ڈیجیٹل انقلاب سے محروم 2 ارب انسان

ڈیجیٹل انقلاب سے محروم 2 ارب انسان

اسپیشل فیچر

تحریر : محمد ارشد لئیق


آج کی دنیا میں انٹرنیٹ محض معلومات کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ تعلیم، صحت، کاروبار اور رابطوں کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ چند لمحوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پیغام پہنچانا اور علم کے وسیع ذخیرے تک رسائی حاصل کرنا اب معمول کی بات ہے، لیکن حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل انقلاب کے اس دور میں بھی دنیا کی تقریباً ایک چوتھائی آبادی انٹرنیٹ سے ناواقف ہے۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق تقریباً دو ارب افراد ایسے ہیں جنہوں نے آج تک انٹرنیٹ استعمال نہیں کیا۔ یہ صورتحال جہاں ٹیکنالوجی کی ترقی پر سوال اٹھاتی ہے، وہیں ڈیجیٹل تقسیم، معاشی ناہمواری اور بنیادی سہولتوں سے محرومی جیسے اہم مسائل کی جانب بھی توجہ دلاتی ہے۔ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو کروڑوں انسانوں کو ڈیجیٹل دنیا سے دور رکھے ہوئے ہیں؟
ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا کی حیرت انگیز حد تک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔''انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین‘‘ (ITU) کی سالانہ رپورٹ ''فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ‘‘ کے مطابق 2026ء میں دنیا بھر میں 6 ارب 30 کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جو عالمی آبادی کا 76 فیصد بنتے ہیں۔اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی 24 فیصد آبادی، یعنی تقریباً 2 ارب افراد، اب بھی انٹرنیٹ سے منسلک نہیں ہیں۔
آئی ٹی یو کی سیکریٹری جنرل ڈورین بوگڈان مارٹن (Doreen Bogdan Martin)کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انٹرنیٹ سے دور رہنے کا مطلب تعلیم سے لے کر روزگار تک بے شمار مواقع سے محروم رہنا ہے۔ اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ انٹرنیٹ کی سہولت کو وسعت دی جائے اور دنیا کے ہر خطے میں ہر شخص کیلئے اس کی بامعنی رسائی یقینی بنائی جائے۔
اس رپورٹ کی تیاری کیلئے محققین کی ٹیم نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی کہ دنیا بھر میں کون سے افراد انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں اور کون اس سہولت سے محروم ہیں۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ تک رسائی کے معاملے میں مختلف طبقات کے درمیان واضح فرق پایا جاتا ہے۔دنیا بھر میں 79 فیصد مرد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ خواتین میں یہ شرح صرف 74 فیصد ہے۔اسی طرح نوجوان نسل انٹرنیٹ سے سب سے زیادہ منسلک ہے۔ عالمی سطح پر 15 سے 24 سال کی عمر کے 86 فیصد افراد انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں، جبکہ باقی عمر کے افراد میں یہ شرح 74 فیصد ہے۔
رہائشی علاقوں کے حوالے سے بھی محققین نے شہری اور دیہی آبادی کے درمیان نمایاں فرق کی نشاندہی کی ہے۔ دنیا بھر میں شہری علاقوں کے 82 فیصد باشندوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ شرح صرف 63فیصد ہے۔تحقیق کے ایک حصے میں ماہرین نے یہ بھی جائزہ لیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح میں کس قدر فرق پایا جاتا ہے۔تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوا کہ عالمی سطح پر 10 سال اور اس سے زائد عمر کے 84فیصد افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔
تاہم، کم آمدنی والے ممالک میں موبائل فون رکھنے والے افراد کی شرح محض 57 فیصد ہے، جبکہ زیادہ آمدنی والے ممالک میں یہ شرح95فیصد تک پہنچ جاتی ہے۔اگرچہ انٹرنیٹ تک رسائی سے محروم دو ارب افراد کی تعداد بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے، لیکن گزشتہ سال کے اعداد و شمار کے مقابلے میں اس میں کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں 2 ارب 20 کروڑ افراد انٹرنیٹ سے محروم تھے۔
آئی ٹی یو کے ٹیلی کمیونیکیشن ڈویلپمنٹ بیورو کے ڈائریکٹر کوسمس لکیسن زوازاوا (Cosmas Luckyson Zavazava) کا کہنا ہے کہ فیکٹس اینڈ فگرز 2026ء ہمیں اب تک حاصل ہونے والی نمایاں پیش رفت اور مستقبل میں درپیش کاموں سے آگاہ کرتی ہے۔ ہمارا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تک رسائی کو ایسے بامعنی رابطوں میں تبدیل کرنا ہے جو لوگوں کی زندگیوں میں بہتری لا سکیں۔انہوں نے مزید کہاکہ اس مقصد کے حصول کے لیے ہمیں ڈیجیٹل مہارتوں کی فراہمی کو بھی ترجیح دینی چاہیے۔ڈیجیٹل مہارتوں اور بامعنی انٹرنیٹ رابطوں کے بغیر ٹیکنالوجی کے فوائد بہت سے لوگوں کی پہنچ سے باہر رہنے کا خدشہ ہے، جس سے پہلے سے موجود ڈیجیٹل تقسیم مزید گہری ہو سکتی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
غذائوں میں چھپی شکر صحت کیلئے خاموش خطرہ

