گائے پالنے کے ماحولیاتی اثرات!
اسپیشل فیچر
دودھ اور گوشت کی بڑھتی طلب، ماحول کیلئے نیا چیلنج
گائے صدیوں سے انسانی زندگی کا اہم حصہ رہی ہے۔ دودھ، گوشت، چمڑا اور زرعی ضروریات پوری کرنے میں اس جانور کا کردار ناقابلِ انکار ہے۔ دنیا کی بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ دودھ اور گوشت کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں مویشی پالنے کی صنعت بھی تیزی سے وسعت اختیار کر رہی ہے۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں سائنس دانوں نے اس صنعت کے ایک ایسے پہلو کی نشاندہی کی ہے جس نے ماحولیاتی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ جدید تحقیقات کے مطابق گائے پالنا موسمیاتی تبدیلی میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل میں شامل ہے، کیونکہ اس سے بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق عالمی غذائی نظام دنیا بھر میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسوں کے تقریباً ایک تہائی اخراج کا ذمہ دار ہے، جس میں مویشی پالنے کا حصہ نمایاں ہے۔ گائے اپنے نظامِ ہاضمہ کے دوران میتھین نامی گیس خارج کرتی ہے، جو ماحول کیلئے انتہائی نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔ سائنسی مطالعات کے مطابق میتھین، کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں تقریباً 30 گنا زیادہ حرارت فضا میں پیدا کرتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے عالمی حدت میں اضافے کا ایک اہم سبب قرار دیا جاتا ہے۔
تحقیقی اندازوں کے مطابق ایک فارم کی گائے سالانہ اوسطاً اتنی گرین ہاؤس گیسیں خارج کرتی ہے جو تقریباً تین ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مساوی ہوتی ہیں۔ چونکہ دنیا کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے، اس لیے دودھ اور گوشت کی طلب بھی بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مویشیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر ماحول پر پڑتا ہے اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
گائے پالنے کے ماحولیاتی اثرات صرف میتھین تک محدود نہیں۔ مویشیوں کیلئے چارہ اگانے کی خاطر وسیع رقبوں پر جنگلات کا صفایا کیا جاتا ہے، جس سے حیاتیاتی تنوع متاثر ہوتا ہے اور درختوں کی وہ قدرتی صلاحیت کم ہو جاتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتی ہے۔ اس کے علاوہ مصنوعی کھادوں کا استعمال، مویشیوں کے فضلے سے پیدا ہونے والی گیسیں، اور دودھ و گوشت کو مختلف ممالک تک پہنچانے کیلئے استعمال ہونے والا ایندھن بھی ماحول پر اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔
ان خدشات کے باوجود سائنسدان اس مسئلے کا حل تلاش کرنے میں مصروف ہیں۔ حالیہ تحقیقات میں گایوں کی خوراک میں سمندری کائی (سی ویڈ) شامل کرنے کے تجربات کیے گئے ہیں۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ سمندری کائی کھانے والی گایوں سے خارج ہونے والی میتھین میں 30 فیصد سے زیادہ کمی دیکھی گئی۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا میں ہونے والی ایک تحقیق میں سمندری کائی کی معمولی مقدار مویشیوں کے چارے میں شامل کی گئی اور اس کے نمکین ذائقے کو چھپانے کیلئے شیرہ (مولاسس) ملایا گیا۔ اس تجربے کے بعد میتھین کے اخراج میں تقریباً ایک تہائی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے ماہرین نے حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا۔
تحقیق کی قیادت کرنے والے حیوانی سائنس دان پروفیسر ارمیاس کیبریاب کے مطابق انہیں توقع نہیں تھی کہ سمندری کائی کی اتنی کم مقدار بھی اتنے نمایاں نتائج دے گی۔ اب محققین گوشت کیلئے پالے جانے والے مویشیوں پر بھی اسی طرز کی خوراک کے اثرات جانچنے کیلئے مزید مطالعات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جڑی بوٹیوں پر مشتمل خصوصی چاروں اور بہتر مویشی پالنے کے طریقوں پر بھی تحقیق جاری ہے تاکہ ماحول دوست فارمنگ کو فروغ دیا جا سکے۔
ماہرین اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ مویشی پالنے کو مکمل طور پر ختم کرنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی ضروری، کیونکہ دنیا کے کروڑوں افراد کی خوراک، روزگار اور معیشت اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسے طریقے اپنائے جائیں جن سے دودھ اور گوشت کی پیداوار برقرار رہے، مگر ماحول پر اس کے منفی اثرات کم سے کم ہوں۔ بہتر چارہ، جدید فارمنگ، جنگلات کا تحفظ اور خوراک کے ضیاع میں کمی جیسے اقدامات اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر اب وقت آ گیا ہے کہ زرعی شعبہ، سائنس دان، حکومتیں اور صارفین مل کر ایسے پائیدار حل تلاش کریں جو غذائی ضروریات بھی پوری کریں اور زمین کے ماحول کو بھی محفوظ رکھیں۔ اگر بروقت اقدامات کیے گئے تو مویشی پالنے کے شعبے کو زیادہ ماحول دوست بنا کر آنے والی نسلوں کیلئے ایک متوازن اور محفوظ مستقبل یقینی بنایا جا سکتا ہے۔