دفتری سیاست سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے

دفتری سیاست سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالستار ہاشمی


کھانے کی میز ہو یاسٹڈی روم، سفرہو یا کوئی محفل زیادہ تر بات چیت کا محور سیاست ہی ہوتا ہے، عام طورپر سیاست سے مراد وہ کاروبار ہائے ریاست ہے جس میں پالیسیوں کی تعریف سے تنقید تک سیرحاصل گفتگو کی جاتی ہے اور اسی سیاست سے اقتدار چھینے جاتے ہیں، تختوں پر قبضے کیے جاتے ہیں لیکن سیاست کا یہ مفہوم اتنا محدود نہیں ہے۔ ریاست کے علاوہ بھی سیاست کام کرتی ہے۔ گھروں میں سیاست، دوستوں میں سیاست اور سب سے بڑھ کر دفاتر میں سیاست ہوتی ہے۔ ہر ادارے ، تنظیم اورمحکمے میں اس کی موجودگی اور اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں اور اپنا الو سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہی سیاست ہے۔ آج شائقین کی دلچسپی اور متاثرہ افراد کیلئے اس مضمون میں کچھ عوامل پر بحث کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ دفاتر کی سیاست کی آلودگی سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔-1کچھ بولنے سے پہلے سوچیےکسی ادارے یا دفتر میں ہونے والی سیاست کے مضر اثرات سے بچائو کا ایک بہترین حل یہ ہے کہ اپنی گفتگو کو محدود اور مدلل رکھیں۔ کچھ بھی کہنے سے قبل اس پر دومرتبہ نظرثانی کریں اور نتائج کا سوچ کر بولیں۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور اس پر حاسدین آپ کی سوچ سے بھی بڑے کاریگر ہوتے ہیں۔ آپ کے کہے ہوئے الفاظ کسی طرح مفہوم بدل کر آگے بیان کیے جاتے ہیں اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک اصطلاح بہت برے نتائج کی حامل ہوتی ہے اور وہ ہے زبان کا پھسلن۔ یعنی ایسے الفاظ کا ادا ہونا جس میں آپ کی سوچ اور مرضی شامل نہیں ہے لیکن فرط جذبات میں بہہ کرمنہ سے نکل گئے ہیں۔ دفاتر میںسیاست کا ایک پرزہ یہ استعمال ہوتا ہے کہ آپ کے ماتحت یا سپروائزر کو یہ فریضہ سونپا گیا ہوتا ہے کہ آپ پر نظر رکھیں اور جو رپورٹ اس ضمن میں آگے جائے گی وہ مشکلات کا سبب بنے گی۔ لہٰذا ان تمام خطرات اور خدشات سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے کہ کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیں۔-2 تعلقات مضبوط بنائیےاگر آپ دفتر میں اپنے آپ کو سیاست کے گھیرائو سے پرے رکھنا چاہتے ہیں تو ان تمام لوگوں سے اپنے تعلقات کی نہ صرف تجدید کریں بلکہ انہیںمضبوط بھی بنائیں جو کرتا دھرتا ہوتے ہیں۔ ان تعلقات کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ پاور پولیٹکس کرنا چاہتے ہیں یا کسی عہدے کیلئے جتن کر رہے ہیں بلکہ تعلقات بنانے کا یہ عمل آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف ہونے والی سازش کو توڑنے میں کام آئے گا۔ کسی ایسے گروپ میں اپنی موجودگی کو ثابت کرنا ضروری ہے جو تمام فیصلوں پراثرانداز ہوسکتا ہو۔ ایسے طاقتور لوگوں کو ہلکی پھلکی دعوت پر بلائیں۔ چائے کی میز پران کے پسندیدہ موضوع پر بحث کریں۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ خوشامد پر اتر آئیں صرف یہ ہے کہ انہیں لگے کہ آپ اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنا پر ان کے قریب اور وفادار ہیں۔ اس طرح دفتری سیاست کی نذر ہونے سے بچے رہیں گے۔-3اپنے ابلاغ کو فروغ دیںاگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ دوسروں کی مدد لینے کی بجائے دوسروں کے مددگار ثابت ہوں اور دفتر کی اندرونی سیاست میں اپنا کردار نبھائیں تو پھراپنی گفتگو کو بڑھائیں۔ آپ کی بات میں وزن ہونا چاہیے۔ اور دلائل ایسے کہ مخالف راضی ہوئے بغیر نہ اٹھے اس کیلئے تھوڑی لیکن وزن دار بات کرنے کی مشق کریں اور یہ دھاک بیٹھ جائے کہ کسی بھی موضوع پر آپ سے بہتر کوئی بول نہیں سکتا۔ دفتری مسائل کو حل کرانے کیلئے طے پائی جانے والی میٹنگز میں آپ کا ہونا ضروری سمجھا جائے۔ آپ بے شک عہدوں کی سیاست نہ کریں نہ ہی کسی دھڑے کا حصہ بنیں لیکن اپنے ابلاغ کو فروغ دیں لہجہ شیرنی ہو اور ماتھے پر شکنوں کی بجائے خوش آمدید کا تاثر ہو۔ اس کا سب سے بڑافائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو ایک معزز ہونے کا خطاب ملے گا اور اس طرح آپ نہ صرف خود ان الجھے امور سے دور رہ پائیں گے بلکہ دوسروں کو بھی دور رکھ سکیں گے۔-4 اپنے رویے میں اعتدال رکھیں یہ ایک حقیقت ہے کہ اداروں میں ہونے والی سیاست نہ صرف آپ کو آپ کے عہدے سے محروم کرسکتی ہے بلکہ الجھن اور تنائو کا ایک اچھا ماحول پیدا کرتی ہے۔ جس سے آپ کی صحت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں آپ کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے اور تمام معاملات کو افہام تفہیم سے نمٹائیں اور اپنے رویے کو ہمیشہ اعتدال میں رکھیں۔ بہت مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ انسان تنائو کا شکار ہو کر پھٹ پڑتا ہے اور منہ میں جو آتا ہے بول دیتا ہے۔ منہ سے نکلے الفاظ واپس نہیں آتے جس کا نقصان بہرحال بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی سے بھی اختلاف رائے ہو جائے تو اس سے بات کرتے وقت الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتیں۔ اس سے مخالف کی سوچ تبدیل ہوسکتی ہے۔-5 گپ شپ میں بہک نہ جائیےدفاتر میں ہونے والی گپ شپ سیاست کا تعین کرتی ہے۔ بعض اوقات حراساں کرنے کیلئے خوفناک نتائج پر مبنی کہانیاں سننے میں ملتی ہیں۔ ایسی تمام باتوں میں اکثریت افواہوں کی ہوتی ہیں جو ڈرانے کیلئے اڑائی جاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ فوراً افواہ کی تصدیق کریں۔ تصدیق کیلئے اگر آپ کو اپنے مخالف کے پاس بھی جانا پڑے تو گریزاں نہ ہوں۔ ایسی کسی معلومات پر بھروسہ نہ کریں جس کی صحت پر شک ہو اور نہ ہی ایسے حقائق آگے پیش کریں جن کو ثابت کرنا مشکل ہو۔ لوگوں کی باتوں کو صرف سنیں ان کا حصہ نہ بنیں۔ اکثر معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ دفاتر میں حاسدین ایسی بے پرکی اڑاتے ہیں کہ اس کی دھول میں لپٹنے والے بہت خسارے کا سامنا کرتے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی تمام خرافات سے دور رہیں۔-6 کھیل سمجھ کر کھیلیںکسی بھی معاملے میں آپ سے جو کچھ کہا جائے یا نصیحت کی جائے اس پر اندھا دھند اعتماد اور یقین کرنے کی بجائے اس کے مستند ہونے کا انتظار کریں۔ کوئی کچھ کہے بس سن لیں لیکن مرضی اپنی کریں۔ اگر آپ کسی کے مشورے پر عمل درآمد کر جاتے ہیں تو بعدازاں یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ تو سیاست کا ایک حصہ تھی تب بہت دیر ہو چکی ہوگی اور آپ خسارے میں ہوں گے۔ لہٰذا جس طرح کھیل میں کپتان سے لیکرکھلاڑی تک ہر کوئی مخالف کی چال پر نظر رکھتا ہے۔ اس طرح آپ بھی ہر شخص کی حرکات کو اپنے نوٹس میں رکھیں اور حالات، واقعات کے مطابق ردعمل دیں۔ کھیل میں دشمنی نبھانا نہیں ہوتا بلکہ مات دینا ہوتا ہے۔ جس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ میدان سے باہر کسی قسم کے نقصان کا احتمال نہیں ہوتا اسی طرح دفتری سیاست کو محض کھیل سمجھ کر کھیلیں اور مخالف کے وار کو اس طرح واپس پلٹیں جس طرح سے یہ کیا گیا ہے۔-7اختلاف کو تسلیم کریںسیاست میں لمحہ بہ لمحہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں بعض اوقات بہت ہی جارحانہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے بلکہ کبھی بہت ہی دفاعی انداز میں ردعمل دینا پڑتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نکتہ پر آپ شدید مخالف ہیں لیکن موقع کی مناسبت سے آپ کو اسی نکتہ پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے تو ایسی صورتحال میں اس اختلاف کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ مصلحت پسندی کے پیش نظر اسے مان بھی لیں۔ ایک’’ناں‘‘ آپ کو کوسوں دورلے جاتی ہے اور واپس اپنے مقام پر آنے کیلئے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اس ’’نا‘‘ سے اجتناب کیا جائے اور اپنے مسائل بڑھانے کی بجائے کم کیے جائیں۔ یہ سارا کھیل ہی بروقت فیصلوں کا ہے۔-8اپنی اقداریں کو کھوئیں نہیںبہت سے کارکنوں کیلئے دفتری ماحول میں خاموشی خطرناک ہوتی ہے۔ تبادلہ، برخواستگی یا سروس سے محرومی جیسے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ کسی فعال کارکن کو محض حسد کی بنا پر کھڈے لائن لگانے کی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں اپنی اقدار کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اگر آپ بہت محنتی کارکن ہیں تو پھر خوشامد کا راستہ اپنانے کی بجائے راست گوئی کو اپنایا جائے۔ ایسی معتدل پالیسی بنائی جائے کہ ہر کوئی آپ کے مسلمہ اصولوں اور اقتدار کے مضبوط ہونے کی گواہی دے۔ بدترین صورتحال میں آخری حربہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے سامنے پیش ہو جائیں اور اپنا موقف ان کے سامنے رکھیں۔ اگر آپ کی گڈول ہے تو یہ بات آپ کے حق میں جائے گی۔ گویا ایماندار ہونا بھی آپ کو سیاست کے بھیڑوں سے دور رکھ سکتی ہے۔-9 ہمہ وقت باخبر رہیںدفاتر میں ہونے والی تمام حرکات اور شیڈول پر نظر رکھیں۔ کوئی بھی اہم مسئلہ چل رہا ہوں تو اس کی جزئیات سے ہمہ وقت باخبر رہیں۔ اس کی باریک بینیوں کا جائزہ لیں اور ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے متبادل سے متبادل حل اپنے پاس محفوظ رکھیں اور تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب آپ باخبر رہیں۔ اندر کی خبر لانے کیلئے سورس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ اس نکتہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو جیمز بانڈ بن کرجاسوسی پر مامور ہو جائیں صرف یہ ہے کہ جو بھی نئی معلومات شیئر ہوتی ہیں اسے دھیان سے سنیں اور اس سے متعلق ہر چیز سے اپ ڈیٹ رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

50سال بعد انسان پھر چاند کی طرف گامزن

ناسا کےArtemis IIمشن کی حتمی تیاریاںامریکی خلائی ایجنسی ناسا نے 1972ء کے بعد پہلی مرتبہ انسانوں کو چاند کے قریب لے جانے والے تاریخی مشن کی عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں ناسا نےArtemis II مشن کے لیے باقاعدہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن شروع کر دیا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ انسانوں کی چاند کی جانب واپسی اب محض ایک منصوبہ نہیں بلکہ حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے۔یہ مشن نہ صرف امریکی خلائی تاریخ بلکہ پوری انسانیت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ اپالو پروگرام کے بعد پہلا موقع ہوگا جب انسان زمین کے مدار سے نکل کر چاند کے قریب پہنچیں گے۔ اپالو 17 کے بعد 1972ء میں چاند پر انسانی قدموں کا سلسلہ رک گیا تھا اور اب نصف صدی سے زائد عرصے بعد Artemis پروگرام اس خواب کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن کیوں ضروری ہے؟ناسا کی جانب سے شروع کیا گیا یہ پریکٹس کاؤنٹ ڈاؤن دراصل ایک مکمل ویٹ ڈریس ریہرسل ہے جس میں لانچ کے تمام مراحل کو اصل مشن کی طرح انجام دیا جاتا ہے۔ راکٹ کو انتہائی سرد ایندھن سے بھرا جاتا ہے، کاؤنٹ ڈاؤن گھڑی چلتی ہے اور صرف چند سیکنڈ پہلے اسے روکا جاتا ہے۔اس مشق کا مقصد یہ جانچنا ہے کہ راکٹ اور سپیس کرافٹ کے تمام نظام درست کام کر رہے ہیں یا نہیں،عملہ، کنٹرول روم اور زمینی ٹیم میں ہم آہنگی موجود ہے یا نہیں،نیز یہ کہ کسی ممکنہ تکنیکی یا موسمی مسئلے کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔ ناسا کے مطابق یہی مشقیں کسی بھی بڑے خلائی حادثے سے بچاؤ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔Artemis پروگرام: چاند سے مریخ تکArtemis پروگرام دراصل ناسا کا وہ طویل المدتی منصوبہ ہے جس کے مقاصد یہ ہیں کہ انسانوں کو چاند تک لے جایا جائے، وہاں مستقل انسانی موجودگی کی بنیاد رکھی جائے،اور پھر اسی تجربے کی بنیاد پر مریخ تک انسانی سفر ممکن بنایا جائے۔Artemis I ایک غیر انسانی مشن تھا جو 2022 ء میں کامیابی سے مکمل ہوا۔Artemis II پہلا مشن ہے جس میں انسان شامل ہوں گے، جبکہArtemis III میں انسانوں کو چاند کی سطح پر اتارنے کا منصوبہ ہے۔Artemis II مشن کیا کرے گا؟یہ مشن چاند پر لینڈنگ نہیں کرے گا بلکہ چار خلا باز Orion سپیس کرافٹ میں سوار ہوں گے،چاند کے گرد مخصوص مدار میں سفر کریں گے،خلامیں انسانی جسم، نظام اور آلات کی کارکردگی کو جانچا جائے گااور پھر زمین پر بحفاظت واپس آئیں گے۔ یہ مرحلہ اس لیے ضروری ہے تاکہ چاند پر اترنے سے پہلے تمام خطرات اور تکنیکی چیلنجز کو سمجھا جا سکے۔عملہ اور بین الاقوامی تعاونArtemis II کے عملے میں چار خلا باز شامل ہیں جن میں ایک کینیڈین خلا باز بھی ہے۔ یہ مشن بین الاقوامی خلائی تعاون کی علامت ہے جو مستقبل میں مزید عالمی شراکت داری کی راہیں ہموار کرے گا۔لانچ سے قبل خلا بازوں کو کوارنٹائن میں رکھا گیا ہے تاکہ وہ کسی بیماری یا انفیکشن سے محفوظ رہیں کیونکہ خلامیں معمولی صحت کا مسئلہ بھی بڑے خطرے میں بدل سکتا ہے۔موسمی چیلنجز اور ممکنہ تاخیرناسا نے واضح کیا ہے کہ فلوریڈا میں سرد موسم کے باعث لانچ شیڈول میں معمولی تبدیلی ممکن ہے۔ خلائی مشنز میں موسم نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے، کیونکہ تیز ہوائیں، درجہ حرارت یا نمی لانچ کو خطرناک بنا سکتی ہے۔ اسی لیے ناساکسی بھی صورت میں جلد بازی کے بجائے محفوظ لانچ کو ترجیح دے رہا ہے۔دنیا کیلئے اس مشن کی اہمیتیہ مشن صرف امریکہ تک محدود نہیں۔ اس کے اثرات عالمی سطح پر ہوں گے۔یہ جدید خلائی ٹیکنالوجی میں پیش رفت،سائنسی تحقیق کے نئے مواقع،چاند پر وسائل (پانی، معدنیات) کی تلاش اورمستقبل میں مریخ پر انسانی مشنز کی بنیاد ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ مشن اس بات کی بھی علامت ہے کہ انسان اب خلاء￿ کو صرف تحقیق نہیں بلکہ مستقبل کی بقا کے ایک راستے کے طور پر دیکھ رہا ہے۔Artemis II مشن انسانیت کے خلائی سفر میں ایک فیصلہ کن موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ نہ صرف ماضی کے اپالو مشنز کی یاد تازہ کرتا ہے بلکہ مستقبل کے ان خوابوں کو بھی حقیقت کے قریب لاتا ہے جن میں چاند پر مستقل انسانی موجودگی اور مریخ پر قدم رکھنا شامل ہے۔ اگر یہ مشن کامیاب ہوتا ہے تو آنے والی دہائیوں میں خلاانسان کے لیے ایک نیا گھر بن سکتا ہے۔

