سے بہت پہلے دنیا سے گزر گیا ہوگا ،مگر دونوں کے قوم پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔قوم نے اپنے جملہ فرائض کچھوے اور باقی معاملات خرگوش کی رفتار سے طے کرنے کا عہد کرلیا ۔
لالچی کتا
قصاب کی دکان سے گوشت چوری کرنے والا چور کتا لالچی بھی تھا ۔تاہم ناقدین اسے من گھڑت قصہ کہتے ہیں ورنہ کتے کے گائوں، نہر ، پل اور کتے کی نسل کے بارے میں بھی کچھ وضاحت ضرورہوتی۔اصلاح پسندوں کے مطابق کتا اگر نہ بھونکا ہوتا تو گوشت سے محروم نہ ہوتا ۔ بھلے پطرس بخاری کتوں کو اچھا نہیں سمجھتا تھا مگر ''عرفی‘‘ کو آوازِ سگاں پرکوئی اعتراض نہ تھا۔
لومڑی
نصاب میں لومڑی کو ہمیشہ ہی ولن دکھایا گیا ہے ۔لومڑی کے بارے میں راوی اس کا آبائی وطن لکھنا بھول گیا ۔تاہم قیاس ہے کہ انگوروں والی لومڑی '' چمن‘‘ کے علاقہ سے تعلق رکھتی ہوگی ۔پر آج لومڑی انگور کھٹے ہیں کی بجائے انگور مہنگے ہیں کا بہانہ بناتی ہے ۔ایک شاعر کی نصابی گلہری تو پہاڑ سے ٹکرانے کی جرات رکھتی تھی ۔مگر آج اس گلہری کی نسل بد نے کسانوں اور باغبانوں کے ناک میں دم کررکھا ہے ۔
گائے اور بکری
ہماری نصابی بکری سراپا ناشکری تھی جبکہ گائے شکر گزار فطرت کی مالک تھی ۔ادھر چار نصابی بیلوں کا اتفاق مثالی تھا ۔جب پھوٹ پڑی تو قسمت بھی پھوٹ چلی ۔ان کے دور کے رشتے داروں کی بڑی کھیپ آج بھی موجود ہے جن میں کولہو کے بیل بھی شامل ہیں ۔
عقاب
عقاب باقاعدہ نصابی پرندہ تو نہیں تھا مگر شاعر نے اسے ہمارے ہر نصاب میں گُھسا دیا۔ شاہین (عقاب) غیرتمند اور جفا کش پرندہ تھا مگر اس کے پوتوں پڑپوتوں کی عقابی روح پرواز کر چکی ہے۔انھوں نے پہاڑوں کی چٹانوں کی بجائے قصر سلطانی اور عشرت کدوں میں بسیرا کررکھا ہے۔ اب ان کا اور کرگس کا جہاں ایک ہوچکا ہے۔ ڈھیر سارے شاہین اپنے جام ِ سفال توڑ کر امریکہ و یورپ کو اڑگئے ہیں ۔
مرغی
ہماری مشکوک نصابی مرغی پر اس کے لالچی مالک کو سونے کے انڈے کا شک تھا جو مرغی کی مرگ ِ مفاجات پر منتج ہوا۔بعد ازاں ،آنجہانی کی نسل کے ساتھ ساتھ بریلر اور لئیر اقسام بھی منصہ شہود پر آ کر انسان کی کھابہ گیری کی ضامن بنیں۔ البتہ مرغوں کی ایک لڑاکا نسل فن پہلوانی میں اپنا سکہ منوا رہی ہے ۔
گدھا
ہمارا نصابی گدھا حسب ِ معمول آج بھی احمق اور مسکین ہے تاہم چائنا نے گدھوں کو درآمد کرکے ان کی اہمیت کو چار چاند لگا دئیے ہیں ۔