دفتری سیاست سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے

دفتری سیاست سے کیسے نمٹا جا سکتا ہے

اسپیشل فیچر

تحریر : عبدالستار ہاشمی


کھانے کی میز ہو یاسٹڈی روم، سفرہو یا کوئی محفل زیادہ تر بات چیت کا محور سیاست ہی ہوتا ہے، عام طورپر سیاست سے مراد وہ کاروبار ہائے ریاست ہے جس میں پالیسیوں کی تعریف سے تنقید تک سیرحاصل گفتگو کی جاتی ہے اور اسی سیاست سے اقتدار چھینے جاتے ہیں، تختوں پر قبضے کیے جاتے ہیں لیکن سیاست کا یہ مفہوم اتنا محدود نہیں ہے۔ ریاست کے علاوہ بھی سیاست کام کرتی ہے۔ گھروں میں سیاست، دوستوں میں سیاست اور سب سے بڑھ کر دفاتر میں سیاست ہوتی ہے۔ ہر ادارے ، تنظیم اورمحکمے میں اس کی موجودگی اور اثرات دیکھے جاتے ہیں۔ ٹانگیں کھینچی جاتی ہیں اور اپنا الو سیدھا کیا جاتا ہے۔ یہی سیاست ہے۔ آج شائقین کی دلچسپی اور متاثرہ افراد کیلئے اس مضمون میں کچھ عوامل پر بحث کرتے ہیں جس کا مقصد یہ ہے کہ دفاتر کی سیاست کی آلودگی سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔-1کچھ بولنے سے پہلے سوچیےکسی ادارے یا دفتر میں ہونے والی سیاست کے مضر اثرات سے بچائو کا ایک بہترین حل یہ ہے کہ اپنی گفتگو کو محدود اور مدلل رکھیں۔ کچھ بھی کہنے سے قبل اس پر دومرتبہ نظرثانی کریں اور نتائج کا سوچ کر بولیں۔ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں اور اس پر حاسدین آپ کی سوچ سے بھی بڑے کاریگر ہوتے ہیں۔ آپ کے کہے ہوئے الفاظ کسی طرح مفہوم بدل کر آگے بیان کیے جاتے ہیں اس پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک اصطلاح بہت برے نتائج کی حامل ہوتی ہے اور وہ ہے زبان کا پھسلن۔ یعنی ایسے الفاظ کا ادا ہونا جس میں آپ کی سوچ اور مرضی شامل نہیں ہے لیکن فرط جذبات میں بہہ کرمنہ سے نکل گئے ہیں۔ دفاتر میںسیاست کا ایک پرزہ یہ استعمال ہوتا ہے کہ آپ کے ماتحت یا سپروائزر کو یہ فریضہ سونپا گیا ہوتا ہے کہ آپ پر نظر رکھیں اور جو رپورٹ اس ضمن میں آگے جائے گی وہ مشکلات کا سبب بنے گی۔ لہٰذا ان تمام خطرات اور خدشات سے نمٹنے کا ایک ہی حل ہے کہ کچھ بھی بولنے سے پہلے سوچ لیں۔-2 تعلقات مضبوط بنائیےاگر آپ دفتر میں اپنے آپ کو سیاست کے گھیرائو سے پرے رکھنا چاہتے ہیں تو ان تمام لوگوں سے اپنے تعلقات کی نہ صرف تجدید کریں بلکہ انہیںمضبوط بھی بنائیں جو کرتا دھرتا ہوتے ہیں۔ ان تعلقات کا ہرگز مطلب نہیں ہے کہ آپ پاور پولیٹکس کرنا چاہتے ہیں یا کسی عہدے کیلئے جتن کر رہے ہیں بلکہ تعلقات بنانے کا یہ عمل آپ کی غیر موجودگی میں آپ کے خلاف ہونے والی سازش کو توڑنے میں کام آئے گا۔ کسی ایسے گروپ میں اپنی موجودگی کو ثابت کرنا ضروری ہے جو تمام فیصلوں پراثرانداز ہوسکتا ہو۔ ایسے طاقتور لوگوں کو ہلکی پھلکی دعوت پر بلائیں۔ چائے کی میز پران کے پسندیدہ موضوع پر بحث کریں۔ اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ خوشامد پر اتر آئیں صرف یہ ہے کہ انہیں لگے کہ آپ اپنی قابلیت اور اہلیت کی بنا پر ان کے قریب اور وفادار ہیں۔ اس طرح دفتری سیاست کی نذر ہونے سے بچے رہیں گے۔-3اپنے ابلاغ کو فروغ دیںاگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ دوسروں کی مدد لینے کی بجائے دوسروں کے مددگار ثابت ہوں اور دفتر کی اندرونی سیاست میں اپنا کردار نبھائیں تو پھراپنی گفتگو کو بڑھائیں۔ آپ کی بات میں وزن ہونا چاہیے۔ اور دلائل ایسے کہ مخالف راضی ہوئے بغیر نہ اٹھے اس کیلئے تھوڑی لیکن وزن دار بات کرنے کی مشق کریں اور یہ دھاک بیٹھ جائے کہ کسی بھی موضوع پر آپ سے بہتر کوئی بول نہیں سکتا۔ دفتری مسائل کو حل کرانے کیلئے طے پائی جانے والی میٹنگز میں آپ کا ہونا ضروری سمجھا جائے۔ آپ بے شک عہدوں کی سیاست نہ کریں نہ ہی کسی دھڑے کا حصہ بنیں لیکن اپنے ابلاغ کو فروغ دیں لہجہ شیرنی ہو اور ماتھے پر شکنوں کی بجائے خوش آمدید کا تاثر ہو۔ اس کا سب سے بڑافائدہ یہ ہوگا کہ آپ کو ایک معزز ہونے کا خطاب ملے گا اور اس طرح آپ نہ صرف خود ان الجھے امور سے دور رہ پائیں گے بلکہ دوسروں کو بھی دور رکھ سکیں گے۔-4 اپنے رویے میں اعتدال رکھیں یہ ایک حقیقت ہے کہ اداروں میں ہونے والی سیاست نہ صرف آپ کو آپ کے عہدے سے محروم کرسکتی ہے بلکہ الجھن اور تنائو کا ایک اچھا ماحول پیدا کرتی ہے۔ جس سے آپ کی صحت بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال میں آپ کو اپنے جذبات پر قابو رکھنا چاہیے اور تمام معاملات کو افہام تفہیم سے نمٹائیں اور اپنے رویے کو ہمیشہ اعتدال میں رکھیں۔ بہت مرتبہ ایسے ہوتا ہے کہ انسان تنائو کا شکار ہو کر پھٹ پڑتا ہے اور منہ میں جو آتا ہے بول دیتا ہے۔ منہ سے نکلے الفاظ واپس نہیں آتے جس کا نقصان بہرحال بھگتنا پڑتا ہے۔ کسی سے بھی اختلاف رائے ہو جائے تو اس سے بات کرتے وقت الفاظ کے چنائو میں احتیاط برتیں۔ اس سے مخالف کی سوچ تبدیل ہوسکتی ہے۔-5 گپ شپ میں بہک نہ جائیےدفاتر میں ہونے والی گپ شپ سیاست کا تعین کرتی ہے۔ بعض اوقات حراساں کرنے کیلئے خوفناک نتائج پر مبنی کہانیاں سننے میں ملتی ہیں۔ ایسی تمام باتوں میں اکثریت افواہوں کی ہوتی ہیں جو ڈرانے کیلئے اڑائی جاتی ہیں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ان افواہوں پر کان نہ دھریں اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ فوراً افواہ کی تصدیق کریں۔ تصدیق کیلئے اگر آپ کو اپنے مخالف کے پاس بھی جانا پڑے تو گریزاں نہ ہوں۔ ایسی کسی معلومات پر بھروسہ نہ کریں جس کی صحت پر شک ہو اور نہ ہی ایسے حقائق آگے پیش کریں جن کو ثابت کرنا مشکل ہو۔ لوگوں کی باتوں کو صرف سنیں ان کا حصہ نہ بنیں۔ اکثر معاملات میں دیکھا گیا ہے کہ دفاتر میں حاسدین ایسی بے پرکی اڑاتے ہیں کہ اس کی دھول میں لپٹنے والے بہت خسارے کا سامنا کرتے ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ ایسی تمام خرافات سے دور رہیں۔-6 کھیل سمجھ کر کھیلیںکسی بھی معاملے میں آپ سے جو کچھ کہا جائے یا نصیحت کی جائے اس پر اندھا دھند اعتماد اور یقین کرنے کی بجائے اس کے مستند ہونے کا انتظار کریں۔ کوئی کچھ کہے بس سن لیں لیکن مرضی اپنی کریں۔ اگر آپ کسی کے مشورے پر عمل درآمد کر جاتے ہیں تو بعدازاں یہ تصدیق ہوتی ہے کہ یہ تو سیاست کا ایک حصہ تھی تب بہت دیر ہو چکی ہوگی اور آپ خسارے میں ہوں گے۔ لہٰذا جس طرح کھیل میں کپتان سے لیکرکھلاڑی تک ہر کوئی مخالف کی چال پر نظر رکھتا ہے۔ اس طرح آپ بھی ہر شخص کی حرکات کو اپنے نوٹس میں رکھیں اور حالات، واقعات کے مطابق ردعمل دیں۔ کھیل میں دشمنی نبھانا نہیں ہوتا بلکہ مات دینا ہوتا ہے۔ جس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ میدان سے باہر کسی قسم کے نقصان کا احتمال نہیں ہوتا اسی طرح دفتری سیاست کو محض کھیل سمجھ کر کھیلیں اور مخالف کے وار کو اس طرح واپس پلٹیں جس طرح سے یہ کیا گیا ہے۔-7اختلاف کو تسلیم کریںسیاست میں لمحہ بہ لمحہ فیصلے کرنے پڑتے ہیں بعض اوقات بہت ہی جارحانہ پالیسی اختیار کرنی پڑتی ہے بلکہ کبھی بہت ہی دفاعی انداز میں ردعمل دینا پڑتا ہے۔ اکثر ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک نکتہ پر آپ شدید مخالف ہیں لیکن موقع کی مناسبت سے آپ کو اسی نکتہ پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے تو ایسی صورتحال میں اس اختلاف کو نہ صرف تسلیم کریں بلکہ مصلحت پسندی کے پیش نظر اسے مان بھی لیں۔ ایک’’ناں‘‘ آپ کو کوسوں دورلے جاتی ہے اور واپس اپنے مقام پر آنے کیلئے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے تو اس سے بہتر ہے کہ اس ’’نا‘‘ سے اجتناب کیا جائے اور اپنے مسائل بڑھانے کی بجائے کم کیے جائیں۔ یہ سارا کھیل ہی بروقت فیصلوں کا ہے۔-8اپنی اقداریں کو کھوئیں نہیںبہت سے کارکنوں کیلئے دفتری ماحول میں خاموشی خطرناک ہوتی ہے۔ تبادلہ، برخواستگی یا سروس سے محرومی جیسے بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ کسی فعال کارکن کو محض حسد کی بنا پر کھڈے لائن لگانے کی پالیسی بنائی جاتی ہے۔ اس صورتحال میں اپنی اقدار کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہیے۔ اگر آپ بہت محنتی کارکن ہیں تو پھر خوشامد کا راستہ اپنانے کی بجائے راست گوئی کو اپنایا جائے۔ ایسی معتدل پالیسی بنائی جائے کہ ہر کوئی آپ کے مسلمہ اصولوں اور اقتدار کے مضبوط ہونے کی گواہی دے۔ بدترین صورتحال میں آخری حربہ یہ ہے کہ اتھارٹی کے سامنے پیش ہو جائیں اور اپنا موقف ان کے سامنے رکھیں۔ اگر آپ کی گڈول ہے تو یہ بات آپ کے حق میں جائے گی۔ گویا ایماندار ہونا بھی آپ کو سیاست کے بھیڑوں سے دور رکھ سکتی ہے۔-9 ہمہ وقت باخبر رہیںدفاتر میں ہونے والی تمام حرکات اور شیڈول پر نظر رکھیں۔ کوئی بھی اہم مسئلہ چل رہا ہوں تو اس کی جزئیات سے ہمہ وقت باخبر رہیں۔ اس کی باریک بینیوں کا جائزہ لیں اور ہر طرح کی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے متبادل سے متبادل حل اپنے پاس محفوظ رکھیں اور تبھی ممکن ہوسکتا ہے جب آپ باخبر رہیں۔ اندر کی خبر لانے کیلئے سورس کا ہمیشہ خیال رکھیں۔ اس نکتہ کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ کو جیمز بانڈ بن کرجاسوسی پر مامور ہو جائیں صرف یہ ہے کہ جو بھی نئی معلومات شیئر ہوتی ہیں اسے دھیان سے سنیں اور اس سے متعلق ہر چیز سے اپ ڈیٹ رہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
غلامی سے نجات کا عالمی دن

