زبان خامہ کی چند عام خامیاں

زبان خامہ کی چند عام خامیاں

اسپیشل فیچر

تحریر : طالب الہاشمی


قائمقام؟کچھ عرصہ سے ہمارے بعض صحافی دوست اپنی تحریروں میں ’’قائم مقام‘‘ کی جگہ ’’قائمقام‘‘ لکھ رہے ہیں۔ ایک ’’م‘‘ کو حذف کر دینا بِلا جواز ہے۔ ’’قائم مقام‘‘ ہی صحیح لفظ ہے۔ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی، درستگی وغیرہ؟ناراضی، حیرانی، محتاجی اور درستی کی جگہ ناراضگی، حیرانگی، محتاجگی اور درستگی لکھنا اور بولنا فصاحت اور قاعدے کے خلاف ہے۔ فارسی قاعدہ یہ ہے کہ اگر اسمِ صفت کا آخری حرف ہ (ہا) نہ ہو تو حاصل مصدر بنانے کے لئے اس کے آخر میں ی (یا) لگاتے ہیں چنانچہ ناراض، حیران، محتاج، درست وغیرہ جتنے اسمائے صفات ’’ہ‘‘ پر ختم نہیں ہوتے ان کے حاصل مصدر ناراضی، حیرانی، محتاجی، درستی بنتے ہیں۔ صرف دو لفظ ’’ادا‘‘ اور ’’کرخت‘‘ اس قاعدے سے مستثنیٰ ہیں۔ ان کے حاصل مصدر کرختی اور ادائیگی کے بجائے کرختگی اور ادائیگی بنائے گئے ہیں ورنہ اصولاً جب کسی اِسم صفت کا آخری حرف ہ ہو تو ’’ہ‘‘ کی جگہ ’’گی‘‘ لگا کر اس کا حاصل مصدر بنایا جاتا ہے مثلاً عمدہ، شستہ، مردانہ، کمینہ، نمایندہ، فرزانہ، درندہ، زندہ، فریفتہ، وارفتہ، سنجیدہ کے حال مصدر عمدگی، شستگی، مردانگی، کمینگی، نمایندگی، فرزانگی، درندگی، زندگی، فریفتگی، وارفتگی، سنجیدگی ہوں گے۔ خوامخواہ؟صحیح لفظ ’’خواہ مخواہ‘‘ جس کا مطلب ہے ’’چاہو یا نہ چاہو‘‘ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی شخص کسی دوسرے کے معاملے میں بِلاجواز یا زبردستی دخل دے۔ معلوم نہیں بعض اہلِ قلم اپنی تحریروں میں ’’خواہ‘‘ کے بعد ’’ہ‘‘ کو کیوں خذف کر دیتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
 ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ثقافتی ورثے کا عالمی دن

