لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں
اسپیشل فیچر
معمولی سرگرمی ، بڑے فائدے
لفٹ استعمال کریں یا سیڑھیاں چڑھیں، بظاہر یہ ایک چھوٹا فیصلہ ہے لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے جیسی سادہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثرات ڈال سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اورنارفوک این ناروک یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی ایک تحقیق میں چار لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماری سے موت اور مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم تھا۔ یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی مہنگے جم، خصوصی آلات یا روزانہ طویل ورزش کی ضرورت نہیں۔ عام زندگی میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا انتخاب جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تقریباً 1900 سٹڈیز کا جائزہ لینے کے بعد نو اعلیٰ معیار کی سٹڈیز کو تجزیے میں شامل کیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 480,479 افراد شامل تھے اور شرکاکی عمریں تقریباً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو کئی سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے سب سے قابلِ توجہ نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے ان میں سیڑھیاں کم چڑھنے والے افراد کے مقابلے میںcardiovascular disease سے موت کا خطرہ تقریباً 39 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 24 فیصد کم تھا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں بعض اہم قلبی بیماریوں، مثلاًہارٹ اٹیک،سٹروک اور ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی کم تھا۔
سیڑھیاں اتنی مفید کیوں ہیں؟
تحقیق کے مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل کے امراض دنیا بھر میں موت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔محققین نے بتایا کہ دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ان کے کیسز کی تعداد میں 1990ء سے 2019ء کے درمیان لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے خطرات صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محقیقین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک عملی مگر طریقہ ہے، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیق کی شریک کار ڈاکٹر سوفی پیڈک کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے کی خاص خوبی یہ ہے کہ اسے الگ سے ورزش کا وقت نکالے بغیر گھر، دفتر یا باہر معمول کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے کئی بڑے عضلات بیک وقت کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سرگرمی مختصر وقت میں جسم میں نسبتاً زیادہ کارڈیو وسکولر ڈیمانڈ پیدا کرتی ہے۔
روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنی چاہئیں؟
اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض مطالعات میں تقریباً چھ فلائٹس یعنی تقریباً 60 سے 70 سیڑھیوں کے برابر روزانہ چڑھنے پر نمایاں فائدہ دیکھا گیا، لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہر شخص کے لیے روزانہ چھ فلائٹس ہی ضروری ہیں۔ تحقیق کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی جسمانی ورزش بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ اگر کسی عمارت میں لفٹ اور سیڑھی دونوں موجود ہوں اور صحت اور جسمانی صلاحیت اجازت دے تو سیڑھی کا استعمال روزمرہ ورزش کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو جم جانے، دوڑنے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سیڑھیاں ان کے لیے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ دن میں کئی مختصر مواقع پر چند منزلیں چڑھنا بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق کیا سبق دیتی ہے؟
اس تحقیق کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر سرگرمی کا باقاعدہ ورزش کے نام سے ہونا ضروری نہیں۔ صحت کے لیے ہمارے روزمرہ کے چھوٹے فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھی، گاڑی کے بجائے کچھ فاصلے تک پیدل چلنا یا مسلسل بیٹھنے کے بجائے درمیان میں اُٹھ کر چلنا،یہ سب مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی بڑھانے کے طریقے ہیں۔ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ دل کی صحت صرف سیڑھیاں چڑھنے سے وابستہ نہیں صحت مند غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب وزن، بلڈ پریشر،کولیسٹرول اورزیابیطس سے بچنا بھی اہم عوامل ہیں۔ مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ جن افراد کو جوڑوں کی شدید تکلیف ہے یا کوئی اہم طبی مسئلہ ہو ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