ہنر مند نوجوان خوشحال پاکستان
اسپیشل فیچر
ہر سال 15 جولائی کو دنیا بھر میں نوجوانوں کیلئے مہارتوں کا عالمی دن(World Youth Skills Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد نوجوانوں میں فنی، پیشہ ورانہ، ڈیجیٹل اور عملی مہارتوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ بدلتی ہوئی دنیا کے تقاضوں کے مطابق خود کو تیار کر سکیں۔ آج کے دور میں صرف ڈگری کافی نہیں بلکہ کامیابی کے لیے عملی مہارت، تخلیقی سوچ، جدید ٹیکنالوجی سے آگاہی اور مسلسل سیکھنے کا جذبہ بھی ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترقی کی بنیاد تصور کرتے ہیں۔
نوجوان سرمایہ
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اگر اس نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم کے ساتھ جدید فنی اور تکنیکی مہارتیں فراہم کی جائیں تو یہ نوجوان ملکی معیشت کو مضبوط، بے روزگاری کو کم اور پاکستان کو ترقی کی نئی منزلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں بہت سے نوجوان تعلیم مکمل کرنے کے باوجود عملی مہارتوں سے محروم رہتے ہیں جس کے باعث انہیں روزگار کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ تعلیمی نظام کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ عملی تربیت بھی دی جائے۔
ہنر ،ترقی اور خود انحصاری
آج کا دور تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کا دور ہے۔ کمپیوٹر، مصنوعی ذہانت، ویب ڈویلپمنٹ، گرافک ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس اور فری لانسنگ جیسی مہارتیں نوجوانوں کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھول رہی ہیں۔ پاکستان کے ہزاروں نوجوان آن لائن خدمات فراہم کرکے نہ صرف اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں بلکہ ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ بھی کما رہے ہیں۔فنی اور تکنیکی مہارتیں نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا کاروبار شروع کرنے کے قابل بھی بناتی ہیں۔ ایک ہنرمند نوجوان صرف اپنی زندگی نہیں سنوارتا بلکہ دوسروں کے لیے بھی روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہارتوں کو غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کا مؤثر ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، صنعتوں، نجی شعبے اور والدین سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ضروری ہے کہ ہر ضلع میں جدید ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز قائم کیے جائیں، صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں، نوجوانوں کو انٹرن شپ اور اپرنٹس شپ کے مواقع فراہم کیے جائیں اور خواتین کے لیے بھی مساوی تربیتی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔اساتذہ اور والدین کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ صرف ڈگری حاصل کرنے پر اکتفا نہ کریں بلکہ کسی نہ کسی فنی یا ڈیجیٹل مہارت میں بھی مہارت حاصل کریں۔ اسی طرح نوجوانوں کو بھی وقت کی قدر کرتے ہوئے نئی چیزیں سیکھنے، تحقیق کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو مسلسل نکھارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
ہنرمند نوجوان، روشن پاکستان
نوجوانوں کی مہارتوں کا عالمی دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی بھی ملک کی حقیقی طاقت اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ پاکستان نوجوان آبادی کے اعتبار سے ایک خوش نصیب ملک ہے لیکن یہ نعمت اسی وقت قومی طاقت بن سکتی ہے جب نوجوان تعلیم کے ساتھ جدید مہارتوں سے بھی آراستہ ہوں۔ اگر حکومت، تعلیمی ادارے، نجی شعبہ اور معاشرہ مل کر نوجوانوں کی تربیت پر توجہ دیں تو پاکستان بے روزگاری میں کمی، معاشی استحکام، صنعتی ترقی اور عالمی مسابقت میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر سکتا ہے۔ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے امیدوار نہیں بلکہ ہنرمند، خوداعتماد، باصلاحیت اور بااختیار شہری بنایا جائے۔ یہی نوجوان مستقبل میں پاکستان کی معیشت، صنعت، زراعت، سائنس، ٹیکنالوجی اور سماجی ترقی کے معمار ثابت ہوں گے۔ ایک ہنر مند نوجوان ہی ایک مضبوط خاندان، خوشحال معاشرے اور ترقی یافتہ پاکستان کی ضمانت ہے، لہٰذا ہمیں نوجوانوں کی مہارتوں میں سرمایہ کاری کو قومی ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ آج کا ہنرمند نوجوان ہی کل کے روشن، مستحکم اور خوشحال پاکستان کی بنیاد ہے۔