زبان خامہ کی چند عام خامیاں

زبان خامہ کی چند عام خامیاں

اسپیشل فیچر

تحریر : طالب الہاشمی


قائمقام؟کچھ عرصہ سے ہمارے بعض صحافی دوست اپنی تحریروں میں ’’قائم مقام‘‘ کی جگہ ’’قائمقام‘‘ لکھ رہے ہیں۔ ایک ’’م‘‘ کو حذف کر دینا بِلا جواز ہے۔ ’’قائم مقام‘‘ ہی صحیح لفظ ہے۔ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی، درستگی وغیرہ؟ناراضی، حیرانی، محتاجی اور درستی کی جگہ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی اور درستگی لکھنا اور بولنا فصاحت اور قاعدے کے خلاف ہے۔ فارسی قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسمِ صفت کا آخری حرف ہ (ہا) نہ ہو تو حاصل مصدر بنانے کے لئے اس کے آخر میں ی (یا) لگاتے ہیں چنانچہ ناراض، حیران، محتاج، درست وغیرہ جتنے اسمائے صفات ’’ہ‘‘ پر ختم نہیں ہوتے ان کے حاصل مصدر ناراضی، حیرانی، محتاجی، درستی بنتے ہیں۔ صرف دو لفظ ’’ادا‘‘ اور ’’کرخت‘‘ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے حاصل مصدر کرختی اور ادائیگی کے بجائے کرختگی اور ادائیگی بنائے گئے ہیں ورنہ اصولاً جب کسی اِسم صفت کا آخری حرف ہ ہو تو ’’ہ‘‘ کی جگہ ’’گی‘‘ لگا کر اس کا حاصل مصدر بنایا جاتا ہے مثلاً عمدہ، شستہ، مردانہ، کمینہ، نمایندہ، فرزانہ، درندہ، زندہ، فریفتہ، وارفتہ، سنجیدہ کے حال مصدر عمدگی، شستگی، مردانگی، کمینگی، نمایندگی، فرزانگی، درندگی، زندگی، فریفتگی، وارفتگی، سنجیدگی ہوں گے۔ خوامخواہ؟صحیح لفظ ’’خواہ مخواہ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’چاہو یا نہ چاہو‘‘ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملے میں بِلاجواز یا زبردستی دخل دے۔ معلوم نہیں بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں میں ’’خواہ‘‘ کے بعد ’’ہ‘‘ کو کیوں خذف کر دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

مصنوعی ذہانت کا غیر متوقع پہلو

روبوٹس کے انسانوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہکیا آپ اپنے خاندان کے اردگرد کسی روبوٹ پر بھروسہ کریں گے؟اب جبکہ ہیومنائیڈ روبوٹس عام گھریلو کام جیسے کپڑے تہہ کرنا، برتن دھونا اور حتیٰ کہ کیتلی میں پانی اُبالنا بھی انجام دینے کے قابل ہو چکے ہیں، تو ممکن ہے کہ آپ انہیں اپنے گھر میں لانے کا سوچیں۔تاہم، جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں جہاں مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس انسانی زندگی کو سہل بنانے کے دعوے کر رہے ہیں، وہیں حالیہ واقعات نے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں ہیومنائیڈ روبوٹس نے غیر متوقع اور خطرناک رویہ اختیار کرتے ہوئے بچوں کو نقصان پہنچایا، بزرگوں کو خوفزدہ کیا اور عوامی مقامات پر افراتفری پھیلائی۔ ایڈنبرا نیپئر یونیورسٹی کے روبوٹکس ماہرین کارل اسٹریتھیرن اور ایمیلیا سوبولیوسکا نے اپنے ایک مضمون میں کہاکہ آئندہ دہائی میں ہیومنائیڈ روبوٹس کی فروخت میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے، جس کے باعث عوام کو اس نوعیت کے واقعات کے خطرات کا زیادہ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔روبوٹکس کے محققین کی حیثیت سے ہمارا ماننا ہے کہ حکومتوں نے ان خطرات پر بہت کم غور کیا ہے۔ ٹیسلا فیکٹری میں روبوٹ کا حملہٹیکساس میں واقع ٹیسلا کی گِگا فیکٹری میں ایک خطرناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک روبوٹ کی خرابی کے باعث ایک انجینئر شدید زخمی ہو گیا۔ روبوٹ، جو تازہ تیار شدہ ایلومینیم گاڑیوں کے پرزے اُٹھانے اور منتقل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا، اچانک بے قابو ہو گیااس نے اپنے ساتھی کارکن کو دبوچ لیا، جو قریب ہی موجود دو خراب روبوٹس کیلئے سافٹ ویئر پروگرامنگ کر رہا تھا۔روبوٹ نے اپنے دھاتی پنجے اس کارکن کی پیٹھ اور بازو میں گاڑ دیے۔اس واقعے میں متاثرہ شخص کے بائیں ہاتھ پر گہرا زخم آیا۔کیلیفورنیا کے ریستوران میں روبوٹ بے قابوکیلیفورنیا کے شہر سان ہوزے میں واقع ریستوران میں گاہک سکون سے کھانا کھا رہے تھے کہ اچانک ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنی حرکات سے سب کی توجہ حاصل کر لی۔روبوٹ ایک ڈانس پرفارمنس پیش کر رہا تھا، جس میں وہ اپنے بازو لہرا رہا اور کولہے ہلا رہا تھا،اچانک اس نے اپنے ہاتھ زور سے میز پر دے مارے۔ عملہ فوری طور پر روبوٹ کو بند کرنے کیلئے دوڑا۔اس ہنگامے کے دوران تین ملازمین نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی اور اسے گردن سے پکڑ کر وہاں سے گھسیٹ کر لے گئے۔چین :روبوٹ نے بچے کو تھپڑجڑ دیاچین کے شہانشی صوبے میں ایک فیملی فرینڈلی ڈانس پرفارمنس ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک نوجوان لڑکے کوہیومنائیڈ روبوٹ نے تھپڑ مار دیا۔21 مارچ کو پیش آنے والے اس واقعہ کی حیران کن فوٹیج میں دکھایا گیا کہ یونِٹری روبوٹ اسٹیج پر گھوم رہا تھا۔ بدقسمتی سے، اس کی حرکات ناکام ہو گئیں اور روبوٹ نے ایک پل میں بچے کے چہرے کو پوری طرح پکڑ لیا۔ لڑکے نے کوشش کی کہ وہ دھاتی بازوؤں سے بچ سکے، مگر وہ کامیاب نہ ہو سکا۔چین میلہ میں روبوٹ کا ہجوم پر حملہچین کے شمال مشرقی شہر تیانجن میں ہونے والے اسپرنگ فیسٹیول کے دوران خوشگوار تقریب ایک المناک واقعے میں بدل گئی، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے ہجوم کی جانب حملے کی کوشش کی۔فوٹیج میں دکھایا گیا کہ روبوٹ، جو روشن جیکٹ پہنے ہوئے تھا، باڑ کے پیچھے موجود لوگوں کی طرف جھک رہا تھا۔اس کے غیر متوقع اور بے قابو حرکات کی وجہ سے میلے کے سکیورٹی عملے کو اسے ہجوم سے دور دھکیلنا پڑا۔ایونٹ کے منتظمین نے اس واقعے کو ''سادہ روبوٹ کی خرابی‘‘ قرار دیا۔ہینڈلر پر حملہمئی 2025 میں چین کی ایک فیکٹری میں ایک ہیومنائیڈ روبوٹ نے اپنے ہینڈلر پر حملہ کر دیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں دکھایا گیا کہ کالا روبوٹ ایک چھوٹی کرین سے جڑا ہوا تھاکہ اچانک اس نے اپنے بازوؤں کو آگے پیچھے جھلانا شروع کر دیا۔روبوٹ نے اپنے بازو ہوا میں اٹھائے اور دوبارہ نیچے مارے، یہ حرکت تیزی اور شدت کے ساتھ دہرائی۔ پھر یہ آگے بڑھنے لگا اور بظاہر آزاد ہونے کی کوشش میں اپنے اردگرد سب کو مارتا رہا۔ملازمین خوفزدہ ہو کر اپنے بازوؤں سے چہرے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے راستہ چھوڑتے گئے۔ کمپیوٹر مانیٹر گر گیا۔آخرکار، ایک شخص نے کرین کو پیچھے سے کھینچ کر تباہی کو روکنے کی کوشش کی اور روبوٹ کو قابو میں لایا۔یہ واقعہ روبوٹکس اور صنعتی مشینری میں حفاظتی انتظامات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے کہ ٹیسٹنگ کے دوران انسانوں اور مشینوں کے درمیان مناسب فاصلے اور حفاظتی اقدامات لازمی ہیں۔بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد روبوٹ پولیس کے ہاتھوں گرفتارچین میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جو کسی سائنس فکشن تھرلر کا منظر معلوم ہوتا ہے، جب ایک ہیومنائیڈ روبوٹ کو ایک بزرگ خاتون کو خوفزدہ کرنے کے بعد پولیس نے حراست میں لے لیا۔ مقامی حکام کے مطابق70 سالہ خاتون کو اچانک پیچھے کھڑے روبوٹ نے خوفزدہ کر دیا۔ وائرل کلپ میں دکھایا گیا کہ خاتون چیختی ہوئی اپنے بیگ سے روبوٹ کی طرف اشارہ کر رہی تھی، جبکہ روبوٹ بار بار اپنے بازو ہوا میں اٹھا رہا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ خاتون اپنے فون کو چیک کرنے کیلئے رکئی تھیں، اور روبوٹ اس کے پیچھے رک کر انتظار کر رہا تھا کہ وہ راستہ خالی کرے۔ بزرگ خاتون روبوٹ کو خاموشی سے پیچھا کرتے دیکھ کر شدید خوفزدہ ہو گئیں۔واقعے کے بعد، خاتون نے پولیس کو بتایا کہ وہ طبی طور پر غیر صحت مند محسوس کر رہی ہیں اور انہیں علاج کیلئے اسپتال لے جایا گیا۔یہ واقعات نہ صرف ٹیکنالوجی پر اندھا اعتماد کرنے کے رجحان پر سوالیہ نشان ہیں بلکہ یہ بھی سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آیا ہم واقعی ان مشینوں کو اپنے گھروں اور خاندانوں کے قریب لانے کیلئے تیار ہیں یا نہیں۔