غلامی سے نجات کا عالمی دن

تاریخ،حقیقت اور آج کا چیلنجہر سال 25 مارچ کو دنیا بھر میں غلامی اور غلاموں کی تجارت کے متاثرین کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ یہ دن انسانیت کی تاریخ کے ایک سیاہ باب،بحرِ اوقیانوس کے پار غلاموں کی تجارت کو یاد کرنے اور اس کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے مخصوص ہے۔ اقوامِ متحدہ نے اس دن کو 2007ء میں باقاعدہ تسلیم کیا تاکہ نہ صرف ماضی کی ہولناکیوں کو یاد رکھا جائے بلکہ آج کی دنیا میں موجود جدید غلامی کے خلاف شعور بھی اجاگر کیا جا سکے۔ غلامی کی تاریخ، المناک داستانتاریخی طور پر غلامی صدیوں تک انسانی معاشروں کا حصہ رہی مگر 15ویں سے 19ویں صدی تک جاری رہنے والی ٹرانس اٹلانٹک غلاموں کی تجارت کو انسانی تاریخ کا بدترین باب سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران اندازاً ایک کروڑ پچاس لاکھ سے زائد مرد، خواتین اور بچوں کو زبردستی افریقہ سے امریکہ منتقل کیا گیا۔ ان میں سے لاکھوں افراد سمندری سفر کے دوران ہی ہلاک ہو گئے جبکہ زندہ بچنے والوں کو غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ اس ظلم نے نہ صرف لاکھوں زندگیاں تباہ کیں بلکہ نسل در نسل سماجی، معاشی اور ثقافتی اثرات بھی چھوڑے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔مگریہ سمجھنا غلط ہوگا کہ غلامی صرف ماضی کا قصہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آج بھی دنیا میں غلامی مختلف شکلوں میں موجود ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جدید غلامی کا شکار ہیں۔ ان میں سے دو کروڑ80لاکھ افراد جبری مشقت میں جبکہ دوکروڑ20 لاکھ جبری شادیوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہر 150 میں سے ایک انسان کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہے۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ غلامی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس نے نئی شکلیں اختیار کر لی ہیں جیسے انسانی سمگلنگ، جبری مشقت،قرض کے بدلے غلامی،کم عمری کی شادی،جنسی استحصال وغیرہ۔اعداد و شمار کے مطابق خواتین اور بچے اس ظلم کا سب سے بڑا شکار ہیں۔جبری جنسی استحصال کے تقریباً 80 فیصد متاثرین خواتین اور لڑکیاں ہیں۔ غلامی کا شکار افراد میں ایک بڑا حصہ بچوں پر مشتمل ہے جنہیں مزدوری یا جنسی استحصال کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ غلامی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی حقوق کا بحران ہے۔پاکستان اور خطے کی صورتحالگلوبل سلیوری انڈیکس کے مطابق پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں جدید غلامی ایک اہم مسئلہ ہے۔ اندازوں کے مطابق پاکستان میں تقریباً 23 لاکھ افراد کسی نہ کسی شکل میں غلامی کا شکار ہیں۔ غلامی کی عام صورتوں میں اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت،زرعی شعبے میں قرض کے بدلے کام،گھریلو ملازمین کا استحصال اور بچوں سے مشقت شامل ہے ۔یہ مسائل غربت، تعلیم کی کمی اور قانون کے کمزور نفاذ کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق جدید غلامی کے پھیلاؤ کی کئی بنیادی وجوہات ہیں جیسا کہ غربت اور بے روزگاری، تعلیم کی کمی، سیاسی عدم استحکام اور جنگیں، مجبوراً ہجرت اور کمزور قانونی نظام۔عالمی اقتصادی فورم کے مطابق جبری مشقت سے حاصل ہونے والی غیر قانونی آمدنی 236 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچ چکی ہے جو اس مسئلے کے معاشی پہلو کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ دنیا بھر میں غلامی کے خاتمے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں جیسا کہ اقوامِ متحدہ کا ایس ڈی جی ٹارگٹ 8.7، جس کا مقصد 2030ء تک غلامی کا خاتمہ ہے۔اس کے علاوہ بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (ILO) کے قوانین،انسانی سمگلنگ کے خلاف عالمی معاہدے۔سپلائی چین میں شفافیت کے قوانین، مگراس کے باوجود غلامی کا مکمل خاتمہ ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ یہ اکثر خفیہ طریقوں سے جاری رہتی ہے۔ کیا کیا جا سکتا ہے؟پاکستان میں غلامی کے خاتمے کے لیے جو اقدامات ضروری ہیں ان میںجبری مشقت کے خلاف قوانین پر سختی سے عمل درآمد،تعلیم اور آگاہی مہمات،غریب طبقات کے لیے معاشی مواقع،میڈیا کا فعال کردار اورانسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر کارروائیاں شامل ہیں۔ 25 مارچ کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ غلامی صرف تاریخ کا حصہ نہیں بلکہ ایک جاری مسئلہ ہے۔ یہ دن ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم نہ صرف ماضی کے متاثرین کو یاد کریں بلکہ آج کے مظلوم انسانوں کے لیے آواز بھی اٹھائیں۔ہر فرد، ہر ادارہ اور ہر ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کے خاتمے کے لیے کردار ادا کرے۔ کیونکہ جب تک دنیا میں ایک بھی انسان غلامی کا شکار ہے، تب تک انسانی آزادی کا خواب ادھورا ہے۔

