مصنوعی ذہانت کی پیش رفت
اسپیشل فیچر
کمپیوٹر سائنس کے 27 سالہ نظریے کو چیلنج
مصنوعی ذہانت (AI) کی دنیا میں ایک ایسی پیش رفت سامنے آئی ہے جس نے سائنسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معروف سائنسی جریدے'' سائنس ‘‘کی ایک رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی اور اینتھروپک (Anthropic) نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے مصنوعی ذہانت کے سسٹمز نے کمپیوٹر سائنس کے ایک اہم اور تقریباً 27 سال پرانے نظریے کو غلط ثابت کرنے کی سمت میں غیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے۔ اگر ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ پیش رفت تھیوریٹیکل کمپیوٹر سائنس میں کئی دہائیوں سے جاری تحقیق کے بعض بنیادی مفروضوں پر نظرثانی کا باعث بن سکتی ہے۔یہ محض مصنوعی ذہانت کی جانب سے کسی سوال کا جواب دینے یا کمپیوٹر پروگرام لکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ ایک ایسے علمی مسئلے سے متعلق ہے جس پر محققین طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔
27 سالہ مفروضہ اور اس کی اہمیت؟
اس ڈیویلپمنٹ کا محور ایک معروف سائنسی مفروضہ ہے جسے ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس ( Exponential Time Hypothesisیا ETH) کہا جاتا ہے۔ اس مفروضے کا تعلق ان مسائل سے ہے جنہیں حل کرنے کے لیے کمپیوٹر کو مسئلے کے حجم میں اضافے کے ساتھ بہت زیادہ اضافی وقت درکار ہو سکتا ہے۔عام طور پر جب کمپیوٹر کو کسی چھوٹے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہو تو وہ اسے نسبتاً آسانی سے حل کر سکتا ہے لیکن جب مسئلے میں متغیرامکانات یا ممکنہ حل کی تعداد بڑھتی ہے تو بعض مسائل کی پیچیدگی تیزی سے بڑھنے لگتی ہے۔ ایسے مسائل کے لیے کمپیوٹر کو زیادہ وقت، زیادہ طاقت اور زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔ETH اسی نوعیت کے مسائل کی پیچیدگی کے بارے میں ایک بنیادی مفروضہ ہے۔اگر یہ مفروضہ غلط ثابت ہوتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ بعض ایسے مسائل کو حل کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے طریقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز الگورتھم تیار کیے جا سکتے ہیں۔ اس صورت میں محققین کو ان نتائج کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ سکتا ہے جو اس مفروضے کو درست تسلیم کرتے ہوئے اخذ کیے گئے تھے۔
اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے دعوے
اوپن اے آئی اور اینتھروپک مصنوعی ذہانت کے جدید نظام تیار کرنے والی نمایاں کمپنیاں ہیں۔ ان کی جانب سے سامنے آنے والے دعوؤں نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ جدید AI سسٹمز پیچیدہ علمی مسائل میں ایسے راستے تلاش کر سکتے ہیں جنہیں محققین نے طویل عرصے تک دریافت نہیں کیا۔رپورٹس کے مطابق اوپن اے آئی نے ایک ایسا طریقہ پیش کیا ہے جو مخصوص قسم کے منطقی فارمولوں کے ممکنہ حل کی درست تعداد معلوم کرنے کے لیے پہلے سے تصور کیے گئے حسابی طریقوں سے مختلف ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ نتیجہ ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کو چیلنج کرتا ہے۔ اینتھروپک کی جانب سے بھی اس مفروضے کے خلاف ایک الگ نتیجے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
کیا مصنوعی ذہانت انسانی تحقیق کی جگہ لے سکتی ہے؟
اس پیش رفت نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں سائنسی تحقیق کے روایتی طریقوں کو تبدیل کر دے گی؟ اس کا فوری جواب یہ ہے کہ AI تحقیق کے طریقوں کو ضرور تبدیل کر سکتی ہے لیکن انسانی محققین کی ضرورت ختم ہو جانے کا نتیجہ ابھی اخذ نہیں کیا جا سکتا۔مصنوعی ذہانت بڑے پیمانے پر معلومات کا تجزیہ کرنے، مختلف امکانات کو جانچنے، نئے ریاضیاتی راستے تلاش کرنے اور پیچیدہ دلائل مرتب کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ ایسے کام جن میں انسانی محققین کو کئی ماہ یا برس لگ سکتے ہیں ان کے بعض مراحل AI کی مدد سے تیز کیے جا سکتے ہیں۔اس کے باوجود ایک بنیادی فرق کو سمجھنا ضروری ہے کہ کسی نئے نتیجے کی نشاندہی کرنا اور اس نتیجے کو ثابت کرنا دو مختلف مراحل ہیں۔ مصنوعی ذہانت کوئی ایسی دلیل پیش کر سکتی ہے جو بظاہر درست معلوم ہو لیکن اس میں پوشیدہ غلطی، نامکمل مفروضہ یا مسئلے کی غلط تشریح موجود ہو سکتی ہے۔
مستقبل کے امکانات
اگر ایکسپونینشل ٹائم ہائپوتھیسس کے خلاف پیش کیے گئے نتائج کی تصدیق ہو جاتی ہے تو اس کے اثرات کمپیوٹر سائنس سے آگے بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ الگورتھم کی کارکردگی، پیچیدہ مسائل کے حل، منطقی نظاموں اور کمپیوٹیشنل تحقیق کے کئی شعبوں میں نئے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔تاہم یہ سمجھنا درست نہیں ہوگا کہ اس پیش رفت سے ہر مشکل کمپیوٹیشنل مسئلہ آسان ہو جائے گا۔ کمپیوٹر سائنس میں مختلف مسائل کی پیچیدگی الگ الگ ہوتی ہے اور ایک مفروضے کو چیلنج کرنے سے دوسرے تمام مسائل کے بارے میں خودبخود کوئی قطعی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔اس معاملے کا ایک اور پہلو سائنسی تحقیق کی اشاعت اور تصدیق کا طریقہ ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت تیزی سے بڑی تعداد میں نئے نتائج اور تحقیقی مسودے تیار کرنے لگے تو ماہرین کے لیے ان کا جائزہ لینا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ اس لیے تحقیق کی شفافیت، ثبوتوں کی دستیابی، آزادانہ جانچ اور علمی ذمہ داری پہلے سے زیادہ اہم ہو جائیں گے۔ مصنوعی ذہانت کی اصل کامیابی کا پیمانہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ وہ کتنے حیران کن دعوے پیش کرتی ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ان میں سے کتنے دعوے سخت سائنسی جانچ کے بعد درست ثابت ہوتے ہیں۔ اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے حالیہ دعوے اس امکان کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت سائنسی دریافتوں میں زیادہ فعال کردار ادا کر سکتی ہے، لیکن اس پیش رفت کو تاریخ ساز قرار دینے سے پہلے اس کے ثبوتوں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