ماضی کی پہچان، حال کی ذمہ داری اور مستقبل کی امانت انسانی تاریخ کا ہر ورق اپنے اندر ایک داستان سموئے ہوئے ہے، اور یہی داستانیں مل کر کسی قوم کے ثقافتی ورثے کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ ثقافتی ورثہ محض قدیم عمارتوں یا آثارِ قدیمہ کا نام نہیں بلکہ یہ ہماری تہذیب، روایات، زبان، فنون اور اجتماعی شعور کا عکاس ہوتا ہے۔ تیز رفتار جدید دور میں جہاں ترقی کے نئے در کھل رہے ہیں، وہیں یہ خدشہ بھی بڑھتا جا رہا ہے کہ کہیں ہم اپنی اصل شناخت اور تاریخی جڑوں سے دور نہ ہو جائیں۔ ایسے میں ثقافتی ورثے کی اہمیت اور اس کے تحفظ کا شعور اجاگر کرنا وقت کی ایک اہم ضرورت بن چکا ہے۔دنیا بھر میں ہر سال 18 اپریل کو ثقافتی ورثے کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد انسانیت کے مشترکہ تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی ورثے کو اجاگر کرنا، اس کی حفاظت کی اہمیت کو سمجھانا اور آنے والی نسلوں کیلئے اسے محفوظ بنانا ہے۔ ثقافتی ورثہ صرف عمارتوں، قلعوں، مساجد یا آثارِ قدیمہ تک محدود نہیں بلکہ اس میں زبان، روایات، رسم و رواج، فنونِ لطیفہ، رہن سہن اور اجتماعی طرزِ زندگی بھی شامل ہیں۔ یہی وہ عناصر ہیں جو کسی بھی قوم کی شناخت اور اس کے ماضی کی عکاسی کرتے ہیں۔ثقافتی ورثہ دراصل ایک قوم کی تاریخ کا آئینہ ہوتا ہے۔ جب ہم قدیم عمارتوں، تاریخی مقامات یا روایتی فنون کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی سوچ، ان کی مہارت، ان کی جدوجہد اور ان کے طرزِ زندگی کا اندازہ ہوتا ہے۔ یہی ورثہ ہمیں اپنی جڑوں سے جوڑتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم کس عظیم روایت کے وارث ہیں۔ بدقسمتی سے جدید دور میں تیز رفتار ترقی اور شہری پھیلاؤ کے باعث یہ ورثہ خطرے سے دوچار ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جسے قدرت نے بے شمار ثقافتی اور تاریخی خزانے عطا کیے ہیں۔ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی قدیم تہذیبیں ہوں، ٹیکسلا کے آثار ہوں یا لاہور کا شاہی قلعہ اور بادشاہی مسجد، یہ سب ہمارے شاندار ماضی کے گواہ ہیں۔ اسی طرح ملک کے مختلف علاقوں میں بسنے والی اقوام کی زبانیں، ثقافتیں، لوک داستانیں، موسیقی اور دستکاری بھی ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہیں۔ یہ تنوع دراصل ہماری طاقت ہے، جسے محفوظ رکھنا ہماری قومی ذمہ داری ہے۔تاہم حقیقت یہ ہے کہ ہم اپنے اس قیمتی ورثے کی حفاظت میں وہ سنجیدگی نہیں دکھا سکے جس کی ضرورت تھی۔ کئی تاریخی عمارتیں عدم توجہی، ماحولیاتی اثرات اور غیر قانونی تعمیرات کے باعث تباہی کے دہانے پر کھڑی ہیں۔ اسی طرح ہماری روایتی زبانیں اور فنون بھی جدیدیت کی دوڑ میں پیچھے رہتے جا رہے ہیں۔ نوجوان نسل مغربی ثقافت سے متاثر ہو کر اپنی روایات سے دور ہوتی جا رہی ہے، جو ایک تشویشناک امر ہے۔ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ تاریخی مقامات کی بحالی، دیکھ بھال اور تحفظ کیلئے مؤثر پالیسیاں بنائے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروائے۔ سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان مقامات کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا جائے تاکہ یہ صرف آمدنی کا ذریعہ نہ بنیں بلکہ اپنی اصل حالت میں محفوظ بھی رہیں۔تعلیمی اداروں کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ نصاب میں ثقافتی ورثے کی اہمیت کو شامل کیا جائے اور طلبہ کو اپنے ماضی سے روشناس کروایا جائے۔ اسکولوں اور کالجوں میں ثقافتی تقریبات، لوک موسیقی کے پروگرام اور تاریخی مقامات کے مطالعاتی دورے منعقد کیے جائیں تاکہ نئی نسل میں اپنی ثقافت کے حوالے سے شعور پیدا ہو۔عوامی سطح پر بھی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہر فرد کو یہ احساس ہونا چاہیے کہ ثقافتی ورثہ کسی ایک ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ہم سب کی مشترکہ امانت ہے۔ اگر ہم اپنے تاریخی مقامات کو صاف ستھرا رکھیں، ان کی بے حرمتی سے بچیں اور اپنی روایات کو زندہ رکھیں تو ہم اس ورثے کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔میڈیا بھی اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ٹی وی، اخبارات اور سوشل میڈیا کے ذریعے ثقافتی ورثے کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے اور لوگوں کو اس کے تحفظ کی ترغیب دی جائے۔ مثبت مہمات اور آگاہی پروگرام اس سلسلے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔ثقافتی ورثے کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں ہمیں اپنے ماضی کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ جدیدیت اور روایت کے درمیان توازن قائم رکھنا ہی دانشمندی ہے۔ اگر ہم نے اپنے ورثے کو نظر انداز کیا تو ہم اپنی شناخت کھو بیٹھیں گے، اور ایک ایسی قوم بن جائیں گے جس کا کوئی ماضی نہیں ہوگا۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ثقافتی ورثہ صرف پتھروں، عمارتوں یا اشیاء کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ہماری روح، ہماری پہچان اور ہماری تاریخ ہے۔ اسے محفوظ رکھنا دراصل اپنے وجود کو محفوظ رکھنا ہے۔ آئیے اس عالمی دن کے موقع پر یہ عہد کریں کہ ہم اپنے ثقافتی ورثے کی حفاظت کریں گے، اسے فروغ دیں گے اور آنے والی نسلوں تک اسے پوری شان و شوکت کے ساتھ منتقل کریں گے۔

دیوہیکل کدوکیسے اُگا!

دیوہیکل کدوکیسے اُگا!

