برطانیہ:طبی غفلت سے مریضوں کو خطرات
اسپیشل فیچر
ڈاکٹروں کی ذمہ داریاں غیر طبی عملے کے سپرد
صحت کے شعبے میں معمولی سی غفلت بھی بعض اوقات انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، اسی لیے درست تشخیص اور بروقت طبی فیصلہ مریض کے علاج میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ برطانیہ میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور فارماسسٹس سے ایسے طبی امور انجام دلوانے کا رجحان، جن میں ماہر ڈاکٹر کی رائے ضروری ہو، مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے سوالات اٹھا رہا ہے۔ ایک رپورٹ میں ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں دل کے دورے بروقت شناخت نہ ہو سکے، غلط تشخیص سامنے آئی اور کینسر کے مریضوں کو ماہرین کے پاس ریفر کرنے میں کوتاہی ہوئی۔ یہ واقعات اس امر کی اہمیت اجاگر کرتے ہیں کہ طبی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ مریضوں کی سلامتی اور معیاری تشخیص کو بھی اوّلین ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔
برطانیہ کے ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی جگہ نرسوں اور دیگر طبی عملے سے ایسے فرائض انجام لیے جا رہے ہیں جو عموماً ڈاکٹر انجام دیتے ہیں، جس سے مریضوں کو سنگین نقصان پہنچنے کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ ایک رپورٹ میں اس ''تشویش ناک‘‘ صورتحال پر خبردار کیا گیا ہے۔ ''برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن‘‘ (BMA) نے، جو ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم ہے، ڈاکٹروں کی جانب سے اٹھائے گئے 200 سے زائد خدشات جمع کیے ہیں۔ ڈاکٹروں نے طبی ڈگری نہ رکھنے والے عملے اور ڈاکٹروں کے درمیان پیشہ ورانہ حدود کو ''نامناسب طور پر دھندلا‘‘ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان خدشات کا مرکز ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہیں۔ ان میں نرسیں، پیرامیڈکس، فارماسسٹس اور دیگر طبی ماہرین شامل ہیں، جو اضافی تربیت حاصل کرتے ہیں تاکہ وہ بعض ایسے فرائض انجام دے سکیں جو روایتی طور پر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں، مثلاً مریضوں کا معائنہ، بیماری کی تشخیص اور علاج۔تاہم بی ایم اے کے سروے میں شامل 80فیصد سے زیادہ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کے موجودہ طریقہ کار سے مریضوں کی حفاظت کو خطرہ لاحق ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے تقریباً نصف ہسپتالوں میں ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں میں موجود خلا کو پر کرنے کیلئے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ ہسپتالوں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عملے کی کمی کے باعث انہیں یہ طریقہ اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹروں کی نمائندہ تنظیم کا کہنا ہے کہ بڑے پیمانے پر ڈاکٹروں کی جگہ دیگر طبی عملے سے کام لینے کا یہ سلسلہ نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کی ہدایات کے برخلاف جاری ہے۔