غذائوں میں چھپی شکر صحت کیلئے خاموش خطرہ

ہم میں سے اکثر افراد صحت مند رہنے کیلئے اپنی غذا میں احتیاط برتتے ہیں، میٹھے مشروبات سے گریز کرتے ہیں اور چینی کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کی بعض بظاہر صحت بخش غذائیں بھی ہمارے جسم میں شکر کی مقدار بڑھا سکتی ہیں؟ سینڈوچ میں موجود اچار، کافی میں شامل اوٹ ملک اور سلاد میں استعمال ہونے والا چقندر ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جن میں قدرتی یا اضافی شکر موجود ہوتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق بعض اوقات یہ پوشیدہ شکر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہے اور ہم انجانے میں اپنی روزمرہ خوراک کے ذریعے ضرورت سے زیادہ شکر استعمال کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پوشیدہ شکر ہماری صحت کو کس طرح متاثر کرتی ہے اور روزمرہ غذا میں اس کی شناخت کیسے ممکن ہے؟شکر صرف بسکٹ یا چاکلیٹ کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں بلکہ یہ مختلف غذاؤں اور اجزا میں پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نمکین کھانوں میں بھی اکثر ''پوشیدہ شکر‘‘ موجود ہوتی ہے جہاں زیادہ تر لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرتے۔ماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن(Aaliyah Nelson) کے مطابق پوشیدہ شکر سے مراد عموماً ایسی غذاؤں میں موجود شکر ہے جن کے میٹھا ہونے کی توقع نہیں ہوتی، مثلاً سلاد کی ڈریسنگ، گوشت کو میرینیٹ کرنے کیلئے استعمال ہونے والے مصالحے اور نمکین کھانوں کے ساتھ استعمال ہونے والی چٹنیاں۔ یہ شکر ہماری مجموعی خوراک میں شامل ہوتی رہتی ہے، چاہے ہمیں اس کے استعمال کا احساس بھی نہ ہو۔میٹھی چٹنیاں اور مشروبات استعمال کرتے رہنا، خصوصاً ان سے حاصل ہونے والی کیلوریز کو شمار کیے بغیر، جسم میں کیلوریز کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور وزن کم کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔تاہم عالیہ نیلسن کے مطابق، شکر کے زیادہ استعمال کے اثرات صرف وزن بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے صحت پر کئی دوسرے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ شکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال دانتوں کی خرابی کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، خصوصاً جب دن بھر بار بار شکر والی غذائیں اور مشروبات استعمال کیے جائیں۔نیلسن نے خبردار کیا کہ وزن بڑھنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔تاہم، وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ مخصوص غذائیں، مشروبات یا چٹنیاں کتنی بار استعمال کی جاتی ہیں اور کیا ان کی جگہ کوئی ایسا آسان متبادل اختیار کیا جا سکتا ہے جو ذائقے میں بھی پسند آئے۔سینڈوچ میں موجود اچارماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن کے مطابق اچار اس غذا کی ایک اچھی مثال ہے جسے لوگ شکر کے بجائے اس کے تیز اور کھٹے ذائقے سے جوڑتے ہیں۔ اچار کے ایک جار میں ہر 100 گرام میں تقریباً 31 گرام شکر ہوتی ہے، یعنی اس کے وزن کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ اس میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اجزا کی فہرست میں سبزیوں کے بعد اس کا دوسرا نمبر آتا ہے۔وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اچار کی جگہ کھیرا، مولی یا بغیر اضافی شکر والا اچار استعمال کیا جائے، تاکہ کھانے میں کھٹاس برقرار رہے۔اگر اچار کو مکمل طور پر ترک کرنا مشکل ہو تو ان کے مطابق، اس کی مقدار کم کرکے دیگر سبزیوں کے ساتھ استعمال کرنا بہتر ہے۔ کافی میں اوٹ ملکاگر آپ کافی میں ونیلا کے ذائقے والا میٹھا اوٹ ملک استعمال کرتے ہیں تو چینی کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی اس مشروب میں اضافی شکر شامل ہو چکی ہوتی ہے۔ ونیلا فلیور میں مجموعی شکر کی مقدار 10.2 گرام ہے۔