روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور ٹرمپ کے درمیان 2 ماہ بعد ٹیلیفونک گفتگو

ماسکو:(شاہد گھمن) روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان گزشتہ شام ٹیلیفون پر گفتگو ہوئی ہے۔

کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ دونوں صدور کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو کاروباری، کھلی اور تعمیری نوعیت کی تھی، جیسا کہ عموماً روس اور امریکا کی قیادت کے درمیان بات چیت میں ہوتا ہے۔

یوری اوشاکوف کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ولادیمیر پیوٹن کو فون کر کے عالمی صورتحال میں حالیہ پیش رفت سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا، دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی۔

کریملن کے معاون نے مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیا کہ پہلے سے طے شدہ اتفاق کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے باقاعدگی سے جاری رہنے چاہئیں، دونوں رہنماؤں نے اس پر آمادگی کا اظہار کیا۔

ان کے بقول مجموعی طور پر یہ گفتگو کافی بامعنی رہی اور امکان ہے کہ اس کے بین الاقوامی سیاست کے مختلف شعبوں میں دونوں ممالک کے آئندہ تعاون پر عملی اثرات مرتب ہوں گے۔

واضح رہے کہ روس اور امریکا کے صدور کے درمیان دو ماہ سے زائد عرصے کے بعد یہ پہلی ٹیلیفونک گفتگو تھی، یہ رابطہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی معلوم ہونے والی بات چیت بھی ہے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں