لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

لفٹ چھوڑیں سیڑھیاں چڑھیں

اسپیشل فیچر

تحریر : فضہ جاوید


معمولی سرگرمی ، بڑے فائدے
لفٹ استعمال کریں یا سیڑھیاں چڑھیں، بظاہر یہ ایک چھوٹا فیصلہ ہے لیکن ایک نئی سائنسی تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے جیسی سادہ جسمانی سرگرمی دل کی صحت اور مجموعی زندگی پر نمایاں اثرات ڈال سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف ایسٹ اینگلیا اورنارفوک این ناروک یونیورسٹی ہاسپٹل کے محققین کی ایک تحقیق میں چار لاکھ اسی ہزار سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں دل کی بیماری سے موت اور مجموعی طور پر موت کا خطرہ کم تھا۔ یہ تحقیق اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس کے لیے کسی مہنگے جم، خصوصی آلات یا روزانہ طویل ورزش کی ضرورت نہیں۔ عام زندگی میں لفٹ کے بجائے سیڑھیوں کا انتخاب جسمانی سرگرمی میں اضافہ کرنے کا ایک آسان طریقہ بن سکتا ہے۔ تحقیق کرنے والی ٹیم نے تقریباً 1900 سٹڈیز کا جائزہ لینے کے بعد نو اعلیٰ معیار کی سٹڈیز کو تجزیے میں شامل کیا۔ ان مطالعات میں مجموعی طور پر 480,479 افراد شامل تھے اور شرکاکی عمریں تقریباً 35 سے 84 سال کے درمیان تھیں۔ ان افراد کو کئی سال تک فالو کیا گیا۔ تحقیق کے سب سے قابلِ توجہ نتائج میں سے ایک یہ تھا کہ جو لوگ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھتے تھے ان میں سیڑھیاں کم چڑھنے والے افراد کے مقابلے میںcardiovascular disease سے موت کا خطرہ تقریباً 39 فیصد کم پایا گیا۔ اسی طرح کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ تقریباً 24 فیصد کم تھا۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ باقاعدگی سے سیڑھیاں چڑھنے والے افراد میں بعض اہم قلبی بیماریوں، مثلاًہارٹ اٹیک،سٹروک اور ہارٹ فیل ہونے کا خطرہ بھی کم تھا۔
سیڑھیاں اتنی مفید کیوں ہیں؟
تحقیق کے مصنفین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ دل کے امراض دنیا بھر میں موت کی ایک بڑی وجہ ہیں۔محققین نے بتایا کہ دل کے امراض دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہے اور ان کے کیسز کی تعداد میں 1990ء سے 2019ء کے درمیان لگ بھگ دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ان میں سے بہت سے خطرات صحت مند طرزِ زندگی کے ذریعے کم کیے جا سکتے ہیں۔ محقیقین کے مطابق سیڑھیاں چڑھنا روزمرہ زندگی میں جسمانی سرگرمی بڑھانے کا ایک عملی مگر طریقہ ہے، جسے اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے۔ تحقیق کی شریک کار ڈاکٹر سوفی پیڈک کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے کی خاص خوبی یہ ہے کہ اسے الگ سے ورزش کا وقت نکالے بغیر گھر، دفتر یا باہر معمول کی زندگی میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مختصر دورانیے کی جسمانی سرگرمی بھی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔ سیڑھیاں چڑھتے وقت جسم کے کئی بڑے عضلات بیک وقت کام کرتے ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے۔ اس طرح یہ سرگرمی مختصر وقت میں جسم میں نسبتاً زیادہ کارڈیو وسکولر ڈیمانڈ پیدا کرتی ہے۔
روزانہ کتنی سیڑھیاں چڑھنی چاہئیں؟
اس تحقیق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض مطالعات میں تقریباً چھ فلائٹس یعنی تقریباً 60 سے 70 سیڑھیوں کے برابر روزانہ چڑھنے پر نمایاں فائدہ دیکھا گیا، لیکن محققین نے واضح کیا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ہر شخص کے لیے روزانہ چھ فلائٹس ہی ضروری ہیں۔ تحقیق کا اصل پیغام یہ ہے کہ چھوٹی جسمانی ورزش بھی بے معنی نہیں ہوتی۔ اگر کسی عمارت میں لفٹ اور سیڑھی دونوں موجود ہوں اور صحت اور جسمانی صلاحیت اجازت دے تو سیڑھی کا استعمال روزمرہ ورزش کا ایک آسان ذریعہ بن سکتا ہے۔خاص طور پر ایسے افراد کے لیے جو جم جانے، دوڑنے یا طویل ورزش کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ سیڑھیاں ان کے لیے قابلِ عمل راستہ فراہم کرتی ہیں۔ دن میں کئی مختصر مواقع پر چند منزلیں چڑھنا بھی مجموعی جسمانی سرگرمی میں شامل ہو سکتا ہے۔
یہ تحقیق کیا سبق دیتی ہے؟
اس تحقیق کا سب سے اہم سبق شاید یہ ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے ہر سرگرمی کا باقاعدہ ورزش کے نام سے ہونا ضروری نہیں۔ صحت کے لیے ہمارے روزمرہ کے چھوٹے فیصلے بھی اہم ہو سکتے ہیں۔ لفٹ کے بجائے سیڑھی، گاڑی کے بجائے کچھ فاصلے تک پیدل چلنا یا مسلسل بیٹھنے کے بجائے درمیان میں اُٹھ کر چلنا،یہ سب مجموعی طور پر جسمانی سرگرمی بڑھانے کے طریقے ہیں۔ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ دل کی صحت بہتر بنانے کے لیے جسمانی سرگرمی کو روزمرہ زندگی کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ البتہ دل کی صحت صرف سیڑھیاں چڑھنے سے وابستہ نہیں صحت مند غذا، تمباکو نوشی سے پرہیز، مناسب وزن، بلڈ پریشر،کولیسٹرول اورزیابیطس سے بچنا بھی اہم عوامل ہیں۔ مگر ایک احتیاط بھی ضروری ہے۔ جن افراد کو جوڑوں کی شدید تکلیف ہے یا کوئی اہم طبی مسئلہ ہو ان کے لیے سیڑھیاں چڑھنا مناسب نہ بھی ہو سکتا ہے۔ ایسے افراد کو اپنی جسمانی حالت کے مطابق ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت

نیا عالمی ریکارڈ ، نئے خطراتدنیا کے سمندر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ان کا درجہ حرارت ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے قریب ہے۔سائنسی جریدے 'Nature‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سمندری سطح کا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے بلکہ سمندر کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ سمندر فضا میں موجود اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر پانی مسلسل گرم ہوتا جائے تو یہ قدرتی نظام اپنی کارکردگی کھونا شروع کر سکتا ہے۔سمندر گرم کیوں ہو رہے ہیں؟سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری حرارت روکنے والی گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بہت بڑا حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں۔قدرتی موسمیاتی عوامل، خصوصاًEl Niño بھی بعض اوقات سمندری درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف قدرتی عوامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ طویل مدتی عالمی حدت نے سمندروں کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے جس کے اوپر قدرتی واقعات مزید گرمی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔'Nature‘ کی رپورٹ میں جس نئے ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم سمندری سطح سمندری حیات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔یہ خدشہ محض نظری نہیں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی ETH Zurich کے محقیقن اور ان کے ساتھیوں کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 2023ء کے ریکارڈ گرم سمندروں کا جائزہ لیا۔ محققین نے بتایا کہ سمندروں نے اس سال توقع کے مقابلے میں 10 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کی جس سے بعض علاقوں میں سمندر سے فضا کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں اضافہ ہوا۔گرم سمندر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو سکتے ہیں؟سمندر انسانی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خلاف قدرت کا ایک اہم دفاع ہیں۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ سمندر جذب کر لیتا ہے لیکن گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم مقدار میں اپنے اندر حل کر سکتا ہے۔یہ عمل ایک خطرناک موسمیاتی ری ایکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سمندر کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں تو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ جائے گی جس س سے گرین ہاؤس اثر مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا اور سمندر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023ء میں گرم سمندری سطح کے باوجود بعض قدرتی عوامل نے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے اثر کو کسی حد تک متوازن کیا تاہم محققین نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حدت یا اس سے بھی زیادہ شدید سمندری درجہ حرارت کے واقعات میں لازمی نہیں کہ یہ قدرتی مزاحمت برقرار رہے۔مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات کو بڑا خطرہسمندری گرمی کا ایک نمایاں اثرCoral reefsیعنی مرجانی چٹانوں پر پڑتا ہے۔ مرجان نسبتاً محدود درجہ حرارت کی حدود میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔ جب پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا ہے تو مرجان سفید پڑنے لگتے ہیں جسے کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔ مرجانی چٹانیں ہزاروں سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کی جگہ فراہم کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو لہروں سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔ کیا کرنا چاہیے؟سائنسدانوں کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سمندر اس سال کتنا گرم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ یہ گرمی مستقبل میں کتنی بار اور کتنی شدت سے واپس آئے گی؟میرین ہیٹ ویو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً تمام سمندروں اور سمندری خطوں میں حیاتیاتی، ماحولیاتی اور معاشی تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں۔ ان کے اثرات میں مچھلیوں کا نقصان، کورل ریفس کو نقصان اور بعض بڑے سمندری جانوروں کی اموات شامل ہیں۔ محققین کے مطابق طویل مدت میں ان خطرات کا بنیادی حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔دنیا کو ایک طرف فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہوگی جبکہ دوسری طرف سمندری محفوظ علاقوں، پائیدار ماہی گیری،مرجان کی بحالی اور سمندری مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سمندروں کا نیا درجہ حرارت ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہوگا یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ زمین کا وہ قدرتی نظام جو صدیوں سے حرارت اور کاربن کو جذب کرکے انسانی تہذیب کو سہارا دیتا آیا ہے کس حد تک دباؤ میں آ چکا ہے۔ اگر سمندر اپنی حرارت اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کھونے لگے تو موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اور اس کے اثرات دونوں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سمندری حدت کو مستقبل کی ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا سمندروں کے لیے ہماری غلطیوں کو برداشت کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔

آج کا دن

آج کا دن

روآنُوک بستی کا معمہ18 اگست 1590ء کو شمالی امریکہ کی انگریزی نوآبادیاتی تاریخ کا ایک مشہور اور آج تک حل نہ ہونے والا واقعہ پیش آیا۔ انگریز مہم جُو اور روآنُوک بستی کا گورنر جان وائٹ تین سال کی طویل غیر حاضری کے بعد روآنُوک جزیرے پر واپس پہنچا تو وہاں آبادکاروں کا کوئی نشان موجود نہیں تھا۔ اس واقعے نے بعد میں ''گم شدہ روآنُوک بستی‘‘ کے نام سے ایک تاریخی معمے کو جنم دیا۔وائٹ 18 اگست 1590ء کو بستی کے مقام پر پہنچا اور وہاں نہ کوئی انسان ملا نہ کوئی واضح جنگی تباہی کے آثار البتہ ایک درخت پر ''کرو‘‘ اور قلعہ نما حفاظتی دیوار پر ''کروایٹون‘‘ کے الفاظ کندہ تھے۔ مورخین آج تک قطعی طور پر یہ نہیں بتا سکے کہ آبادکاروں کے ساتھ کیا ہوا۔ مریخ کا چاند دریافت18 اگست 1877ء کو امریکی ماہرِ فلکیات آساف ہال نے مریخ کے دوسرے چاند فوبوس کو دریافت کیا۔ یہ دریافت واشنگٹن ڈی سی میں واقع امریکی بحری رصدگاہ میں ہوئی۔ ناسا کے مطابق آساف ہال نے 1877ء میں مریخ کے دونوں چاند دریافت کیے؛ پہلے ڈیموس اور اس کے چند دن بعد فوبوس کو شناخت کیا۔فوبوس مریخ کا سب سے بڑا اور مریخ کے سب سے قریب گردش کرنے والا چاند ہے۔ اس کا مدار مریخ کی سطح سے تقریباًچھ ہزار کلومیٹر بلند ہے اور یہ تقریباً ساڑھے سات گھنٹے میں مریخ کے گرد ایک چکر مکمل کرتا ہے۔ بعد میں خلائی مشنز نے فوبوس اور ڈیموس کا تفصیلی مطالعہ کیا جس سے مریخ کے ماضی، اس کے چاندوں کی ساخت اور ان کے ارتقائی امکانات کو سمجھنے میں مدد ملی۔ کارل جاتھو کی پروازجرمن موجد اور انجینئر کارل جاتھو نے 18 اگست 1903ء کو جرمنی کے شہر ہنوور کے قریب اپنے تیار کردہ موٹر سے چلنے والے طیارے کو اڑانے کا تجربہ کیا۔ بعض روایات کے مطابق جاتھو نے کئی مختصر پروازیں کیں ۔واضح رہے رائٹ برادران نے 17 دسمبر 1903ء کو امریکہ کے علاقے کٹی ہاک میں اپنی مشہور پہلی کامیاب پرواز کی تھی یعنی جاتھو کے مبینہ تجربے کے تقریباً چار ماہ بعدتاہم جاتھو کو دنیا کا پہلا کامیاب ہواباز تسلیم کرنے پر مورخین میں اختلاف ہے۔ ان کی پرواز کے شواہد رائٹ برادران کے مقابلے میں کم واضح اور کم دستاویزی ہیں اسی وجہ سے عام طور پر رائٹ برادران کو پہلی باقاعدہ ہوائی پرواز کا کریڈٹ دیا جاتا ہے تاہم جاتھو کی کوششیں ہوابازی کی ابتدائی ترقی میں قابلِ ذکر ضرور ہیں۔امریکی خواتین کا حقِ رائے دہی 18 اگست 1920ء کو ریاست ٹینیسی نے امریکی آئین کی انیسویں ترمیم کی توثیق کرکے خواتین کے حقِ رائے دہی کی آئینی راہ ہموار کردی۔ ٹینیسی اس ترمیم کی توثیق کرنے والی 36ویں ریاست تھی اور اس وقت آئینی ترمیم کے لیے تین چوتھائی ریاستوں کی منظوری ضروری تھی۔خواتین کو ووٹ کا حق دلانے کی جدوجہد کئی دہائیوں پر محیط تھی۔ خواتین کی منظم حقِ رائے دہی کی تحریک 19ویں صدی کے وسط میں مضبوط ہوئی ۔ 18 اگست1920ء کو ترمیم کی ریاستی توثیق مکمل ہوئی جبکہ اسے امریکی آئین کا باقاعدہ حصہ قرار دینے کی وفاقی تصدیق 26 اگست کو وزیر خارجہ بین برج کولبی نے کی۔اس واقعے نے امریکی جمہوریت میں خواتین کی سیاسی شرکت کو آئینی بنیاد فراہم کی اور خواتین کے لیے قومی سطح پر سیاسی عمل میں شرکت کا راستہ کھولا۔ انڈونیشیا ، آئین کی منظوری 18اگست 1945ء کو انڈونیشیا کا آئین منظور کیا گیا، اس طرح آزادی کے اعلان کے فوراً بعد ملک کو ایک باقاعدہ سیاسی قیادت فراہم ہوگئی اور ایک قومی کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا تاکہ پارلیمانی اداروں کے باقاعدہ قیام تک صدر اور نائب صدر کے کام میں معاونت کی جا سکے۔ انڈونیشیا کے بنیادی ریاستی اصول جنہیں پنچ سیلا کہا جاتا ہے کی حتمی آئینی صورت بھی اسی مرحلے میں سامنے آئی۔ پنچ سیلا کی تشکیل طویل سیاسی اور فکری عمل کا نتیجہ تھی جس کی حتمی صورت 18 اگست 1945ء کو طے ہوئی۔یوں 18 اگست 1945ء محض آزادی کے اگلے دن کا ایک اجلاس نہیں تھا بلکہ نئی انڈونیشی ریاست کو عملی حکومتی شکل دینے کا بنیادی مرحلہ تھا۔

جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

جنریشن الفا کی خوراک موسمیاتی تبدیلی کا سبب؟

خوراک کا انتخاب صرف صحت ہی نہیں، زمین کے مستقبل پر بھی اثرانداز ہوتا ہےدنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران سے دوچار ہے اور اب تک اس کی بڑی وجوہات میں صنعتی آلودگی، جنگلات کی کٹائی، فوسل ایندھن کا بے دریغ استعمال اور بڑھتی ہوئی آبادی کو شمار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم حالیہ سائنسی تحقیق نے اس بحث میں ایک نیا اور حیران کن پہلو شامل کر دیا ہے۔ تحقیق کے مطابق جنریشن الفا (2010ء کے بعد پیدا ہونے والے بچوں) اور بالخصوص نوعمر افراد کی غذائی عادات بھی موسمیاتی تبدیلی پر نمایاں اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گوشت، پراسیسڈ فوڈ اور زیادہ کاربن اخراج سے وابستہ غذاؤں کا بڑھتا ہوا استعمال نہ صرف ماحول پر اضافی بوجھ ڈال رہا ہے بلکہ مستقبل میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔عالمی سطح پر بچے اور نوجوان خوراک سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے لحاظ سے کسی بھی دوسری عمر کے گروہ سے آگے ہیں۔تشویشناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے ہوئے اخراج کا تعلق غیر صحت بخش غذائی عادات سے بھی ہے، جس کے نتیجے میں ناقص غذائیت اور تیز ہوتی موسمیاتی تبدیلی کی صورت میں ایک ''دوہرے بحران‘‘ نے جنم لیا ہے۔ بین الاقوامی محققین کی ایک ٹیم نے 149 ممالک اور عمر کے 22 مختلف گروہوں کی غذائی عادات کا جائزہ لیا۔ اس تحقیق کیلئے 2000ء سے 2019ء کے درمیان جمع کیے گئے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنریشن الفا اور جنریشن زی کی زیادہ کاربن اخراج والی غذائی عادات کی بنیادی وجہ گوشت، پراسیسڈ غذاؤں اور میٹھے مشروبات کا زیادہ استعمال ہے۔تحقیق کے شریک مصنف، یونیورسٹی آف برمنگھم کے پروفیسر یولی شان کا کہنا ہے کہ یہ حیران کن نتیجہ اس عام تصور کو چیلنج کرتا ہے کہ زیادہ عمر کے افراد ہی سب سے زیادہ کاربن پیدا کرنے والے صارفین ہوتے ہیں۔ یہ نتائج پالیسی سازوں کیلئے ایک اہم چیلنج ہیں، کیونکہ بڑھتے ہوئے کاربن اخراج پر قابو پانے کیلئے انہیں خوراک، صحت اور ماحول سے متعلق نئی اور مؤثر حکمت عملیاں اختیار کرنا ہوں گی۔تاہم محققین نے دریافت کیا ہے کہ مختلف عمر کے افراد اس مجموعی کاربن فٹ پرنٹ میں یکساں کردار ادا نہیں کرتے بلکہ ہر عمر کے گروہ کا حصہ مختلف ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد غذائی عادات کے باعث سب سے زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کے ذمہ دار ہیں۔سال 2000ء سے 2019 ء کے درمیان خوراک سے متعلق عالمی کاربن اخراج میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی 2.1 ارب ٹن کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس میں ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ بزرگ افراد کا تھا۔جاپان، امریکہ اور مغربی یورپ جیسے اعلیٰ آمدنی والے خطوں میں خوراک سے متعلق مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 22 سے 29 فیصد حصہ اب 60 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد سے منسلک ہے۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بزرگ افراد کی غذائی عادات ماحول کیلئے زیادہ نقصان دہ ہیں، بلکہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر میں بزرگ آبادی کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔خاص طور پر خوشحال ممالک میں عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی آبادی نے انہیں غذائی نظام سے پیدا ہونے والے کاربن اخراج میں سب سے تیزی سے اضافہ کرنے والا عمر کا گروہ بنا دیا ہے۔تاہم فی فرد کے حساب سے دیکھا جائے تو نوجوانوں کی غذائی عادات اب بھی بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا باعث بنتی ہیں۔محققین کے مطابق اس کی بنیادی وجہ نوجوانوں میں جانوروں سے حاصل ہونے والی غذاؤں، خصوصاً سرخ گوشت، کے بڑھتے ہوئے استعمال کا رجحان ہے۔ متعدد تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ گوشت پر مبنی غذائیں نباتاتی خوراک کے مقابلے میں کہیں زیادہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا سبب بنتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق روزانہ صرف 100 گرام گوشت، جو ایک عام برگر سے بھی کم مقدار ہے، استعمال کرنے سے مکمل نباتاتی غذا کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کی ذمہ داری صرف نئی نسل پر عائد ہوتی ہے، لیکن یہ تحقیق اس جانب ضرور توجہ دلاتی ہے کہ ماحول دوست طرزِ زندگی اور متوازن غذائی انتخاب کی تعلیم بچپن ہی سے دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔غذائی نظام گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا بڑا ذریعہ دنیا بھر کا غذائی نظام اس وقت گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا ایک بڑا ذریعہ بن چکا ہے، جو موسمیاتی تبدیلی کو تیزی سے بڑھا رہا ہے۔ اندازوں کے مطابق عالمی سطح پر پیدا ہونے والی مجموعی گرین ہاؤس گیسوں کا تقریباً ایک تہائی حصہ خوراک کی پیداوار اور فراہمی کے نظام سے وابستہ ہے۔یہ اخراج کئی عوامل کا نتیجہ ہے، جن میں کاشتکاری کیلئے جنگلات کی بڑے پیمانے پر کٹائی، مویشیوں خصوصاً گائے اور بیلوں سے خارج ہونے والی میتھین گیس، مصنوعی کھادوں کے استعمال سے پیدا ہونے والی گیسیں اور خوراک کو دنیا بھر میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والے ایندھن کا جلنا شامل ہیں۔نباتاتی غذائیں ماحول کیلئے بہترین قرارمحققین نے یہ بھی پایا کہ نباتاتی غذا(ایسی خوراک جو بنیادی طور پر پودوں سے حاصل کی جاتی ہے) اختیار کرنے والے افراد کی خوراک سے پیدا ہونے والا گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج، گوشت کھانے والے افراد کے مقابلے میں صرف 25 فیصد رہ جاتا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نباتاتی غذا ماحول پر نسبتاً کم منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جنریشن الفا کی گوشت سے بھرپور غذائی عادات انہیں ان بزرگ افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ آلودگی پھیلانے والا بنا رہی ہیں، جو نسبتاً کم جانوروں سے حاصل ہونے والی غذائیں استعمال کرتے ہیں۔

