ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل: حکومتی درخواست پر نیپرا کی سماعت مکمل
اسلام آباد:(دنیا نیوز) ٹیرف اور فکسڈ چارجز میں ردوبدل سے متعلق حکومتی درخواست پر نیپرا بے سماعت مکمل کرلی، فیصلہ اعداد و شمار کا جائزہ لیکر بعد میں جاری کیا جائے گا۔
پاور ڈویژن حکام کا کہنا تھا کہ فیصلے کے بعد انڈسٹری کا ٹیرف 4 روپے 4 پیسے کم ہو جائے گا، پہلی بار بلنگ سائیکل میں صنعت پر عائد 101 ارب کی کراس سبسڈی صفر ہو جائے گی۔
اُنہوں نے کہا صنعتی سیکٹر گھریلو صارفین کو 101 ارب روپے کی کراس سبسڈی دے رہا ہے، کمرشل صارفین 90 ارب، جنرل سروسز صارفین 35 ارب کی سبسڈی دے رہے ہیں۔
اِسی طرح نیٹ میٹرنگ صارفین نے ٹوٹل 35 ارب یونٹ بجلی پیدا کی،اگر نیٹ میٹرنگ صارفین گرڈ پر ہوتے تو 3 روپے فی یونٹ کا فرق پڑتا۔
حکام کا کہنا تھا کہ ابھی بھی 614 ارب روپے سے زائد ٹی ڈی ایس اور کراس سبسڈی کی مد میں صارفین پر بوجھ ہے،اب وقت آگیا ہے کہ جس کا جو بوجھ ہے اسی پر ڈالنے کا فیصلہ کیا جائے، فکسڈ چارجز کو 7 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن حکام نے کہا کہ ٹیرف ڈیفرنشل کی مد میں ابھی بھی بڑے صارفین پر 453 ارب کا بوجھ ہے، نیٹ میٹرنگ کی وجہ سے پروٹیکٹڈ صارفین 94 لاکھ سے بڑھ کر 2 کروڑ 15 لاکھ سے تجاوز کر گئے،ملک میں انڈسٹری کا پیہہ چلانے کیلئے ٹیرف میں کمی ناگزیر ہے۔
اُن کا کہنا تھا کہ اس وقت خطے میں پاکستان کا انڈسٹری کا ٹیرف سب سے زیادہ ہے، ٹیرف ری اسٹرکچرنگ کے بعد انڈسٹری کا ریٹ ساڑھے 11 سینٹ تک آئے گا، تین سالہ پیکیج سے فائدہ اٹھایا تو یہ ساڑھے 10 سینٹ تک آجائے گا،جب انرجی کی ضرورت تھی تو اس وقت سولر کا درست فیصلہ تھا۔
حکام نے مزید کہا کہ نیٹ میٹرنگ کی ابھی بھی حوصلہ شکنی نہیں کی گئی، نیٹ میٹرنگ اور سولر کی پالیسی پہلے بھی غلط نہیں تھی۔