ماہرین نے راز افشا کر دیاجیسے جیسے دن لمبے ہوتے جاتے ہیں اور شمالی نصف کرے میں بہار کی آمد کے ساتھ درجہ حرارت بڑھنے لگتا ہے، بہت سے باغبان اس بات پر غور کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ اس سال وہ کون سے پھل اور سبزیاں اُگانے کی کوشش کریں۔ وہ باغبان جو عالمی ریکارڈ کے برابر یا اس سے بڑا نمونہ پیدا کرنے کے خواہشمند ہوتے ہیں، ان کیلئے یہ انتخاب محض پسند یا ذائقے تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس میں کئی مزید عوامل اور پیچیدہ پہلوؤں کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔جب غیر معمولی سائز کے پھلوں اور سبزیوں کی دنیا کی بات کی جائے تو ان میں دیوہیکل کدو (Giant Pumpkins) سب سے نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ حیرت انگیز کدو ایک چھوٹے سے بیج سے شروع ہو کر ایک چھوٹی گاڑی جتنے بڑے ہو سکتے ہیں، اور ان کو اگانے والے انسانوں کو بھی اپنے سائز سے کہیں زیادہ بڑا کر دیتے ہیں۔''ہیویسٹ کدو‘‘ اور گھیر (circumference) کے لحاظ سے سب سے بڑے کدو کے موجودہ عالمی اعزازات ایک ہی دیوہیکل نمونے کے نام ہیں، جسے پیار سے ''Muggle‘‘ کا نام دیا گیا تھا۔ یہ غیر معمولی کدو 2025ء میں برطانیہ میں کاٹا گیاتھا۔اس ایک ہی کدو نے دونوں عالمی ریکارڈ اپنے نام کر کے دیوہیکل کدو اگانے کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی تھی۔ اس کی غیر معمولی بڑھوتری، دیکھ بھال اور نتائج نے ماہر باغبانوں کیلئے ایک نئی مثال قائم کی ہے اور یہ ثابت کیا ہے کہ صحیح محنت اور تجربے سے قدرتی پیداوار میں حیرت انگیز نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ریکارڈ یافتہ کدو اُگانے اور مقامی و قومی سطح پر متعدد انعامات حاصل کرنے والے برطانیہ کے جڑواں بھائی ایان اور سٹورٹ پیٹن کے ریکارڈ سازکدو کا 6 اکتوبر 2025ء کو وزن کیا گیا تو اس کا وزن 1,278.8 کلوگرام نکلا، جبکہ اس کا گھیر 649.8 سینٹی میٹر (255.8 انچ، 21 فٹ 3.8 انچ) ریکارڈ کیا گیا۔''Muggle‘‘ کے یہ غیر معمولی اعداد و شمار عالمی سطح پر مقابلہ جاتی باغبانی کے ادارے کے نمائندوں نے باقاعدہ طور پر تسلیم کیے۔پیٹن بھائیوں سے پہلے امریکی زرعی ماہر اور انسٹرکٹر ٹریوس جینگر نے دو سال تک یہ عالمی اعزاز اپنے پاس رکھا۔ ان کے دیوہیکل کدو کو انہوں نے ابتدائی بڑھوتری کے دوران اس کی باسکٹ بال جیسی شکل کی وجہ سے ''مائیکل جارڈن‘‘ کا نام دیا تھا۔ یہ کدو کا 9اکتوبر 2023ء کو امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں منعقدہ چیمپئن شپ میں پیش کیا گیا، جہاں اس کا وزن 2,749 پاؤنڈ (1,246.9 کلوگرام) ریکارڈ کیا گیا۔بہار کی آمد کے ساتھ جب فضا میں نئی تازگی محسوس ہونے لگتی ہے تو وہ افراد جو عالمی ریکارڈ توڑنے والے کدو اگانے کا خواب رکھتے ہیں، اپنی منصوبہ بندی شروع کر دیتے ہیں۔ اس حوالے سے ورلڈ ریکارڈز کی تنظیم گنیز ورلڈ ریکارڈ نے برطانیہ کے ایان پیٹن اور امریکہ کے ٹریوس جینگر سے مشورے حاصل کیے کہ نوآموز افراد کہاں سے آغاز کریں اور کن مراحل پر عمل کر کے اپنے کدو کو بہترین ممکنہ حد تک بڑھا سکتے ہیں۔خوش قسمتی سے باغبانی کی دنیا میں بیجوں کی شیئرنگ کا رجحان کافی عام اور دوستانہ ہے۔ ایان پیٹن کے مطابق''اچھی جینیات والے بیج اکثر مفت آن لائن مل جاتے ہیں، اور میں خود بھی ابتدائی چند سال یہی طریقہ اپناتا رہا ہوں۔ بعد میں جب تجربہ بڑھ جائے تو آپ پچھلے ریکارڈ ہولڈرز کے بیج حاصل کر سکتے ہیں، جو عموماً قیمت ادا کر کے لینے پڑتے ہیں‘‘۔ٹریوس جینگر بھی اس بات سے متفق ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں بہت سے ایسے باغبان موجود ہیں جو صرف ڈاک کے خرچ کے عوض بیج فراہم کر دیتے ہیں۔ اگر آپ پہلی بار کوشش کر رہے ہیں تو ایسے بیج تلاش کریں جن کی جینیات بڑے کدوؤں سے منسلک ہو۔ زیادہ تر تجربہ کار باغبان یہ معلومات شیئر کرنے میں ہچکچاتے نہیں۔ایک بار جب آپ بیج حاصل کر لیتے ہیں تو اگلا بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ انہیں کب بویا جائے اور کن حالات میں ان کی بہترین نشوؤنما ممکن ہے؟ٹریوس کے مطابق اس پورے عمل کے آغاز کیلئے ان کے پاس ایک بالکل مخصوص تاریخ موجود ہوتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں اپنے بیج 10 اپریل کو گھر کے اندرلگانا شروع کرتا ہوں۔ اس کے بعد میں انہیں تقریباً دو ہفتے تک اندر ہی بڑھنے دیتا ہوں، پھر انہیں باہر منتقل کر دیتا ہوں۔وہ مزید وضاحت کرتے ہیں کہ چونکہ وہ ایک نسبتاً ٹھنڈے موسم والے علاقے میں رہتے ہیں، اس لیے نوجوان پودوں کی حفاظت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ صرف سردی ہی نہیں بلکہ دیگر عوامل جیسے تیز ہوا، جانور، طوفان اور حتیٰ کہ بہت زیادہ تیز دھوپ بھی نازک پودوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے ابتدائی مرحلے میں مکمل حفاظت اور کنٹرولڈ ماحول ان کی کامیابی کا بنیادی راز ہے۔ایان مشورہ دیتے ہیں کہ اگر آپ کدو کو اندر ہی پورے سیزن کیلئے اگانا چاہتے ہیں تو بیج مارچ کے آخر میں بو دیں۔ اگر آپ نے انہیں بعد میں باہر منتقل کرنا ہے تو اپریل کے آخر یا مئی کے آغاز میں بوائی کریں۔ بیجوں اور بعد میں اگنے والے ننھے پودوں کو بہتر نشوؤنما دینے کیلئے آپ کیا کر سکتے ہیں؟ ایان کے مطابق اس مرحلے پر صحیح طریقہ کار بہت اہم ہوتا ہے۔وہ مزید کہتے ہیں کہ جب پودے میں پہلا پتہ ظاہر ہو جائے تو انہیں باہر منتقل کر دینا چاہیے۔ ٹریوس بھی اسی طرح کا طریقہ اپناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں پودوں کو اندر تقریباً 85°F (29°C) درجہ حرارت، نمی والے اور مناسب روشنی والے ماحول میں شروع کرتا ہوں۔ میں اچھی کوالٹی کی پوٹنگ مٹی استعمال کرتا ہوں جس میں زیادہ کھاد نہیں ہوتی۔ نہ زیادہ گیلا اور نہ زیادہ خشک، بلکہ ہلکی نمی والی حالت بہترین رہتی ہے۔ فلورو سینٹ لائٹ جو پودوں کے قریب رکھی جائے سستی اور مؤثر ہوتی ہے۔جتنا بڑا گملہ ہوگا، شروع میں اتنا ہی بہتر ہے۔ بہت سے لوگ چھوٹے کپ استعمال کرتے ہیں، لیکن اس میں جڑیں بہت تیزی سے پھیلتی ہیں اور جگہ کم پڑ جاتی ہے۔اگر پودے کو شروع میں کچھ دینا ہو تو ہلکی مقدار میں فش یا سی ویڈ (seaweed) استعمال کریں، یعنی آدھی مقدار سے آغاز کریں اور آہستہ آہستہ بڑھائیں۔آج کل حیاتیاتی عناصر (biologicals) بھی بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔یہ مٹی میں موجود غذائی اجزاء کو بہتر طور پر استعمال کرنے میں مدد دیتے ہیں اور پودے کی نشوونما کو مؤثر بناتے ہیں۔

آج کا دن

آج کا دن

پہلی ایشیائی افریقی کانفرنس 18اپریل 1955ء میں انڈونیشیا کے شہر بانڈونگ میں ایشیا اور افریقہ کے انتیس ممالک کا ایک تاریخی اجتماع منعقد ہوا، جسے پہلی ایشیائی افریقی کانفرنس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کانفرنس کا مقصد نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، عالمی امن کے فروغ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانا تھا۔ اس اہم اجلاس میں مختلف ممالک کے رہنماؤں نے شرکت کی اور مشترکہ مسائل، جیسے معاشی ترقی، سیاسی خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔ کانفرنس نے عالمی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز کیا۔ ''پیس آف لیوبن‘‘ 1797ء میں پہلی اتحادی جنگ کے دوران آج کے روز ایک اہم پیش رفت سامنے آئی جب نپولین بوناپارٹ اور میگزیمیلین، کاؤنٹ آف میر ویلڈٹ کے درمیان امن معاہدہ ''پیس آف لیوبن‘‘ طے پایا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں فرانس اور آسٹریا کے درمیان جنگ بندی عمل میں آئی، جس نے دونوں طاقتوں کے درمیان جاری طویل اور خونی تنازع کو عارضی طور پر روک دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں ہونے والے معاہدہ کیمپو فارمیو کی بنیاد بنا، جس کے ذریعے پہلی اتحادی جنگ کا باقاعدہ خاتمہ ممکن ہوا۔ ایتھوپیا فضائی حادثہ1972ء میں آج کے روز ''ایسٹ افریقن ایئر ویز، فلائٹ 720‘‘ایک افسوسناک حادثے کا شکار ہوئی۔ پرواز کے دوران کسی تکنیکی خرابی یا ہنگامی صورتحال کے باعث پائلٹ نے جہاز کو روکنے کی کوشش کی، تاہم رفتار زیادہ ہونے کے باعث طیارہ قابو میں نہ رہ سکا۔ اس ہولناک حادثے میں 43 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ یہ حادثہ ہوابازی کی تاریخ کے افسوسناک واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ترکی میں خواتین کی عالمی کانفرنس18 اپریل 1935ء کو آج کے دن ترکی میں خواتین کی 12 ویں عالمی کانگریس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانگریس کو اتاترک کی بھی حمایت حاصل تھی۔سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ترکی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور ملک کے بہت سے معاملات کو مختلف انداز میں تبدیل کیا گیا۔اس کانگریس میں خواتین کے حقوق،مساوات اور ان کی اقتصادی و سیاسی شعبوں میں اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔اس کانگریس میں مصر،فرانس،رومانیہ اور آسٹریا سمیت 30 ممالک سے 210 نمائندوں نے شرکت کی۔امریکہ میں شدید زلزلہ 18 اپریل، 1906ء کو صبح 5بجکر 12منٹ پر امریکی ریاست شمالی کیلیفورنیا کے ساحل پر ایک بڑے زلزلے نے تباہی مچائی۔اس زلزلے کی شدت 7.9 تھی ۔ زلزلے کے نتیجے میں شہر میں تباہ کن آگ بھڑک اٹھی اور کئی دنوں تک جاری رہی جس کی وجہ سے 3ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔ سان فرانسسکو شہر 80 فیصد سے زیادہ تباہ ہو گیا۔ ان واقعات کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی تاریخ کے بدترین اور مہلک ترین حادثات میں شمار کیا جاتا ہے۔جامعہ الاباما کا قیام18اپریل 1831ء کوجامعہ الاباماکا قیام عمل میں آیا۔ یہ جامعہ ریاست الاباما کی قدیم اور نمایاں تعلیمی درسگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جس نے اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ اپنے قیام کے بعد سے یہ ادارہ مختلف شعبہ جات میں تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں سے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ نے سیاست، سائنس، ادب اور دیگر میدانوں میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

بیساکھی: زرعی ثقافت کا تہوار

بیساکھی: زرعی ثقافت کا تہوار

بیساکھی برصغیر کی ایک قدیم اور رنگا رنگ تہذیبی و مذہبی روایت ہے جو ہر سال اپریل کے وسط میں منائی جاتی ہے۔ یہ تہوار خاص طور پر پنجاب کے خطے میں نہایت جوش و خروش سے منایا جاتا ہے اور اس کی جڑیں زرعی، ثقافتی اور مذہبی روایات میں گہرائی تک پیوست ہیں۔ بیساکھی نہ صرف سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے ایک اہم دن ہے بلکہ یہ کسانوں کے لیے بھی خوشی کا موقع ہوتا ہے کیونکہ اس دن ربیع کی فصل، خاص طور پر گندم کی کٹائی مکمل ہوتی ہے۔بیساکھی دراصل فصلوں کا تہوار ہے جو بہار کے موسم میں نئی پیداوار کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ بیساکھی کا لفظ دیسی مہینے بیساکھ سے نکلا ہے جسے نئے سال کے آغاز کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔ یوں یہ دن ایک نئے دور، نئی امیدوں اور خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔بیساکھی کی اہمیت مختلف طبقات کے لیے مختلف ہے۔ کسانوں کے لیے یہ دن محنت کے صلے کے طور پر منایا جاتا ہے جب وہ اپنی فصل کاٹ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ یہ خوشی، شکرگزاری اور جشن کا موقع ہوتا ہے۔سکھ برادری کے لیے بیساکھی کی مذہبی اہمیت اور بھی زیادہ ہے۔ 1699ء میں اس دن سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ نے خالصہ پنتھ کی بنیاد رکھی تھی۔ اس واقعے نے سکھ مذہب کو ایک نئی شناخت اور قوت عطا کی۔ خالصہ پنتھ کے قیام کا مقصد سکھوں کو ایک منظم، باہمت اور خودمختار قوم بنانا تھا ۔تاریخی پس منظربیساکھی کی تاریخ صدیوں پرانی ہے اور اس کا تعلق قدیم ہندوستانی تہذیب سے ہے۔ ابتدا میں یہ ایک زرعی تہوار تھا مگر وقت کے ساتھ ساتھ اس میں مذہبی رنگ بھی شامل ہوتا گیا۔ سکھ تاریخ میں 1699ء کی بیساکھی کو ایک سنگ میل کی حیثیت حاصل ہے جب آنند پور صاحب میں ایک عظیم اجتماع کے دوران گرو گوبند سنگھ نے پانچ پیاروں کو منتخب کیا اور خالصہ پنتھ کا اعلان کیا۔اس کے علاوہ بیساکھی کا دن برصغیر کی تاریخ میں ایک اور اہم واقعے سے بھی جڑا ہے۔ 1919ء میں اسی دن جلیانوالہ باغ میں قتل عام کا اندوہناک واقعہ پیش آیا جب برطانوی فوج نے نہتے مظاہرین پر فائرنگ کر کے سینکڑوں افراد کو شہید کر دیا۔ اس سانحے نے آزادی کی تحریک کو مزید تقویت دی اور بیساکھی کے دن کو ایک دردناک یادگار بھی بنا دیا۔ بیساکھی کی اہمیت کئی پہلوؤں پر مشتمل ہے۔یہ دن کسانوں کے لیے خوشی اور جشن کا موقع ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی محنت کا پھل حاصل کرتے ہیں۔ گندم کی سنہری فصلیں جب کھیتوں میں لہلہاتی ہیں تو یہ منظر خوشحالی کی علامت بن جاتا ہے۔ سکھ برادری کے لیے یہ دن نہایت مقدس ہے۔ گردواروں میں خصوصی دعائیں، کیرتن اور لنگر کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لوگ روحانی سکون حاصل کرنے کے لیے عبادات میں مصروف رہتے ہیں۔ ثقافتی اہمیتبیساکھی پنجاب کی ثقافت کا آئینہ دار ہے۔ اس دن لوگ روایتی لباس پہنتے ہیں، بھنگڑا اور گِدا جیسے رقص کرتے ہیں اور لوک گیت گاتے ہیں۔ میلوں ٹھیلوں کا انعقاد ہوتا ہے جہاں مختلف کھیل، کھانے اور ثقافتی سرگرمیاں پیش کی جاتی ہیں۔آج کے دور میں بیساکھی کی ثقافتجدید دور میں بیساکھی کی ثقافت نے ایک عالمی شکل اختیار کر لی ہے۔ پاکستان،بھارت، برطانیہ، کینیڈا اور دیگر ممالک میں جہاں بھی پنجابی اور سکھ برادری آباد ہے وہاں یہ تہوار بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں خاص طور پر ننکانہ صاحب اور حسن ابدال جیسے مقامات پر سکھ یاتری بڑی تعداد میں آتے ہیں اور اپنی مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان کی جانب سے اس موقع پر خصوصی انتظامات کئے جاتے ہیں تاکہ زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔بیساکھی کے میلوں میں روایتی کھانے جیسے مکئی کی روٹی، سرسوں کا ساگ، لسی اور مٹھائیاں خاص طور پر پیش کی جاتی ہیں۔ نوجوان نسل اس تہوار کو اپنی ثقافت سے جڑنے کے ایک موقع کے طور پر دیکھتی ہے جبکہ بزرگ اس میں اپنی روایات کی جھلک محسوس کرتے ہیں۔سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دور نے بھی بیساکھی کی تقریبات کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا ہے۔ لوگ اپنی خوشیوں، تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے اس تہوار کو دنیا بھر میں متعارف کراتے ہیں جس سے ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے۔بیساکھی ایک ایسا تہوار ہے جو صرف ایک دن کی خوشی نہیں بلکہ صدیوں پرانی روایت، محنت کی قدر، مذہبی عقیدت اور ثقافتی رنگینیوں کا مجموعہ ہے۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں محنت، شکرگزاری اور اتحاد کتنے اہم ہیں۔ آج کے جدید دور میں بھی بیساکھی اپنی اصل روح کے ساتھ زندہ ہے اور مختلف ثقافتوں کو قریب لانے کا ذریعہ بن رہی ہے۔

کوانٹم کمپیوٹرز

کوانٹم کمپیوٹرز

کیا ہماری ڈیجیٹل سکیورٹی خطرے میں ہے؟سائنس اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نئی بحث تیزی سے زور پکڑ رہی ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز کیاانکریپشن(Encryption) کو توقع سے کہیں زیادہ جلد توڑ سکتے ہیں؟ حالیہ سائنسی رپورٹس اور تحقیقاتی مضامین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ وقت جسے ماہرینQ-Day کہتے ہیں، ہماری توقع سے کہیں زیادہ قریب آ سکتا ہے۔موجودہ انکرپشن کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتی ہے؟آج کی ڈیجیٹل دنیا،چاہے وہ بینکنگ ہو، سوشل میڈیا، ای میلز یا آن لائن خریداریزیادہ تر پبلک کی کرپٹوگرافی پر انحصار کرتی ہے۔ اس میں RSA اورElliptic curve جیسے طریقے شامل ہیں۔ ان کا بنیادی اصول یہ ہے کہ ایک پیچیدہ ریاضیاتی مسئلہ کو حل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے خاص طور پر جب اعداد بہت بڑے ہوں۔روایتی کمپیوٹرز کے لیے ایسے مسائل کو حل کرنا عملی طور پر ناممکن ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی ہیکر کسی بینک کے سسٹم کو توڑنے کی کوشش کرے تو اسے اربوں سال لگ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اعتماد کے ساتھ آن لائن لین دین کرتے ہیں۔کوانٹم کمپیوٹرز کیوں مختلف ہیں؟کوانٹم کمپیوٹرز روایتی کمپیوٹرز سے بالکل مختلف اصولوں پر کام کرتے ہیں۔ عام کمپیوٹرز بِٹس استعمال کرتے ہیں جو یا تو 0 ہوتے ہیں یا 1۔ لیکن کوانٹم کمپیوٹرز کیوبٹس (Qubits) استعمال کرتے ہیں جو بیک وقت 0 اور 1 دونوں حالتوں میں ہو سکتے ہیں۔ اس خصوصیت کو سپرپوزیشن کہا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کوانٹم کمپیوٹرز اینٹینگلمنٹ نامی خاصیت بھی رکھتے ہیں جس کے ذریعے مختلف کیوبٹس ایک دوسرے سے جڑے رہتے ہیں اور پیچیدہ حسابات کو بیک وقت انجام دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کچھ مخصوص مسائل کو انتہائی تیزی سے حل کر سکتے ہیں۔اصل خطرہ کہاں ہے؟کوانٹم کمپیوٹرز کی سب سے بڑی طاقتShor's algorithm جیسے الگورتھمز میں ہے جو بڑی عددی فیکٹرائزیشن کو بہت کم وقت میں حل کر سکتے ہیں۔ یہی وہ مسئلہ ہے جس پر موجودہ انکرپشن سسٹمز کی بنیاد ہے۔ماضی میں ماہرین کا خیال تھا کہ اس سطح کی طاقت حاصل کرنے کے لیے لاکھوں کیوبٹس درکار ہوں گے لیکن نئی تحقیق نے یہ اندازہ بدل دیا ہے۔ اب سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ صرف 10,000 سے 100,000 کیوبٹس ہی کافی ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ کوانٹم کمپیوٹرز ہماری توقع سے کہیں پہلے اس قابل ہو سکتے ہیں۔Q-Day کیا ہے؟Q-Dayوہ دن، جب کوانٹم کمپیوٹرز موجودہ انکرپشن کو توڑنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کچھ نئی پیش گوئیوں کے مطابق یہ دن 2029 ء سے 2032ء کے درمیان آ سکتا ہے۔اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات بہت وسیع ہوں گے۔اس سے بینکنگ سسٹمز خطرے میں پڑ سکتے ہیں،حکومتی اور فوجی راز افشا ہو سکتے ہیں کرپٹو کرنسی، جیسے بٹ کوائن کی سکیورٹی متاثر ہو سکتی ہے،انٹرنیٹ پر محفوظ مواصلات غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔Harvest now, decrypt later(HNDL)کا خطرہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہیکرز آج ہی انکرپٹڈ ڈیٹا کو چوری کر کے محفوظ کر سکتے ہیں اور جب کوانٹم کمپیوٹرز دستیاب ہوں گے تو اسے آسانی سے ڈی کرپٹ کر لیں گے۔یعنی آج جو معلومات محفوظ سمجھی جا رہی ہیں وہ مستقبل میں غیر محفوظ ہو سکتی ہیں۔ اس میں سرکاری دستاویزات، مالی ریکارڈز اور ذاتی ڈیٹا شامل ہو سکتا ہے۔کیا فوری خطرہ ہے؟فی الحال کوانٹم کمپیوٹرز ابھی اتنے طاقتور نہیں ہیں کہ عملی طور پر بڑے پیمانے پر انکرپشن کو توڑ سکیں۔ موجودہ کوانٹم مشینیں محدود صلاحیت رکھتی ہیں اور ان میں بہت سی تکنیکی رکاوٹیں موجود ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ترقی کی رفتار بہت تیز ہے۔ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اور حکومتیں اس میدان میں بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں جس سے یہ پیش رفت تیزی سے ممکن ہو سکتی ہے۔حل کیا ہے؟خوش آئند بات یہ ہے کہ سائنسدان اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی کام کر رہے ہیں۔ ایک نیا میدان Post-quantum cryptography(PQC)کے نام سے ابھر رہا ہے۔ اس میں ایسے انکرپشن سسٹمز تیار کیے جا رہے ہیں جو کوانٹم حملوں کے خلاف محفوظ ہوں۔امریکہ اور دیگر ممالک میں اس حوالے سے نئے سٹینڈرڈز بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ مستقبل میں ڈیجیٹل سکیورٹی کو برقرار رکھا جا سکے۔کوانٹم کمپیوٹرز بلاشبہ مستقبل کی ایک انقلابی ٹیکنالوجی ہیں لیکن ان کے ساتھ جڑے نئے خطرات بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ دنیا اس خطرے سے آگاہ ہو چکی ہے اور اس کے حل کے لیے اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ تاہم وقت گزرتا جا رہا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ہماری ڈیجیٹل دنیا کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔یوں کہا جا سکتا ہے کہ ہم ایک ایسے دور کے دہانے پر کھڑے ہیں جہاں سکیورٹی اور ٹیکنالوجی کے درمیان ایک نئی دوڑ شروع ہو چکی ہے اور اس دوڑ کا نتیجہ ہماری ڈیجیٹل زندگیوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