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

میانی کا جنگل نوآبادیاتی دور کا خاموش گواہ

حیدرآباد شہر سے تقریباً اٹھارہ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع میانی کا جنگل سندھ کی تاریخ، فطری حسن اور نوآبادیاتی عہد کی یادوں کا ایک منفرد استعارہ ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں 1843ء میں تالپرمیروں اور انگریزوں کے درمیان فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جو دوبے کی جنگ کے نام سے معروف ہے۔ یہ جنگ17 فروری سے 24مارچ تک جاری رہی۔ اس معرکے میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کے ساتھ ہوش محمد شیدی اور دیگر سپاہیوں کی شہادت ہوئی ۔میجر جنرل سر چارلس نیپیئر نے یہاں بائیس فٹ بلند مینار بطورِ یادگار تعمیر کروایا جس پر جنگ میں مارے جانے والے برطانوی افسران اور سپاہیوں کے نام کی تفصیل بھی درج کروائی گئیں۔اس یادگار سے کچھ دور وہ قبرستان واقع ہے جہاں میر مسجد کے پاس میانی جنگ کے شہداآرام فرما ہیں۔ ان میں جنرل میر جان محمد خان تالپر کی قبر کے کتبہ پر شہادت کا سال 1843ء درج ہے۔ جنرل میر جان محمد خان تالپر کی شہادت کا دن 16 فروری کو بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔مقامی لوگوں کے مطابق ہوش محمد شیدی کی اصل قبر جنرل میر جان محمد خان تالپر کے پہلو میں ہے اور اس پر کتبہ بھی لگا ہوا تھا ۔ نیپیئر نے اس علاقے میں ''جنگل میں گوشۂ نشینی‘‘ کے تصور کے تحت ایک پُرسکون مقام کی بنیاد رکھی جس کا مقصد فطرت سے قربت اور تنہائی میں سکون میسر آنا تھا۔وقت گزرنے کے ساتھ میانی کا جنگل برطانوی دورِ حکومت کا خاموش گواہ بن گیا۔ تقریباً ایک صدی تک یہ جنگل نوآبادیاتی اقتدار کے زیرِ سایہ پروان چڑھتا رہا۔ پھر 1947ء آیا جب برصغیر کی تاریخ نے نیا رخ لیا، یونین جیک اتار دیا گیا اور پاکستان معرضِ وجود میں آیا۔ مگر میانی کا جنگل ان تمام تبدیلیوں کے باوجود اپنے اندر بیتے ہوئے وقت کی داستانیں سموئے آج بھی قائم ہے۔یہ جنگل آج بھی سرکاری ملکیت ہے جہاں فارسٹ ڈیپارٹمنٹ کے ویران کواٹر اور دفتر بیتے وقتوں کی یاد دلاتے ہیں۔ میانی کا جنگل نہ صرف تاریخی اہمیت کا حامل ہے بلکہ قدرتی حیات کے اعتبار سے بھی ایک بیش قیمت خزانہ ہے۔ یہاں آبی حیات کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں جبکہ یہ علاقہ نقل مکانی کر کے آنے والے پرندوں کی ایک اہم آماجگاہ بھی ہے۔میانی کے جنگل میں موجود جھیلیں اور ان کے اطراف پھیلے سبزہ زار قدرتی حسن کی دلکش مثال ہیں۔ یہ مناظر نہ صرف آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچاتے ہیں بلکہ ذہنی سکون کا بھی باعث بنتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ جو شخص ایک بار یہاں آتا ہے وہ بار بار آنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ جنگل کے اطراف موجود چراگاہیں مقامی مویشیوں کے لیے چارے کا ذریعہ ہیں اور یہی مویشی اس قدرتی منظرنامے میں دیہی زندگی کی خوبصورت جھلک شامل کر دیتے ہیں۔ یہاں قائم واچ ٹاور سے جنگل اور اطراف کے مناظر کا مشاہدہ ایک منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے، جہاں سے فطرت کی وسعت اور خاموشی کا احساس گہرا ہو جاتا ہے۔ اسی جنگل میں شہداء کی قبریں اور یادگاریں سندھ کی تاریخ میں رقم ہونے والی قربانیوں اور جدوجہد کی یاد دلاتی ہیں۔یوں میانی کا جنگل محض ایک سیاحتی مقام ہی نہیں بلکہ تاریخ فطرت اور انسانی یادداشت کا سنگم ہے جہاں ماضی کی بازگشت اور حال کی زندگی ایک ساتھ سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

