میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

میوز چارم:مصنوعی ذہانت کا ننھا ڈیجیٹل ساتھی

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


 میٹا کا منفرد اے آئی گیجٹ 

مصنوعی ذہانت (اے آئی) اب صرف کمپیوٹر، اسمارٹ فون یا بڑی اسکرین تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے آلات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ اس کی ایک دلچسپ مثال میٹا کا نیا ''میوز چارم‘‘ گیجٹ ہے، جو صارف کو فون یا کمپیوٹر کھولے بغیر اے آئی سے استفادہ کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ تماگوچی جیسے پرانے ڈیجیٹل پالتو جانوروں کے تصور سے مشابہ یہ چھوٹا آلہ جدید ٹیکنالوجی اور ذاتی نوعیت کے اے آئی تجربے کو ایک نئے انداز میں پیش کرتا ہے۔
میٹا کے متعارف کرائے گئے آلہ کو مداح اور صارفین تماگوچی سے تشبیہ دے رہے ہیں۔اس جدید ڈیوائس کا نام ''میوز چارم‘‘ ہے، جس کا اعلان میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ نے ''میٹا کنیکٹ‘‘ تقریب کے اختتام پر کیا۔ہتھیلی میں سما جانے والا یہ چھوٹا سا آلہ صارفین کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ اپنے فون یا کمپیوٹر کے بغیر میٹا کی مصنوعی ذہانت استعمال کر سکیں۔ مارک زکربرگ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ڈیوائس کی چین پر لگائی جا سکتی ہے اور صارف کو ہر وقت اے آئی سے بات کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ڈیوائس کے ایک کونے میں موجود فنگر پرنٹ سینسر کو چھوتے ہی صارف اے آئی سے گفتگو شروع کر سکتا ہے، اس کیلئے فون کو اَن لاک کرنے یا کوئی ایپ کھولنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔
میٹا کنیکٹ کی تقریب میں زیادہ تر توجہ میوز پر مرکوز رہی، جسے میٹا نے اپنا ''ذاتی اے آئی ایجنٹ‘‘ قرار دیا ہے۔مارک زکربرگ نے ابتدا میں اعلان کیا کہ میوز کو میٹا کے اے آئی چشموں میں دستیاب کیا جائے گا۔میٹا کے مطابق صارف اپنے چشموں کے ذریعے میوز سے اپنے لیے مخصوص ورزش کی رہنمائی کرنے، کھانے کا ریکارڈ درج کرنے، ضرورت کے وقت غذائیت سے متعلق معلومات حاصل کرنے اور حتیٰ کہ نظر آنے والی مصنوعات خریدنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔ کمپنی نے بتایا کہ صارف میوز سے کسی ملاقات کا وقت طے کرنے، پرواز کے کرائے معلوم کرنے یا گاڑی چلاتے، کھانا پکاتے یا دوڑتے ہوئے کسی گم شدہ پرزے کا سراغ لگانے کیلئے بھی کہہ سکتا ہے، اور اس دوران اسے اپنا فون نکالنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔صارف میوز کا نام لے کر اور اپنی درخواست بتا کر بھی اسے فعال کر سکتا ہے۔ میوز پس منظر میں کام کرے گا اور کام مکمل ہونے کے بعد صارف کو اس سے آگاہ کرے گا۔
تاہم تقریب کے بالکل اختتام پر مارک زکربرگ نے اعلان کیا کہ میوز کو کمپنی کے بالکل نئے ''میوز چارم‘‘ ڈیوائس پر بھی دستیاب کیا جائے گا۔زکربرگ نے حاضرین کو یہ چھوٹا سا آلہ دکھاتے ہوئے کہا کہ اس ننھے سے ڈیوائس میں بہت سی ٹیکنالوجی سموئی گئی ہے۔ ان کے مطابق اگر صارف اے آئی چشمے نہیں پہنے ہوئے تو میوز چارم اس سے میوز کے ساتھ بات کرنے اور اردگرد موجود چیزوں سے اسے آگاہ کرنے کا سب سے تیز ذریعہ ثابت ہوگا۔میٹا کی جانب سے جاری کی گئی محدود تصاویر اور ویڈیوز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ڈیوائس میں ایک چھوٹی اسکرین موجود ہے، جس پر صارف کی منتخب کردہ میوز تصویریا ویڈیو دکھائی دے گی۔
ڈیوائس کے ایک کونے میں ایک چھوٹا سا فنگر پرنٹ سینسر بھی موجود ہے، جسے دبا کر اے آئی کو فعال کیا جا سکتا ہے۔زکربرگ نے بتایا کہ کمپنی نے فی الحال اس ڈیوائس کے صرف چند نمونے تیار کیے ہیں اور اسے استعمال کرنا انتہائی خوشگوار تجربہ رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کو ابھی اس ڈیوائس کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والے حتمی مٹیریل کا فیصلہ کرنا ہے جبکہ اندرونی اجزا کی ترتیب بھی ابھی مکمل کی جانی باقی ہے۔تاہم ہمارا منصوبہ ہے کہ اسے تعطیلات کے موسم تک، یعنی دسمبر میں، صارفین کو بھیجنے کیلئے تیار کر لیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ لوگ اسے بہت پسند کریں گے‘‘۔

