روس کی یوم فتح کے موقع پر یوکرین کو جنگ بندی کی پیشکش

ماسکو: (شاہد گھمن) کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ یومِ فتح کے موقع پر ممکنہ جنگ بندی کی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا جبکہ یوکرین کی جانب سے اس تجویز پر تاحال کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

میڈیا بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے بتایا کہ جنگ بندی کے آغاز اور اختتام کا فیصلہ صدر ولادیمیر پیوٹن بطور سپریم کمانڈر کریں گے اور جیسے ہی فیصلہ ہوگا، اسے فوری طور پر عوام کے سامنے پیش کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ روس کو ابھی تک کیف حکومت کی جانب سے یومِ فتح جنگ بندی کی تجویز پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

پیسکوف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان حالیہ ٹیلیفونک گفتگو پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی رابطہ عالمی صورتحال کو فوری طور پر تبدیل نہیں کر سکتا، کیونکہ دنیا اس وقت متعدد تنازعات کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں عالمی سطح پر کشیدگی اور اقتصادی اثرات اتنے پیچیدہ ہیں کہ انہیں ایک فون کال کے ذریعے ختم کرنا ممکن نہیں۔

اقتصادی صورتحال کے حوالے سے کریملن ترجمان نے کہا کہ روسی معیشت میں سست روی ایک متوقع عمل تھا، اور حکومت اس رجحان کو تبدیل کر کے ترقی کی راہ پر لانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکام سرکاری اقتصادی اعداد و شمار پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور اسی بنیاد پر مالی و معاشی پالیسیاں تشکیل دی جا رہی ہیں۔

مالی کے حوالے سے ایک سوال پر پیسکوف نے کہا کہ روس وہاں مقامی حکومت کی درخواست پر موجود ہے اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف تعاون جاری رکھے گا۔

ایران سے متعلق گفتگو پر انہوں نے واضح کیا کہ روس نے جوہری معاہدے جیسے کسی نئے میکنزم کی تجویز پیش نہیں کی۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں