آج کا دن
اسپیشل فیچر
پہلی صلیبی جنگ
15 جولائی 1099ء کو پہلی صلیبی جنگ میں صلیبی لشکر یروشلم کے شدید محاصرے کے بعد شہر کی فصیل توڑ کر اندر داخل ہوگیا اور شہر میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام کیا۔ تاریخی روایات کے مطابق ہزاروں مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی گئی۔ اس واقعے نے پوری مسلم دنیا کو شدید صدمہ پہنچایا۔ بعد ازاں مسلم حکمرانوں نے اپنی باہمی اختلافات کم کرنے کی کوشش کی خاص طور پر صلاح الدین ایوبی نے مسلمانوں کو متحد کیا اور 1187ء میں جنگِ حطین میں فتح کے بعد یروشلم میں مسلم اقتدارکو بحال کیا۔
روزیٹا سٹون کی دریافت
15 جولائی 1799ء کو مصر کے شہر رشید (Rosetta) کے قریب فرانسیسی فوجی افسر پیئر فرانسوا بوشار نے ایک سیاہ پتھر دریافت کیا جو بعد میں روزیٹا سٹون کے نام سے مشہور ہوا۔ اس وقت نپولین بوناپارٹ کی فوج مصر میں موجود تھی۔ اس پتھر پر ایک ہی فرمان تین مختلف رسم الخط ،قدیم مصری ہائروگلیفک، ڈیموٹک اور یونانی،میں کندہ تھا۔ چونکہ یونانی زبان پڑھی جا سکتی تھی اس لیے ماہرین نے اس کے ذریعے قدیم مصری رسم الخط کو سمجھنے کی کوشش کی۔ بالآخر فرانسیسی ماہرِ لسانیات ژاں فرانسوا شامپولیوں نے 1822ء میں ہائروگلیفک رسم الخط کو کامیابی سے پڑھنے کا طریقہ دریافت کیا۔ اس کامیابی نے مصر کی قدیم تہذیب، فرعونوں، مذہب، قانون اور ثقافت کے ہزاروں سال پرانے راز دنیا کے سامنے کھول دیے۔
بوئنگ کمپنی کا قیام
15 جولائی 1916ء کو امریکی صنعت کار ولیم ای بوئنگ اور جارج ویسٹرویلٹ نے سیئٹل میں پیسیفک ایرو پروڈکٹس کمپنی قائم کی جس کا نام بعد میں بوئنگ رکھ دیا گیا۔ ابتدا میں یہ ایک چھوٹی فضائی کمپنی تھی جو سمندری جہاز(Seaplanes) تیار کرتی تھی لیکن وقت کے ساتھ یہی ادارہ دنیا کی سب سے بڑی ہوابازی اور دفاعی صنعتوں میں شامل ہوگیا۔ پہلی اور دوسری عالمی جنگوں کے دوران بوئنگ نے فوجی طیارے تیار کیے اور بعد میں اس نے تجارتی ہوابازی میں انقلاب برپا کیا۔ بوئنگ 707، 737، 747، 777 اور 787 جیسے مسافر بردار طیاروں نے عالمی فضائی سفر کو نئی جہت دی۔
اپولوسویوز خلائی مشن کا آغاز
15 جولائی 1975ء کو امریکہ اور سوویت یونین نے سرد جنگ کے دوران ایک تاریخی مشترکہ خلائی مشن کا آغاز کیا جسے اپولوسویوز ٹیسٹ پراجیکٹ کہا جاتا ہے۔ امریکی خلائی جہاز اپولو اور سوویت خلائی جہاز سویوز الگ الگ روانہ ہوئے اور دو دن بعد خلا میں ایک دوسرے سے کامیابی کے ساتھ جڑ گئے۔ دونوں ممالک کے خلا بازوں نے خلا میں ہاتھ ملا کر دنیا کو امن اور سائنسی تعاون کا پیغام دیا۔ یہ مشن اس لیے بھی اہم تھا کہ اس نے کئی دہائیوں سے جاری سیاسی کشیدگی کے باوجود خلائی میدان میں تعاون کی نئی راہیں کھولیں۔ بعد میں اسی تجربے نے بین الاقوامی خلائی سٹیشن جیسے مشترکہ منصوبوں کی بنیاد مضبوط کی۔
جیانی ورساچے کا قتل
15 جولائی 1997ء کو اٹلی کے مشہور فیشن ڈیزائنر جیانی ورساچے کو امریکی شہر میامی میں ان کی رہائش گاہ کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ ورساچے دنیا کے معروف ترین فیشن ڈیزائنرز میں شمار ہوتے تھے ۔ ان کی اچانک موت نے پوری دنیا کو صدمے میں مبتلا کر دیا۔ ورساچے کی وفات کے بعد ان کے خاندان نے فیشن ہاؤس کو کامیابی سے جاری رکھا ، آج بھی ورساچے عالمی فیشن انڈسٹری کا ایک ممتاز برانڈ ہے۔