آج کا دن
اسپیشل فیچر
توتن خامن مقبرے کا سراغ
4 نومبر 1922ء کو برطانوی ماہرِ آثارِ قدیمہ ہاورڈ کارٹر اور ان کی ٹیم نے مصر کی وادی ملوک میں فرعون توتن خامن کے مقبرے کی سیڑھیوں کا سراغ لگایا۔ توتن خامن قدیم مصر کے اٹھارہویں شاہی خاندان کا فرعون تھا جس نے تقریباً 1332 قبل مسیح سے 1323 قبل مسیح تک حکومت کی۔ہاورڈ کارٹر کئی برس سے اس کے مقبرے کی تلاش میں مصروف تھا۔ 4 نومبر کو کارٹر کی ٹیم کو زمین میں دبی ہوئی سیڑھیوں کا پہلا واضح نشان ملا۔ بعد ازاں سیڑھیاں صاف کی گئیں اور مقبرے کے بند دروازے تک رسائی حاصل ہوئی۔ 26 نومبر 1922ء کو کارٹر نے مقبرے کے اندر جھانک کر وہ تاریخی منظر دیکھا جس نے قدیم مصری تہذیب کے بارے میں تحقیق کو نئی جہت دی۔
امریکی سفارت خانے پر قبضہ
4 نومبر 1979ء کو ایران کے دارالحکومت تہران میں ایرانی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر لیا اور سفارتی عملے اور دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا۔اس کارروائی میں تقریباً 300 سے 500 طلبہ شریک تھے۔ ابتدا میں 66 امریکیوں سمیت متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا، بعد میں کچھ افراد کو رہا کر کے 52 امریکی یرغمالیوں کو 444 دن تک قید میں رکھا گیا۔امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے یرغمالیوں کی رہائی کیلئے سفارتی مذاکرات کیے، اقتصادی پابندیاں عائد کیں اور اپریل 1980ء میں ایک ناکام فوجی کارروائی بھی کی۔ یہ بحران 20 جنوری 1981ء کو ختم ہوا جب باقی ماندہ 52 یرغمالیوں کو ایران نے رہا کر دیا۔اس واقعے نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں گہری بداعتمادی پیدا کی۔
ہنگری انقلاب
4 نومبر 1956ء کو سوویت یونین کی فوج نے ہنگری میں بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی جس کا مقصد وہاں جاری عوامی انقلاب کو کچلنا تھا۔ یہ واقعہ سرد جنگ کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس نے واضح کر دیا کہ سوویت قیادت مشرقی یورپ میں اپنے سیاسی اور فوجی اثرورسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گی۔ہنگری میں انقلاب کا آغاز 23 اکتوبر 1956ء کو طلبہ کے احتجاج سے ہوا تھا۔ مظاہرین سیاسی آزادی، سوویت فوجوں کے انخلا، آزادانہ انتخابات اور حکومت میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ سوویت نے ان اقدامات کو اپنے علاقائی مفادات کے لیے خطرہ سمجھا؛ چنانچہ 4 نومبر کو سوویت ٹینکوں اور فوجی دستوں نے بداپسٹ سمیت ہنگری کے مختلف علاقوں میں کارروائی شروع کر دی۔
اسحاق رابین کا قتل
4 نومبر 1995ء کو اسرائیل کے وزیراعظم اسحاق رابین کو تل ابیب میں ایک امن ریلی کے اختتام پر قتل کر دیا گیا۔اسحاق رابین اسرائیل 1992ء میں دوسری مرتبہ اسرائیل کا وزیراعظم منتخب ہوا تھا۔ اس کی حکومت کے دوران اسرائیل اور پی ایل اوکے درمیان خفیہ مذاکرات ہوئے جن کے نتیجے میں 1993ء میں اوسلو معاہدے پر دستخط کیے گئے۔4 نومبر کو رابین تل ابیب میں امن کے حق میں منعقد ہونے والی ایک ریلی میں شرکت کے بعد جب اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا تو ایک اسرائیلی انتہا پسند نے اس پر فائرنگ کر دی۔ رابین کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ رابین کو امن مذاکرات میں اس کے کردار اور سیاسی مفاہمت کی کوششوں کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔
باراک اوباما صدر منتخب
4 نومبر 2008ء کو صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے کامیابی حاصل کی۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے۔ یہ کامیابی امریکی سیاسی تاریخ میں ایک تاریخی سنگِ میل تھی۔2008ء کے صدارتی انتخابات میں ان کا مقابلہ ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین سے تھا۔ اس وقت امریکہ کو مالیاتی بحران، عراق اور افغانستان کی جنگوں اور معاشی مشکلات جیسے اہم مسائل کا سامنا تھا۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم میں معاشی بحالی، صحت کی سہولتوں میں بہتری، توانائی کے شعبے میں اصلاحات اور امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی پر زور دیا۔انتخابات کے نتائج کے مطابق اوباما نے 365 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے جبکہ جان مکین کو 173 ووٹ ملے۔ مقبول ووٹوں میں بھی اوباما کو برتری حاصل رہی۔