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر میں دوسرا اسفنکس؟ زیرِ زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی

مصر کے صحرائی علاقے میں ایک حیران کن اور تاریخی دریافت سامنے آئی ہے، جس میں اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ایک ممکنہ دوسرا ''اسفنکس‘‘ یا وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب کے رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیشرفت ہو سکتی ہے۔ جدید اسکیننگ اور ریڈار ٹیکنالوجی نے زمین کے نیچے ایسی بڑی ساخت کو اجاگر کیا ہے جس پر تحقیق اور کھوج جاری ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے پنجوں کے درمیان واقع اسٹیل پر کندہ 3ہزار سال پرانی علامات ممکنہ طور پر خفیہ دوسرے اسفنکس کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اسٹیل پر دکھائے گئے دو اسفنکس کے نقش اس بات کا عندیہ دیتے ہیں کہ مشہور یادگار کبھی اپنی جوڑی رکھتی تھی۔2025 میں اٹلی کے محققین نے ''ابوالہول‘‘ کے پلیٹو کے نیچے وسیع زیر زمین ڈھانچے دریافت کرنے کا دعویٰ کیا اور اب وہ سمجھتے ہیں کہ دوسرا اسفنکس ریت کے نیچے دفن ہے۔فلِپو بیونڈی نے یہ دریافت میٹ بیل لمیٹ لیس پوڈکاسٹ میں شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ موجود اسفنکس تک کھینچی گئی خطوط ایک آئینہ دار مقام کی نشاندہی کرتی ہیں، جہاں یہ دفن شدہ ڈھانچہ موجود ہو سکتا ہے۔بیونڈی کے مطابق، سیٹلائٹ ریڈار ٹیکنالوجی سے زمین کی ہلکی ارتعاشات کا تجزیہ کرنے پر یہ ڈیٹا سامنے آیا ہے کہ ایک 180 فٹ اونچی ریت کی مضبوط تہہ کے نیچے ایک بڑا ڈھانچہ چھپا ہوا ہے، جو قدرتی چٹان نہیں بلکہ سخت ریت پر مشتمل ہے۔ابتدائی اسکینز میں عمودی شافٹ اور راہداریوں کی موجودگی دکھائی دی ہے جو اصل اسفنکس کے نیچے پائے گئے ڈھانچے کے مشابہ ہیں۔ ان عمودی لائنوں کو ممکنہ طور پر زیر زمین شافٹ کی مضبوط دیواریں قرار دیا گیا ہے۔بیونڈی کا ماننا ہے کہ ممکنہ دوسرے اسفنکس سے بڑھ کر، ابوالہول کے پلیٹو کے نیچے ایک وسیع زیر زمین میگا سٹرکچر موجود ہے، جس کی پیمائش وہ کر رہے ہیں۔ یہ دریافت مصر کی قدیم تہذیب اور اس کی تعمیراتی مہارت کے راز کھولنے میں ایک نیا باب ثابت ہو سکتی ہے۔مصر کے عظیم اسفنکس کے سامنے والے پنجوں کے درمیان ڈریم اسٹیل یا سفنکس اسٹیل لگائی گئی تھی، جسے فرعون تھوٹ موس چہارم نے تقریباً 1401 قبل مسیح میں مصر کی 18ویں سلطنت کے دور میں نصب کیا۔یہ قدیم کندہ کاری، جیسے کہ نیو کنگڈم کے دوران بنائی گئی دیگر تحریریں، حکمران کے الٰہی حقِ حکمرانی کو مضبوط کرنے کیلئے کی گئی تھی۔روایت کے مطابق، یہ اسٹیل تھوٹ موس چہارم کے غیر متوقع تخت نشینی کو جواز فراہم کرتی ہے، اس خواب کی کہانی بیان کرتے ہوئے جس میں اسفنکس نے اسے یادگار کی مرمت کے عوض تخت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ اس طرح سیاسی پروپیگنڈا اور مذہبی مشروعیت کا امتزاج نظر آتا ہے اور ابتدائی مرمت کے اقدامات کی دستاویز بھی ملتی ہیں۔تاہم، فلِپو بیونڈی اور ان کی ٹیم کا ماننا ہے کہ تصویروں میں چھپے دو اسفنکس کی علامتی اہمیت سے زیادہ حقیقت ہوسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ کندہ کاری محض علامتی نہیں بلکہ یادگاروں کی ترتیب کیلئے ایک خفیہ سراغ ہو سکتا ہے۔بیونڈی نے وضاحت کی کہ جب انہوں نے خفرے کے ہرم کے مرکز سے موجود اسفنکس تک ایک لکیر کھینچی، تو اس کی ترتیب نے پلیٹو پر ایک درست جیومیٹرک راستہ قائم کیا، جو دوسرے ممکنہ مقام کی شناخت کیلئے آئینہ دار حوالہ لکیر کے طور پر کام کرتا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر، جس میں عظیم ہرم، خفرے کا ہرم، منکورے کا ہرم اور عظیم اسفنکس شامل ہیں، ایک تہہ کو ظاہر کرتی ہیں، اور بیونڈی کا ماننا ہے کہ یہ دوسرے اسفنکس کے اوپر موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلا اسفنکس اردگرد کی سطح کے تھوڑا نیچے کم گہرائی میں واقع ہے، ممکن ہے کہ دوسرا اسفنکس اس بلند تہہ کے نیچے چھپا ہوا ہو۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اندازے درست ثابت ہوے تو یہ مصر کے تاریخی نقشے میں ایک نیا اور شاندار اضافہ ثابت ہو سکتا ہے، جو پرانے مصر کی عمارات اور فن تعمیر کی حیرت انگیز مہارت کو سامنے لاتا ہے۔یہ ابتدائی رپورٹ عالمی ماہرین اور محققین کیلئیے بھی ایک سنجیدہ دلچسپی کا سبب بنی ہے، جو قدیم مصر کی تاریخ اور آثار قدیمہ کی دنیا میں نئی بحث کو جنم دے سکتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!روبینہ بدر فلمی دنیا کی سُریلی گلوکارہ (2006-1956ء)

آج تم یاد بے حساب آئے!روبینہ بدر فلمی دنیا کی سُریلی گلوکارہ (2006-1956ء)

٭...14فروری 1956ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔٭... گائیکی کا آغاز ریڈیوپاکستان کراچی سے کیا۔ ٭...پہلا فلی گیت نوعمری میں ریکارڈ کروایا۔ فلم ''بیٹی‘‘ کے اس گیت کے بول تھے ''ذرا بچ کے رہنا بھیا، یہ دنیا سب کو ستائے، اللہ میاں بچائے‘‘۔ ٭...موسیقار نثار بزمی نے گلوکارہ روبینہ بدر کی بہت حوصلہ افزائی کی اور کام بھی دلوایا۔ ٭...گلوکاری کے اس سفر میں روبینہ نے فلم کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کیلئے بھی گیت گائے۔ ٭...ٹی وی پر ان کا گیت ''تجھ سنگ نیناں لاگے‘ بڑا مقبول ہوا تھا۔ اس گیت کو ان کے کریئر کا اہم موڑ کہا جا سکتا ہے۔٭...ان کے گائے ہوئے گیت جن فلموں میں شامل ہوئے ان میں ''ایمان دار، چکر باز، شوکن میلے دی، حکم دا غلام، انتظار، پردہ نہ اٹھائو، عزّت‘‘ شامل ہیں۔ ٭...انھوں نے 42اردو اور پنجابی فلموں کیلئے 48 فلمی نغمات ریکارڈ کروائے۔ ٭...روبینہ بدر کا گیت ''میرے اچھے نانا پیارے پیارے نانا،جھوٹ موٹ میں تم سے روٹھوں تم مجھے منانا‘‘ کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ موسیقار نثار بزمی کا تیار کردہ یہ گیت تھا اس زمانے میں ریڈیو سے تقریباً روزانہ ہی نشر ہوتا تھا۔ ٭...روبینہ بدر نے گلوکار مسعود رانا کے ساتھ 7گیت گائے۔٭...فلمی گلوکارہ روبینہ بدر کو 28 مارچ 2006ء میں کینسر کے مرض نے زندگی سے محروم کر دیا۔٭... بوقتِ وفات ان کی عمر 50 سال تھی۔مقبول گیت(1)دنیا ریل گاڑی ، ہے سانپ کی سواری (2)میرے منے میرے لال ، جئے جئے ہزاروں سال(3)ٹوئنکل ، ٹوئنکل ، لٹل اسٹار ، ہاؤ آئی ونڈر وٹ یو آر.(4)جو ٹوٹ گئی چوڑی تو کیا ہو گا ، کھنک گئی پائل تو کیا ہو گا(5)داداجی اپنے پوتے کو سمجھائیں(6)پاک وطن کی دھرتی پیاری(7)یونہی دن کٹ جائیں ، یونہی شام ڈھل جائے(8)پیار کی اک نئی راہ پے(9)جھوم جھوم ناچیں آئو(10)ساتھی نہ چھوڑو دامن تیرا

آج کا دن

آج کا دن

کورلینڈ روس میں ضم1795ء میں تقسیمِ پولینڈ کے دوران ایک اہم تاریخی واقعہ پیش آیا جب ڈچی آف کورلینڈ جو دولت مشترکہ کا علاقہ تھا، اپنی حیثیت کھو بیٹھا اور باقاعدہ طور پر روسی سلطنت میں شامل کر لیا گیا۔ یہ علاقہ موجودہ لٹویا میں واقع تھا۔ اس کے خاتمے نے خطے کے نقشے کو بدل کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے نتیجے میں روسی اثر و رسوخ میں اضافہ ہوا اور یورپ میں طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا۔ چلی کا تباہ کن زلزلہ 1965ء میں چلی میں 7.4 شدت کا ہولناک زلزلہ آیا جس نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی۔ اس زلزلے کے نتیجے میں کان کنی کے فضلے کو محفوظ رکھنے والے کئی ٹڈیم ٹوٹ گئے، جس سے خطرناک کیچڑ اور ملبے کا سیلاب آیا۔ جس نے ایل کوبرے نامی قصبے کو مٹی تلے دبا دیا۔ اس سانحے میں کم از کم 500 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ بے شمار لوگ زخمی اور بے گھر ہوئے۔ یہ واقعہ چلی کی تاریخ کے المناک ترین حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ مارٹن لوتھرکنگ کا مارچ 1965ء میں غیر مساوی سلوک سے تنگ آکر 25 ہزار سے زائد افراد نے مارٹن لوتھر کنگ کی قیادت میں امریکی ریاست البامہ میں مارچ کیا۔ اس مارچ کا مقصد غیر مساوی سلوک کے خلاف آواز اٹھانا اور سماجی اور مساوی حقوق کیلئے جدوجہد کرنا تھا۔مارٹن لوتھر کنگ کو امریکی تاریخ ایک عظیم رہنما کے طور پر یاد کرتی ہے جس نے کمزرو طبقے میں پسنے والے ہزاروں لوگوں کو ان کے حقوق دلوائے۔ پہلی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شپ28مارچ1891ء کو دنیا کی پہلی ویٹ لفٹنگ چیمپئن شب کا لندن میں انعقاد کیا گیا۔6ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے 7 کھلاڑیوں نے اس مقابلے میں حصہ لیا۔ اس چیمپئن شپ میں سخت مقابلے کے بعد برطانیہ نے دنیا کا پہلا ویٹ لفٹنگ چیمپئن ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ ائیر ایمبولنس کا آغاز 1866ء کو آج کے دن پہلی مرتبہ ائیر ایمبولنس کا لفظ استعما ل کیا گیا۔ ایک سمندری جہاز کے حادثے کے نتیجے میں سمند ر میں پھنسے عملے کو ائیر بلون کے ذریعے ریسکیو کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ائیر بلون کو ائیر ایمبولنس کا نام دیا گیا تھا۔ ائیر ایمبولنس کی جدید قسم آج کل ہوائی جہاز کی صور ت میں نظر آتی ہے۔