''میوز چارم‘‘ کا ''تماگوچی ‘‘سے موازنہ،پرائیویسی پر بحث
''میوز چارم‘‘ کے بارے میں فی الحال زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آئیں، لیکن متعدد صارفین نے اس کا موازنہ ''تماگوچی‘‘ سے کرنا شروع کر دیا ہے۔ تماگوچی ایک مشہور ڈیجیٹل پالتو جانور کا چھوٹا سا الیکٹرانک آلہ تھا، جس نے 1990ء کی دہائی میں دنیا بھر میں مقبولیت حاصل کی تھی۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین نے اس نئے گیجٹ کے مقصد پر سوالات بھی اٹھائے۔ ایک صارف نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ آخر اس کی ضرورت کیا ہے؟ کوئی شخص ایسی صورت حال میں تو نہیں ہوگا کہ اس کے پاس فون یا کمپیوٹر نہ ہو اور وہ یہ سوچے کہ ''اچھا ہوا میرے پاس نگرانی کرنے والا یہ ''تماگوچی‘‘ موجود ہے‘‘۔ایک اور صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ''شیطانی تماگوچی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس ڈیوائس کیلئے اس سے بہتر وضاحت شاید ہی کوئی ہو۔یوں میوز چارم نے ابھی مارکیٹ میں قدم بھی نہیں رکھا، لیکن اس کے اعلان نے مصنوعی ذہانت کے مستقبل، ذاتی نوعیت کے اے آئی آلات اور صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کے دلچسپ تبصرے
سوشل میڈیا پر اس ڈیوائس کے حوالے سے صارفین کا ردعمل ملا جلا رہا۔ بہت سے لوگوں نے میٹا کی اس جدت کو سراہا اور اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں ایک نئی پیش رفت قرار دیا۔ایک صارف نے ایکس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ''اے آئی کا اب تک کا سب سے ذہین استعمال‘‘۔
ایک اور صارف نے سوال کیا ''کیا یہی وہ چیز ہے جو ایپل کی دنیا میں خلل پیدا کرے گی؟‘‘۔ایک صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا ''بچپن میں مجھے تماگوچی کا جنون تھا، اب بالغ ہونے کے بعد غالباً مجھے اس میوز چارم کی لت لگ جائے گی۔‘‘تاہم کچھ صارفین اس ڈیوائس سے زیادہ متاثر دکھائی نہیں دیے۔
ایک شکی صارف نے سوال اٹھایا ''فون یا ایپل واچ کے مقابلے میں اسے کون استعمال کرے گا؟ مجھے واقعی سمجھ نہیں آتی کہ اس کی اصل صارف برادری کون ہے، شاید مڈل اسکول کے کچھ طلبہ جو جدید ترین ٹیکنالوجی کے ساتھ خود کو ٹھنڈا سمجھتے ہیں۔ یہ تو ایک مذاق معلوم ہوتا ہے، جس میں بے کار الیکٹرانک کچرے کے ساتھ غیر ضروری سافٹ ویئر بھی شامل ہے‘‘۔
ایک اور صارف نے لکھا ''سر ہلا کر رہ گیا ہوں، ہم باضابطہ طور پر اس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں جہاں اے آئی اسسٹنٹ رکھنے کیلئے اب فون کی بھی ضرورت نہیں رہی۔ اس رفتار سے تو جلد اے آئی جسمانی طور پر بھی ہمارا پیچھا کرنا شروع کر دے گی‘‘۔ایک صارف نے قدرے تشویش ناک انداز میں صرف اتنا لکھا، ''یہ تو بلیک مرر ہے‘‘۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات

ڈاکٹروں کی ذمہ داریاں غیر طبی عملے کے سپردصحت کے شعبے میں معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے درست تشخیص اور بروقت طبی فیصلہ مریض کے علاج میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانیہ میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور فارماسسٹس سے ایسے طبی امور انجام دلوانے کا رجحان، جن میں ماہر ڈاکٹر کی رائے ضروری ہو، مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں دل کے دورے بروقت شناخت نہ ہو سکے، غلط تشخیص سامنے آئی اور کینسر کے مریضوں کو ماہرین کے پاس ریفر کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ یہ واقعات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ مریضوں کی سلامتی اور معیاری تشخیص کو بھی اوّلین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔برطانیہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ایسے فرائض انجام لیے جا رہے ہیں جو عموماً ڈاکٹر انجام دیتے ہیں، جس سے مریضوں کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں اس ''تشویش ناک‘‘ صورتحال پر خبردار کیا گیا ہے۔ ''برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن‘‘ (BMA) نے، جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے گئے 200 سے زائد خدشات جمع کیے ہیں۔ ڈاکٹروں نے طبی ڈگری نہ رکھنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ حدود کو ''نامناسب طور پر دھندلا‘‘ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان خدشات کا مرکز ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہیں۔ ان میں نرسیں، پیرامیڈکس، فارماسسٹس اور دیگر طبی ماہرین شامل ہیں، جو اضافی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ بعض ایسے فرائض انجام دے سکیں جو روایتی طور پر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں، مثلاً مریضوں کا معائنہ، بیماری کی تشخیص اور علاج۔تاہم بی ایم اے کے سروے میں شامل 80فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کے موجودہ طریقہ کار سے مریضوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے تقریباً نصف ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں میں موجود خلا کو پر کرنے کیلئے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باعث انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کی جگہ دیگر طبی عملے سے کام لینے کا یہ سلسلہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی ہدایات کے برخلاف جاری ہے۔رپورٹ میں مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جن میں بیماریوں کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے واقعات اور ایسے معاملات شامل ہیں جن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز سے علاج کروانے کے بعد بعض مریضوں کو نقصان پہنچا یا ان کی موت واقع ہوگئی۔ایک واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو بخار، سر درد اور گردن میں اکڑاؤ کی شکایت پر ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں لے کر گئے، انہیں خدشہ تھا کہ بچے کوگردن توڑ بخار کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک ایڈوانسڈ پریکٹیشنر نے بچے کو خون کے ٹیسٹ کیے بغیر اور مزید طبی معائنے کیلئے ریفر کیے بغیر ہسپتال سے فارغ کر دیا۔36گھنٹے کے اندر بچہ دوبارہ ہسپتال پہنچا جہاں اس میں گردن توڑ بخار کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر کے مطابق تشخیص میں تاخیر کے باعث بچے کو سنگین پیچیدگی لاحق ہوگئی اور اسے سرجری کی ضرورت پیش آئی۔ ایک اور واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ 60 سال سے زائد عمر کے ایک مریض، جو ماضی میں سگریٹ نوشی کرتے رہے تھے، کو چھ ہفتوں کے دوران مسلسل کھانسی، وزن کم ہونے اور بعد ازاں چہرے اور بازو پر سوجن کی شکایت کے باعث تین مرتبہ ایک ایڈوانسڈ نرس پریکٹیشنر نے دیکھا۔ ڈاکٹر کے مطابق مریض میں بیماری کی نشاندہی کرنے والی ''تمام اہم علامات‘‘ موجود تھیں، اس کے باوجود اسے سینے کا ایکسرے کروانے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔بعد ازاں ایمرجنسی میں اس مریض میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور چند ہی ہفتوں بعد اس کی موت ہوگئی۔رپورٹ میں دیگر واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کو ایسے عہدوں پر تعینات کیے جانے کا ذکر ہے جو عام طور پر سینئر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں۔ ان میں انتہائی نگہداشت، بچوں کے شعبے اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ڈیوٹیاں شامل ہیں۔ایک واقعے میں ایک رجسٹرار ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ ایک ایڈوانسڈ کریٹیکل کیئر پریکٹیشنر کو رجسٹرار کی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا جا رہا تھا، حالانکہ اسے سانس کی نالی سے متعلق طبی امور کا مطلوبہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اس دوران ایک مریض کی موت بھی واقع ہوئی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض اوقات مریضوں کو یہ واضح طور پر نہیں بتایا جاتا کہ ان کا علاج کرنے والا طبی ماہر ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی اور ہیلتھ کیئر پروفیشنل ہے۔ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کے شعبے میں ڈاکٹروں کی جگہ کام کرنے والے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہمیشہ مریضوں کو اپنے عہدے اور ذمہ داری سے واضح طور پر آگاہ نہیں کرتے تھے، جس کے باعث اکثر مریض انہیں ڈاکٹر سمجھ لیتے تھے۔ ایک اور واقعہ 40 سال کی ایک خاتون سے متعلق ہے، جس نے بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونے اور قے کی شکایت کے بعد ایک فارماسسٹ ایڈوانسڈ پریکٹیشنر سے معائنہ کروایا۔ رپورٹ پیش کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم متعلقہ پریکٹیشنر اس کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہا اور اس کے بجائے ممکنہ کینسر کی تشخیص کیلئے اسے فوری طبی سروس کی جانب ریفر کر دیا۔ان خدشات کے جواب میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ڈاکٹر طبی عملے کو ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے پر واضح پابندی عائد کی جائے۔بی ایم اے کونسل کے چیئرمین ٹام ڈولفن نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز اور دیگر غیر طبی عہدوں پر موجود عملے کے ذریعے ڈاکٹروں کی جگہ لینے کی ''جلد بازی، غیر شواہد پر مبنی اور غیر محفوظ‘‘ کوششوں کو ختم کرنا ہوگا۔

آج کا دن

آج کا دن

سویوز راکٹ حادثہ26ستمبر1983ء کو سوویت خلائی پروگرام کے دوران '' سویوز 7کے‘‘ خلائی جہاز کو عملے کے ہمراہ ''سلیوٹ 7‘‘ خلائی اسٹیشن روانہ کیا جانا تھا، تاہم لانچ پیڈ پر راکٹ میں اچانک دھماکا ہوگیا۔ راکٹ پھٹنے سے قبل لانچ ایسکیپ سسٹم خودکار طور پر فعال ہوگیا، جس کے باعث خلائی جہاز میں موجود عملہ محفوظ رہا۔ یہ واقعہ خلائی مشنز میں ہنگامی حفاظتی نظام کی اہمیت اور مؤثریت کی ایک نمایاں مثال ثابت ہوا۔آئن اسٹائن کا نظریہ اضافیت1905ء میں آج کے روز معروف جرمن نژاد طبیعیات دان البرٹ آئن اسٹائن نے اپنے مشہور '' Annus Mirabilis papers‘‘ میں سے تیسرا مقالہ شائع کیا، جس میں انہوں نے نظریہ اضافیت خصوصی پیش کیا۔ اس نظریے نے وقت، مکان، حرکت اور روشنی کے بارے میں سائنسی تصورات کو بنیادی طور پر بدل دیا۔ آئن اسٹائن کی یہ تحقیق جدید طبیعیات کی تشکیل میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی اور بعد ازاں کائنات، مادے اور توانائی کے باہمی تعلق کو سمجھنے کیلئے نئی راہیں کھولیں۔43طلبا کا اغوا26 ستمبر 2014ء کو میکسیکو میں مقامی کالج کے 43 طلبا کو اغوا کیا گیا۔ بڑے پیمانے پر اغوا کی وجہ سے بین الاقوامی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔ریاست گیر مظاہروں کے پیش نظر گوریرو کے گورنر اینجل ایگوئیر ریورو نے استعفیٰ دے دیا۔ طلباء نے 1968ء میں ہونے والے قتل عام کی برسی کی یاد میں میکسیکو سٹی جانے کیلئے ہر سال کی طرح بسوں کا انتظام کیا تھا۔جنہیں سڑک پر رکاوٹیں ڈال کرروکا گیا اوراسلحہ کے زور پر طلباء کو اغوا کر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔فضائی حادثہایئر کیریبین فلائٹ 309 پورٹو ریکن ایئر لائن ایئر کیریبین کی ایک پرائیویٹ غیر طے شدہ ایئر لائن پرواز تھی، جو 26 ستمبر 1978ء کو اس وقت گر کر تباہ ہو گئی جب وہ لوئس میوز مارین انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اترنے کی تیاری کر رہی تھی۔ طیارے میں سوار تمام افراد ہلاک ہوگئے جبکہ زمین پر موجود متعدد لوگ جہاز کے ملبے کی زد میں آنے سے شدیدزخمی ہوگئے۔جاپان :بحری جہاز حادثہ1954 ء میں آج کے روز جاپانی ریل فیری ''تویا مارو‘‘طوفان کی زد میں آکر آبنائے تسوگارومیں ڈوب گئی۔یہ ایک بحری ٹرین فیری تھی جسے جسے جاپانی نیشنل ریلوے نے تیار کیا تھا۔مقامی انتظامیہ کے مطابق اس حادثے میں 1153 افراد ہلاک ہوئے۔ تاہم، ہلاکتوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہوسکی کیونکہ کچھ لوگ جہاز سے کودنے میں کامیاب ہوگئے تھے اور متعدد لوگوں نے اپنے ٹکٹ منسوخ کردیے تھےامبریا اور مارچے کا زلزلہ26ستمبر1997ء کی صبح اٹلی کے امبریا اور مارچے کے علاقوں میں شدید زلزلہ آیا۔اس سے پہلے ایک جھٹکابھی محسوس کیا گیا جو زلزلے جتنا ہی شدید تھا۔جھٹکے کی شدت 5.7 جبکہ زلزلے کی شدت6.0ریکارڈ کی گئی۔ مئی 1997 ء سے اپریل 1998ء کے دوران سیکڑ وں جھٹکے اور آفٹر شاکس آئے جن کی شدت 3.5 سے زیادہ تھی۔یہ زلزلوں کا ایک ایسا سلسلہ تھا جو کافی عرصہ تک چلتا رہا۔

اشاروں کی زبان کا عالمی دن

اشاروں کی زبان کا عالمی دن

ہر سال 23 ستمبر کو دنیا بھر میں اشاروں کی زبان کا عالمی دن (World Sign Language Day)منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان لاکھوں افراد کی نمائندگی کرتا ہے جو سننے اور بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں،مگر اشاروں کی زبان سے ابلاغ کرتے ہیں۔ یہ دن نہ صرف اشاروں کی زبان کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ سماعت سے محروم افراد کے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔اشاروں کی زبان کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ہمارا مشاہدہ ہے کہ جب انسان کو بولنا نہیں آتا وہ ہاتھوں کے اشاروں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔ 1620ء میں ایک ہسپانوی پادری نے گونگے بہرے لوگوں کو اشاروں کی مدد سے تقریر سکھانے پر پہلی کتاب لکھی۔ 1817ء میں امریکہ میں سماعت سے محروم افراد کے لیے ایک سکول قائم کیا گیا جہاں امریکن سائن لینگویج ایجاد کی گئی۔1951ء میں روم، اٹلی میں ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف (WFD) کی بنیاد رکھی گئی جو اپنے شعبے میں دنیا کی سب سے قدیم بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اسی تنظیم کی کوششوں سے 1958ء میں انٹرنیشنل ڈے آف دی ڈیف کا آغاز ہوا۔ دسمبر 2017 ء کی جنرل اسمبلی کی قرارداد کے ذریعے، 2018ء میں اقوام متحدہ نے پہلی بار 23 ستمبر کو اشاروں کی زبان کا عالمی دن قرار دیا۔ یہ تاریخ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے قیام کی سالگرہ کے طور پر منتخب کی گئی۔ پہلا عالمی دن 2018ء میں منایا گیا۔اشاروں کی زبان کیا ہے؟اشاروں کی زبان صرف ہاتھوں کے اشاروں کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مکمل زبان ہے جو ہاتھوں، چہرے کے تاثرات اور جسمانی حرکات کے امتزاج سے بنتی ہے، اور اس کی اپنی گرامر اور ساخت ہے۔ دنیا بھر میں تقریباً 300 سے زائد مختلف اشاروں کی زبانیں استعمال ہوتی ہیں۔ ورلڈ فیڈریشن آف دی ڈیف کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً سات کروڑ سے زائد افراد بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ ان میں سے 80 فیصد ترقی پذیر ممالک میں رہتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 2 لاکھ 40 ہزار افراد قوت سماعت و گویائی سے محروم ہیں، جو ملک میں خصوصی افراد کی مجموعی آبادی کا ساڑھے سات فیصد ہیں۔اشاروں کی زبان کے عالمی دن کا بنیادی مقصد سماعت سے محروم افراد کے انسانی حقوق کے مکمل ادراک کے لیے اشاروں کی زبان کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن اشاروں کی زبان کو بولی جانے والی زبانوں کے برابر حیثیت دلانے اور گونگے بہرے افراد کی لسانی پہچان کو محفوظ بنانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ہر سال اس دن کا ایک خاص موضوع ہوتا ہے۔ 2026ء کا تھیم Declaring deaf people's human rightsہے۔پاکستان کے تناظر میںاشاروں کی زبان کا عالمی دن پاکستان میں بھی بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج (PSL) کے نام سے مشہور اشاروں کی زبان تقریباًڈھائی لاکھ قوت گویائی سے محروم پاکستانیوں کی بنیادی زبان ہے۔ حالیہ برسوں میںPSL کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ دسمبر 2025ء میں وزارت وفاقی تعلیم نے 948 PSL اشاروں کے معیار پر قومی اتفاق رائے حاصل کیا جبکہ اس سال مارچ میں 1800 PSL اشاروں کا قومی مجموعہ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔اس دن کی اہمیت کے باوجود قوتِ سماعت و گویائی سے محروم افراد کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ پاکستان سائن لینگویج کے لیے معیاری وسائل کی کمی، پیشہ ور مترجمین کی عدم دستیابی اور تعلیمی اداروں میں PSL کے نصاب کی عدم موجودگی جیسے مسائل موجود ہیں۔ ایک ماہر نے درست نشاندہی کی کہ اشاروں کی زبان کوئی احسان نہیں بلکہ ایک حق ہے جو خصوصی افرادکے لیے مساوی مواقع کا ایک لازمی پل ہے۔اشاروں کی زبان کا عالمی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی بھی اظہار کی ایک زبان ہے۔ یہ دن سماعت سے محروم افراد کے حقوق کے تحفظ، ان کی لسانی پہچان کے احترام اور معاشرے میں ان کی مکمل شمولیت کے عزم کی تجدید کا موقع ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف ایک رسمی تقریب تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی روزمرہ زندگی میں اشاروں کی زبان کی اہمیت کو سمجھیں اور اس حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سولر پینلز اب سمندر کی گہرائیوں میں