تاہم، خوش قسمتی سے ہر قسم کے اوٹ ملک میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔عالیہ نیلسن مشورہ دیتی ہیں کہ یہ فرض کرنے کے بجائے کہ تمام نباتاتی مشروبات یکساں ہوتے ہیں، اپنے استعمال میں آنے والی مخصوص مصنوعات اور اس کی مقدار کا موازنہ کریں۔وہ بغیر ذائقے والا اور اضافی شکر سے پاک اوٹ ملک منتخب کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ سلاد پر ڈالی جانے والی چٹنیعالیہ نیلسن وضاحت کرتی ہیں کہ سلاد پر بالسامک گلیز کی چند بوندیں ایک معمولی سی اضافی چیز محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن گاڑھی اور میٹھی گلیز، سرکے کے چند چھینٹوں سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض گلیز میں انگور کا گاڑھا رس اور اضافی شکر شامل ہوتی ہے۔چِلی بالسامک گلیز کے ایک کھانے کے چمچ، یعنی 15 ملی لیٹر میں مجموعی شکر کی مقدار 6.8 گرام ہے۔تاہم، صحت مند رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ گلیز کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ اس کے استعمال میں تبدیلی یا کمی لانا زیادہ بہتر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ سلاد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، بس اس پر ڈالے جانے والے اضافی ذائقے کو تبدیل یا کم کر دیں۔اس کا ایک صحت بخش متبادل لیموں کا رس یا وائن ونیگر کو جڑی بوٹیوں اور زیتون کے تیل کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ سلاد میں موجود چقندرچقندر اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن ذائقہ دار یا زیادہ اضافی شکر والے چقندر سے گریز کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بظاہر صحت بخش غذا محسوس ہوتی ہے، لیکن چقندر کے چار ٹکڑوں میں 15.8 گرام مجموعی شکر موجود ہوتی ہے۔تاہم، اس سبزی کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے نیلسن اسے تیار کرنے کا طریقہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ وہ سادہ ابلے ہوئے چقندر کو سرکے، مرچ اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کرنے کی سفارش کرتی ہیں۔ فرائز کے ساتھ کیچپٹماٹر کی چٹنی کے بغیر فرائز کا لطف ادھورا محسوس ہوتا ہے، لیکن صحت مند زندگی گزارنے کیلئے اسے مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں۔نیلسن ہینز کی روایتی ٹماٹر کیچپ کے بجائے ایسی قسم استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہیں جس میں شکر اور نمک کی مقدار 50 فیصد کم ہو۔ روایتی کیچپ کے 15 گرام میں 3.4 گرام شکر ہوتی ہے۔ چاکلیٹ ملک شیکنیلسن کے مطابق،ملک شیک پروٹین اور کیلشیم فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں شامل اضافی شکر کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔اگر آپ اب بھی میٹھی چیز پینے کی خواہش رکھتے ہیں تو سادہ دودھ یا بغیر شکر والے کوکو پاؤڈر کے ساتھ ملا ہوا دودھ ایک صحت بخش متبادل ہے۔ میٹھی اور کھٹی چٹنیسبزیوں سے بھرپور ڈش کو رات کے کھانے کیلئے ایک آسان اور صحت بخش انتخاب سمجھا جا سکتا ہے، لیکن چکن پر میٹھی چٹنی ڈالنے سے یہ غذا نسبتاً کم صحت بخش ہو سکتی ہے۔بینز اوریجنل کی سویٹ اینڈ سَور چٹنی کے 112 گرام حصے میں مجموعی شکر کی مقدار 14 گرام ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ اس میں سے کچھ شکر چٹنی میں موجود ٹماٹروں اور انناس کی قدرتی شکر بھی ہوتی ہے۔ نیلسن اس کے متبادل کے طور پر سبزیوں کو ادرک، لہسن، چاول کے سرکے اور کم نمک والی سویا ساس کے ساتھ اسٹر فرائی کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ مزید مٹھاس شامل کرنے کے لیے وہ سبزیوں کے ساتھ انناس کے ٹکڑے فرائی کرنے کی بھی سفارش کرتی ہیں۔ ناشتے میں شامل اورنج جوسسادہ اورنج جوس میں اضافی شکر شامل نہیں ہوتی، لیکن اس میں قدرتی طور پر موجود شکر کی مقدار کو بھی محدود رکھنا چاہیے۔عالیہ نیلسن کے مطابق اورنج جوس وٹامن سی فراہم کرتا ہے اور متوازن غذا کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن گلاس میں زیادہ مقدار ڈالنے سے اس کی مقدار تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ پھلوں کے رس اور اسموتھیز کی مجموعی مقدار 150 ملی لیٹر تک محدود رکھی جائے۔