غلامی سے نجات کا عالمی دن

غلامی سے نجات کا عالمی دن

تاریخ،حقیقت اور آج کا چیلنجہر سال 25 مارچ کو دنیا بھر میں غلامی اور غلاموں کی تجارت کے متاثرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانیت کی تاریخ کے ایک سیاہ باب،بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کو یاد کرنے اور اس کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو 2007ء میں باقاعدہ تسلیم کیا تاکہ نہ صرف ماضی کی ہولناکیوں کو یاد رکھا جائے بلکہ آج کی دنیا میں موجود جدید غلامی کے خلاف شعور بھی اجاگر کیا جا سکے۔ غلامی کی تاریخ، المناک داستانتاریخی طور پر غلامی صدیوں تک انسانی معاشروں کا حصہ رہی مگر 15ویں سے 19ویں صدی تک جاری رہنے والی ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کو انسانی تاریخ کا بدترین باب سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران اندازاً ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کو زبردستی افریقہ سے امریکہ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے لاکھوں افراد سمندری سفر کے دوران ہی ہلاک ہو گئے جبکہ زندہ بچنے والوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم نے نہ صرف لاکھوں زندگیاں تباہ کیں بلکہ نسل در نسل سماجی، معاشی اور ثقافتی اثرات بھی چھوڑے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔مگریہ سمجھنا غلط ہوگا کہ غلامی صرف ماضی کا قصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جدید غلامی کا شکار ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ80لاکھ افراد جبری مشقت میں جبکہ دوکروڑ20 لاکھ جبری شادیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر 150 میں سے ایک انسان کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ غلامی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں جیسے انسانی سمگلنگ، جبری مشقت،قرض کے بدلے غلامی،کم عمری کی شادی،جنسی استحصال وغیرہ۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین اور بچے اس ظلم کا سب سے بڑا شکار ہیں۔جبری جنسی استحصال کے تقریباً 80 فیصد متاثرین خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ غلامی کا شکار افراد میں ایک بڑا حصہ بچوں پر مشتمل ہے جنہیں مزدوری یا جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غلامی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران ہے۔پاکستان اور خطے کی صورتحالگلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جدید غلامی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہیں۔ غلامی کی عام صورتوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت،زرعی شعبے میں قرض کے بدلے کام،گھریلو ملازمین کا استحصال اور بچوں سے مشقت شامل ہے ۔یہ مسائل غربت، تعلیم کی کمی اور قانون کے کمزور نفاذ کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جدید غلامی کے پھیلاؤ کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جیسا کہ غربت اور بے روزگاری، تعلیم کی کمی، سیاسی عدم استحکام اور جنگیں، مجبوراً ہجرت اور کمزور قانونی نظام۔عالمی اقتصادی فورم کے مطابق جبری مشقت سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی 236 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو اس مسئلے کے معاشی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ اقوامِ متحدہ کا ایس ڈی جی ٹارگٹ 8.7، جس کا مقصد 2030ء تک غلامی کا خاتمہ ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے قوانین،انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی معاہدے۔سپلائی چین میں شفافیت کے قوانین، مگراس کے باوجود غلامی کا مکمل خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ اکثر خفیہ طریقوں سے جاری رہتی ہے۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟پاکستان میں غلامی کے خاتمے کے لیے جو اقدامات ضروری ہیں ان میںجبری مشقت کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد،تعلیم اور آگاہی مہمات،غریب طبقات کے لیے معاشی مواقع،میڈیا کا فعال کردار اورانسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں شامل ہیں۔ 25 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلامی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک جاری مسئلہ ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ماضی کے متاثرین کو یاد کریں بلکہ آج کے مظلوم انسانوں کے لیے آواز بھی اٹھائیں۔ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ کیونکہ جب تک دنیا میں ایک بھی انسان غلامی کا شکار ہے، تب تک انسانی آزادی کا خواب ادھورا ہے۔