سورج کو توانائی کا سب سے بڑا قدرتی ذریعہ مانا جاتا ہے اور گزشتہ کئی دہائیوں میں شمسی توانائی نے دنیا کے توانائی کے منظرنامے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا ہے۔ گھروں کی چھتوں، صحراؤں، کھلے میدانوں اور حتیٰ کہ خلا میں بھی سولر پینلز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر یہی ٹیکنالوجی سمندر کی گہرائی میں بھی بجلی پیدا کرنے لگے تو یہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہوگی۔ چین کی یونیورسٹی آف یوننان سے وابستہ سائنسدانوں نے ایسا ہی ایک تجربہ کرکے دکھایا ہے۔ محققین نے ایسے خصوصی شمسی سیل تیار کیے جو سمندر کے پانی کے اندر بھی سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کرسکتے ہیں۔ ان سیلز کو ساؤتھ چائنا سی میں پانی کی سطح سے 10 میٹر نیچے آزمایا گیا اور وہاں بھی انہوں نے قابلِ استعمال مقدار میں بجلی پیدا کی۔یہ تحقیق 11 ستمبر 2026ء کو معروف سائنسی جریدے ''Joule‘‘ میں شائع ہوئی۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ تجربہ زیرِ آب شمسی توانائی کے عملی استعمال کی جانب ایک اہم قدم ہے کیونکہ اس سے پہلے زیرِ آب سولر سیلز کے زیادہ تر تجربات صرف دو میٹر یا اس سے کم گہرائی تک محدود رہے تھے۔سمندر کے اندر سولر پینل کیسے کام کرتے ہیں؟یہ سوال فطری ہے کہ جب سمندر کی گہرائی میں سورج کی روشنی بہت کم رہ جاتی ہے تو وہاں سولر سیل بجلی کیسے بنا سکتا ہے؟اس کا جواب روشنی کی خصوصیات اور نئے شمسی سیلز کے ڈیزائن میں پوشیدہ ہے۔ پانی سورج کی روشنی کو جذب اور منتشر کرتا ہے۔ جیسے جیسے روشنی پانی میں نیچے جاتی ہے اس کی شدت کم ہوتی جاتی ہے اور روشنی کے سپیکٹرم میں بھی تبدیلی آتی ہے۔ سرخ رنگ کی زیادہ ویو لینتھ والی روشنی نسبتاً جلد پانی میں جذب ہوجاتی ہے جبکہ نیلی اور سبز روشنی زیادہ گہرائی تک پہنچ سکتی ہے۔ محققین نے اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی سولر سیلز کے بجائے لیڈ ہیلائیڈ پیروسکائٹ پر مبنی شمسی سیلز تیار کیے۔ ان میں ایسے مواد اور تکنیک استعمال کی گئی جس سے وہ پانی کے اندر موجود محدود روشنی بالخصوص تقریباً 400 سے 600 نینو میٹر کی نیلی سبز روشنی، کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کرسکیں۔تحقیق میں تیار کیے گئے سیلز کا پاور کنورژن ایفیشنسی تقریباً 34.71 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا جب انہیں 10 میٹر گہرائی کے برابر مصنوعی روشنی کے حالات میں آزمایا گیا۔ یہ نتیجہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ عام سولر پینل کے لیے تیار کیا گیا ڈیزائن زیرِ آب روشنی کے بدلتے ہوئے سپیکٹرم کے مطابق نہیں ہوتا۔10 میٹر گہرائی میں کتنی بجلی پیدا ہوئی؟تجربے کا سب سے دلچسپ حصہ اس وقت سامنے آیا جب سائنسدانوں نے لیبارٹری سے نکل کر حقیقی سمندری ماحول میں ان سولر سیلز کو آزمایا۔محققین نے تقریباً 115 مربع سینٹی میٹر رقبے والے شمسی ماڈیولز کو جنوبی بحیرہ چین میںWeizhou Island کے قریب پانی کے اندر دو، چھ اور 10 میٹر کی گہرائی پر پہنچایا۔ اس کام کے لیے ریموٹ کنٹرول زیرِ آب روبوٹس بھی استعمال کیے گئے۔دو گھنٹے تک سورج کی روشنی میں تجربہ کرنے کے بعد دو میٹر گہرائی پر سولر سیل نے 1416 ملی واٹ آور توانائی پیدا کی، چھ میٹر پر یہ مقدار 752 ملی واٹ آور رہی جبکہ 10 میٹر گہرائی پر بھی 324 ملی واٹ آور بجلی پیدا ہوئی۔ یہ مقدار بظاہر بہت بڑی نہیں لگتی لیکن تجربے کا مقصد گھروں یا شہروں کو بجلی فراہم کرنا نہیں تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ 10 میٹر پانی کے نیچے بھی شمسی سیل نے اتنی توانائی پیدا کی کہ لیتھیم آئن بیٹریاں چارج کی جاسکیں اور ان بیٹریوں سے ایل ای ڈی روشن کی جاسکی۔یہ مظاہرہ اس امکان کو تقویت دیتا ہے کہ مستقبل میں سمندر کے اندر نصب ایسے آلات کو بار بار سطح پر لاکر بیٹری تبدیل کرنے کی ضرورت کم ہوسکتی ہے۔زیرِ آب دنیا میں نئی توانائی کا دروازہاس ٹیکنالوجی کا سب سے اہم ممکنہ فائدہ عام بجلی گھروں کے لیے نہیں بلکہ ایسے آلات کے لیے ہے جو سمندر میں طویل عرصے تک انسان کی براہِ راست نگرانی کے بغیر کام کرتے ہیں۔سمندر میں مختلف مقامات پر ماحولیاتی سینسرز، کیمرے، مواصلاتی آلات، سائنسی ڈیٹیکٹرز اور دیگر نگرانی کے نظام نصب کیے جاتے ہیں۔ ان آلات کو مسلسل بجلی فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ اکثر انہیں بیٹریوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے جنہیں وقتاً فوقتاً تبدیل کرنے کے لیے خصوصی کشتیوں یا زیرِ آب مشینوں کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔اگر زیرِ آب سولر سیلز قابلِ اعتماد اور طویل عرصے تک کام کرنے کے قابل ہوجائیں تو ایسے آلات کو خود اپنی بجلی پیدا کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں زیرِ آب سینسرز، کیمروں، مواصلاتی نظام اور خودکار زیرِ آب آلات کے لیے توانائی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔یہ پیش رفت ہمیں توانائی کے بارے میں ایک اہم سبق بھی دیتی ہے کہ مستقبل کی قابلِ تجدید توانائی صرف زمین پر نصب سولر پینلز اور ہوا سے چلنے والی ٹربائنز تک محدود نہیں ہوسکتی، ممکن ہے آنے والے برسوں میں سمندر کی گہرائی بھی شمسی توانائی کے ایک نئے میدان کے طور پر سامنے آئے۔

آج کا دن

آج کا دن

جان پال جونز کا معرکہ23 ستمبر 1779ء کو امریکی جنگِ آزادی کے دوران برطانوی ساحل کے قریب ایک مشہور بحری معرکہ ہوا۔ امریکی بحری جہاز کی کمان جان پال جونز کر رہے تھے جس کا مقابلہ برطانوی جنگی جہازوں سے ہوا۔ برطانوی جہاز نسبتاً مضبوط اور بہتر حالت میں تھے جبکہ امریکی جہاز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے باوجود جان پال جونز نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا اور کئی گھنٹوں تک لڑائی جاری رکھی۔ بالآخر دونوں برطانوی جہازوں نے ہتھیار ڈال دیے۔ یہ کامیابی جان پال جونز کو امریکی بحری تاریخ کی نمایاں شخصیات میں شامل کرنے کا سبب بنی۔ لیوس اور کلارک مہم 23 ستمبر 1806ء کو امریکی مہم جُو میری ویدر لیوس اور ولیم کلارک اپنی تاریخی مہم مکمل کرکے سینٹ لوئس واپس پہنچے۔ یہ مہم تقریباً ڈھائی سال جاری رہی تھی۔ امریکی صدر تھامس جیفرسن نے ریاست لوزیانا کی خریداری کے بعد نئے حاصل ہونے والے وسیع علاقوں کی تلاش، نقشہ سازی اور جغرافیائی معلومات جمع کرنے کے لیے یہ مہم شروع کروائی تھی۔ لیوس اور کلارک نے دریائے مسوری کے راستے مغرب کی طرف سفر کیا، راکی پہاڑ عبور کیے اور بحرالکاہل تک پہنچے، پھر واپس سینٹ لوئس آئے۔ مہم کے دوران انہوں نے جغرافیہ، نباتات، جانوروں اور مقامی قبائل کے بارے میں وسیع معلومات جمع کیں۔یہ مہم موجودہ مغربی امریکہ کے علاقے کو عبور کرنے والی پہلی امریکی مہم تھی۔نیپچون کی دریافت23 ستمبر 1846ء کو فلکیات کی تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا جب جرمن ماہرِ فلکیات جوہان گوٹ فریڈ گالے نے برلن آبزرویٹری میں نیپچون کو پہلی مرتبہ شناخت کیا۔ اس دریافت کی خاص بات یہ تھی کہ نیپچون کو محض اتفاق سے نہیں بلکہ ریاضیاتی حسابات کی مدد سے تلاش کیا گیا تھا۔ ماہرینِ فلکیات نے یورینس کے مدار میں ایسی بے قاعدگیاں دیکھی تھیں جن سے اندازہ ہوا کہ کوئی دور موجود سیارہ اس پر کششِ ثقل کے ذریعے اثر انداز ہو رہا ہے۔ فرانسیسی ماہرِ فلکیات اربین لے وئیر اور برطانوی ماہرجان کاؤچ ایڈمز نے آزادانہ طور پر اس ممکنہ سیارے کے مقام کا حساب لگایا۔لے وئیر کے حسابات کی بنیاد پر گالے نے 23 ستمبر کی رات نیپچون کو تلاش کیا اور اس کے پس منظر کے ستاروں کے مقابلے میں حرکت دیکھ کر اس کی سیاروی حیثیت کی تصدیق کی۔یہ نظامِ شمسی کے آٹھویں سیارے کی دریافت تھی۔ مملکتِ سعودی عرب کا قیام23 ستمبر 1932ء کو ملک عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود کی قیادت میں حجاز اور نجد سمیت مختلف علاقوں کو ایک ریاست کے تحت متحد کیا گیا اور نئی ریاست کا نام مملکت سعودی عرب رکھا گیا۔ اس واقعے نے جزیرہ نما عرب کے سیاسی نقشے کو نمایاں طور پر تبدیل کیا اور ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد میں خطے کی سیاست، معیشت اور عالمی توانائی کے نظام میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ تاریخی ریکارڈ کے مطابق 1932ء میں مملکت کے نام اور اتحاد کا باقاعدہ اعلان کیا گیااسی نسبت سے ہر سال 23 ستمبر کو سعودی قومی دن منایا جاتا ہے۔پاک بھارت جنگ بندی 1965ء کی پاک بھارت جنگ کے دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جنگ بندی کے لیے کوششیں کیں اور 20 ستمبر کو سلامتی کونسل نے قرارداد 211 منظور کرتے ہوئے 22 ستمبر 1965ء کو صبح 7 بجے GMT سے جنگ بندی نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں حکومتوں نے جنگ بندی قبول کی اور 22 ستمبر کو جنگ بندی کا آغاز ہوا۔ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پاکستان اور بھارت کی قیادت کو اطلاع دی کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین علاقے میں بھیجے جا رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی سرحد کے علاقوں میں جنگ بندی کی نگرانی کی جا سکے۔ اس طرح 23 ستمبر 1965ء جنگ بندی کے بعد اقوام متحدہ کی نگرانی کے باقاعدہ مرحلے کے آغاز سے بھی منسلک ہے۔