آج کا دن

آج کا دن

جو بائیڈن صدر بنے2020ء میں آج کے روز امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کو امریکہ کا 46واں صدر منتخب ہونے کی باضابطہ تصدیق کی گئی۔ انہوں نے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دے کرانتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ جو بائیڈن نے جنوری 2021ء میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا۔روس : شاہی نظام کاخاتمہ7 نومبر1917ء میں روس میں شاہی نظام ختم ہوا اور لینن کی قیادت میں پیٹروگراڈ کا نفاذ ہوا۔ اس واقعے کو '' اکتوبر انقلاب‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔اس انقلاب کے نتیجے میں پہلی مرتبہ محنت کشوں اور مظلوموں کی حکومت قائم ہوئی۔لینن اپنی وفات 1924ء تک اس نوزائیدہ انقلابی اشتراکی ریاست کے سربراہ رہے۔ روبوٹک خلائی مشنکی لانچنگ امریکی روبوٹک خلائی مشن ''مارس گلوبل سروئیر‘‘ 7 نومبر 1996ء کو لانچ کیا گیا۔ اسے ''مریخ کی تلاش‘‘ کے مشن کا ایک حصہ قرار دیا جاتا ہے۔اس نے دیگر مداروں کے ماحول کا بھی جائزہ لیا۔ اس نے اپنا بنیادی مشن جنوری 2001ء میں مکمل کیا،2006 ء میں اس نے پیغامات کا جواب دینا بند کردیا۔غزہ پر برطانوی قبضہ1917ء میں آج کے روزپہلی جنگ عظیم کے دوران غزہ کی تیسری جنگ اختتام پذیر ہوئی۔ اس معرکے میں برطانوی افواج نے سلطنت عثمانیہ کو شکست دے کر غزہ شہر پر قبضہ کر لیا۔ یہ کامیابی مشرقِ وسطیٰ میں برطانوی فوجی پیش قدمی کیلئے اہم ثابت ہوئی اور فلسطین میں عثمانی اقتدار کے خاتمے کی جانب ایک اہم مرحلہ قرار پائی۔فضائی حادثہنائیجیریا کی ڈومیسٹک پرواز ''086‘‘ 7نومبر 1996ء کو ایک جھیل میں گر کر تباہ ہو گئی۔ جہاز میں سوار 144 مسافر اور عملہ کے تمام افراد ہلاک ہو گئے۔یہ نائیجیریا کی تاریخ کا چوتھا بدترین طیارہ حادثہ تھا۔تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ حادثے کی وجہ ائیر ٹریفک کنٹرول کی کوتاہی تھی جوپائلٹ کی رہنمائی نہ کر پائی۔جھیلوں کا طوفان7نومبر1913ء کو جھیلوں کا ایک بہت بڑا طوفان آیا جسے تاریخی طور پر '' بگ بلیو‘‘، ''میٹھے پانی کا غصہ‘‘ اور '' سفید سمندری طوفان‘‘ کے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔یہ ایک برفانی طوفان تھا جس نے کئی جھیلوں میں تباہی مچائی۔ یہ طوفان وسط مغربی امریکہ اور جنوب مغربی اونٹاریو، کینیڈا میں 7 سے 10 نومبر تک جاری رہا۔ طوفان میں سب سے زیادہ شدت9نومبر کو دیکھی گئی جس نے چار جہازوں کو تباہ کر دیا۔امریکی سینٹ میں بم دھماکہ 7 نومبر 1983ء کوامریکہ کی سینٹ میں ایک بم دھماکہ ہوا ۔ اس حملے کے نتیجے میں ڈی سی میٹروپولیٹن ایریا میں سکیورٹی سخت کر دی گئی اور سینٹ کی عمارت کے کچھ حصوں تک رسائی کو ناممکن بنا دیا گیا۔ بنیاد پرست انتہائی بائیں بازو کی مزاحمتی سازش کے چھ ارکان کو مئی 1988ء میں گرفتار کیا گیا۔ ان پر بم دھماکے کے ساتھ ساتھ فورٹ میک نیئر اور واشنگٹن نیوی یارڈ کے بم دھماکوں کا الزام بھی لگایا گیا۔

