موسمیاتی تبدیلیاں، خالی کھیت اور غذائی سلامتی کے خطرات
اسپیشل فیچر
پاکستان پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی کے خطرناک اثرات کی زد میں ہے۔ سیلاب، شدید گرمی، بے وقت بارشیں اور پگھلتے گلیشیئر اس بحران کی نمایاں علامات ہیں، مگر اس کا ایک سنگین رخ اب کھیتوں میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ فصلوں کی پیداوار کم ہو رہی ہے، خوراک مہنگی ہو رہی ہے اور کسان بدلتے موسم کے ساتھ نئی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔پاکستان کی معیشت اور دیہی زندگی کا بڑا حصہ زراعت سے وابستہ ہے۔ اس لیے موسمیاتی تبدیلی اب صرف زرعی پیداوار ہی نہیں بلکہ غذائی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ بن چکی ہے۔
950 کسانوں پر حالیہ تحقیق کے مطابق صرف 22فیصد کسانوں نے فصلوں کی بوائی کا وقت تبدیل کیا،15فیصد نے خشک سالی برداشت کرنے والی اقسام اپنائیں، جبکہ 25فیصد نے نئی فصلیں اُگائیں۔ ان اقدامات سے زیادہ تر کسانوں کے گھرانے نسبتاً محفوظ اور غربت سے کم متاثر پائے گئے۔اس کے باوجود بڑی تعداد میں کاشتکار اب بھی روایتی طریقوں پر انحصار کر رہے ہیں۔ انہیں بارشوں، شدید گرمی، پانی کی کمی اور کیڑوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
زراعت کی کم ہوتی پیداوار
اقتصادی جائزہ 2024-25 ء کے اعدادوشمار بھی خطرے کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مالی سال 2025ء میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح صرف 0.56 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 6.40 فیصد تھی۔ فصلوں کے شعبے میں 6.82 فیصد کمی ہوئی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار 13.49فیصد کم رہی۔ گندم کی پیداوار میں 8.9 فیصد، کپاس میں 30.7 فیصد، مکئی میں 15.4 فیصد، گنے میں 3.88 فیصد اور چاول میں 1.38فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ زیرکاشت رقبے میں کمی، بوائی میں تاخیر اور شدید موسمی حالات اس گراوٹ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔گندم ملکی خوراک، کپاس آمدنی اور برآمدات، مکئی مویشیوں کی خوراک اور چاول زرمبادلہ کمانے کا اہم ذریعہ ہے۔ اس لیے فصلوں میں کمی کا اثر پورے ملکی معاشی نظام پر پڑتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ ایک موسمی جھٹکا کئی نئے مسائل کو جنم دیتا ہے۔ شدید گرمی گندم کی پیداوار کم کرتی ہے، بے وقت بارش بوائی اور کٹائی متاثر کرتی ہے، جبکہ سیلاب فصلوں، مویشیوں اور دیہی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچاتا ہے۔ یوں موسمیاتی بحران بالآخر کسان کے گھر کے چولہے تک پہنچ جاتا ہے۔پاکستان میں زراعت کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے کیلئے مختلف منصوبے جاری ہیں۔ عالمی اداروں کے تعاون سے چھوٹے کسانوں کو بہتر زرعی طریقے، پانی کے مؤثر استعمال اور موسمی خطرات سے نمٹنے میں مدد دی جا رہی ہے، تاہم موجودہ اقدامات اس بڑے چیلنج کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
کسان کو محض موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی نہیں، عملی سہولتیں درکار ہیں۔ اسے گرمی برداشت کرنے والے بیج، آسان شرائط پر قرض، مقامی زبان میں موسم کی بروقت اطلاع، فصلوں کا بیمہ، پانی بچانے والے آبپاشی طریقے، زمین کی جانچ، کیڑوں سے متعلق معلومات اور منڈی کے نرخوں تک رسائی چاہیے۔ زرعی ماہرین کو فصل خراب ہونے کے بعد نہیں بلکہ نقصان سے پہلے کھیت تک پہنچنا ہوگا۔ 2025ء میں پنجاب اور سندھ کے 800 کسانوں پر ہونے والی تحقیق کے مطابق پنجاب کے 87 فیصد کسان کم خرچ فصلیں اُگا رہے تھے، جبکہ سندھ میں یہ شرح 60فیصد تھی۔ بارش کا پانی محفوظ کرنے کا طریقہ پنجاب میں صرف 10 فیصد اور سندھ میں 34 فیصد کسان استعمال کر رہے تھے۔
کھیت سے دسترخوان تک
غذائی سلامتی کا مطلب صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ عام آدمی کی اسے خریدنے کی استطاعت بھی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق پاکستان کی 42 فیصد آبادی درمیانے یا شدید درجے کی غذائی کمی کا شکار ہے۔ پیداوار میں کمی اور خوراک کی قیمتوں میں اضافہ اس صورتحال کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔فصل خراب ہونے سے خوراک مہنگی ہوتی ہے۔ غریب خاندان کھانے کے معیار اور مقدار میں کمی کرتے ہیں جبکہ صحت اور تعلیم جیسے ضروری اخراجات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یوں موسمیاتی تبدیلی کا سفر کھیت سے شروع ہو کر گھر کے دسترخوان تک پہنچتا ہے۔
خالی پیٹ بھی قومی خطرہ
موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والی غذائی کمی مستقبل میں پاکستان کے لیے بڑا سماجی اور معاشی خطرہ بن سکتی ہے۔ غذائی بحران مہنگائی میں اضافے، غربت کے پھیلا اور معاشرتی بے چینی کا سبب بن سکتا ہے۔پاکستان کو کسانوں کو موسمیاتی خطرات سے بچانا قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ ہر ضلع کے لیے موسم، پانی اور زمین کی صورتحال کے مطابق زرعی منصوبہ تیار کیا جائے۔ زرعی محکموں کو بروقت مشاورت کا مؤثر نظام بنانا ہوگا، جبکہ جامعات اور تحقیقی اداروں کو اپنی تحقیق کھیت تک پہنچانا ہوگی۔ سرکاری مراعات کو پانی بچانے، بہتر بیج اور زمین کی صحت سے جوڑنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلی صرف فصلیں تباہ نہیں کرتی بلکہ غربت، بھوک اور بے یقینی میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ پاکستان کی آئندہ غذائی سلامتی کا فیصلہ کانفرنسوں میں نہیں بلکہ ان کھیتوں میں ہوگا، جہاں محدود وسائل رکھنے والا کسان بدلتے موسم کے مقابل اپنی فصل بچانے کی جدوجہد کر رہا ہے۔