ورلڈ کا ر فری ڈے

ورلڈ کا ر فری ڈے

دنیا بھر میں 22 ستمبر کو کار فری ڈے (World Car-Free Day) منایا جاتا ہے۔ اس دن کا بنیادی مقصد لوگوں کو ایک دن کے لیے ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی لانے اور پیدل چلنے، سائیکل چلانے یا پبلک ٹرانسپورٹ جیسے وسائل استعمال کرنے کی ترغیب دینا ہے۔ یہ دن محض گاڑی نہ چلانے کا نام نہیں بلکہ اس بات پر غور کرنے کا موقع ہے کہ ہمارے شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد ماحول، صحت، معیشت اور شہری زندگی پر کس طرح اثر انداز ہو رہی ہے۔ورلڈ کار فری ڈے کی اہمیتآج دنیا کے بڑے شہروں میں آبادی کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں کا بڑھتا ہوا رش ٹریفک جام، فضائی آلودگی، شور اور ایندھن کے زیادہ استعمال کا باعث بنتا ہے۔ گاڑیوں سے خارج ہونے والا دھواں اور گیسیں فضا کے معیار کو متاثر کرتی ہیں اور ماحولیاتی تبدیلی کے مسئلے میں بھی اضافہ کرتی ہیں۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ شہری زندگی صرف ذاتی گاڑیوں پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ اگر لوگ مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلیں، سائیکل استعمال کریں یا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دیں تو نہ صرف سڑکوں پر ٹریفک کم ہو سکتی ہے بلکہ ماحول کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔اس دن کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ افراد کے ساتھ ساتھ حکومتوں اور شہری اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ اگر شہریوں کو محفوظ فٹ پاتھ، سائیکل لین، بہتر بس سروس اور قابلِ اعتماد پبلک ٹرانسپورٹ دستیاب ہو تو لوگوں کے لیے ذاتی گاڑی کے بجائے متبادل ذرائع اختیار کرنا آسان ہو جاتا ہے۔فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تحفظفضائی آلودگی آج دنیا کے بڑے ماحولیاتی مسائل میں شامل ہے۔ شہروں میں گاڑیوں کا دھواں فضائی آلودگی کی ایک اہم وجہ ہے۔ خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں ٹریفک بہت زیادہ ہو، وہاں گاڑیوں سے خارج ہونے والے آلودہ ذرات صحت اور ماحول کو متاثر کر تے ہیں۔ہمارے ملک کے بڑے شہروں خصوصاً لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں ٹریفک کا دباؤ ایک اہم شہری مسئلہ ہے۔ لاہور جیسے بڑے شہر میں لاکھوں افراد روزانہ سفر کرتے ہیں اور بڑی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر موجود ہوتی ہیں۔ اگر شہری مختصر فاصلے کے لیے پیدل چلنے، سائیکل یا پبلک ٹرانسپورٹ کا استعمال بڑھائیں تو گاڑیوں کی تعداد اور ایندھن کے استعمال میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ورلڈکار فری ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف ہوا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کا بھی کردار ہے۔ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں اجتماعی طور پر بڑا فرق پیدا کر سکتی ہیں۔صحت مند زندگی کاروں کے کم استعمال کا تعلق صرف ماحول سے نہیں بلکہ انسانی صحت سے بھی ہے۔ روزمرہ زندگی میں پیدل چلنا جسمانی سرگرمی کا ایک آسان ذریعہ ہے۔ باقاعدگی سے چہل قدمی کرنے سے جسمانی سرگرمی میں اضافہ ہوتا ہے اور فعال طرزِ زندگی کو فروغ ملتا ہے۔آج کے دور میں بہت سے لوگ گھر، دفتر، بازار اور دیگر مقامات تک پہنچنے کے لیے کار استعمال کرتے ہیں حتیٰ کہ بعض اوقات بہت کم فاصلے کے لیے بھی، مگران میں سے کچھ سفر پیدل یا سائیکل کے ذریعے کیے جا سکتے ہیں۔ٹریفک کے مسائل اور شہری زندگیبڑھتی ہوئی آبادی اور گاڑیوں کی تعداد نے دنیا کے کئی شہروں میں ٹریفک کے مسائل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ٹریفک جام میں قیمتی وقت ضائع ہوتا ہے، ایندھن زیادہ استعمال ہوتا ہے اور شہریوں کو ذہنی دباؤ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔اگر زیادہ لوگ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں تو ایک ہی گاڑی میں زیادہ افراد سفر کر سکتے ہیں، جس سے سڑکوں پر گاڑیوں کا دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام محفوظ، باقاعدہ، آرام دہ اور قابلِ اعتماد ہو۔کار فری ڈے اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ شہر صرف گاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ انسانوں کے لیے بنائے جانے چاہئیں۔ ایسے شہر جہاں پیدل چلنے والوں، سائیکل سواروں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کرنے والوں کے لیے مناسب سہولیات موجود ہوں، شہری زندگی کو زیادہ آسان اور پائیدار بنا سکتے ہیں۔پاکستان میں کار فری ڈے کی ضرورتپاکستان میں اس دن کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے کیونکہ ہمارے بڑے شہروں کو ٹریفک، فضائی آلودگی اور پارکنگ جیسے مسائل کا سامنا ہے۔ کار فری ڈے کے موقع پر آگاہی پروگرام منعقد کرنے چاہئیں اوراس دن کچھ سڑکوں یا مخصوص علاقوں میں محدود مدت کے لیے گاڑیوں کا داخلہ محدود کرکے پیدل چلنے اور سائیکلنگ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔ طلبہ کو ماحول کے تحفظ کے بارے میں آگاہ کرنا چاہییاور شہریوں کو پبلک ٹرانسپورٹ کے استعمال کی ترغیب دینی چاہیے۔کار فری ڈے ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ صاف، صحت مند اور پائیدار شہر صرف جدید سڑکوں اور زیادہ گاڑیوں سے نہیں بنتے بلکہ بہتر منصوبہ بندی اور متوازن شہری نظام سے بنتے ہیں۔ حکومت بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، محفوظ فٹ پاتھ اور سائیکلنگ کے لیے مناسب راستے فراہم کرے اور شہری اپنی عادات میں تبدیلی لائیں تو شہروں کے ماحول میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