مسجد بی بی خانم

مسجد بی بی خانم

سمرقند میں عظمت تیموری کی شاندار یادگارسمرقند کی تاریخی سرزمین پر قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسان صدیوں پر محیط تاریخ کے ایک زندہ باب میں داخل ہوگیا ہو۔ نیلے گنبدوں، بلند میناروں، نفیس نقش و نگار اور شاندار تیموری طرزِ تعمیر سے آراستہ یہ شہر وسطی ایشیا کی تہذیبی عظمت کا آئینہ دار ہے۔ اسی تاریخی شہر میں واقع مسجد بی بی خانم نہ صرف ایک عظیم الشان مذہبی عمارت بلکہ اسلامی فن تعمیر اور تیموری عہد کی شان و شوکت کی ایک قابلِ دید یادگار بھی ہے۔روایات کے مطابق بی بی خانم، امیر تیمور کی اہلیہ تھیں اور دین اسلام، عبادت اور مذہبی امور سے گہری وابستگی رکھتی تھیں۔ امیر تیمور نے اپنی اہلیہ کی خوشی اور عقیدت کے اظہار کیلئے سمرقند میں ایک ایسی عظیم مسجد تعمیر کروانے کا ارادہ کیا جو اپنے حجم، حسن اور شان و شوکت کے اعتبار سے منفرد ہو۔ چنانچہ اس دور کے ماہر معماروں اور کاریگروں نے اپنی فنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مسجد بی بی خانم کی تعمیر کا آغاز کیا۔ تکمیل کے بعد یہ مسجد اپنے زمانے میں وسطی ایشیا کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہونے لگی۔مسجد کا سب سے نمایاں وصف اس کا شاندار طرز تعمیر ہے۔ بلند و بالا محرابیں، عظیم الشان گنبد، بلند مینار اور خوبصورت تزئینی کام دیکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ عمارت کے مختلف حصوں پر نیلے، فیروزی اور سفید رنگ کی ٹائلوں سے بنائے گئے نقش و نگار تیموری فن تعمیر کی نفاست کا اظہار کرتے ہیں۔ مسجد کی دیواروں اور محرابوں پر کی گئی خطاطی اور تزئینی آرائش اس دور کے فنکاروں کی غیر معمولی مہارت کی گواہی دیتی ہے۔صدیاں گزرنے کے باوجود مسجد بی بی خانم سمرقند کی شناخت کا اہم حصہ رہی، تاہم وقت کے ساتھ قدرتی آفات اور موسمی اثرات نے اس تاریخی عمارت کو شدید متاثر کیا۔ بالخصوص 1966ء کے تباہ کن زلزلے کے نتیجے میں مسجد کے مختلف حصوں کو نمایاں نقصان پہنچا۔ عظیم گنبد اور دیگر تعمیراتی حصوں کو پہنچنے والے نقصانات نے اس تاریخی ورثے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات پیدا کر دیے۔ تاہم بعدازاں اس کی بحالی اور تحفظ کیلئے مختلف ادوار میں اقدامات کیے گئے۔مسجد کی مرمت اور بحالی کے دوران اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ اس کی اصل تاریخی اور معماری شناخت برقرار رہے۔ ماہرین تعمیرات اور ہنرمندوں نے قدیم نقش و نگار، ٹائلوں اور تعمیراتی اسلوب کا باریک بینی سے مطالعہ کیا اور اسی طرز پر بحالی کا کام انجام دیا۔ یوں مسجد کے کئی حصوں کو دوبارہ اس انداز میں آراستہ کیا گیا کہ قدیم تیموری فن تعمیر کی جھلک برقرار رہے۔ ازبکستان کے ماہر کاریگروں نے روایتی نقش و نگاری اور ٹائل سازی کی مہارت کو استعمال کرتے ہوئے اس تاریخی ورثے کی خوبصورتی کو بڑی حد تک بحال کیا۔آج مسجد بی بی خانم نہ صرف عبادت اور مذہبی عقیدت کا مرکز ہے بلکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کیلئے بھی ایک اہم تاریخی مقام کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کے بلند گنبد اور مینار دور سے ہی سمرقند کی عظمت کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مسجد کے قریب ایک وسیع اور خوبصورت منقش بازار بھی قائم ہے جہاں مقامی لوگ اور سیاح مختلف اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی چیزیں خریدتے ہیں۔ یہ بازار سمرقند کی قدیم تجارتی روایت اور موجودہ شہری زندگی کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔مسجد بی بی خانم دراصل صرف اینٹوں، پتھروں اور ٹائلوں سے بنی ہوئی عمارت نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی تہذیبی، مذہبی اور فنی داستان ہے۔ اس کے بلند مینار تیموری دور کی عظمت کی یاد دلاتے ہیں، جبکہ اس کے مرمت شدہ حصے یہ پیغام دیتے ہیں کہ زندہ قومیں اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھ کر آنے والی نسلوں سے جوڑتی ہیں۔ سمرقند آنے والا شاید اس شہر کی بہت سی عمارتیں دیکھے، مگر مسجد بی بی خانم کی عظمت اور حسن کا نقش اس کے ذہن و دل پر ایک دیرپا اثر چھوڑے بغیر نہیں رہتا۔

دنیا بدل دینے والے ریکارڈ ساز بچے

دنیا بدل دینے والے ریکارڈ ساز بچے

12 اگست کو عالمی یومِ نوجوانان منایا جاتا ہے۔ یہ دن نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور بالخصوص ان نوجوانوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کیلئے مخصوص ہے جو تبدیلی کی قیادت کر رہے ہیں اور ایک بہتر مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔گنیز ورلڈ ریکارڈز ایسے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی کامیابیوں کو سراہنے میں خوشی محسوس کرتے ہیں جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ عظمت اور کامیابی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔ یہاں ایسے ہی چند حوصلہ افزا اور متاثر کن مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔انسانی کیلکولیٹربھارتی ریاست مہاراشٹرا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ آریان شکلا نے اپنی غیر معمولی ریاضی کی صلاحیتوں سے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے ذہنی حساب کتاب میں کئی عالمی ریکارڈ اپنے نام کیے ہیں۔ آریان اتنی تیزی سے ذہنی حساب کر سکتے ہیں کہ شاید کیلکولیٹر میں اعداد ٹائپ کرنے میں بھی اس سے زیادہ وقت لگ جائے۔آریان کے نام 50 پانچ ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین عالمی ریکارڈ ہے، جس کیلئے انہوں نے محض 25.19 سیکنڈ کا وقت لیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے 100 چار ہندسوں والے نمبروں کو ذہنی طور پر جمع کرنے کا تیز ترین ریکارڈ بھی قائم کیا، جس کیلئے صرف 30.9 سیکنڈ درکار ہوئے۔آریان گلوبل مینٹل کیلکولیٹرز ایسوسی ایشن (GMCA) کے بانی بورڈ اراکین میں شامل ہیں۔ ٹائم میگزین کی کم عمر ترین شخصیتامریکی ریاست کولوراڈو سے تعلق رکھنے والی گیتانجلی راؤ نے صرف 10 سال کی عمر میں ایک ایسا چھوٹا سا آلہ تیار کرنا شروع کیا جس کا نام ''ٹیتھس‘‘ (Tethys) رکھا گیا۔ یہ آلہ پانی میں سیسے کی موجودگی کا پتا لگا سکتا ہے، جو انسانی صحت کیلئے نقصان دہ ہے۔گیتانجلی کی ایک اور قابلِ ذکر ایجاد ''کائنڈلی‘‘ (Kindly) ہے، جو ایک کمپیوٹر ٹیکنالوجی ہے اور سائبربُلنگ یعنی انٹرنیٹ پر دوسروں کو ہراساں کرنے یا دھمکانے کے واقعات کی روک تھام میں مدد دیتی ہے۔ کم عمری میں متعدد نمایاں کامیابیاں حاصل کرنے پر گیتانجلی راؤ نے ٹائم میگزین کی ''کڈ آف دی ایئر‘‘ بننے والی پہلی شخصیت کا اعزاز حاصل کیا۔کم عمر فیشن ڈیزائنر18 نومبر 2023ء کو امریکی ریاست کولوراڈو کے شہر ڈینور سے تعلق رکھنے والے میکس الیگزینڈر نے صرف 7 سال اور 266 دن کی عمر میں دنیا کے کم عمر ترین رَن وے شو ڈیزائنر کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔ انہیں ڈینور فیشن ویک میں اپنے ملبوسات پیش کرنے کا موقع ملا۔کم عمر ترین ایم بی ای اعزاز یافتہ بچیبرطانیہ کے علاقے ڈورسیٹ سے تعلق رکھنے والی کارمیلا چِلری واٹسن نے صرف 11 سال اور 78 دن کی عمر میں MBE کا اعزاز حاصل کرکے تاریخ رقم کی۔ وہ برطانوی سلطنت کے انتہائی ممتاز ترین اعزاز(Member of the Most Excellent Order of the British Empire)حاصل کرنے والی کم عمر ترین شخصیت بن گئیں۔ یہ ایک باوقار شاہی اعزاز ہے جو بادشاہ کی جانب سے دنیا کیلئے غیر معمولی خدمات انجام دینے والوں کو دیا جاتا ہے۔کارمیلا نے '' LMNA congenital muscular dystrophy‘‘ نامی پٹھوں کو کمزور کرنے والی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ اس کے باوجود انہوں نے مختلف فلاحی سرگرمیوں اور فنڈ ریزنگ منصوبوں کے ذریعے اب تک 36 ہزار پاؤنڈ سے زائد رقم خیراتی اداروں کیلئے جمع کی ہے۔

فاطمہ الفہری:علم کی دنیا کا ایک روشن باب

فاطمہ الفہری:علم کی دنیا کا ایک روشن باب

انسانی تاریخ علم و دانش کی ایسی بے شمار روشن مثالوں سے عبارت ہے جہاں مردوں کے ساتھ خواتین نے بھی اپنی علمی، ادبی اور تحقیقی صلاحیتوں کے ذریعے ایسے نقوش چھوڑے جو صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی نمایاں ہیں۔ خصوصاً اسلامی تہذیب کے عہد زریں میں خواتین نے علم کے فروغ، تعلیم کے استحکام اور معاشرے کی فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ انہی باہمت اور صاحب علم خواتین میں ایک نام فاطمہ الفہری کا ہے، جنہیں علمی دنیا میں غیر معمولی مقام حاصل ہے۔فاطمہ الفہری نے ایسے دور میں علم کی شمع روشن کرنے کا عزم کیا جب تعلیم کے مواقع محدود تھے اور علمی اداروں کا قیام آسان کام نہ تھا۔ انہوں نے اپنی خداداد صلاحیت، عزم و حوصلے اور علم دوستی کے ذریعے ایسا کارنامہ انجام دیا جس نے نہ صرف ان کے عہد کو متاثر کیا بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک روشن مثال قائم کر دی۔ ان کا نام بالخصوص مراکش کے شہر فاس میں قائم ہونے والے جامعہ القرویین (Al-Qarawiyyin University)سے وابستہ ہے، جسے دنیا کے قدیم ترین مسلسل قائم رہنے والے تعلیمی مراکز میں شمار کیا جاتا ہے۔فاطمہ الفہری آٹھویں صدی کے آخر میں تیونس کے شہر القیروان میں پیدا ہوئیں۔ بعدازاں ان کا خاندان میفاس مراکش منتقل ہو گیا تھا۔ اُس زمانے میں مراکش اسلامی تہذیب و ثقافت کا ایک بہت بڑا علمی مرکز تھا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم اپنے والد محمد الفہری جو ایک تاجر اور پڑھی لکھی شخصیت تھے، کی زیر سرپرستی گھر میں ہی حاصل کی۔ ان کا خاندان چونکہ شروع سے ہی علم دوست اور خوشحال تھا، اس لیے انہوں نے بچپن میں قیروان تیونس میں اسلامی علوم سیکھے اور بعد میں فاس مراکش منتقل ہو جانے کے بعد اسلامی علوم سیکھے۔ چند تاریخی روایات کے مطابق انہوں نے اسلامی فقہ اور ریاضی کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔والد کے انتقال کے بعد انھیں اپنے والد سے وراثت میں سے خاصی جائیداد ملی۔انہوں نے اپنی دولت کا بہترین استعمال کیا اور اپنی دولت کو اپنی ذاتی آسائشوں کیلئے استعمال کرنے کے بجائے تعلم و علم کی راہ پر وقف کر دیا۔ جب بغداد، قرطبہ، غرناطہ اور فاس جیسے شہروں میں تحقیق، فلسفے اور سائنس کی ترقی پھیل رہی تھی، تو انھوں نے اسی علمی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 859ء میں مراکش میں ایک مسجد اور علمی درسگاہ بنائی جو بعد میں جامعہ القرویین کے نام سے مشہور ہوئی۔ جس کو دنیا کی پہلی اسلامی اور باقاعدہ ڈگری جاری کرنے والی یونیورسٹی بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ایک اعزاز یہ بھی ہے کہ یونیسکو، بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق یہ ایک قدیم ترین تعلیمی ادارہ ہے۔ جامعہ القرویین کی بنیاد پر ہی دنیا کی جدید یونیورسٹیز کی بنیاد رکھی گئی۔ جن میں یورپی جامعات، آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹیز بھی شامل ہیں۔یہ ایک جدید طرز کی اعلیٰ تعلیم گاہ تھی، جہاں مختلف علوم کی تدریس دی جاتی تھی، جن میں اسلامی علوم، عربی زبان و ادب، ریاضی، فلکیات، منطق اور فلسفہ، طبعیات اور کیمیا وغیرہ شامل تھے۔ یہاں کا نصاب جدید خطوط پر استوار تھا۔ اس عظیم ادارے سے نہ صرف مسلم مفکرین ابن خلدون، ابن رشد اور موسیٰ بن میمون نے تعلیم حاصل کی بلکہ مسیحی اور یہودی سکالرز جن میں مشہور یورپی سکالر پوپ سلویسٹر دوم شامل ہیں، جو بعد میں یورپ میں تعلیمی اصلاحات کے بانیوں میں شمار ہوئے، بھی یہیں سے فیض یاب ہوئے۔یوں یہ تعلیمی ادارہ ایک طرح سے مختلف تہذیبوں، ثقافت اور مذاہب کا مرکز بن گیا۔ ماضی میں قرونِ وسطی کے یورپ میں تعلیم کی روشنی پھیلانے میں کئی اہم مفکرین بالواسطہ اور بلاواسطہ اسی یونیورسٹی سے وابستہ رہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل طالب علموں نے نہ صرف اسلامی دنیا بلکہ یورپ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔فاطمہ الفہری نے صرف مردوں کیلئے نہیں بلکہ خواتین کی تعلیم کیلئے بھی اہم اقدامات کیے۔ مسجد اور جامعہ کے اندر ایک مخصوص گیلری یا ہال جس کو ''رواق‘‘ کہا جاتا بنایا تاکہ خواتین پردے کے ساتھ تعلیم حاصل کرسکیں، اس طرح خواتین بڑے بڑے علماء کرام اور فقہاء کرام کے لیکچررز بغیر کسی پریشانی کے بڑی سہولت کے ساتھ سن سکتی تھیں۔ یہ ادارہ صرف علم فراہمی کا ہی کام نہیں کرتا تھا بلکہ یہاں علمی مباحث، سوال جواب کرنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔ جن سے نہ صرف مرد بلکہ خواتین کو بھی عملی میدان میں آگے بڑھنے کی جستجو ہوتی تھی۔ فاطمہ الفہری خود اپنی بہن مریم الفہری کے ساتھ جامعہ کی علمی، ادبی اور تحقیقی سرگرمیوں میں حصہ لیتیں اور نگرانی کیا کرتی تھیں۔ اس طرح یہاں کی تعلیم صنف کے لحاظ سے مساوی تعلیم کے لحاظ سے جدید تعلیمی درسگاہ بھی ہے۔الغرض ان کا یہ کارنامہ نہ صرف اسلامی بلکہ عالمی علمی ورثے میں ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فاطمہ الفہری کا یہ عظیم علمی قدم معاشی اور معاشرتی لحاظ سے خود مختاری کو فروغ دیتا ہے۔ فاطمہ الفہری آج کی ان خواتین کیلئے ایک روشن مثال ہیں جو اپنی زندگی میں بااختیار بن رہی ہیں، اگر آج کی خواتین اس مثال کو سامنے رکھیں تو وہ بھی اپنا نام رہتی دنیا تک سنہری حروف میں شامل کر سکتی ہیں جو ایک ترقی یافتہ اور باشعور و خوشحال معاشرے کی بنیاد بنتی ہیں۔فاطمہ الفہری کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ علم کی خدمت کیلئے نہ جنس رکاوٹ ہے، نہ زمانہ اور نہ ہی حالات۔ ان کی داستان دراصل ایک ایسی خاتون کی داستان ہے جس نے اپنے عزم، سخاوت اور علم سے محبت کے ذریعے تاریخ کے صفحات پر اپنا نام ہمیشہ کیلئے ثبت کردیا۔