رپورٹ میں مریضوں کی سلامتی سے متعلق سنگین واقعات کی تفصیلات بھی شامل ہیں، جن میں بیماریوں کی بروقت تشخیص نہ ہونے کے واقعات اور ایسے معاملات شامل ہیں جن میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز سے علاج کروانے کے بعد بعض مریضوں کو نقصان پہنچا یا ان کی موت واقع ہوگئی۔ایک واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ وہ اپنے بچے کو بخار، سر درد اور گردن میں اکڑاؤ کی شکایت پر ہسپتال کے ایمرجنسی شعبے میں لے کر گئے، انہیں خدشہ تھا کہ بچے کوگردن توڑ بخار کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ایڈوانسڈ پریکٹیشنر نے بچے کو خون کے ٹیسٹ کیے بغیر اور مزید طبی معائنے کیلئے ریفر کیے بغیر ہسپتال سے فارغ کر دیا۔36گھنٹے کے اندر بچہ دوبارہ ہسپتال پہنچا جہاں اس میں گردن توڑ بخار کی تشخیص ہوئی۔ ڈاکٹر کے مطابق تشخیص میں تاخیر کے باعث بچے کو سنگین پیچیدگی لاحق ہوگئی اور اسے سرجری کی ضرورت پیش آئی۔
ایک اور واقعے میں ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ 60 سال سے زائد عمر کے ایک مریض، جو ماضی میں سگریٹ نوشی کرتے رہے تھے، کو چھ ہفتوں کے دوران مسلسل کھانسی، وزن کم ہونے اور بعد ازاں چہرے اور بازو پر سوجن کی شکایت کے باعث تین مرتبہ ایک ایڈوانسڈ نرس پریکٹیشنر نے دیکھا۔ ڈاکٹر کے مطابق مریض میں بیماری کی نشاندہی کرنے والی ''تمام اہم علامات‘‘ موجود تھیں، اس کے باوجود اسے سینے کا ایکسرے کروانے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔بعد ازاں ایمرجنسی میں اس مریض میں پھیپھڑوں کے کینسر کی تشخیص ہوئی اور چند ہی ہفتوں بعد اس کی موت ہوگئی۔رپورٹ میں دیگر واقعات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز کو ایسے عہدوں پر تعینات کیے جانے کا ذکر ہے جو عام طور پر سینئر ڈاکٹروں کے ذمے ہوتے ہیں۔ ان میں انتہائی نگہداشت، بچوں کے شعبے اور ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ کی ڈیوٹیاں شامل ہیں۔
ایک واقعے میں ایک رجسٹرار ڈاکٹر نے الزام عائد کیا کہ ایک ایڈوانسڈ کریٹیکل کیئر پریکٹیشنر کو رجسٹرار کی ڈیوٹیوں پر تعینات کیا جا رہا تھا، حالانکہ اسے سانس کی نالی سے متعلق طبی امور کا مطلوبہ تجربہ حاصل نہیں تھا۔ ڈاکٹر کے مطابق اس دوران ایک مریض کی موت بھی واقع ہوئی۔ رپورٹ میں اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ بعض اوقات مریضوں کو یہ واضح طور پر نہیں بتایا جاتا کہ ان کا علاج کرنے والا طبی ماہر ڈاکٹر نہیں بلکہ کوئی اور ہیلتھ کیئر پروفیشنل ہے۔
ایک ڈاکٹر نے بتایا کہ بچوں کے شعبے میں ڈاکٹروں کی جگہ کام کرنے والے ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز ہمیشہ مریضوں کو اپنے عہدے اور ذمہ داری سے واضح طور پر آگاہ نہیں کرتے تھے، جس کے باعث اکثر مریض انہیں ڈاکٹر سمجھ لیتے تھے۔
ایک اور واقعہ 40 سال کی ایک خاتون سے متعلق ہے، جس نے بغیر کسی واضح وجہ کے وزن کم ہونے اور قے کی شکایت کے بعد ایک فارماسسٹ ایڈوانسڈ پریکٹیشنر سے معائنہ کروایا۔ رپورٹ پیش کرنے والے ڈاکٹر کے مطابق خاتون کی حالت انتہائی خراب تھی، تاہم متعلقہ پریکٹیشنر اس کی سنگینی کو سمجھنے میں ناکام رہا اور اس کے بجائے ممکنہ کینسر کی تشخیص کیلئے اسے فوری طبی سروس کی جانب ریفر کر دیا۔
ان خدشات کے جواب میں برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ڈاکٹر طبی عملے کو ڈاکٹروں کی ڈیوٹیوں پر تعینات کرنے پر واضح پابندی عائد کی جائے۔بی ایم اے کونسل کے چیئرمین ٹام ڈولفن نے کہا کہ ایڈوانسڈ پریکٹیشنرز اور دیگر غیر طبی عہدوں پر موجود عملے کے ذریعے ڈاکٹروں کی جگہ لینے کی ''جلد بازی، غیر شواہد پر مبنی اور غیر محفوظ‘‘ کوششوں کو ختم کرنا ہوگا۔