غذائوں میں چھپی شکر صحت کیلئے خاموش خطرہ
اسپیشل فیچر
ہم میں سے اکثر افراد صحت مند رہنے کیلئے اپنی غذا میں احتیاط برتتے ہیں، میٹھے مشروبات سے گریز کرتے ہیں اور چینی کے استعمال کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ روزمرہ استعمال کی بعض بظاہر صحت بخش غذائیں بھی ہمارے جسم میں شکر کی مقدار بڑھا سکتی ہیں؟ سینڈوچ میں موجود اچار، کافی میں شامل اوٹ ملک اور سلاد میں استعمال ہونے والا چقندر ایسی غذاؤں میں شامل ہیں جن میں قدرتی یا اضافی شکر موجود ہوتی ہے۔ ماہرین غذائیت کے مطابق بعض اوقات یہ پوشیدہ شکر ہماری توجہ سے اوجھل رہتی ہے اور ہم انجانے میں اپنی روزمرہ خوراک کے ذریعے ضرورت سے زیادہ شکر استعمال کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ پوشیدہ شکر ہماری صحت کو کس طرح متاثر کرتی ہے اور روزمرہ غذا میں اس کی شناخت کیسے ممکن ہے؟
شکر صرف بسکٹ یا چاکلیٹ کے ایک ٹکڑے تک محدود نہیں بلکہ یہ مختلف غذاؤں اور اجزا میں پائی جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نمکین کھانوں میں بھی اکثر ''پوشیدہ شکر‘‘ موجود ہوتی ہے جہاں زیادہ تر لوگ اس کا تصور بھی نہیں کرتے۔
ماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن(Aaliyah Nelson) کے مطابق پوشیدہ شکر سے مراد عموماً ایسی غذاؤں میں موجود شکر ہے جن کے میٹھا ہونے کی توقع نہیں ہوتی، مثلاً سلاد کی ڈریسنگ، گوشت کو میرینیٹ کرنے کیلئے استعمال ہونے والے مصالحے اور نمکین کھانوں کے ساتھ استعمال ہونے والی چٹنیاں۔ یہ شکر ہماری مجموعی خوراک میں شامل ہوتی رہتی ہے، چاہے ہمیں اس کے استعمال کا احساس بھی نہ ہو۔میٹھی چٹنیاں اور مشروبات استعمال کرتے رہنا، خصوصاً ان سے حاصل ہونے والی کیلوریز کو شمار کیے بغیر، جسم میں کیلوریز کی مقدار بڑھا سکتا ہے اور وزن کم کرنا مشکل بنا سکتا ہے۔تاہم عالیہ نیلسن کے مطابق، شکر کے زیادہ استعمال کے اثرات صرف وزن بڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے صحت پر کئی دوسرے منفی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔ شکر کا ضرورت سے زیادہ استعمال دانتوں کی خرابی کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے، خصوصاً جب دن بھر بار بار شکر والی غذائیں اور مشروبات استعمال کیے جائیں۔
نیلسن نے خبردار کیا کہ وزن بڑھنے سے ٹائپ ٹو ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔تاہم، وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اس بات پر غور کیا جائے کہ مخصوص غذائیں، مشروبات یا چٹنیاں کتنی بار استعمال کی جاتی ہیں اور کیا ان کی جگہ کوئی ایسا آسان متبادل اختیار کیا جا سکتا ہے جو ذائقے میں بھی پسند آئے۔
سینڈوچ میں موجود اچار
ماہرِ غذائیت عالیہ نیلسن کے مطابق اچار اس غذا کی ایک اچھی مثال ہے جسے لوگ شکر کے بجائے اس کے تیز اور کھٹے ذائقے سے جوڑتے ہیں۔ اچار کے ایک جار میں ہر 100 گرام میں تقریباً 31 گرام شکر ہوتی ہے، یعنی اس کے وزن کا تقریباً ایک تہائی حصہ۔ اس میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اجزا کی فہرست میں سبزیوں کے بعد اس کا دوسرا نمبر آتا ہے۔وہ مشورہ دیتی ہیں کہ اچار کی جگہ کھیرا، مولی یا بغیر اضافی شکر والا اچار استعمال کیا جائے، تاکہ کھانے میں کھٹاس برقرار رہے۔اگر اچار کو مکمل طور پر ترک کرنا مشکل ہو تو ان کے مطابق، اس کی مقدار کم کرکے دیگر سبزیوں کے ساتھ استعمال کرنا بہتر ہے۔
کافی میں اوٹ ملک
اگر آپ کافی میں ونیلا کے ذائقے والا میٹھا اوٹ ملک استعمال کرتے ہیں تو چینی کے ڈبے کی طرف ہاتھ بڑھانے سے پہلے ہی اس مشروب میں اضافی شکر شامل ہو چکی ہوتی ہے۔ ونیلا فلیور میں مجموعی شکر کی مقدار 10.2 گرام ہے۔تاہم، خوش قسمتی سے ہر قسم کے اوٹ ملک میں شکر کی مقدار اتنی زیادہ نہیں ہوتی۔عالیہ نیلسن مشورہ دیتی ہیں کہ یہ فرض کرنے کے بجائے کہ تمام نباتاتی مشروبات یکساں ہوتے ہیں، اپنے استعمال میں آنے والی مخصوص مصنوعات اور اس کی مقدار کا موازنہ کریں۔وہ بغیر ذائقے والا اور اضافی شکر سے پاک اوٹ ملک منتخب کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔
سلاد پر ڈالی جانے والی چٹنی
عالیہ نیلسن وضاحت کرتی ہیں کہ سلاد پر بالسامک گلیز کی چند بوندیں ایک معمولی سی اضافی چیز محسوس ہو سکتی ہیں، لیکن گاڑھی اور میٹھی گلیز، سرکے کے چند چھینٹوں سے مختلف ہوتی ہے۔ بعض گلیز میں انگور کا گاڑھا رس اور اضافی شکر شامل ہوتی ہے۔چِلی بالسامک گلیز کے ایک کھانے کے چمچ، یعنی 15 ملی لیٹر میں مجموعی شکر کی مقدار 6.8 گرام ہے۔تاہم، صحت مند رہنے کا مطلب یہ نہیں کہ گلیز کو مکمل طور پر ترک کر دیا جائے، بلکہ اس کے استعمال میں تبدیلی یا کمی لانا زیادہ بہتر ہے۔ان کا کہنا ہے کہ آپ اپنے پسندیدہ سلاد سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، بس اس پر ڈالے جانے والے اضافی ذائقے کو تبدیل یا کم کر دیں۔اس کا ایک صحت بخش متبادل لیموں کا رس یا وائن ونیگر کو جڑی بوٹیوں اور زیتون کے تیل کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔
سلاد میں موجود چقندر
چقندر اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے، لیکن ذائقہ دار یا زیادہ اضافی شکر والے چقندر سے گریز کرنا بہتر ہو سکتا ہے۔یہ بظاہر صحت بخش غذا محسوس ہوتی ہے، لیکن چقندر کے چار ٹکڑوں میں 15.8 گرام مجموعی شکر موجود ہوتی ہے۔تاہم، اس سبزی کو مکمل طور پر ترک کرنے کے بجائے نیلسن اسے تیار کرنے کا طریقہ تبدیل کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ وہ سادہ ابلے ہوئے چقندر کو سرکے، مرچ اور جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کرنے کی سفارش کرتی ہیں۔
فرائز کے ساتھ کیچپ
ٹماٹر کی چٹنی کے بغیر فرائز کا لطف ادھورا محسوس ہوتا ہے، لیکن صحت مند زندگی گزارنے کیلئے اسے مکمل طور پر ترک کرنا ضروری نہیں۔نیلسن ہینز کی روایتی ٹماٹر کیچپ کے بجائے ایسی قسم استعمال کرنے کا مشورہ دیتی ہیں جس میں شکر اور نمک کی مقدار 50 فیصد کم ہو۔ روایتی کیچپ کے 15 گرام میں 3.4 گرام شکر ہوتی ہے۔
چاکلیٹ ملک شیک
نیلسن کے مطابق،ملک شیک پروٹین اور کیلشیم فراہم کر سکتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں شامل اضافی شکر کے اثرات ختم ہو جاتے ہیں۔اگر آپ اب بھی میٹھی چیز پینے کی خواہش رکھتے ہیں تو سادہ دودھ یا بغیر شکر والے کوکو پاؤڈر کے ساتھ ملا ہوا دودھ ایک صحت بخش متبادل ہے۔
میٹھی اور کھٹی چٹنی
سبزیوں سے بھرپور ڈش کو رات کے کھانے کیلئے ایک آسان اور صحت بخش انتخاب سمجھا جا سکتا ہے، لیکن چکن پر میٹھی چٹنی ڈالنے سے یہ غذا نسبتاً کم صحت بخش ہو سکتی ہے۔بینز اوریجنل کی سویٹ اینڈ سَور چٹنی کے 112 گرام حصے میں مجموعی شکر کی مقدار 14 گرام ہے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ اس میں سے کچھ شکر چٹنی میں موجود ٹماٹروں اور انناس کی قدرتی شکر بھی ہوتی ہے۔ نیلسن اس کے متبادل کے طور پر سبزیوں کو ادرک، لہسن، چاول کے سرکے اور کم نمک والی سویا ساس کے ساتھ اسٹر فرائی کرنے کا مشورہ دیتی ہیں۔ مزید مٹھاس شامل کرنے کے لیے وہ سبزیوں کے ساتھ انناس کے ٹکڑے فرائی کرنے کی بھی سفارش کرتی ہیں۔
ناشتے میں شامل اورنج جوس
سادہ اورنج جوس میں اضافی شکر شامل نہیں ہوتی، لیکن اس میں قدرتی طور پر موجود شکر کی مقدار کو بھی محدود رکھنا چاہیے۔عالیہ نیلسن کے مطابق اورنج جوس وٹامن سی فراہم کرتا ہے اور متوازن غذا کا حصہ بن سکتا ہے، لیکن گلاس میں زیادہ مقدار ڈالنے سے اس کی مقدار تجویز کردہ حد سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ روزانہ پھلوں کے رس اور اسموتھیز کی مجموعی مقدار 150 ملی لیٹر تک محدود رکھی جائے۔