فاطمہ الفہری:علم کی دنیا کا ایک روشن باب
اسپیشل فیچر
انسانی تاریخ علم و دانش کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے عبارت ہے جہاں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی علمی، ادبی اور تحقیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی نمایاں ہیں۔ خصوصاً اسلامی تہذیب کے عہد زریں میں خواتین نے علم کے فروغ، تعلیم کے استحکام اور معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی باہمت اور صاحب علم خواتین میں ایک نام فاطمہ الفہری کا ہے، جنہیں علمی دنیا میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔
فاطمہ الفہری نے ایسے دور میں علم کی شمع روشن کرنے کا عزم کیا جب تعلیم کے مواقع محدود تھے اور علمی اداروں کا قیام آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیت، عزم و حوصلے اور علم دوستی کے ذریعے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف ان کے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک روشن مثال قائم کر دی۔ ان کا نام بالخصوص مراکش کے شہر فاس میں قائم ہونے والے جامعہ القرویین (Al-Qarawiyyin University)سے وابستہ ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مسلسل قائم رہنے والے تعلیمی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔
فاطمہ الفہری آٹھویں صدی کے آخر میں تیونس کے شہر القیروان میں پیدا ہوئیں۔ بعدازاں ان کا خاندان میفاس مراکش منتقل ہو گیا تھا۔ اُس زمانے میں مراکش اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد محمد الفہری جو ایک تاجر اور پڑھی لکھی شخصیت تھے، کی زیر سرپرستی گھر میں ہی حاصل کی۔ ان کا خاندان چونکہ شروع سے ہی علم دوست اور خوشحال تھا، اس لیے انہوں نے بچپن میں قیروان تیونس میں اسلامی علوم سیکھے اور بعد میں فاس مراکش منتقل ہو جانے کے بعد اسلامی علوم سیکھے۔ چند تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے اسلامی فقہ اور ریاضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔
والد کے انتقال کے بعد انھیں اپنے والد سے وراثت میں سے خاصی جائیداد ملی۔انہوں نے اپنی دولت کا بہترین استعمال کیا اور اپنی دولت کو اپنی ذاتی آسائشوں کیلئے استعمال کرنے کے بجائے تعلم و علم کی راہ پر وقف کر دیا۔ جب بغداد، قرطبہ، غرناطہ اور فاس جیسے شہروں میں تحقیق، فلسفے اور سائنس کی ترقی پھیل رہی تھی، تو انھوں نے اسی علمی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 859ء میں مراکش میں ایک مسجد اور علمی درسگاہ بنائی جو بعد میں جامعہ القرویین کے نام سے مشہور ہوئی۔ جس کو دنیا کی پہلی اسلامی اور باقاعدہ ڈگری جاری کرنے والی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ یونیسکو، بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ ایک قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ جامعہ القرویین کی بنیاد پر ہی دنیا کی جدید یونیورسٹیز کی بنیاد رکھی گئی۔ جن میں یورپی جامعات، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔
یہ ایک جدید طرز کی اعلیٰ تعلیم گاہ تھی، جہاں مختلف علوم کی تدریس دی جاتی تھی، جن میں اسلامی علوم، عربی زبان و ادب، ریاضی، فلکیات، منطق اور فلسفہ، طبعیات اور کیمیا وغیرہ شامل تھے۔ یہاں کا نصاب جدید خطوط پر استوار تھا۔ اس عظیم ادارے سے نہ صرف مسلم مفکرین ابن خلدون، ابن رشد اور موسیٰ بن میمون نے تعلیم حاصل کی بلکہ مسیحی اور یہودی سکالرز جن میں مشہور یورپی سکالر پوپ سلویسٹر دوم شامل ہیں، جو بعد میں یورپ میں تعلیمی اصلاحات کے بانیوں میں شمار ہوئے، بھی یہیں سے فیض یاب ہوئے۔یوں یہ تعلیمی ادارہ ایک طرح سے مختلف تہذیبوں، ثقافت اور مذاہب کا مرکز بن گیا۔ ماضی میں قرونِ وسطی کے یورپ میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں کئی اہم مفکرین بالواسطہ اور بلاواسطہ اسی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالب علموں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
فاطمہ الفہری نے صرف مردوں کیلئے نہیں بلکہ خواتین کی تعلیم کیلئے بھی اہم اقدامات کیے۔ مسجد اور جامعہ کے اندر ایک مخصوص گیلری یا ہال جس کو ''رواق‘‘ کہا جاتا بنایا تاکہ خواتین پردے کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں، اس طرح خواتین بڑے بڑے علماء کرام اور فقہاء کرام کے لیکچررز بغیر کسی پریشانی کے بڑی سہولت کے ساتھ سن سکتی تھیں۔ یہ ادارہ صرف علم فراہمی کا ہی کام نہیں کرتا تھا بلکہ یہاں علمی مباحث، سوال جواب کرنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ جن سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کو بھی عملی میدان میں آگے بڑھنے کی جستجو ہوتی تھی۔ فاطمہ الفہری خود اپنی بہن مریم الفہری کے ساتھ جامعہ کی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتیں اور نگرانی کیا کرتی تھیں۔ اس طرح یہاں کی تعلیم صنف کے لحاظ سے مساوی تعلیم کے لحاظ سے جدید تعلیمی درسگاہ بھی ہے۔
الغرض ان کا یہ کارنامہ نہ صرف اسلامی بلکہ عالمی علمی ورثے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فاطمہ الفہری کا یہ عظیم علمی قدم معاشی اور معاشرتی لحاظ سے خود مختاری کو فروغ دیتا ہے۔ فاطمہ الفہری آج کی ان خواتین کیلئے ایک روشن مثال ہیں جو اپنی زندگی میں بااختیار بن رہی ہیں، اگر آج کی خواتین اس مثال کو سامنے رکھیں تو وہ بھی اپنا نام رہتی دنیا تک سنہری حروف میں شامل کر سکتی ہیں جو ایک ترقی یافتہ اور باشعور و خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔
فاطمہ الفہری کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ علم کی خدمت کیلئے نہ جنس رکاوٹ ہے، نہ زمانہ اور نہ ہی حالات۔ ان کی داستان دراصل ایک ایسی خاتون کی داستان ہے جس نے اپنے عزم، سخاوت اور علم سے محبت کے ذریعے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام ہمیشہ کیلئے ثبت کردیا۔