آج تم یاد بے حساب آئے!ملکہ پکھراج وہ باتیں تیری،وہ فسانے تیرے (2004-1912)

٭...ملکہ پکھراج 1912ء میں جموں کشمیر کے ایک گائوں ہمیرپور میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام حمیدہ تھا۔٭...تین برس کی عمر میں انہیں موسیقی کی تربیت کیلئے استاد علی بخش قصوریہ جو استاد بڑے علی خان کے والد تھے کے سپرد کیا گیا۔ ٭... رقص اور موسیقی کی تعلیم دلی میں استاد مومن خان، استاد مولا بخش تلونڈی اور استاد عاشق علی خان سے حاصل کی۔٭...9 برس کی عمر میں مہاراجہ ہری سنگھ والی جموں کشمیر کی تاجپوشی میں شرکت کی اور فن کا مظاہرہ کیا۔٭... ملکہ پکھراج کی گائیکی کا بنیادی اسلوب غزل کو مختلف راگ راگنیوں میں پیش کرنے کا خاص انداز تھا۔٭...ان کی گائی ہوئی حفیظ جالندھری کی غزل 'ابھی تو میں جوان ہوں‘ کو خاص شہرت حاصل ہوئی۔٭... عبدالحمید عدم کی غزل 'وہ باتیں تیری وہ فسانے تیرے‘ بھی ملکہ پکھراج کی آواز میں بہت مقبول ہوئی ۔٭... لوک گیتوں کے حوالے سے بھی ملکہ پکھراج کی منفرد پہچان تھی۔پہاڑی اور ڈوگری گیتوں کی ماہر تھیں۔٭...بطور فلمسازچار فلمیں '' چاردن‘‘ (1947)، ''ڈاک بنگلہ‘‘( 1947ء)، ''کاجل‘‘( 1948ء) اور'' شمی‘‘ (1950ء) بنائیں۔٭... بطور اداکارہ بھی ایک فلم ''سول میرج‘‘ میں کام کیا ۔٭...بطور پلے بیک سنگردو فلموں ''آزادی وطن‘‘( 1946ء) اور ''شمی‘‘( 1950ء)کے گیت گائے۔٭...ریڈیو پاکستان اور بعدازاں پی ٹی وی لاہور سے بھی یادگار گانے گائے۔٭...انہیں 1982ء میں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا۔٭...ملکہ پکھراج کے شوہر سید شبیر حسین شاہ اعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری افسر تھے اور ادب کے حوالے سے ممتاز مقام رکھتے تھے۔ان کا ایک ناول ''جھوک سیال‘‘ بہت مشہور ہے۔٭...ملکہ پکھراج کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ان کی جانشین بیٹی طاہرہ سید نے ان کے نام اور کام کو آگے بڑھایا ۔ ٭... 4 فروری 2004ء کو ملکہ پکھراج کا 90 برس کی عمر میں لاہور میں انتقال ہوا ۔

آج کا دن

آج کا دن

جارج واشنگٹن امریکہ کا پہلا صدر4 فروری 1789ء کو جارج واشنگٹن کو متفقہ طور پر ریاستہائے متحدہ امریکہ کا پہلا صدر منتخب کیا گیا۔ یہ انتخاب اس نوآزاد امریکی ریاست میں پہلی صدارتی انتخابی کارروائی کے نتیجے میں عمل میں آیا جو امریکی آئین کی توثیق کے بعد منعقد ہوئی تھی۔ جارج واشنگٹن امریکی جنگِ آزادی میں برطانوی افواج کے خلاف کانٹی نینٹل آرمی کے کمانڈر انچیف رہ چکے تھے اور قوم کے ہیرو کے طور پر جانے جاتے تھے۔یالٹا کانفرنس کا آغاز 4 فروری 1945ء کو دوسری جنگِ عظیم کے اختتامی مرحلے میں یالٹا کانفرنس کا آغاز ہوا جو جدید عالمی تاریخ کے سب سے اہم سفارتی اجتماعات میں شمار ہوتی ہے۔ یہ کانفرنس سوویت یونین کے شہر یالٹا (کریمیا) میں منعقد ہوئی جس میں اتحادی طاقتوں کے تین بڑے رہنما شامل تھے، امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ، برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل اور سوویت رہنما جوزف سٹالن۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصد جنگ کے بعد کی دنیا کی تشکیل، یورپ کی سیاسی سرحدوں کا تعین، جرمنی کے مستقبل اور اقوامِ متحدہ کے قیام پر اتفاقِ رائے پیدا کرنا تھا۔ یہاں یہ طے پایا کہ جرمنی کو شکست کے بعد چار حصوں (امریکی، برطانوی، فرانسیسی اور سوویت) میں تقسیم کیا جائے گا۔ سری لنکا میں آزادی کی تقریبات 4 فروری 1948ء کو سری لنکا (اُس وقت سیلون) نے برطانوی استعمار سے آزادی حاصل کی۔ یہ دن سری لنکن تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور آج بھی وہاں ہر سال یومِ آزادی کے طور پر قومی جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔تقریباً ڈیڑھ سو سال تک برطانوی راج کے زیرِ تسلط رہنے کے بعد سری لنکا کو پرامن سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں آزادی ملی۔ اس آزادی کے حصول میں مقامی سیاسی رہنماؤں، خاص طور پر ڈی ایس سینانائیکے نے اہم کردار ادا کیا جو بعد میں ملک کے پہلے وزیرِ اعظم بنے۔فیس بک کا قیام4 فروری 2004ء کو جدید ڈیجیٹل دنیا کا ایک انقلابی باب کھلا جب فیس بک کی بنیاد رکھی گئی۔ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امریکی طالب علم مارک زکربرگ نے ہارورڈ یونیورسٹی کے ہاسٹل روم میں شروع کیا۔ ابتدا میں اس کا نام TheFacebook تھا اور یہ صرف ہارورڈ کے طلبہ کے لیے محدود تھا مگر بہت جلد یہ دیگر جامعات اور پھر پوری دنیا تک پھیل گیا۔فیس بک نے انسانی رابطوں کے انداز کو یکسر بدل دیا۔ لوگوں کو تصاویر، خیالات، خبریں اور ذاتی معلومات ایک دوسرے سے شیئر کرنے کا نیا پلیٹ فارم ملا۔

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت

حیران کن مماثلت اور نئے سوالاتگزشتہ چند برسوں میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) خصوصاً لینگویج ماڈلز نے انسانی سوچ، زبان اور فہم کے بارے میں ہمارے روایتی تصورات کو چیلنج کیا ہے۔ ابتدا میں یہ خیال عام تھا کہ کمپیوٹر اور انسانی دماغ کے درمیان کوئی گہری مماثلت ممکن نہیں مگر حالیہ سائنسی تحقیقات نے اس تصور کو بدلنا شروع کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ماہرین کی ایک ٹیم کی تازہ تحقیق جو ' Nature Communications‘میں شائع ہوئی ہے، اس کی نشاندہی کرتی ہے کہ انسانی دماغ زبان کو سمجھنے کے عمل میں حیرت انگیز طور پر ویسے ہی کام کرتا ہے جیسے جدید مصنوعی ذہانت کے زبان پر مبنی ماڈلز، مثلاً GPT اور LLaMA۔یہ تحقیق بنیادی طور پر اس سوال کا جواب تلاش کرتی ہے کہ انسان بولی گئی زبان کو کس طرح سمجھتا ہے۔ کیا دماغ الفاظ کے معنی کو فوراً مکمل طور پر سمجھ لیتا ہے یا یہ عمل بتدریج انجام پاتا ہے؟ اس مقصد کے لیے سائنسدانوں نے چند رضاکاروں کے دماغی سگنلز کا مشاہدہ کیا جب وہ تقریباً تیس منٹ پر مشتمل ایک کہانی سن رہے تھے۔تحقیق میں الیکٹروکارٹیکوگرافی (ECoG) نامی جدید طریقہ استعمال کیا گیا جس کے ذریعے دماغ کی سطح پر پیدا ہونے والی برقی سرگرمی کو انتہائی باریکی سے ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی نے محققین کو یہ جاننے کا موقع دیا کہ دماغ زبان کے مختلف مراحل پر کس طرح ردعمل ظاہر کرتا ہے۔لفظ سے معنی تکاس تحقیق کا سب سے اہم نتیجہ یہ تھا کہ انسانی دماغ زبان کو ایک ہی لمحے میں مکمل طور پر نہیں سمجھتا بلکہ یہ عمل مرحلہ وار ہوتا ہے۔ سب سے پہلے دماغ آوازوں اور الفاظ کی بنیادی ساخت پر توجہ دیتا ہے۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ ان الفاظ کو جملوں کے سیاق و سباق میں جوڑ کر معنی اخذ کیے جاتے ہیں۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان مماثلت نمایاں ہوتی ہے۔ جدید AI لینگویج ماڈلز بھی متن یا گفتگو کو تہہ در تہہ پراسیس کرتے ہیں۔ ابتدائی تہیں الفاظ اور ساخت کو دیکھتی ہیں جبکہ بعد کی تہیں مفہوم، سیاق اور معنوی ربط کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دماغی حصے اور AI کی تہیںتحقیق میں یہ بھی دیکھا گیا کہ دماغ کے مختلف حصے زبان کے مختلف پہلوؤں کو سنبھالتے ہیں۔ مثال کے طور پر بروکا ایریا جیسے حصے جو زبان کی تیاری اور فہم سے وابستہ ہیں اس وقت زیادہ متحرک ہو جاتے ہیں جب جملے کا گہرا مطلب سامنے آتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی کردار AI ماڈلز کی آخری تہیں ادا کرتی ہیں جہاں محض الفاظ نہیں بلکہ پورے خیال اور مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ دماغ کے حیاتیاتی نیورونز اور AI کے مصنوعی نیورل نیٹ ورکس دونوں کا طرزِ عمل حیرت انگیز طور پر ایک دوسرے سے ملتا جلتا ہے۔روایتی نظریات کو چیلنجیہ نتائج لسانیات اور دماغی سائنس کے کئی روایتی نظریات کے لیے ایک چیلنج ہیں۔ ماضی میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ زبان کے لیے دماغ میں سخت اور واضح قواعد پر مبنی نظام موجود ہے جہاں ہر لفظ اور جملہ ایک طے شدہ اصول کے تحت سمجھا جاتا ہے۔ مگر نئی تحقیق اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زبان کی فہم ایک لچکدار عمل ہے جو سیاق و سباق، تجربے اور تسلسل پر منحصر ہے۔یہی طریقہ کار مصنوعی ذہانت میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں ماڈلز کسی جامد لغت یا قواعد کے بجائے بڑی مقدار میں ڈیٹا سے سیکھ کر معنی اخذ کرتے ہیں۔انسان اور مشین ، فرق کے باوجود مماثلتاگرچہ یہ کہنا درست نہیں کہ انسانی دماغ اور AI ایک جیسے ہیں۔ دماغ ایک حیاتیاتی نظام ہے جس میں احساسات، شعور اور جذبات شامل ہیں جبکہ AI محض ریاضیاتی ماڈلز اور الگورتھمز پر مشتمل ہے۔ تاہم یہ تحقیق ثابت کرتی ہے کہ دونوں میں فنکشنل سطح پر کئی مماثلتیں پائی جاتی ہیں خاص طور پر زبان کے حوالے سے۔یہ مماثلتیں اس بات کا عندیہ دیتی ہیں کہ شاید انسانی فہم اور ذہانت کے کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جو چاہے حیاتیاتی نظام میں ہوں یا مصنوعی، دونوں میں یکساں طور پر کارفرما رہتے ہیں۔مستقبل کے امکاناتاس تحقیق کے اثرات نہ صرف مصنوعی ذہانت کی ترقی کے لیے اہم ہیں بلکہ یہ انسانی دماغ کو سمجھنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر AI ماڈلز واقعی انسانی دماغ کے عمل کی عکاسی کرتے ہیں تو مستقبل میں انہیں دماغی بیماریوں، زبان کی خرابیوں اور یادداشت کے مسائل کو سمجھنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔مزید یہ کہ محققین نے اس تحقیق کا ڈیٹا اوپن سورس کر دیا ہے تاکہ دنیا بھر کے سائنسدان اس پر مزید کام کر سکیں۔ یہ قدم علم کے اشتراک اور سائنسی ترقی کی ایک عمدہ مثال ہے۔یہ تحقیق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ انسانی دماغ اور مصنوعی ذہانت کے درمیان تعلق محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت بنتا جا رہا ہے۔ زبان، جو انسان کی شناخت کا بنیادی عنصر ہے، اس میدان میں دونوں کے درمیان سب سے مضبوط پل ثابت ہو رہی ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ تحقیق نہ صرف AI کو مزید انسانی بنانے میں مدد دے گی بلکہ ہمیں خود اپنے دماغ کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرے گی۔

خلا میں ’دوسرا گھر‘  ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

خلا میں ’دوسرا گھر‘ ایک نیا سیارہ جو زمین جیسا لگتا ہے

انسان ہمیشہ سے اس سوال کا جواب تلاش کرتا رہا ہے کہ کیا ہم اس کائنات میں اکیلے ہیں؟ کیا ہماری زمین جیسی کوئی دوسری دنیا بھی ہے جہاں زندگی ممکن ہو؟ جدید دور کے خلائی مشنز اور طاقتور دوربینوں نے ہمیں اس سوال کے قریب پہنچا دیا ہے۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے ایک ایسے سیارے کا پتہ لگایا ہے جو بہت زیادہ حد تک زمین سے ملتی ہوئی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس دریافت نے فلکیات کے شعبے میں نئی امیدیں جگا دی ہیں۔ زمین جیسا سیارہ؟سائنسدانوں نے دور دراز ستاروں کے ڈیٹاکا دوبارہ جائزہ لیا ہے اور ایک کم روشنی والے سگنل کی بنیاد پر ایک ممکنہ سیارے کی موجودگی کا اندازہ لگایا ہے۔ یہ سیارہ ایک ستارے کے گرد گردش کر رہا ہے جو ہمارے سورج جیسا دکھائی دیتا ہے۔ حیران کن طور پر یہ سیارہ زمین سے کچھ فیصد ہی بڑا ہے اور اس کا مدار بھی زمین کے مدار کے بہت قریب ہے ، یعنی اس کے سال کی لمبائی تقریباً ہماری طرح ہے۔ اس سیارے کی دوری تقریباً 146 نوری سال ہے، یعنی یہ ہمارے نظام شمسی سے بہت دور واقع ہے ،لیکن فلکیاتی پیمانے پر قریب ہی سمجھا جاتا ہے۔ کس طرح معلوم ہوا؟یہ دریافت بظاہر پرانے دوربین ڈیٹا کے دوبارہ تجزیے سے سامنے آئی۔ ناسا کے کیپلر سپیس ٹیلی سکوپ نے ہزاروں ستاروں کا مسلسل مشاہدہ کیا اور ان کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ہونے والی معمولی کمی کو نوٹ کیا۔ جب کسی ستارے کی روشنی میں بار بار معمولی کمی آتی ہے تو یہ ایک سیارے کے اس کے سامنے سے گزرنے کی علامت ہو سکتی ہے۔ اس طریقے کو ٹرانزٹ میتھڈ کہا جاتا ہے جو اَب تک کی موزوں ترین تکنیکوں میں سے ایک ہے۔ اس نئے سیارے کے معاملے میں اسی پرانے ڈیٹا کا دوبارہ تجزیہ کیا گیا تو اس سے اس نئے سیارے کی پہلی جھلک ملی۔ البتہ ابھی تک اسے مکمل طور پر تصدیق شدہ دریافت نہیں کہا جا سکتا کیونکہ مزید مشاہدات اور مطالعے کی ضرورت ہے۔ زمین جیسا سیارہ،کیوں یہ اہم ہے؟ سائنسدان سیاروں کو ' زمین جیسا‘ تب کہتے ہیں جب وہ زمین کے سائز، ستارے کے گرد مدار اور روشنی کی مقدار میں مماثلت رکھتے ہوں۔ اس نئے سیارے کی خصوصیات یہ ہیں کہ اس کا سائز تقریباً زمین جتنا یا تھوڑا بڑا ہے ۔ اس کا مدارزمین جیسا ہے جو ستارے کے گرد تقریباً ایک سال کی مدت میں گردش کرتا ہے۔ یہ ستارہ سورج کی طرح ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ سیارے کو ملنے والی توانائی بھی زمین جیسی ہو سکتی ہے۔ یہ مماثلتیں سب سے اہم ہیں کیونکہ زمین پر زندگی کا قیام پانی، درجہ حرارت اور روشنی کے مناسب امتزاج پر منحصر ہے۔ اگر کوئی سیارہ صحیح مقدار میں روشنی اور توانائی حاصل کرتا ہے تو وہاں مائع پانی موجود ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور یہی زندگی کے لیے بنیادی شرط ہے۔ کیا یہ واقعی قابلِ حیات ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابھی تک معلوم نہیں۔ اگرچہ مدار، حجم اور ستارے کی نوعیت زمین جیسی ہے لیکن ماحول یا زندگی کے بارے میں ابھی کوئی براہِ راست معلومات نہیں ۔اس کے لیے سائنسدانوں کو یہ پتہ لگانا ضروری ہے کہ کیا وہاں کوئی مستقل ماحول ہے؟ صرف کسی سیارے کے وجود سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہاں گیسوں کا ماحول موجود ہے جو زندگی کو ممکن بنا سکے۔ درجہ حرارت کیا ہے؟ اگر سیارہ بہت ٹھنڈا یا بہت گرم ہو تو مائع پانی موجود رہنا ناممکن ہوگا۔ کئی دوسرے سیارے جیسے HD 137010 b بھی ممکنہ طور پر شدید سرد ہیں۔یہ بھی جاننا ہو گا کہ مذکورہ سیارے کی سطح پرپانی موجود ہے تو وہ مائع کے طور پر موجود ہے یا برف کی شکل میں۔اس سیارے پر زمین جیسے ماحول یا حیات کے شواہد حاصل کرنا بہت پیچیدہ مرحلہ ہے، اس کے لیے مستقبل کی طاقتور خلائی دوربینوں اور مشنز کی ضرورت ہوگی۔بہرکیف یہ نئی دریافت اپنے آپ میں بہت اہم ہے مگر گزشتہ برسوں میں سائنسدانوں نے متعدد ایسے سیاروں کی نشاندہی کی ہے جنہیں ''زمین نما‘‘ سمجھا جاتا ہے:کیپلر 452 بی:سورج جیسے ستارے کے گرد گردش کرنے والا ایک بڑا سیارہ جو زمین کے مدار کے قریب ہے۔ جے جی 1002بی : 16 نوری سال دور ایک ممکنہ قابلِ حیات زمین جیسا سیارہ۔ وولف 1069 بی:جو اپنے ستارے کے مناسب فاصلے پر گردش کرتا ہے اور ممکنہ طور پر یہاں مائع پانی موجودہے۔ یہ مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کہکشاں میں زمین جیسے سیارے کثرت سے موجود ہو سکتے ہیں البتہ ان کی حیات یا قابلِ رہائش خصوصیات کا فیصلہ مزید تحقیق کے بغیر ممکن نہیں۔ سائنس اور مستقبلہر نئی دریافت ہمیں بتاتی ہے کہ کائنات بے پناہ وسیع ہے اور شاید اس میں بے شمار ایسے دنیائیں ہیں جو ہماری زمین سے میل کھاتی ہیں۔ اگر سائنسدان کسی سیارے پر بائیوسگنیچرز یعنی ایسی نشانیاں جو حیاتیاتی عمل کی طرف اشارہ کریں ، دریافت کر لیں تو یہ کہیں زیادہ اہم ہوگا۔ موجودہ دور میں ہم جس سطح پر ہیں وہاں زمین ایسے دیگر سیاروں پر زندگی کی موجودگی یا عدمِ موجودگی کے بارے میں یقینی طور پر کچھ کہنابہت مشکل ہے۔ پھر بھی ہر نئی دریافت ہمارے سوالات کے دائرے کو وسیع کر دیتی ہے اور ہمیں حیران کر دیتی ہے کہ شاید ایک دن ہم واقعی ''دوسری زمین‘‘تلاش بھی کر لیں۔