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

ٹیکنالوجی کا دبائو :مدد کیسے حاصل کی جائے؟

آج کے دور میں ٹیکنالوجی ہماری زندگی کا لازمی حصہ بن چکی ہے۔ سمارٹ فون، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اور مسلسل آن لائن رہنے کی عادت نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں ذہنی دباؤ (Stress) میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے۔ جدید تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ پہلے سے کہیں زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ معلومات کی بھرمار اور مسلسل ڈیجیٹل رابطہ ہے۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ اگر ٹیکنالوجی ہمیں پریشان کر رہی ہے تو ہم اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے مدد کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ٹیکنالوجی سے پیدا ہونے والا دباؤٹیکنالوجی کے بے تحاشا استعمال کے کئی منفی اثرات سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ وقت سکرین کے سامنے گزارنے سے نہ صرف نیند متاثر ہوتی ہے بلکہ ذہنی صحت پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل میں موبائل اور کمپیوٹر کا زیادہ استعمال ڈپریشن، بے چینی اور نیند کی خرابیوں کا سبب بن رہا ہے۔اس کے علاوہ ہمیشہ آن لائن رہنے کا دباؤ، مسلسل نوٹیفکیشنز اور کام و ذاتی زندگی کے درمیان حد بندی کا ختم ہونا بھی ذہنی تھکن کو بڑھاتا ہے۔ یوں انسان ایک ایسے چکر میں پھنس جاتا ہے جہاں ٹیکنالوجی سہولت کے بجائے بوجھ بن جاتی ہے۔خوش آئند پہلو، ٹیکنالوجی ہی حل بھی ہےدلچسپ بات یہ ہے کہ جس ٹیکنالوجی کو ہم دباؤ کا سبب سمجھتے ہیں وہی اس کا حل بھی فراہم کر سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید ڈیجیٹل ٹولز اور ایپس ذہنی سکون پیدا کرنے، عادات بہتر بنانے اور ذہنی صحت کو ٹریک کرنے میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں۔یہاں کچھ مؤثر طریقے بیان کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کو مثبت انداز میں استعمال کیا جا سکتا ہے: سٹریس ٹریکنگ ایپس کا استعمالآج کل کئی موبائل ایپس دستیاب ہیں جو آپ کے ذہنی دباؤ کو مانیٹر کرتی ہیں۔ یہ ایپس آپ کے روزمرہ کے معمولات، دل کی دھڑکن اور نیند کے پیٹرن کا تجزیہ کر کے بتاتی ہیں کہ آپ کس وقت زیادہ دباؤ میں ہوتے ہیں۔ اس معلومات کی مدد سے آپ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلیاں لا سکتے ہیں۔نیند بہتر بنانے والی ٹیکنالوجینیند ذہنی سکون کے لیے انتہائی ضروری ہے۔سلیپ سائیکل اور دیگر ایپس آپ کی نیند کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں جس سے ذہنی دباؤ کم ہوتا ہے۔ بہتر نیند نہ صرف ذہنی صحت کو بہتر بناتی ہے بلکہ کام کی کارکردگی بھی بڑھاتی ہے۔ میوزک اور ساؤنڈ تھراپیموسیقی ذہنی سکون کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ مخصوص ایپس اور پلیٹ فارمز ایسے ساؤنڈز فراہم کرتے ہیں جو ذہن کو پُرسکون کرتے ہیں اور توجہ بڑھاتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ موسیقی سننے سے ذہنی دباؤ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ آن لائن لرننگ اور مصروفیتخود کو مصروف رکھنا بھی دباؤ کم کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ آن لائن کورسز اور سیکھنے کے مواقع ذہن کو مثبت سرگرمیوں میں لگاتے ہیں جس سے منفی خیالات کم ہوتے ہیں۔ نئی مہارتیں سیکھنے سے خود اعتمادی بھی بڑھتی ہے۔ڈیجیٹل ڈیٹاکسمسلسل کام کے دوران وقفہ لینا بہت ضروری ہے۔ ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ دن میں چند منٹ مراقبہ (Meditation) یا سانس کی مشقیں کرنے سے ذہنی دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ وقت کے لیے موبائل اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کرنا بھی فائدہ مند ہے۔ آن لائن سپورٹکبھی کبھار ٹیکنالوجی خود پریشانی کا باعث بنتی ہے، جیسے سافٹ ویئر خرابی یا ڈیٹا کا ضائع ہونا۔ ایسے مواقع پر ٹیک سپورٹ خدمات بہت اہم ہوتی ہیں۔ یہ نہ صرف مسائل کو فوری حل کرتی ہیں بلکہ صارف کو ذہنی سکون بھی فراہم کرتی ہیں۔ذہنی صحت کیلئے ڈیجیٹل وسائلدنیا بھر میں مختلف ادارے آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ذہنی صحت کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں۔ ان میں مشاورت، مدد کے ٹولز اور ذہنی صحت سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ اگرچہ دنیا میں صرف ایک محدود فیصد افراد کو مناسب علاج مل پاتا ہے مگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اس خلا کو پر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔توازن ہی حل ہےیہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی نہ مکمل طور پر نقصان دہ ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فائدہ مند۔ اصل مسئلہ اس کے استعمال کے انداز میں ہے۔ اگر ہم اسے متوازن طریقے سے استعمال کریں تو یہ ہماری زندگی کو بہتر بنا سکتی ہے مثلاًسونے سے پہلے سکرین ٹائم کم کریں، غیر ضروری نوٹیفیکیشنز بند کریں، سوشل میڈیا کے استعمال کو محدود کریں، مثبت اور تعمیری مواد پر توجہ دیں۔ٹیکنالوجی نے ہماری زندگی کو تیز اور آسان ضرور بنایا ہے مگر اس کے ساتھ ذہنی دباؤ بھی بڑھا ہے، تاہم خوش آئند بات یہ ہے کہ اسی ٹیکنالوجی کے ذریعے ہم اس دباؤ کا مؤثر مقابلہ بھی کر سکتے ہیں۔ سٹریس ٹریکنگ ایپس، آن لائن سپورٹ، میڈیٹیشن ٹولز اور بہتر نیند کی عادات اپنانا ایسے اقدامات ہیں جو ہمیں ذہنی سکون فراہم کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہ سیکھنا ہوگا کہ ٹیکنالوجی کو اپنی زندگی پر حاوی ہونے کے بجائے اسے ایک مفید آلے کے طور پر استعمال کریں۔ یہی شعور ہمیں ایک متوازن، پرسکون اور صحت مند زندگی کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آج کا دن

