روس توانائی کی سپلائی چینز پر نظرِ ثانی کر رہا ہے: سرگئی تسویلیوف

ماسکو: (شاہد گھمن) روس کے وزیر توانائی سرگئی تسویلیوف نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران کے باعث روس اپنے توانائی کی سپلائی چینز پر نظرِ ثانی کر رہا ہے اور توانائی کی فراہمی میں سب سے پہلے اپنے ہمسایہ ممالک کو ترجیح دی جائے گی۔

وزیر توانائی نے صحافیوں کو بتایا کہ ہرمز کی تنگی (Strait of Hormuz) میں ممکنہ رکاوٹوں کے پیش نظر کسی بھی توانائی کی ترسیل پر خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے روس اپنے موجودہ اور مستقبل کے توانائی کے سلسلوں کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ توانائی کی فراہمی کے معاملات میں سب سے پہلے قریبی ہمسایہ ممالک کو ترجیح دی جائے گی کیونکہ ان کے ساتھ خطرات کم ہیں، جبکہ دیگر تیل اور توانائی مصنوعات کی ترسیل کے لیے لاجسٹکس کے طریقے بھی دوبارہ دیکھے جائیں گے۔

سرگئی تسویلیوف نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ کا بحران دنیا بھر کے لوگو کو توانائی کی سپلائی اور لاجسٹک چینز پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک بڑا چیلنج ہے جو عالمی معیشت پر اثر انداز ہو سکتا ہے اور دنیا کو توانائی کی ترسیل کے لیے نئے نظام اور لاجسٹک چینز قائم کرنے ہوں گے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں