ٹیکس تنازعات کا موثر حل ناگزیر ہے: چیف جسٹس پاکستان

اسلام آباد: (دنیا نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نے کہا کہ ٹیکس تنازعات کا موثر حل عوامی اعتماد اور بہتر طرزِ حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی زیر صدارت ٹیکس لٹیگیشن ریفارمز پر اعلیٰ سطح کا مشاورتی اجلاس ہوا، چیف جسٹس نے بطور چیئرمین نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی اجلاس کی صدارت کی۔

اجلاس کا مقصد ٹیکس مقدمات کے جلد فیصلے، ہم آہنگی اور کارکردگی میں بہتری لانا ہے، جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ٹیکس لٹیگیشن میں طریقہ کار کی رکاوٹوں پر مبنی اپنے حالیہ فیصلے سے فورم کو آگاہ کیا۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ طے شدہ معاملات پر سرکاری محکمے اپیلیں دائر کرنے سے گریز کریں، ریاست کو ایک منصفانہ اور ذمہ دار مدعی کے طور پر کام کرنا چاہیے۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ غیر ضروری قانونی چارہ جوئی عدلیہ پر بوجھ، قانونی یقینی صورتحال میں رکاوٹ اور عوامی وسائل کا ضیاع ہے۔

چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے ججز کی تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔

اجلاس کے اعلامیہ کے مطابق ایف بی آر کے ڈائریکٹر لیول کے افسران ہر ہائی کورٹ میں ٹیکس معاملات کی نمائندگی کے لیے نامزد کیے جائیں گے۔

ہر صوبے میں ریفرنسز فائل کرنے کی جانچ پڑتال کے لیے سکروٹنی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، سندھ ہائی کورٹ کے تیار کردہ فیصلوں کے ڈیٹا بیس کو سپریم کورٹ، تمام ہائی کورٹس اور ایف بی آر کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور ایف بی آر کے آئی ٹی ونگز ڈیٹا کو ہم آہنگ کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے، دور دراز علاقوں میں تعینات افسران کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شرکت کی سہولت دی جائے گی۔

اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب اور تمام ہائی کورٹس کے نامزد ججز نے شرکت کی، چیئرمین پی ایم ٹاسک فورس برائے ٹیکس لٹیگیشن اور چیئرمین ایف بی آر بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں