سمندروں کا بڑھتا درجہ حرارت
اسپیشل فیچر
نیا عالمی ریکارڈ ، نئے خطرات
دنیا کے سمندر ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں جہاں ان کا درجہ حرارت ایک بار پھر تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچنے کے قریب ہے۔سائنسی جریدے 'Nature‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق سمندری سطح کا غیر معمولی درجہ حرارت نہ صرف سمندری ماحولیاتی نظام کو شدید متاثر کر سکتا ہے بلکہ سمندر کی فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت کو بھی کمزور کر سکتا ہے۔یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ تشویشناک ہے کہ سمندر محض پانی کا ایک وسیع ذخیرہ نہیں بلکہ زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک بنیادی ستون ہے۔ سمندر فضا میں موجود اضافی حرارت کا بڑا حصہ جذب کرتے ہیں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو بھی اپنے اندر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن اگر پانی مسلسل گرم ہوتا جائے تو یہ قدرتی نظام اپنی کارکردگی کھونا شروع کر سکتا ہے۔
سمندر گرم کیوں ہو رہے ہیں؟
سمندری درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری حرارت روکنے والی گیسوں کی مقدار بڑھتی ہے۔ اس اضافی حرارت کا بہت بڑا حصہ سمندر جذب کر لیتے ہیں۔قدرتی موسمیاتی عوامل، خصوصاًEl Niño بھی بعض اوقات سمندری درجہ حرارت میں اچانک اضافہ کرتے ہیں۔ تاہم موجودہ صورتحال کو صرف قدرتی عوامل سے سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ طویل مدتی عالمی حدت نے سمندروں کے بنیادی درجہ حرارت کو پہلے ہی بلند کر دیا ہے جس کے اوپر قدرتی واقعات مزید گرمی کا اضافہ کر سکتے ہیں۔'Nature‘ کی رپورٹ میں جس نئے ریکارڈ کی نشاندہی کی گئی ہے وہ اسی بڑے رجحان کا حصہ ہے۔رپورٹ کے مطابق انتہائی گرم سمندری سطح سمندری حیات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ سمندر کے کاربن جذب کرنے والے قدرتی نظام کو بھی کمزور کر سکتی ہے۔یہ خدشہ محض نظری نہیں سوئٹزرلینڈ کی یونیورسٹی ETH Zurich کے محقیقن اور ان کے ساتھیوں کی 2025 میں شائع ہونے والی تحقیق نے 2023ء کے ریکارڈ گرم سمندروں کا جائزہ لیا۔ محققین نے بتایا کہ سمندروں نے اس سال توقع کے مقابلے میں 10 فیصد کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کی جس سے بعض علاقوں میں سمندر سے فضا کی طرف کاربن ڈائی آکسائیڈکے اخراج میں اضافہ ہوا۔
گرم سمندر کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کیوں کھو سکتے ہیں؟
سمندر انسانی پیدا کردہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خلاف قدرت کا ایک اہم دفاع ہیں۔ فضا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک حصہ سمندر جذب کر لیتا ہے لیکن گرم پانی ٹھنڈے پانی کے مقابلے میں گیسوں خصوصاً کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کم مقدار میں اپنے اندر حل کر سکتا ہے۔یہ عمل ایک خطرناک موسمیاتی ری ایکشن پیدا کر سکتا ہے۔ اگر سمندر کم کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کریں تو فضا میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ رہ جائے گی جس س سے گرین ہاؤس اثر مزید مضبوط ہوگا۔ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا اور سمندر مزید گرم ہو سکتے ہیں۔ یوں ایک ایسا چکر شروع ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ 2023ء میں گرم سمندری سطح کے باوجود بعض قدرتی عوامل نے کاربن جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کے اثر کو کسی حد تک متوازن کیا تاہم محققین نے خبردار کیا کہ طویل مدتی حدت یا اس سے بھی زیادہ شدید سمندری درجہ حرارت کے واقعات میں لازمی نہیں کہ یہ قدرتی مزاحمت برقرار رہے۔
مرجانی چٹانیں اور سمندری حیات کو بڑا خطرہ
سمندری گرمی کا ایک نمایاں اثرCoral reefsیعنی مرجانی چٹانوں پر پڑتا ہے۔ مرجان نسبتاً محدود درجہ حرارت کی حدود میں بہتر طور پر زندہ رہتے ہیں۔ جب پانی غیر معمولی حد تک گرم ہوتا ہے تو مرجان سفید پڑنے لگتے ہیں جسے کورل بلیچنگ کہا جاتا ہے۔ مرجانی چٹانیں ہزاروں سمندری جانداروں کو خوراک، پناہ اور افزائش کی جگہ فراہم کرتی ہیں اور ساحلی علاقوں کو لہروں سے تحفظ بھی دیتی ہیں۔
کیا کرنا چاہیے؟
سائنسدانوں کے نزدیک سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ سمندر اس سال کتنا گرم ہوگا بلکہ یہ ہے کہ یہ گرمی مستقبل میں کتنی بار اور کتنی شدت سے واپس آئے گی؟میرین ہیٹ ویو گزشتہ دو دہائیوں میں تقریباً تمام سمندروں اور سمندری خطوں میں حیاتیاتی، ماحولیاتی اور معاشی تبدیلیوں کا سبب بنی ہیں۔ ان کے اثرات میں مچھلیوں کا نقصان، کورل ریفس کو نقصان اور بعض بڑے سمندری جانوروں کی اموات شامل ہیں۔ محققین کے مطابق طویل مدت میں ان خطرات کا بنیادی حل گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی ہے۔دنیا کو ایک طرف فوسل فیول کے استعمال اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہوگی جبکہ دوسری طرف سمندری محفوظ علاقوں، پائیدار ماہی گیری،مرجان کی بحالی اور سمندری مانیٹرنگ پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔سمندروں کا نیا درجہ حرارت ریکارڈ محض ایک عدد نہیں ہوگا یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ زمین کا وہ قدرتی نظام جو صدیوں سے حرارت اور کاربن کو جذب کرکے انسانی تہذیب کو سہارا دیتا آیا ہے کس حد تک دباؤ میں آ چکا ہے۔ اگر سمندر اپنی حرارت اور کاربن جذب کرنے کی صلاحیت کھونے لگے تو موسمیاتی تبدیلی کی رفتار اور اس کے اثرات دونوں زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سمندری حدت کو مستقبل کی ایک وارننگ سمجھنا چاہیے۔ جتنا زیادہ عالمی درجہ حرارت بڑھے گا سمندروں کے لیے ہماری غلطیوں کو برداشت کرنا اتنا ہی مشکل ہوتا جائے گا۔