ڈیجیٹل انقلاب سے محروم 2 ارب انسان
اسپیشل فیچر
آج کی دنیا میں انٹرنیٹ محض معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور رابطوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانا اور علم کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل کرنا اب معمول کی بات ہے، لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب کے اس دور میں بھی دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی انٹرنیٹ سے ناواقف ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ارب افراد ایسے ہیں جنہوں نے آج تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا۔ یہ صورتحال جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی پر سوال اٹھاتی ہے، وہیں ڈیجیٹل تقسیم، معاشی ناہمواری اور بنیادی سہولتوں سے محرومی جیسے اہم مسائل کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو کروڑوں انسانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھے ہوئے ہیں؟
ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی حیرت انگیز حد تک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔''انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین‘‘ (ITU) کی سالانہ رپورٹ ''فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ‘‘ کے مطابق 2026ء میں دنیا بھر میں 6 ارب 30 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جو عالمی آبادی کا 76 فیصد بنتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی 24 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 2 ارب افراد، اب بھی انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہیں۔
آئی ٹی یو کی سیکریٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن (Doreen Bogdan Martin)کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انٹرنیٹ سے دور رہنے کا مطلب تعلیم سے لے کر روزگار تک بے شمار مواقع سے محروم رہنا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت کو وسعت دی جائے اور دنیا کے ہر خطے میں ہر شخص کیلئے اس کی بامعنی رسائی یقینی بنائی جائے۔
اس رپورٹ کی تیاری کیلئے محققین کی ٹیم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں کون سے افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور کون اس سہولت سے محروم ہیں۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے معاملے میں مختلف طبقات کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں 79 فیصد مرد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 74 فیصد ہے۔اسی طرح نوجوان نسل انٹرنیٹ سے سب سے زیادہ منسلک ہے۔ عالمی سطح پر 15 سے 24 سال کی عمر کے 86 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ باقی عمر کے افراد میں یہ شرح 74 فیصد ہے۔
رہائشی علاقوں کے حوالے سے بھی محققین نے شہری اور دیہی آبادی کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی ہے۔ دنیا بھر میں شہری علاقوں کے 82 فیصد باشندوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح صرف 63فیصد ہے۔تحقیق کے ایک حصے میں ماہرین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح میں کس قدر فرق پایا جاتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ عالمی سطح پر 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 84فیصد افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔
تاہم، کم آمدنی والے ممالک میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح محض 57 فیصد ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح95فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔اگرچہ انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم دو ارب افراد کی تعداد بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد انٹرنیٹ سے محروم تھے۔
آئی ٹی یو کے ٹیلی کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ بیورو کے ڈائریکٹر کوسمس لکیسن زوازاوا (Cosmas Luckyson Zavazava) کا کہنا ہے کہ فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ہمیں اب تک حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت اور مستقبل میں درپیش کاموں سے آگاہ کرتی ہے۔ ہمارا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی کو ایسے بامعنی رابطوں میں تبدیل کرنا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ڈیجیٹل مہارتوں اور بامعنی انٹرنیٹ رابطوں کے بغیر ٹیکنالوجی کے فوائد بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر رہنے کا خدشہ ہے، جس سے پہلے سے موجود ڈیجیٹل تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