آج کا دن

نیویارک، فیکٹری آتشزدگی25 مارچ 1911ء کو امریکہ کے شہر نیویارک میں آتشزدگی کابدترین حادثہ پیش آیا ،جس میں 146 مزدور، جن میں زیادہ تر خواتین اور نوجوان لڑکیاں تھیں، ہلاک ہو گئیں۔یہ فیکٹری ایک کثیر المنزلہ عمارت میں قائم تھی جہاں حفاظتی انتظامات انتہائی ناقص تھے۔ جب آگ بھڑکی تو مزدوروں کے پاس بھاگنے کا کوئی مناسب راستہ نہ تھا جس کے باعث کئی افراد کھڑکیوں سے کودنے پر مجبور ہو گئے۔اس سانحے نے امریکہ میں لیبر قوانین اور صنعتی حفاظتی اقدامات میں بڑی تبدیلیاں لانے کی راہ ہموار کی۔ بعد ازاں فیکٹریوں میں آگ سے بچاؤ، ایمرجنسی اخراج کے راستے اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ یونان،جنگ آزادی 25 مارچ 1821ء کو یونان نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف آزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ یہ دن یونان کی قومی تاریخ میں بے حد اہم ہے کیونکہ اسی دن یونانی قوم نے تقریباً چار صدیوں کی عثمانی حکمرانی کے خلاف بغاوت کی۔اس تحریک کی بنیاد یونانی قوم پرستی، ثقافتی شناخت اور آزادی کی خواہش پر رکھی گئی تھی۔ یونانی باغیوں کو یورپ کے کئی ممالک خصوصاً برطانیہ، فرانس اور روس کی ہمدردی اور بعد ازاں مدد حاصل ہوئی۔یہ جنگ تقریباً ایک دہائی تک جاری رہی اور بالآخر 1830 میں یونان کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کر لیا گیا۔ 25 مارچ کو آج بھی یونان میں یوم آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ سوویت یونین، جلاوطنی25 مارچ 1949ء کو سوویت یونین نے بالٹک ریاستوں (لتھوانیا، لٹویا اور ایسٹونیا) میں ایک بڑے پیمانے پر جلاوطنی کی کارروائی شروع کی ۔ اس کارروائی کے دوران تقریباً 90 ہزارافراد کو زبردستی سائبیریا اور دیگر دور دراز علاقوں میں منتقل کر دیا گیا۔یہ اقدام سوویت حکومت کی طرف سے ان افراد کے خلاف کیا گیا جو حکومت مخالف یا ریاست کے دشمن سمجھے جاتے تھے۔ ان میں کسان، دانشور اور وہ لوگ شامل تھے جو اجتماعی زراعت کی پالیسی کے خلاف تھے۔اس جلاوطنی کے نتیجے میں ہزاروں خاندان تباہ ہو گئے اور بہت سے افراد سخت موسمی حالات اور ناقص سہولیات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔ شہری حقوق کے مارچ کا اختتام25 مارچ 1965ء کو امریکہ میں افریقی نژاد شہریوں کے حقوق کے لیے ہونے والا ایک تاریخی مارچ اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس تحریک کا مقصد سیاہ فام شہریوں کے ووٹنگ کے حق کو یقینی بنانا اور نسلی امتیاز کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔اس مارچ کی قیادت معروف رہنمامارٹن لوتھر کنگ جونیئر اور دیگر شہری حقوق کے کارکنوں نے کی۔25 مارچ کو جب یہ مارچ مونٹگمری پہنچا تو ہزاروں افراد اس میں شامل ہو چکے تھے۔ اسی دن مارٹن لوتھر کنگ جونیئر نے ایک تاریخی خطاب کیا۔اس مارچ کے نتیجے میں امریکی حکومت پر دباؤ بڑھا اور اسی سالVoting Rights Act of 1965 منظور کیا گیا۔

عالمی معیشت کی شہ رگیں

عالمی معیشت کی شہ رگیں

اہم آبی گزر گاہیں اورتوانائی کی سیاستدنیا کی جغرافیائی سیاست میں سمندری گزرگاہوں کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت حاصل رہی ہے مگر چند مخصوص راہداریاں جنہیں آبنائے (Straits) کہا جاتا ہے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حالیہ صورتحال، جس میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کیا گیا ہے، ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یہ آبی گزر گاہیں کس قدر حساس اور عالمی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔آبنائے کیا ہے اور اس کی اہمیت؟دو بڑے سمندروں یا واٹر باڈیز کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ آبنائے کہلاتا ہے۔ورلڈ بینک اور اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 80 تا 90 فیصد عالمی تجارت (حجم کے لحاظ سے) سمندری راستوں کے ذریعے ہوتی ہے اور اس تجارت کا بڑا حصہ انہی اہم گزرگاہوں سے گزرتا ہے۔آبنائے ہرمز: توانائی کی سب سے بڑی گزرگاہآبنائے ہرمز دنیا میںتوانائی کی سب سے اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے۔ امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (EIA) کے مطابق روزانہ تقریباً 20 سے 21 ملین بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے یہ عالمی تیل کی کھپت کا تقریباً 20 فیصد بنتا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی مائع قدرتی گیس (LNG) کا تقریباً 25 فیصد بھی اسی راستے سے منتقل ہوتا ہے ۔سعودی عرب، ایران، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات اپنی برآمدات کے لیے اسی راستے پر انحصار کرتے ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے حالیہ بحران نے تقریباً 400 ملین بیرل یعنی عالمی سپلائی کے تقریباً چار دن کے برابر تیل مارکیٹ سے نکال دیا جس کی وجہ سے قیمتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔آبنائے ملاکا: ایشیا کی معاشی لائف لائنآبنائے ملاکا جنوب مشرقی ایشیا میں واقع ہے اور بحر ہند کو بحیرہ جنوبی چین سے ملاتی ہے۔ بین الاقوامی بحری تنظیم (IMO) کے اندازوں کے مطابق سالانہ 90 ہزار سے زیادہ بحری جہاز اس راستے سے گزرتے ہیں اورعالمی تجارت کا تقریباً 30 فیصد اسی راستے سے ہوتا ہے۔روزانہ تقریباً 16 ملین بیرل تیل یہاں سے گزرتا ہے۔چین اپنی توانائی کی ضروریات کا تقریباً 60 فیصد اسی راستے سے حاصل کرتا ہے، اسی لیے اسےMalacca Dilemma بھی کہا جاتا ہے۔آبنائے باسفورس: اناج اور توانائی کا درہترکی میں واقع آبنائے باسفورس بحیرہ اسود کو بحیرہ روم سے ملاتی ہے۔سالانہ تقریباً 48 ہزار بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔روس اور یوکرین کی 90 فیصد سے زائد اناج کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی رہی ہیں۔ یومیہ لاکھوں بیرل تیل اور گیس بھی اس کے ذریعے منتقل ہوتی ہے۔روس یوکرین جنگ کے دوران اس راستے کی بندش یا محدودیت نے عالمی گندم کی قیمتوں میں 20 فیصد تک اضافہ کیا۔سویز کینال: یورپ اور ایشیا کاشارٹ کٹمصر میں واقع سویز کینال عالمی تجارت کا ایک اہم مرکز ہے۔عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد اس راستے سے گزرتا ہے اورروزانہ 50 سے 60 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔2021ء میں سویز کینال میں ایک جہاز پھنسنے سے عالمی تجارت کو تقریباً نو سے 10 ارب ڈالر یومیہ نقصان ہوا۔یہ راستہ یورپ اور ایشیا کے درمیان سفر کو تقریباً سات ہزار کلومیٹر کم کر دیتا ہے۔آبنائے جبرالٹر: بحر اوقیانوس اور بحیرہ روم کا سنگمیہ آبنائے یورپ اور افریقہ کے درمیان واقع ہے اورروزانہ تقریباً 300 بحری جہاز یہاں سے گزرتے ہیں۔یورپ کی توانائی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی راستے سے آتا ہے۔نیٹو ممالک کے لیے یہ ایک اہم عسکری گزرگاہ بھی ہے۔پاناما کینال: دو سمندروں کو ملانے والا شاہکارپاناما کینال بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کو ملاتی ہے اورعالمی تجارت کا تقریباً پانچ فیصد اس راستے سے گزرتا ہے۔سالانہ 14 ہزار سے زائد جہاز اس سے گزرتے ہیں۔امریکہ کی 40 فیصد کنٹینر ٹریفک اسی راستے سے ہوتی ہے۔یہ کینال جہازوں کو جنوبی امریکہ کے گرد 13ہزار کلومیٹر طویل سفر سے بچاتی ہے۔عالمی معیشت پر اثراتان اہم آبناؤں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے اثرات فوری طور پر عالمی معیشت پر ظاہر ہوتے ہیں مثال کے طور پرتیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ،سپلائی چین میں خلل،اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ اورعالمی مہنگائی میں اضافہ۔ دنیا کی بڑی طاقتیں ان آبناؤں پر اثر و رسوخ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہیں۔دنیا کی اہم آبنائیں عالمی معیشت کی شہ رگیں ہیں۔ ان کے ذریعے نہ صرف تجارت بلکہ توانائی، خوراک اور صنعتی پیداوار کا نظام چلتا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں میں کشیدگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جغرافیہ صرف نقشے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سیاست، معیشت اور امن و استحکام کا بنیادی عنصر ہے۔مستقبل میں اگرچہ متبادل توانائی اور نئے تجارتی راستوں پر کام جاری ہے مگر فی الحال دنیا کا انحصار انہی چند انتہائی اہم آبی گزرگاہوں پر برقرار ہے اور یہی حقیقت انہیں عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کا مرکز بناتی ہے۔

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

مصنوعی ذہانت پر بڑھتا انحصار

کیا ہم اپنی ذہنی صلاحیتیں کھو رہے ہیں؟ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت (AI) ہماری زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے۔ تحقیق، تحریر، فیصلہ سازی اور روزمرہ مسائل کے حل میں AI ٹولز جیسے چیٹ بوٹس اور سمارٹ اسسٹنٹس تیزی سے استعمال ہو رہے ہیں، تاہم حالیہ سائنسی رپورٹس ایک اہم سوال اٹھا رہی ہیں کہ کیا AI پر ضرورت سے زیادہ انحصار ہماری ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہا ہے؟ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کے فوائد اپنی جگہ مگر اس کا بے جا استعمال انسانی دماغ کی کارکردگی کو کمزور کر سکتا ہے۔ یہ مسئلہ محض ایک مفروضہ نہیں بلکہ مختلف تحقیقی مطالعات سے اس کے شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ کگنیٹو آف لوڈنگ کا رجحانAI کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ ایک اصطلاحCognitive offloading سامنے آئی ہے جس کا مطلب ہے کہ انسان اپنے ذہنی کام مشینوں کے حوالے کرنے لگتا ہے۔ مثال کے طور پر پہلے ہم معلومات یاد رکھنے کی کوشش کرتے تھے مگر اب ہم فوری طور پر AI یا انٹرنیٹ سے جواب حاصل کر لیتے ہیں۔تحقیقی ماہرین کے مطابق جب ہم مسلسل AI پر انحصار کرتے ہیں تو ہمارا دماغ کم محنت کرتا ہے، جس کے نتیجے میں یادداشت، تجزیاتی سوچ اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت متاثر ہو سکتی ہے۔ تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیت پر اثراتAI ٹولز فوری اور جامع جوابات فراہم کرتے ہیں لیکن اس سہولت میں ایک خامی بھی ہے کہ جب صارف خود سوچنے کے بجائے تیار شدہ جواب پر انحصار کرتا ہے تو اس کی تنقیدی سوچ کمزور پڑ جاتی ہے۔MIT اور دیگر اداروں کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ AI کی مدد سے تحریر کرنے والے افراد نہ صرف کم سیکھتے ہیں بلکہ ان کی تخلیقی صلاحیت بھی محدود ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تعلیمی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر طلبہ ابتدائی مراحل میں ہی AI پر انحصار شروع کر دیں تو وہ بنیادی مہارتیں جیسے تجزیہ اور منطقی استدلال صحیح طور پر نہیں سیکھ پاتے۔ایک اور اہم مسئلہ False Masteryیا جھوٹی مہارت کا ہے۔ AI کی مدد سے بظاہر بہتر نتائج حاصل ہو جاتے ہیں لیکن درحقیقت صارف خود اس علم کو سمجھ نہیں پاتا۔OECDکی رپورٹ کے مطابق AI طلبہ کو ایسی غلط فہمی میں مبتلا کر سکتا ہے کہ وہ کسی موضوع پر عبور رکھتے ہیںحالانکہ حقیقت میں ان کی بنیادی سمجھ بوجھ کمزور ہوتی ہے۔ یہ رجحان نہ صرف تعلیمی کارکردگی بلکہ طویل المدتی ذہنی نشوونما کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔کیا AI واقعی نقصان دہ ہے؟یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ AI مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ درحقیقت یہ ایک طاقتور ٹول ہے جو انسانی صلاحیتوں کو بڑھا سکتا ہے بشرطیکہ اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ AI میں نہیں بلکہ اس کے استعمال کے طریقے میں ہے۔ اگر AI کو ایک مددگار کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ مکمل متبادل کے طور پر تو یہ سیکھنے اور کارکردگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بلاشبہ انسانی ترقی کا ایک اہم سنگ میل ہے لیکن اس پر اندھا اعتماد خطرناک ہو سکتا ہے۔ اگر ہم اپنی ذہنی صلاحیتوں کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں AI کو ایک معاون کے طور پر استعمال کرنا ہوگا نہ کہ اس کا متبادل بننے دینا ہوگا۔ آنے والے دور میں اصل چیلنج یہ نہیں ہوگا کہ AI کیا کر سکتا ہے بلکہ یہ ہوگا کہ ہم اس کے ساتھ کس طرح کام کرتے ہیں۔ اگر ہم نے توازن برقرار نہ رکھا تو سہولت کی یہ ٹیکنالوجی ہماری سوچنے کی صلاحیت کو کمزور بھی کر سکتی ہے۔AI کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کا متوازن استعمال کیا جائے۔ چند اہم اصول درج ذیل ہیں:٭AI کو رہنمائی کے لیے استعمال کریں، مکمل انحصار نہ کریں٭خود تحقیق اور تجزیہ کی عادت برقرار رکھیں٭یادداشت اور سوچنے کی مشق جاری رکھیں٭طلبہ کو بنیادی مہارتیں سکھانے پر زور دیا جائے

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی  کے ماہر(2012-1944)

آج تم یاد بے حساب آئے!اقبال باہو صوفیا نہ گائیکی کے ماہر(2012-1944)

٭... 1944ء میں گورداسپور میں پیدا ہوئے ،اصل نام محمد اقبال تھا ٭... قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان لاہور منتقل ہوا ،یہیں ان کی تعلیم و تربیت ہوئی۔٭...تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ایک بینک میں ملازمت اختیار کر لی ، گائیکی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔٭... ریڈیو پاکستان سے شہرت کا سفر شروع ہوا پھر ٹیلی ویژن پر ناظرین نے انھیں دیکھا اور سنا۔٭... لوک گیتوں کے علاوہ جب انہیں صوفی شاعر سلطان باہو کے کلام سے بھی شہرت ملی۔٭...سلطان باہو کے علاوہ بابا فرید کے کلام کو بھی ان کی آواز میں بہت پسند کیا گیا٭...وہ ان گلوکاروں میں شامل تھے جو صوفیا کا کلام گاتے ہوئے زبان و بیان اور کلاسیکی الفاظ کے تلفظ کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ٭... 2008ء میں انہیں تمغہ امتیاز سے نوازا گیا۔٭...68سال کی عمر میں دل کا جان لیوا دورہ پڑنے کے باعث 24مارچ 2012ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