ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کو دنیا سے رخصت ہوئے 41 برس بیت گئے

لاہور: (دنیا نیوز) دنیائے موسیقی کا ایک روشن ستارہ، ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم کو دنیا سے رخصت ہوئے 41 برس بیت گئے، روشن آرا بیگم نے سیکڑوں فلموں میں اپنی مدھر بھری آواز کا جادو جگایا، فنی خدمات پر انہیں کئی ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔

روشن آراء بیگم 19جنوری 1917ء کو کولکتہ میں پیدا ہوئیں، ان کا اصل نام وحید النساء بیگم تھا، روشن آراء بیگم نے موسیقی کی تعلیم شہرہ آفاق گائیک استادعبد الکریم خان سے حاصل کی اور ملکہ موسیقی کا خطاب پایا، تقسیم ہند سے قبل آل انڈیا ریڈیو کے پروگراموں میں حصہ لینے کیلئے روشن آراء بیگم لاہور آتیں اور موچی گیٹ میں چن پیر کے ڈیرے پر موسیقی کی یادگار محفلیں بھی سجائی جاتی تھیں۔

1948ء میں پاکستان منتقل ہونے کے بعد موسیقی کے دلدادہ پولیس افسر احمد خان کے ساتھ شادی ہوئی، ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم نے فلموں کیلئے بھی گیت گائے جن کی دھنیں انیل بسواس، فیروز نظامی، نوشاد اور تصدق حسین جیسے موسیقاروں نے ترتیب دیں، روشن آراء بیگم نے فلم پہلی نظر، جگنو، قسمت، روپ متی باز بہادر اور نیلا پربت میں آواز کا جادو جگایا۔

حکومت پاکستان نے روشن آراء بیگم کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارہ امتیاز بھی عطاء کیا، روشن آراء بیگم 5 دسمبر 1982ء میں انتقال کر گئیں۔
 

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں