کائنات کے راز کھولنے والی ’’سوئفٹ آبزرویٹری‘‘
اسپیشل فیچر
خلا میں دو دہائیوں تک کائناتی دھماکوں کا مشاہدہ کرنے والی دوربین ناکارہ
انسان نے کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کیلئے خلا میں جدید ترین دوربینیں بھیجیں، جنہوں نے زمین سے اربوں نوری سال دور موجود ستاروں، کہکشاؤں اور کائناتی دھماکوں کا مشاہدہ کر کے سائنسی تحقیق کے نئے دروازے کھولے۔ تاہم خلا میں بھیجی جانے والی یہ مشینیں بھی ہمیشہ کام نہیں کرتیں اور ایک وقت ایسا آتا ہے جب ان کا سفر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں امریکی خلائی ادارے ناسا کی تقریباً 3200 پاؤنڈ وزنی خلائی دوربین ''سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ (Swift Observatory) تقریباً 22 سال تک خلا میں خدمات انجام دینے کے بعد بے قابو ہو کر زمین کی فضا میں داخل ہوئی اور آگ کے شعلوں میں لپٹ کر تباہ ہو گئی۔ یہ دوربین کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں کا مشاہدہ کرنے کیلئے بھیجی گئی تھی۔ اس کا زمین پر واپسی کا سفر جہاں خلائی تحقیق کے ایک اہم باب کا اختتام ہے، وہیں یہ سوال بھی پیدا کرتا ہے کہ آخر ایک جدید خلائی دوربین کو خلا سے واپس لانے کی کوشش کیوں ناکام ہوئی اور اس کے ملبے سے زمین کو کس قدر خطرہ لاحق تھا؟
ناسا کی ناکام ہو جانے والی خلائی دوربین بدھ کے روز(4نومبر کو) تقریباً 22 سال بعد بے قابو ہو کر دوبارہ زمین کی فضا میں داخل ہو گئی۔ یہ دوربین 2004ء میں خلا میں بھیجی گئی تھی۔ ''سوئفٹ آبزرویٹری‘‘ کو کائنات کے طاقتور ترین دھماکوں، جنہیں ''گاما رے برسٹ‘‘ (Gamma Ray Burst) کہا جاتا ہے، اور دیگر کائناتی اجسام و واقعات کا مطالعہ کرنے کیلئے روانہ کیا گیا تھا۔اس خلائی دوربین کو ابتدائی طور پر صرف دو سالہ مشن کیلئے تیار کیا گیا تھا، تاہم اس نے 21 سال تک سائنسی خدمات انجام دیں۔ اس دوران بڑھتی ہوئی شمسی سرگرمی کے باعث زمین کے نچلے مدار میں اس کا چکر بتدریج کمزور ہونے لگا اور بالآخر اس کا مدار تیزی سے زوال پذیر ہو گیا۔
امریکی خلائی فورس نے تصدیق کی کہ سوئفٹ خلائی جہاز پاکستانی وقت کے مطابق شام 4 بج کر 39 منٹ پر زمین کی فضا میں داخل ہوا۔ اس کا مقام انڈونیشیا کے علاقے شمالی سماٹرا کے اوپر تھا۔ ناسا کو توقع تھی کہ خلائی دوربین کے بیشتر حصے زمین کی فضا میں داخل ہوتے ہی شدید حرارت کے باعث جل کر راکھ ہو جائیں گے، تاہم اس کے بعض پرزے فضا میں داخلے کے دوران تباہی سے بچ کر زمین تک پہنچ سکتے تھے۔
امریکی ریاست پنسلوانیا کی یونیورسٹی کے ماہر فلکیات جان نوسیک(John Nousek)، جو اس خلائی مشن سے وابستہ رہے، نے بتایا کہ انہیں سوئفٹ دوربین کی واپسی اور تباہی کے اس دن کا اندازہ اس کی خلا میں روانگی سے بھی پہلے ہو چکا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کم از کم زمین کے نچلے مدار میں بھیجے جانے والے خلائی اجسام کیلئے یہ حقیقت ہے کہ جو چیز اوپر جاتی ہے، اسے ایک دن نیچے بھی آنا ہوتا ہے اور اس کا اختتام تباہ کن ہوتا ہے۔
