آج کا دن
اسپیشل فیچر
چاند پر پہلا قدم
21 جولائی 1969ء انسانی تاریخ کا ایک غیر معمولی دن تھا جب امریکی خلاباز نیل آرمسٹرانگ چاند کی سطح پر قدم رکھنے والے پہلے انسان بنے اور چند منٹ بعد بز ایلڈرِن بھی ان کے ساتھ چاند پر اترے۔ یہ کامیابی ناسا کے اپالو 11 مشن کا حصہ تھی، جس کا آغاز 16 جولائی کو ہوا تھا۔ مشن کے تیسرے رکن مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں چاند کے مدار میں موجود رہے۔ آرمسٹرانگ کے مشہور الفاظ ''یہ انسان کا ایک چھوٹا سا قدم لیکن انسانیت کے لیے ایک عظیم چھلانگ ہے‘‘ دنیا میں براہِ راست نشر ہوئے اور کروڑوں لوگوں نے یہ تاریخی لمحہ دیکھا۔ اس مشن کے دوران خلابازوں نے چاند سے چٹانوں کے نمونے جمع کیے، سائنسی آلات نصب کیے اور کئی تجربات انجام دیے۔
آرٹیمس کے مندر کی تباہی
21 جولائی 356 قبل مسیح کو قدیم شہر ایفیسس (موجودہ ترکی) میں واقع مندرِ آرٹیمس کو آگ لگا کر تباہ کر دیا گیا۔ یہ مندر قدیم دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتا تھا اور یونانی دیوی آرٹیمس کے نام پر تعمیر کیا گیا تھا۔ تاریخی روایات کے مطابق ایک شخص ہیروسٹریٹس نے صرف اپنی شہرت حاصل کرنے کی خواہش میں اس مندر کو آگ لگا دی۔ اس مندر کی تعمیر میں کئی دہائیاں صرف ہوئی تھیں اور یہ اپنے عظیم ستونوں، نفیس سنگِ مرمر اور شاندار فنِ تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا۔ آج اس مندر کے صرف کھنڈرات باقی ہیں لیکن آثارِ قدیمہ کے ماہرین اسے انسانی تاریخ کے عظیم تعمیراتی شاہکاروں میں شمار کرتے ہیں۔
کریٹ کا زلزلہ اور سونامی
21 جولائی 365ء کو بحیرہ روم کے علاقے میں تاریخ کے طاقتور ترین زلزلوں میں سے ایک آیا جس کا مرکز یونانی جزیرہ کریٹ تھا۔ اس زلزلے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس نے ایک تباہ کن سونامی کو جنم دیا جس نے مصر، لیبیا اور بحیرہ روم کے دیگر ساحلی علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ قدیم شہر سکندریہ خاص طور پر بری طرح متاثر ہوا جہاں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور بندرگاہیں، عمارتیں اور بحری جہاز تباہ ہو گئے۔ مؤرخین کے مطابق سمندر کا پانی پہلے غیر معمولی طور پر پیچھے ہٹا اور پھر ایک دیو ہیکل لہر آئی جس نے ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس قدرتی آفت نے قدیم دنیا کی معیشت، تجارت اور آبادی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔
سکوپس کا فیصلہ
21 جولائی 1925ء کو امریکہ کی ریاست ٹینیسی میں مشہور سکوپس مقدمہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس مقدمے میں حیاتیات کے استاد جان ٹی سکوپس پر الزام تھا کہ انہوں نے ریاستی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طلبہ کو چارلس ڈارون کا نظریۂ ارتقا پڑھایا۔ عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے 100 ڈالر جرمانہ کیا، اگرچہ بعد میں یہ سزا قانونی بنیادوں پر ختم کر دی گئی۔ یہ مقدمہ سائنس،مذہب، تعلیم اور آزادی اظہار کے درمیان جاری بحث کی علامت بن گیا اور نے پوری دنیا کی توجہ حاصل کی اور جدید تعلیم میں سائنسی نظریات کی تدریس کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے۔ آج بھی سکوپس مقدمے کو امریکی عدالتی اور تعلیمی تاریخ کا ایک سنگِ میل سمجھا جاتا ہے۔
جنیوا معاہدہ اور ویتنام کی تقسیم
21 جولائی 1954ء کو جنیوا کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی اور اس کے نتیجے میں وہ معاہدہ طے پایا جس کے تحت ویتنام کو عارضی طور پر شمالی ویتنام اور جنوبی ویتنام میں تقسیم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ پہلی ہند۔چین جنگ کے خاتمے کے بعد کیا گیا جس میں فرانسیسی نوآبادیاتی حکومت کو شکست ہوئی تھی۔ اس تقسیم نے بعد میں ویتنام جنگ کی بنیاد رکھی جس میں امریکہ سمیت کئی عالمی طاقتیں کود پڑیں۔ اس جنگ نے لاکھوں افراد کی جانیں لیں اور بیسویں صدی کی اہم ترین بین الاقوامی جنگوں میں شمار ہوئی۔