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ سمارٹ فون، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اور مسلسل آن لائن رہنے کی عادت نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں ذہنی دباؤ (Stress) میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جدید تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ معلومات کی بھرمار اور مسلسل ڈیجیٹل رابطہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی ہمیں پریشان کر رہی ہے تو ہم اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والا دباؤٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال کے کئی منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ وقت سکرین کے سامنے گزارنے سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال ڈپریشن، بے چینی اور نیند کی خرابیوں کا سبب بن رہا ہے۔اس کے علاوہ ہمیشہ آن لائن رہنے کا دباؤ، مسلسل نوٹیفکیشنز اور کام و ذاتی زندگی کے درمیان حد بندی کا ختم ہونا بھی ذہنی تھکن کو بڑھاتا ہے۔ یوں انسان ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں ٹیکنالوجی سہولت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔خوش آئند پہلو، ٹیکنالوجی ہی حل بھی ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو ہم دباؤ کا سبب سمجھتے ہیں وہی اس کا حل بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ڈیجیٹل ٹولز اور ایپس ذہنی سکون پیدا کرنے، عادات بہتر بنانے اور ذہنی صحت کو ٹریک کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔یہاں کچھ مؤثر طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے: سٹریس ٹریکنگ ایپس کا استعمالآج کل کئی موبائل ایپس دستیاب ہیں جو آپ کے ذہنی دباؤ کو مانیٹر کرتی ہیں۔ یہ ایپس آپ کے روزمرہ کے معمولات، دل کی دھڑکن اور نیند کے پیٹرن کا تجزیہ کر کے بتاتی ہیں کہ آپ کس وقت زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں۔ اس معلومات کی مدد سے آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔نیند بہتر بنانے والی ٹیکنالوجینیند ذہنی سکون کے لیے انتہائی ضروری ہے۔سلیپ سائیکل اور دیگر ایپس آپ کی نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ بہتر نیند نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ کام کی کارکردگی بھی بڑھاتی ہے۔ میوزک اور ساؤنڈ تھراپیموسیقی ذہنی سکون کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مخصوص ایپس اور پلیٹ فارمز ایسے ساؤنڈز فراہم کرتے ہیں جو ذہن کو پُرسکون کرتے ہیں اور توجہ بڑھاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ موسیقی سننے سے ذہنی دباؤ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ آن لائن لرننگ اور مصروفیتخود کو مصروف رکھنا بھی دباؤ کم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ آن لائن کورسز اور سیکھنے کے مواقع ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں لگاتے ہیں جس سے منفی خیالات کم ہوتے ہیں۔ نئی مہارتیں سیکھنے سے خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔ڈیجیٹل ڈیٹاکسمسلسل کام کے دوران وقفہ لینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ دن میں چند منٹ مراقبہ (Meditation) یا سانس کی مشقیں کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ وقت کے لیے موبائل اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرنا بھی فائدہ مند ہے۔ آن لائن سپورٹکبھی کبھار ٹیکنالوجی خود پریشانی کا باعث بنتی ہے، جیسے سافٹ ویئر خرابی یا ڈیٹا کا ضائع ہونا۔ ایسے مواقع پر ٹیک سپورٹ خدمات بہت اہم ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف مسائل کو فوری حل کرتی ہیں بلکہ صارف کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہیں۔ذہنی صحت کیلئے ڈیجیٹل وسائلدنیا بھر میں مختلف ادارے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں مشاورت، مدد کے ٹولز اور ذہنی صحت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اگرچہ دنیا میں صرف ایک محدود فیصد افراد کو مناسب علاج مل پاتا ہے مگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔توازن ہی حل ہےیہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فائدہ مند۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کے انداز میں ہے۔ اگر ہم اسے متوازن طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے مثلاًسونے سے پہلے سکرین ٹائم کم کریں، غیر ضروری نوٹیفیکیشنز بند کریں، سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں، مثبت اور تعمیری مواد پر توجہ دیں۔ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو تیز اور آسان ضرور بنایا ہے مگر اس کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھا ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اس دباؤ کا مؤثر مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ سٹریس ٹریکنگ ایپس، آن لائن سپورٹ، میڈیٹیشن ٹولز اور بہتر نیند کی عادات اپنانا ایسے اقدامات ہیں جو ہمیں ذہنی سکون فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے کے بجائے اسے ایک مفید آلے کے طور پر استعمال کریں۔ یہی شعور ہمیں ایک متوازن، پرسکون اور صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