موسمیاتی تبدیلی:عالمی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ
اسپیشل فیچر
دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے ایسے دور سے گزر رہی ہے جہاں اس کے اثرات محض ماحول، قدرتی وسائل اور معیشت تک محدود نہیں رہے بلکہ انسانی صحت اور زندگی کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، شدید گرمی کی لہریں، خشک سالی، سیلاب، فضائی آلودگی اور پانی کی قلت اب عالمی سطح پر صحت عامہ کے بحران کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو صرف ماحولیاتی مسئلہ سمجھنا درست نہیں بلکہ اسے عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال کے طور پر تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔'سائنس الرٹ ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 146 ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ اور عالمی ادارہ صحت موسمیاتی تبدیلی کو عالمی صحت کی ہنگامی صورتحال قرار دینے کے لیے عملی اقدامات کریں۔ ماہرین کی یہ تشویش اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں انسانی اموات، بیماریوں اور معاشی نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے نزدیک اب محض موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے آگاہ کرنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر مربوط حکمت عملی اور ہنگامی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
شدید گرمی، تشویشناک اضافہ
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں شدید گرمی انسانی زندگی کے لیے سب سے بڑے موسمیاتی خطرات میں شامل ہو چکی ہے۔ اندازوں کے مطابق 2023 ء میں تقریباً سات لاکھ دس ہزار اموات گرمی سے منسلک تھیں۔ ان میں سے 71.5 فیصد اموات کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے جوڑا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے اثرات اب براہ راست انسانی جانوں کو متاثر کر رہے ہیں۔شدید گرمی انسانی جسم کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے سے جسم میں پانی کی کمی، بلڈ پریشر میں تبدیلی، دل اور گردوں پر دباؤ اور ہیٹ سٹروک جیسے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور پہلے سے مختلف بیماریوں میں مبتلا افراد اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ کھلے مقامات پر کام کرنے والے مزدور، کسان، تعمیراتی شعبے سے وابستہ کارکن اور ٹریفک کے نظام میں کام کرنے والے افراد بھی شدید خطرات سے دوچار ہیں۔موسمیاتی تبدیلی کے باعث گرمی کی شدت اور دورانیے میں اضافے نے معمول کی زندگی کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ کئی علاقوں میں گرمی کے باعث کام کے اوقات تبدیل کرنا پڑ رہے ہیں، تعلیمی ادارے بند کیے جا رہے ہیں اور ہسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اس صورتحال سے واضح ہوتا ہے کہ شدید گرمی اب صرف موسمی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا صحت کا مسئلہ ہے جس کے لیے مستقل منصوبہ بندی درکار ہے۔
معیشت اور روزگار پر دباؤ
موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی صحت کے ساتھ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2025ء میں شدید گرمی کے باعث عالمی سطح پر محنت اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے تقریباً ایک1.07 ٹریلین ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔ اس نقصان کا بڑا حصہ ان شعبوں سے متعلق ہے جہاں کارکنوں کو کھلے ماحول میں جسمانی مشقت کرنا پڑتی ہے۔زراعت، تعمیرات اور دیگر محنت طلب شعبے شدید گرمی سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت میں اضافے کے باعث مزدور طویل وقت تک کام کرنے کے قابل نہیں رہتے، کام کی رفتار کم ہو جاتی ہے اور حادثات کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ کسانوں کے لیے بھی فصلوں کی کاشت، آبپاشی اور برداشت کے مراحل زیادہ مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اس طرح موسمیاتی تبدیلی ایک طرف صحت کے اخراجات میں اضافہ کرتی ہے تو دوسری طرف روزگار، پیداوار اور آمدنی کو بھی متاثر کرتی ہے۔یہ مسئلہ ترقی پذیر ممالک کے لیے زیادہ سنگین ہے کیونکہ ان ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ زراعت، تعمیرات اور غیر رسمی معیشت سے وابستہ ہیں۔ ان کے پاس نہ تو شدید گرمی سے بچاؤ کے مناسب وسائل ہوتے ہیں اور نہ ہی آمدنی کے متبادل ذرائع؛ چنانچہ موسمیاتی تبدیلی کا معاشی بوجھ بھی سب سے زیادہ کمزور طبقات کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
سیلاب، خشک سالی اور فضائی آلودگی
موسمیاتی تبدیلی کا خطرہ صرف شدید گرمی تک محدود نہیں۔ سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور فضائی آلودگی بھی انسانی صحت کے لیے بڑے چیلنجز بن چکے ہیں۔ فضائی آلودگی بھی موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ جڑا ہوا ایک اہم مسئلہ ہے۔ فضا میں آلودہ ذرات اور نقصان دہ گیسوں کی موجودگی سانس اور دل کی بیماریوں میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ شہروں میں بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد، صنعتی اخراج، کوڑا جلانے اور دیگر عوامل سے پیدا ہونے والی آلودگی انسانی صحت کے لیے مسلسل خطرہ بن رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ہسپتالوں اور طبی مراکز پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
خطرے کی گھنٹی
موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو نسبتاً کم کاربن اخراج کے باوجود اس کے شدید اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملک میں شدید گرمی کی لہریں، بے ترتیب مون سون بارشیں، سیلاب، خشک سالی، گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا اور پانی کی قلت ایک دوسرے سے جڑے ہوئے مسائل ہیں۔ ان کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ زراعت، معیشت اور صحت کے شعبوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ شدید گرمی کے دوران دیہی علاقوں میں کسان اور مزدور کھیتوں میں کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ شہروں میں تعمیراتی کارکنوں اور روزانہ اجرت پر کام کرنے والے افراد کے پاس گرمی سے محفوظ رہنے کے مناسب انتظامات نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں ہیٹ سٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