میٹا کا منفرد اے آئی گیجٹ مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف کمپیوٹر، اسمارٹ فون یا بڑی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے آلات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میٹا کا نیا ''میوز چارم‘‘ گیجٹ ہے، جو صارف کو فون یا کمپیوٹر کھولے بغیر اے آئی سے استفادہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تماگوچی جیسے پرانے ڈیجیٹل پالتو جانوروں کے تصور سے مشابہ یہ چھوٹا آلہ جدید ٹیکنالوجی اور ذاتی نوعیت کے اے آئی تجربے کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہے۔میٹا کے متعارف کرائے گئے آلہ کو مداح اور صارفین تماگوچی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔اس جدید ڈیوائس کا نام ''میوز چارم‘‘ ہے، جس کا اعلان میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے ''میٹا کنیکٹ‘‘ تقریب کے اختتام پر کیا۔ہتھیلی میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ صارفین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فون یا کمپیوٹر کے بغیر میٹا کی مصنوعی ذہانت استعمال کر سکیں۔ مارک زکربرگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیوائس کی چین پر لگائی جا سکتی ہے اور صارف کو ہر وقت اے آئی سے بات کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیوائس کے ایک کونے میں موجود فنگر پرنٹ سینسر کو چھوتے ہی صارف اے آئی سے گفتگو شروع کر سکتا ہے، اس کیلئے فون کو اَن لاک کرنے یا کوئی ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔میٹا کنیکٹ کی تقریب میں زیادہ تر توجہ میوز پر مرکوز رہی، جسے میٹا نے اپنا ''ذاتی اے آئی ایجنٹ‘‘ قرار دیا ہے۔مارک زکربرگ نے ابتدا میں اعلان کیا کہ میوز کو میٹا کے اے آئی چشموں میں دستیاب کیا جائے گا۔میٹا کے مطابق صارف اپنے چشموں کے ذریعے میوز سے اپنے لیے مخصوص ورزش کی رہنمائی کرنے، کھانے کا ریکارڈ درج کرنے، ضرورت کے وقت غذائیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور حتیٰ کہ نظر آنے والی مصنوعات خریدنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ صارف میوز سے کسی ملاقات کا وقت طے کرنے، پرواز کے کرائے معلوم کرنے یا گاڑی چلاتے، کھانا پکاتے یا دوڑتے ہوئے کسی گم شدہ پرزے کا سراغ لگانے کیلئے بھی کہہ سکتا ہے، اور اس دوران اسے اپنا فون نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صارف میوز کا نام لے کر اور اپنی درخواست بتا کر بھی اسے فعال کر سکتا ہے۔ میوز پس منظر میں کام کرے گا اور کام مکمل ہونے کے بعد صارف کو اس سے آگاہ کرے گا۔تاہم تقریب کے بالکل اختتام پر مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ میوز کو کمپنی کے بالکل نئے ''میوز چارم‘‘ ڈیوائس پر بھی دستیاب کیا جائے گا۔زکربرگ نے حاضرین کو یہ چھوٹا سا آلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس ننھے سے ڈیوائس میں بہت سی ٹیکنالوجی سموئی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر صارف اے آئی چشمے نہیں پہنے ہوئے تو میوز چارم اس سے میوز کے ساتھ بات کرنے اور اردگرد موجود چیزوں سے اسے آگاہ کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ثابت ہوگا۔میٹا کی جانب سے جاری کی گئی محدود تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈیوائس میں ایک چھوٹی اسکرین موجود ہے، جس پر صارف کی منتخب کردہ میوز تصویریا ویڈیو دکھائی دے گی۔ڈیوائس کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا فنگر پرنٹ سینسر بھی موجود ہے، جسے دبا کر اے آئی کو فعال کیا جا سکتا ہے۔زکربرگ نے بتایا کہ کمپنی نے فی الحال اس ڈیوائس کے صرف چند نمونے تیار کیے ہیں اور اسے استعمال کرنا انتہائی خوشگوار تجربہ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کو ابھی اس ڈیوائس کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والے حتمی مٹیریل کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ اندرونی اجزا کی ترتیب بھی ابھی مکمل کی جانی باقی ہے۔تاہم ہمارا منصوبہ ہے کہ اسے تعطیلات کے موسم تک، یعنی دسمبر میں، صارفین کو بھیجنے کیلئے تیار کر لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ اسے بہت پسند کریں گے‘‘۔''میوز چارم‘‘ کا ''تماگوچی ‘‘سے موازنہ،پرائیویسی پر بحث''میوز چارم‘‘ کے بارے میں فی الحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن متعدد صارفین نے اس کا موازنہ ''تماگوچی‘‘ سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ تماگوچی ایک مشہور ڈیجیٹل پالتو جانور کا چھوٹا سا الیکٹرانک آلہ تھا، جس نے 1990ء کی دہائی میں دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی۔سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس نئے گیجٹ کے مقصد پر سوالات بھی اٹھائے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ کوئی شخص ایسی صورت حال میں تو نہیں ہوگا کہ اس کے پاس فون یا کمپیوٹر نہ ہو اور وہ یہ سوچے کہ ''اچھا ہوا میرے پاس نگرانی کرنے والا یہ ''تماگوچی‘‘ موجود ہے‘‘۔ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ''شیطانی تماگوچی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس ڈیوائس کیلئے اس سے بہتر وضاحت شاید ہی کوئی ہو۔یوں میوز چارم نے ابھی مارکیٹ میں قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے اعلان نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل، ذاتی نوعیت کے اے آئی آلات اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرےسوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کے حوالے سے صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ بہت سے لوگوں نے میٹا کی اس جدت کو سراہا اور اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا۔ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''اے آئی کا اب تک کا سب سے ذہین استعمال‘‘۔ ایک اور صارف نے سوال کیا ''کیا یہی وہ چیز ہے جو ایپل کی دنیا میں خلل پیدا کرے گی؟‘‘۔ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ''بچپن میں مجھے تماگوچی کا جنون تھا، اب بالغ ہونے کے بعد غالباً مجھے اس میوز چارم کی لت لگ جائے گی۔‘‘تاہم کچھ صارفین اس ڈیوائس سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے۔ایک شکی صارف نے سوال اٹھایا ''فون یا ایپل واچ کے مقابلے میں اسے کون استعمال کرے گا؟ مجھے واقعی سمجھ نہیں آتی کہ اس کی اصل صارف برادری کون ہے، شاید مڈل اسکول کے کچھ طلبہ جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ٹھنڈا سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، جس میں بے کار الیکٹرانک کچرے کے ساتھ غیر ضروری سافٹ ویئر بھی شامل ہے‘‘۔ایک اور صارف نے لکھا ''سر ہلا کر رہ گیا ہوں، ہم باضابطہ طور پر اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اے آئی اسسٹنٹ رکھنے کیلئے اب فون کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اس رفتار سے تو جلد اے آئی جسمانی طور پر بھی ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دے گی‘‘۔ایک صارف نے قدرے تشویش ناک انداز میں صرف اتنا لکھا، ''یہ تو بلیک مرر ہے‘‘۔