مصنوعی ذہانت کی پیش رفت

مصنوعی ذہانت کی پیش رفت

کمپیوٹر سائنس کے 27 سالہ نظریے کو چیلنجمصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے سائنسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف سائنسی جریدے'' سائنس ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک (Anthropic) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز نے کمپیوٹر سائنس کے ایک اہم اور تقریباً 27 سال پرانے نظریے کو غلط ثابت کرنے کی سمت میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت تھیوریٹیکل کمپیوٹر سائنس میں کئی دہائیوں سے جاری تحقیق کے بعض بنیادی مفروضوں پر نظرثانی کا باعث بن سکتی ہے۔یہ محض مصنوعی ذہانت کی جانب سے کسی سوال کا جواب دینے یا کمپیوٹر پروگرام لکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے علمی مسئلے سے متعلق ہے جس پر محققین طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔27 سالہ مفروضہ اور اس کی اہمیت؟اس ڈیویلپمنٹ کا محور ایک معروف سائنسی مفروضہ ہے جسے ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس ( Exponential Time Hypothesisیا ETH) کہا جاتا ہے۔ اس مفروضے کا تعلق ان مسائل سے ہے جنہیں حل کرنے کے لیے کمپیوٹر کو مسئلے کے حجم میں اضافے کے ساتھ بہت زیادہ اضافی وقت درکار ہو سکتا ہے۔عام طور پر جب کمپیوٹر کو کسی چھوٹے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو تو وہ اسے نسبتاً آسانی سے حل کر سکتا ہے لیکن جب مسئلے میں متغیرامکانات یا ممکنہ حل کی تعداد بڑھتی ہے تو بعض مسائل کی پیچیدگی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ ایسے مسائل کے لیے کمپیوٹر کو زیادہ وقت، زیادہ طاقت اور زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ETH اسی نوعیت کے مسائل کی پیچیدگی کے بارے میں ایک بنیادی مفروضہ ہے۔اگر یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز الگورتھم تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس صورت میں محققین کو ان نتائج کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے جو اس مفروضے کو درست تسلیم کرتے ہوئے اخذ کیے گئے تھے۔اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے دعوےاوپن اے آئی اور اینتھروپک مصنوعی ذہانت کے جدید نظام تیار کرنے والی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ ان کی جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ جدید AI سسٹمز پیچیدہ علمی مسائل میں ایسے راستے تلاش کر سکتے ہیں جنہیں محققین نے طویل عرصے تک دریافت نہیں کیا۔رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک ایسا طریقہ پیش کیا ہے جو مخصوص قسم کے منطقی فارمولوں کے ممکنہ حل کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے حسابی طریقوں سے مختلف ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نتیجہ ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کو چیلنج کرتا ہے۔ اینتھروپک کی جانب سے بھی اس مفروضے کے خلاف ایک الگ نتیجے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔کیا مصنوعی ذہانت انسانی تحقیق کی جگہ لے سکتی ہے؟اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں سائنسی تحقیق کے روایتی طریقوں کو تبدیل کر دے گی؟ اس کا فوری جواب یہ ہے کہ AI تحقیق کے طریقوں کو ضرور تبدیل کر سکتی ہے لیکن انسانی محققین کی ضرورت ختم ہو جانے کا نتیجہ ابھی اخذ نہیں کیا جا سکتا۔مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ کرنے، مختلف امکانات کو جانچنے، نئے ریاضیاتی راستے تلاش کرنے اور پیچیدہ دلائل مرتب کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایسے کام جن میں انسانی محققین کو کئی ماہ یا برس لگ سکتے ہیں ان کے بعض مراحل AI کی مدد سے تیز کیے جا سکتے ہیں۔اس کے باوجود ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی نئے نتیجے کی نشاندہی کرنا اور اس نتیجے کو ثابت کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتی ہے جو بظاہر درست معلوم ہو لیکن اس میں پوشیدہ غلطی، نامکمل مفروضہ یا مسئلے کی غلط تشریح موجود ہو سکتی ہے۔مستقبل کے امکانات اگر ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کے خلاف پیش کیے گئے نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کمپیوٹر سائنس سے آگے بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ الگورتھم کی کارکردگی، پیچیدہ مسائل کے حل، منطقی نظاموں اور کمپیوٹیشنل تحقیق کے کئی شعبوں میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اس پیش رفت سے ہر مشکل کمپیوٹیشنل مسئلہ آسان ہو جائے گا۔ کمپیوٹر سائنس میں مختلف مسائل کی پیچیدگی الگ الگ ہوتی ہے اور ایک مفروضے کو چیلنج کرنے سے دوسرے تمام مسائل کے بارے میں خودبخود کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔اس معاملے کا ایک اور پہلو سائنسی تحقیق کی اشاعت اور تصدیق کا طریقہ ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت تیزی سے بڑی تعداد میں نئے نتائج اور تحقیقی مسودے تیار کرنے لگے تو ماہرین کے لیے ان کا جائزہ لینا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس لیے تحقیق کی شفافیت، ثبوتوں کی دستیابی، آزادانہ جانچ اور علمی ذمہ داری پہلے سے زیادہ اہم ہو جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ وہ کتنے حیران کن دعوے پیش کرتی ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ان میں سے کتنے دعوے سخت سائنسی جانچ کے بعد درست ثابت ہوتے ہیں۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے حالیہ دعوے اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سائنسی دریافتوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس پیش رفت کو تاریخ ساز قرار دینے سے پہلے اس کے ثبوتوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