آج کا دن

آج کا دن

میکڈونلڈز کی پہلی فرنچائز15 اپریل 1955ء کو رے کراک نے میکڈونڈلڈز کی پہلی فرنچائز امریکی ریاست الینوائے میں ڈیس پلینزمیں قائم کی۔ اگرچہ میکڈونلڈز کی بنیاد 1940ء میں رچرڈ اور مورس میکڈونلڈ نے رکھی تھی لیکن اس کی عالمی کامیابی کا سہرا رے کراک کے سر جاتا ہے۔رے کراک نے اس کاروباری ماڈل کو ایک منظم فرنچائز سسٹم میں تبدیل کیا۔ ان کی حکمت عملی میں تیز سروس، محدود مینو اور کم قیمتیں شامل تھیں۔ اس نے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کی شکل بدل دی اور جدید کاروباری فرنچائزنگ ماڈل کو فروغ دیا۔اپالو 13 مشن کی واپسی15 اپریل 1970ء کو ناسا کا خلائی مشن اپالو 13 ایک بڑے حادثے سے بچتے ہوئے زمین کی طرف واپسی کے لیے اہم مرحلے میں داخل ہوا۔ یہ مشن 11 اپریل کو چاند کی طرف روانہ ہوا تھا مگر 13 اپریل کو ایک آکسیجن ٹینک میں دھماکے کے باعث شدید مسائل کا شکار ہو گیا۔خلاباز جم لوول، جیک سویگرٹ اور فریڈ ہائز نے انتہائی محدود وسائل میں اپنی جان بچانے کے لیے غیر معمولی ہمت اور ذہانت کا مظاہرہ کیا۔ اس واقعے کو خلائی تاریخ میں ناکامی میں کامیابی کی ایک بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔ ہلزبرو سٹیڈیم حادثہ15 اپریل 1989ء کو انگلینڈ کے شہر شیفلڈ میں واقع ہلز برو سٹیڈ یم میں ایک ہولناک حادثہ پیش آیا جس میں 96 فٹبال شائقین ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ حادثے کی بنیادی وجہ سٹیڈیم میں زیادہ ہجوم اور ناقص انتظامات تھے۔ پولیس نے شائقین کو ایک محدود حصے میں داخل ہونے کی اجازت دی جس سے شدید دباؤ پیدا ہوا اور لوگ ایک دوسرے کے نیچے دب گئے۔ اس سانحے نے برطانیہ میں کھیلوں کے میدانوں کی سکیورٹی پر سنجیدہ سوالات اٹھائے۔بعد ازاں یہ ثابت ہوا کہ حادثے کی ذمہ داری انتظامیہ اور پولیس کی غفلت تھی۔بوسٹن میراتھن دھماکے15 اپریل 2013 ء کو امریکہ کے شہر بوسٹن میں ہونے والی مشہوربوسٹن میراتھن کے اختتامی لمحات میں دو زور دار دھماکے ہوئے جنہوں نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ دھماکے فِنش لائن کے قریب ہوئے جہاں سینکڑوں افراد موجود تھے، جن میں کھلاڑیوں کے اہلِ خانہ، شائقین اور میڈیا نمائندگان شامل تھے۔ان حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ 260 سے زائد زخمی ہوئے جن میں کئی افراد کے اعضا متاثر ہوئے۔ نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں آگ15 اپریل 2019ء کو فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی گرجا گھر نوٹرے ڈیم کیتھیڈرل میں اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس نے اس عظیم الشان عمارت کو شدید نقصان پہنچایا۔ یہ کیتھیڈرل 12ویں صدی میں تعمیر ہوا تھا اور یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تھا۔آگ کے باعث عمارت کی چھت اور مینار گر کر تباہ ہو گئے تاہم فائر فائٹرز کی بروقت کارروائی سے مرکزی ڈھانچہ اور کئی قیمتی نوادرات محفوظ رہے۔ فرانسیسی حکومت نے فوری طور پر اس کی بحالی کا اعلان کیا اور دنیا بھر سے اس کے لیے اربوں یورو کے عطیات موصول ہوئے۔