جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟
اسپیشل فیچر
خوراک کا انتخاب صرف صحت ہی نہیں، زمین کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہوتا ہے
دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے اور اب تک اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، فوسل ایندھن کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کو شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث میں ایک نیا اور حیران کن پہلو شامل کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنریشن الفا (2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں) اور بالخصوص نوعمر افراد کی غذائی عادات بھی موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ کاربن اخراج سے وابستہ غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ماحول پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔
عالمی سطح پر بچے اور نوجوان خوراک سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے لحاظ سے کسی بھی دوسری عمر کے گروہ سے آگے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے ہوئے اخراج کا تعلق غیر صحت بخش غذائی عادات سے بھی ہے، جس کے نتیجے میں ناقص غذائیت اور تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک ''دوہرے بحران‘‘ نے جنم لیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے 149 ممالک اور عمر کے 22 مختلف گروہوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کیلئے 2000ء سے 2019ء کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریشن الفا اور جنریشن زی کی زیادہ کاربن اخراج والی غذائی عادات کی بنیادی وجہ گوشت، پراسیسڈ غذاؤں اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔
تحقیق کے شریک مصنف، یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر یولی شان کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن نتیجہ اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ عمر کے افراد ہی سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے صارفین ہوتے ہیں۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے انہیں خوراک، صحت اور ماحول سے متعلق نئی اور مؤثر حکمت عملیاں اختیار کرنا ہوں گی۔
تاہم محققین نے دریافت کیا ہے کہ مختلف عمر کے افراد اس مجموعی کاربن فٹ پرنٹ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ہر عمر کے گروہ کا حصہ مختلف ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد غذائی عادات کے باعث سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔سال 2000ء سے 2019 ء کے درمیان خوراک سے متعلق عالمی کاربن اخراج میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 2.1 ارب ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بزرگ افراد کا تھا۔جاپان، امریکہ اور مغربی یورپ جیسے اعلیٰ آمدنی والے خطوں میں خوراک سے متعلق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 22 سے 29 فیصد حصہ اب 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سے منسلک ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزرگ افراد کی غذائی عادات ماحول کیلئے زیادہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بزرگ آبادی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر خوشحال ممالک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انہیں غذائی نظام سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا عمر کا گروہ بنا دیا ہے۔
تاہم فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو نوجوانوں کی غذائی عادات اب بھی بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔محققین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں، خصوصاً سرخ گوشت، کے بڑھتے ہوئے استعمال کا رجحان ہے۔
متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت پر مبنی غذائیں نباتاتی خوراک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 100 گرام گوشت، جو ایک عام برگر سے بھی کم مقدار ہے، استعمال کرنے سے مکمل نباتاتی غذا کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری صرف نئی نسل پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس جانب ضرور توجہ دلاتی ہے کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور متوازن غذائی انتخاب کی تعلیم بچپن ہی سے دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
غذائی نظام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ
دنیا بھر کا غذائی نظام اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کی پیداوار اور فراہمی کے نظام سے وابستہ ہے۔یہ اخراج کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں کاشتکاری کیلئے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، مویشیوں خصوصاً گائے اور بیلوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسیں اور خوراک کو دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کا جلنا شامل ہیں۔
نباتاتی غذائیں ماحول کیلئے بہترین قرار
محققین نے یہ بھی پایا کہ نباتاتی غذا(ایسی خوراک جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل کی جاتی ہے) اختیار کرنے والے افراد کی خوراک سے پیدا ہونے والا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نباتاتی غذا ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ جنریشن الفا کی گوشت سے بھرپور غذائی عادات انہیں ان بزرگ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ آلودگی پھیلانے والا بنا رہی ہیں، جو نسبتاً کم جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