گندھارا تہذیب

گندھارا تہذیب

پاکستان کا تاریخی ورثہ،تاریخ کا درخشاں بابملک عزیز کی سرزمین ہزاروں سال کی تاریخ، تہذیبوں کے عروج و زوال اور ثقافتوں کی امین ہے۔ یہاں ایسی قدیم تہذیبوں نے جنم لیا جن کے اثرات آج بھی عالمی تاریخ، فنونِ لطیفہ اور علمی روایت میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ انہی تہذیبوں میں گندھارا کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے جس نے برصغیر کی تاریخ میں نہ صرف مذہبی اور ثقافتی حوالے سے اہم کردار ادا کیا بلکہ مشرق و مغرب کے درمیان تہذیبی روابط کو بھی نئی جہت عطا کی۔یہی وجہ ہے کہ گندھارا کے آثار دنیا بھر کے محققین، ماہرینِ آثارِ قدیمہ، تاریخ دانوں اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔گندھارا تہذیب،تاریخ کا درخشاں باب گندھارا قدیم زمانے میں ایک اہم تاریخی اور ثقافتی خطہ تھا جس کا مرکز موجودہ خیبر پختونخوا کے علاقے خصوصاً پشاور کی وادی اور اس کے گردونواح میں واقع تھا۔ اس کے تہذیبی روابط شمالی پاکستان اور مشرقی افغانستان کے مختلف علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ ٹیکسلا، پشاور، تخت بھائی اور سوات اس تاریخی خطے کے اہم مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔ گندھارا کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ مختلف ادوار میں ایرانی، یونانی، وسط ایشیائی اور برصغیر کی تہذیبی روایات کا سنگم رہا۔اس خطے نے مختلف سیاسی ادوار دیکھے جن میں ہخامنشی ایرانی سلطنت، سکندرِ اعظم کی مہمات، موریہ سلطنت اور بعد ازاں ہند یونانی اور کُشان حکمرانوں کے ادوار نمایاں ہیں۔ بالخصوص کُشان دور میں گندھارا کے فنون اور مذہبی سرگرمیوں نے غیر معمولی ترقی کی۔ ان سیاسی تبدیلیوں کے باوجود یہ خطہ تجارتی، ثقافتی اور مذہبی روابط کے باعث اپنی اہمیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔بدھ مت، فنِ تعمیر اور مجسمہ سازیگندھارا تہذیب کی سب سے نمایاں شناخت بدھ مت کے آثار اور فنِ مجسمہ سازی ہے۔ اس خطے میں بدھ مت نے مختلف ادوار میں فروغ پایا اور یہاں متعدد خانقاہیں، سٹوپے، عبادت گاہیں اور تعلیمی مراکز قائم ہوئے۔ ان مقامات پر مذہبی تعلیم، عبادت اور علمی سرگرمیوں کے ساتھ فنونِ لطیفہ کو بھی ترقی ملی۔گندھارا آرٹ کی خصوصیت اس کا منفرد فنی امتزاج ہے۔ یہاں بدھ مت کی مذہبی علامتوں اور روایات کو یونانی اور رومی فن کے بعض اسالیب کے ساتھ اس انداز میں یکجا کیا گیا کہ ایک نئی فنی روایت نے جنم لیا۔ بدھ کے مجسموں میں چہرے کے خدوخال، لباس کی تہیں، بالوں کی ساخت اور جسمانی تناسب اس فنی مہارت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گندھارا کے فن کا اثر برصغیر سے آگے وسطی ایشیا اور مشرقی ایشیا تک پہنچا۔ بدھ مت کے پھیلاؤ کے ساتھ اس کے فنون اور علامتی انداز بھی مختلف علاقوں میں منتقل ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ گندھارا کو بدھ مت کے عالمی ثقافتی ورثے میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ ٹیکسلا، تخت بھائی اور سوات گندھارا تہذیب کے آثار کئی اہم مقامات پر موجود ہیں جن میں ٹیکسلا، تخت بھائی اور سوات کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ ٹیکسلا قدیم دور میں تجارت، تعلیم اور ثقافتی روابط کا ایک اہم مرکز تھا۔ یہاں کے آثار مختلف تاریخی ادوار کی کہانی بیان کرتے ہیں اور اس خطے کے وسیع بین الاقوامی تعلقات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ٹیکسلا کے آثار کو 1980ء میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔اسی طرح تخت بھائی کی بدھ خانقاہیں گندھارا فنِ تعمیر کا اہم نمونہ ہیں۔ پہاڑی مقام پر قائم یہ آثار خانقاہی زندگی، مذہبی سرگرمیوں اور قدیم تعمیراتی مہارت کو واضح کرتی ہیں۔ تخت بھائی کو بھی 1980ء میں عالمی ثقافتی ورثے کا درجہ دیا گیا۔سوات کی وادی بھی گندھارا تہذیب کے اہم مراکز میں شمار ہوتی ہے جہاں بدھ مت کے سٹوپے، خانقاہیں اور دیگر آثار دریافت ہوئے ہیں۔ ان مقامات سے ملنے والے مجسمے، سکے، کتبے اور تعمیراتی باقیات اس خطے کی مذہبی، معاشی اور سماجی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔یہ تاریخی مقامات محض پتھر کی عمارتیں یا ماضی کے کھنڈرات نہیں بلکہ انسانی تخلیق، علمی سرگرمیوں اور ثقافتی روابط کی ایسی دستاویزات ہیں جنہیں محفوظ رکھنا ہماری قومی اور عالمی ذمہ داری ہے۔تاریخی ورثے کا تحفظگندھارا تہذیب ایک قیمتی تاریخی اثاثہ ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی سفارتکاری، تحقیق اور سیاحت کے وسیع امکانات بھی رکھتی ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں اور گندھارا آرٹ سے دلچسپی رکھنے والے محققین کے لیے پاکستان کے یہ مقامات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر ان آثار کا مؤثر تحفظ کیا جائے، جدید تحقیقی سہولتیں فراہم کی جائیں اور بین الاقوامی سطح پر ان کی بہتر تشہیر کی جائے تو پاکستان علمی اور ثقافتی سیاحت کے میدان میں نمایاں مقام حاصل کر سکتا ہے۔تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے صرف تاریخی مقامات کی تزئین و آرائش کافی نہیں۔ آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے لیے سائنسی طریقوں کا استعمال، ماہرین کی تربیت، مقامی آبادی کی شمولیت، مناسب حفاظتی انتظامات اور تحقیقی اداروں کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ گندھارا تہذیب کو محض ایک قدیم تاریخی ورثہ سمجھنے کے بجائے اپنی تہذیبی میراث اور عالمی ثقافتی ورثے کے اہم حصے کے طور پر پیش کرنا چاہیے ۔ اس ورثے کی حفاظت، تحقیق اور مؤثر تشہیر نہ صرف ماضی سے ہمارے تعلق کو مضبوط کرے گی بلکہ پاکستان کے روشن ثقافتی مستقبل کی تشکیل میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔

آج کا دن

آج کا دن

توتن خامن مقبرے کا سراغ 4 نومبر 1922ء کو برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر اور ان کی ٹیم نے مصر کی وادی ملوک میں فرعون توتن خامن کے مقبرے کی سیڑھیوں کا سراغ لگایا۔ توتن خامن قدیم مصر کے اٹھارہویں شاہی خاندان کا فرعون تھا جس نے تقریباً 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔ہاورڈ کارٹر کئی برس سے اس کے مقبرے کی تلاش میں مصروف تھا۔ 4 نومبر کو کارٹر کی ٹیم کو زمین میں دبی ہوئی سیڑھیوں کا پہلا واضح نشان ملا۔ بعد ازاں سیڑھیاں صاف کی گئیں اور مقبرے کے بند دروازے تک رسائی حاصل ہوئی۔ 26 نومبر 1922ء کو کارٹر نے مقبرے کے اندر جھانک کر وہ تاریخی منظر دیکھا جس نے قدیم مصری تہذیب کے بارے میں تحقیق کو نئی جہت دی۔ امریکی سفارت خانے پر قبضہ 4 نومبر 1979ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور سفارتی عملے اور دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا۔اس کارروائی میں تقریباً 300 سے 500 طلبہ شریک تھے۔ ابتدا میں 66 امریکیوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، بعد میں کچھ افراد کو رہا کر کے 52 امریکی یرغمالیوں کو 444 دن تک قید میں رکھا گیا۔امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے سفارتی مذاکرات کیے، اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور اپریل 1980ء میں ایک ناکام فوجی کارروائی بھی کی۔ یہ بحران 20 جنوری 1981ء کو ختم ہوا جب باقی ماندہ 52 یرغمالیوں کو ایران نے رہا کر دیا۔اس واقعے نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں گہری بداعتمادی پیدا کی۔ ہنگری انقلاب 4 نومبر 1956ء کو سوویت یونین کی فوج نے ہنگری میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس کا مقصد وہاں جاری عوامی انقلاب کو کچلنا تھا۔ یہ واقعہ سرد جنگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے واضح کر دیا کہ سوویت قیادت مشرقی یورپ میں اپنے سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ہنگری میں انقلاب کا آغاز 23 اکتوبر 1956ء کو طلبہ کے احتجاج سے ہوا تھا۔ مظاہرین سیاسی آزادی، سوویت فوجوں کے انخلا، آزادانہ انتخابات اور حکومت میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سوویت نے ان اقدامات کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے خطرہ سمجھا؛ چنانچہ 4 نومبر کو سوویت ٹینکوں اور فوجی دستوں نے بداپسٹ سمیت ہنگری کے مختلف علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔ اسحاق رابین کا قتل4 نومبر 1995ء کو اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابین کو تل ابیب میں ایک امن ریلی کے اختتام پر قتل کر دیا گیا۔اسحاق رابین اسرائیل 1992ء میں دوسری مرتبہ اسرائیل کا وزیراعظم منتخب ہوا تھا۔ اس کی حکومت کے دوران اسرائیل اور پی ایل اوکے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں 1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط کیے گئے۔4 نومبر کو رابین تل ابیب میں امن کے حق میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں شرکت کے بعد جب اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا تو ایک اسرائیلی انتہا پسند نے اس پر فائرنگ کر دی۔ رابین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ رابین کو امن مذاکرات میں اس کے کردار اور سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ باراک اوباما صدر منتخب4 نومبر 2008ء کو صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی امریکی سیاسی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل تھی۔2008ء کے صدارتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین سے تھا۔ اس وقت امریکہ کو مالیاتی بحران، عراق اور افغانستان کی جنگوں اور معاشی مشکلات جیسے اہم مسائل کا سامنا تھا۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، صحت کی سہولتوں میں بہتری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پر زور دیا۔انتخابات کے نتائج کے مطابق اوباما نے 365 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ جان مکین کو 173 ووٹ ملے۔ مقبول ووٹوں میں بھی اوباما کو برتری حاصل رہی۔

 موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ

دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کے اثرات محض ماحول، قدرتی وسائل اور معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت اور زندگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت اب عالمی سطح پر صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔'سائنس الرٹ ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 146 ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ماہرین کی یہ تشویش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانی اموات، بیماریوں اور معاشی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک اب محض موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔شدید گرمی، تشویشناک اضافہرپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید گرمی انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑے موسمیاتی خطرات میں شامل ہو چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2023 ء میں تقریباً سات لاکھ دس ہزار اموات گرمی سے منسلک تھیں۔ ان میں سے 71.5 فیصد اموات کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات اب براہ راست انسانی جانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔شدید گرمی انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے جسم میں پانی کی کمی، بلڈ پریشر میں تبدیلی، دل اور گردوں پر دباؤ اور ہیٹ سٹروک جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان، تعمیراتی شعبے سے وابستہ کارکن اور ٹریفک کے نظام میں کام کرنے والے افراد بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافے نے معمول کی زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گرمی کے باعث کام کے اوقات تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ شدید گرمی اب صرف موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے مستقل منصوبہ بندی درکار ہے۔معیشت اور روزگار پر دباؤموسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی صحت کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں شدید گرمی کے باعث عالمی سطح پر محنت اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے تقریباً ایک1.07 ٹریلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بڑا حصہ ان شعبوں سے متعلق ہے جہاں کارکنوں کو کھلے ماحول میں جسمانی مشقت کرنا پڑتی ہے۔زراعت، تعمیرات اور دیگر محنت طلب شعبے شدید گرمی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مزدور طویل وقت تک کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، کام کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور برداشت کے مراحل زیادہ مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی ایک طرف صحت کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف روزگار، پیداوار اور آمدنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ زراعت، تعمیرات اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں۔ ان کے پاس نہ تو شدید گرمی سے بچاؤ کے مناسب وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متبادل ذرائع؛ چنانچہ موسمیاتی تبدیلی کا معاشی بوجھ بھی سب سے زیادہ کمزور طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگیموسمیاتی تبدیلی کا خطرہ صرف شدید گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ فضائی آلودگی بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ہے۔ فضا میں آلودہ ذرات اور نقصان دہ گیسوں کی موجودگی سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، صنعتی اخراج، کوڑا جلانے اور دیگر عوامل سے پیدا ہونے والی آلودگی انسانی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ خطرے کی گھنٹیموسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو نسبتاً کم کاربن اخراج کے باوجود اس کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب مون سون بارشیں، سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پانی کی قلت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ زراعت، معیشت اور صحت کے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران دیہی علاقوں میں کسان اور مزدور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ شہروں میں تعمیراتی کارکنوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے پاس گرمی سے محفوظ رہنے کے مناسب انتظامات نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