خلائی ادارے ناسا کی جانب سے جاری کردہ بیان میں وضاحت کی گئی کہ دوربین کے جو ٹکڑے زمین کی فضا میں داخلے کے دوران جلنے سے بچ جائیں گے، وہ خط استوا کے گرد پھیلے ایک وسیع علاقے میں گر سکتے ہیں۔ اس ممکنہ علاقے میں لاطینی امریکا، افریقا، جنوبی ایشیا اور شمالی آسٹریلیا کے بعض حصے شامل ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ امریکا اور یورپ اس ممکنہ خطرے کے دائرے سے باہر ہیں۔ خلائی دوربین کی زمین پر واپسی کا یہ واقعہ ناسا کی جانب سے اگست میں اسے بچانے کی ناکام کوشش کے بعد پیش آیا۔
خلائی ادارے نے اس مقصد کیلئے 3 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے تاکہ ایک اور خلائی جہاز بھیجا جا سکے، جو دوربین کو دھکا دے کر بلند مدار میں پہنچاتا اور اسے بے قابو ہو کر زمین پر گرنے سے بچا لیتا۔ اس ریسکیو مشن کیلئے ''لنک‘‘ (Link) نامی خلائی جہاز تیار کیا گیا تھا، تاہم جولائی کے اوائل میں خلا میں روانگی کے چند ہفتے بعد ہی اس کا توازن بگڑ گیا اور وہ بے قابو ہو کر گھومنے لگا۔ اگرچہ زمینی کنٹرول پر موجود ماہرین نے اس کی گردش کی رفتار کم کرنے میں کامیابی حاصل کر لی، لیکن خلا میں اس کی سمت اور پوزیشن کو درست رکھنے کے مسائل مسلسل برقرار رہے۔
ناسا کے منتظم جیرڈ آئزک مین نے ایک بیان میں کہا کہ اگرچہ یہ وہ نتیجہ نہیں جس کیلئے ہم کوشش کر رہے تھے، تاہم اس سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوتی کہ اس مشن کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنا کیوں ضروری تھا۔
ریسکیو کی کوشش ترک کیے جانے کے بعد سوئفٹ دوربین نے دوبارہ کائناتی مشاہدات شروع کر دیے اور اس دوران مزید کئی گاما رے برسٹس (کائنات کے انتہائی طاقتور دھماکوں) اور دیگر انتہائی بلند توانائی کے حامل واقعات دریافت کیے۔ تاہم اکتوبر کے آخری دنوں تک دوربین کا مدار اتنا نیچے آ چکا تھا کہ وہ مستحکم رہ کر مشاہدات کرنے کے قابل نہ رہی۔ بالآخر اس کے تمام نظام بند کر دیے گئے۔
سوئفٹ خلائی دوربین کی کامیابیوں میں 2 ہزار سے زائد گاما رے برسٹس (کائنات کے طاقتور دھماکوں) اور 1 ہزار 400 پھٹنے والے ستاروں کا مشاہدہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ اس نے متعدد دمدار ستاروں، سیارچوں اور ایسے بلیک ہولز کا بھی مطالعہ کیا جو ستاروں کو اپنی شدید کشش ثقل کے باعث ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔
اس دوربین کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ وہ کائنات میں اچانک رونما ہونے والے دھماکوں اور دیگر غیر معمولی واقعات کی سمت انتہائی تیزی سے اپنا رخ تبدیل کر سکتی تھی۔ یہی صلاحیت اسے دیگر خلائی دوربینوں سے ممتاز بناتی تھی۔
ناسا سوئفٹ کو ہبل (Hubble) اور جیمز ویب(James Webb) جیسی خلائی دوربینوں کیلئے ایک ابتدائی اطلاع دینے والے نظام کی حیثیت دیتا تھا۔ سوئفٹ جب کسی غیر معمولی کائناتی واقعے کا سراغ لگاتی تو ان دوربینوں کو اس بارے میں آگاہ کیا جاتا، جس کے بعد وہ اس واقعے کا مزید تفصیلی مشاہدہ اور تحقیق کرتی تھیں۔
سائنسدان اب بھی اس خلائی دوربین کی جگہ پیدا ہونے والے خلا کو پُر کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ اس مشن سے وابستہ ماہر فلکیات جان نوسیک نے کہا کہ ہماری بھرپور امید ہے کہ سوئفٹ کی کامیابیوں سے حاصل ہونے والے تجربات اور اسباق کو خلائی مشنز کی نئی نسل میں بروئے کار لایا جائے گا، تاکہ کائنات کے بارے میں ہماری دریافتوں کے عمل کو مزید تیز کیا جا سکے۔