مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے آج ایران کا جواب موصول ہوجانا چاہئے: مارکو روبیو

روم: (دنیا نیوز) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی جانب سے تجاویز پر اب تک جواب موصول نہیں ہوا، تاہم واشنگٹن کو توقع ہے کہ آج ایران کا ردعمل سامنے آجائے گا۔

مارکو روبیو نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی ملک ایران کو جوہری ہتھیاروں سے لیس نہیں دیکھنا چاہتا، امریکا کسی صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا اور امید ہے کہ تہران کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات آگے بڑھیں گے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی نیوی نے ایران جانے والے 70 ٹینکرز کا راستہ روک رکھا ہے، ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، لیکن بین الاقوامی سمندری راستوں پر کسی ایک ملک کا کنٹرول قبول نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی وزیرخارجہ نے واضح کیا کہ گزشتہ رات ایران پر کیے گئے حملے آپریشن ’ایپک فیوری‘ کا حصہ نہیں تھے، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا پر میزائل فائر کیے گئے تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

لبنان کی صورتحال پر مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا حزب اللہ کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا اور اس کی توجہ صرف لبنانی حکومت پر مرکوز ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اٹلی میں ہونے والے اجلاس میں نیٹو یا امریکی فوجیوں کی مخصوص تعیناتیوں پر کوئی بات نہیں ہوئی اور اس حوالے سے حتمی فیصلہ امریکی صدر کریں گے۔

چین اور تائیوان سے متعلق امریکی پالیسی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ واشنگٹن کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، امید ہے تائیوان کے معاملے پر امریکی صدر کے ممکنہ دورۂ چین کے دوران بات چیت ہو سکتی ہے۔

امریکی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ امریکا روس یوکرین جنگ بندی میں ثالثی کیلئے تیار ہے اور واشنگٹن دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں پیشرفت چاہتا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی کے حوالے سے کوئی عملی پیشرفت نہ ہوئی تو امریکا وقت ضائع نہیں کرے گا۔

مارکو روبیو نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا عالمی تنازعات کے حل کیلئے سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، لیکن نتائج کے بغیر طویل مذاکرات میں الجھنے سے گریز کیا جائے گا۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں